30/09/2025
۲ الفاظ سے ۲ اوراق کا سفر
#الحمدلله
Online Quran Tutor Since 4-5 Years.Inbox me for details.
30/09/2025
۲ الفاظ سے ۲ اوراق کا سفر
#الحمدلله
🌺ماہِ رمضان میں ہم نے جو نیکیاں کی ہیں انکے مقبول ہونےکی علامت و پہچان یہ ہے کہ ہم نیکی کے بعد بھی نیکی کرتے رہیں، اور ہماری نیکیوں کے قبول نہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ ہم نیکی کے بعد برائی کرنا شروع کر دیں، ایک مومن سے اسکے مرتے دم تک نیک عمل کرنا مطلوب ہے۔
🌺اللہ سبحانہ و تعالٰی کا فرمان ہے
وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِن بَعْدِ قُوَّةٍ أَنكَاثًا(سورة النحل) ترجمہ: اور اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کاتنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے توڑ ڈالا۔
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ایک ایسی عورت کی مثال دیتے ہیں جس نے بڑی محنت سے دھاگہ بنایا اور اسے مضبوط بھی کر دیا ، لیکن پھر بعد میں اپنی محنت پر پانی پھیر دیا اور وہ دھاگہ جو اُس نے اتنی محنت سے بنایا تھا ، پھر اسے ادھیڑ کر اور توڑ کر اُسکے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔
🌺آپ نے رمضان میں کافی عبادات کیں، برے کاموں سے دور رہے، اللہ تبارک و تعالی کو جو اعمال پسند تھے وہ کیے۔
ایک مومن بندہ کی یہی شان ہونی چاہیے کہ وہ رمضان المبارک کے بعد بھی نیک عمل کرتے رہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالی تمام مہینوں اور تمام دنوں کارب ہے ، وہ صرف رمضان المبارک ہی کارب نہیں ہے اس لئے وہ رمضان المبارک کے بعد بھی نیک کاموں پر قائم و دائم رہتے ہیں۔
اب رمضان کے بعد اپنی پرانی بری عادتوں پر لوٹ کر اپنی اس محنت کو ضائع نہ کیجیئے گا۔ اطاعت کے کاموں اور عبادات کا خاص خیال رکھیئے گا۔ اللہ رب العزت ہم تمام مسلمانوں کو عمل کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں نیکیوں پر مداومت وہمیشگی کرنے والا بنائے( آمین یارب العالمین)۔
#رمضان #اعمال #ضائع #نیکی #نیکیاں #اجر
نَحْمَدُہُ وَ نُصَلّیِ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمْ اَمّا بَعْدْ۔
فَاَعُوذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمْ
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
🌺سورۃ نباء میں اللہ تعالی نے قیامت کی گھڑیوں کا ذکر کیا ہے کہ قیامت کی آمد ایک بہت بڑی خبر ہوگی۔ اللہ پاک نے جہنمیوں کی سزا کا ذکر کیا کہ وہ صد ہا ہزار سال جہنم میں پڑے رہیں گے۔ اس دن وہی بول سکے گا جسے رحمٰن اجازت دے گا۔ اس دن منکرِ حق پکار اٹھے گا اے کاش میں مٹی ہوتا۔
🌺سورۃ نازعات میں اللہ پاک فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اور اس نے اپنے آپ کو نفسانی خواہشات سے بچا لیا تو اسکا ٹھکانہ جنت ہے۔ جو دعوت حق کو جھٹلائیں گے تو انھیں آخرت کے عذاب کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی سزا دی جائے گی۔
🌺سورۃ عبس میں اللہ پاک نے نبی کریمﷺ کو دعوتِ دین کے کام میں کم رُو اور کم حیثیت لوگوں سے بھی برابر کا معاملہ کرنے کی نصیحت فرمائی ہے۔ جب قیامت کا دن آئے گا تو ہر طرف نفسَ نفسی کا عالم ہوگا اور بھائی اپنے بھائی سے، بیٹا اپنے والدین سے اور بیوی اپنے شوہر سے بھاگے گی اور والدین اپنے بیٹے سے بھاگیں گے۔
🌺سورۃ تکویر میں اللہ پاک نے قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کیا ہے۔ اس دن ہر شخص جان لے گا کہ کہ وہ کیا لے کر آیا ہے اور پیچھے کیا چھوڑ کر آیا ہے۔ قرآنِ مجید دو جہانوں کے رب کا کلام ہے اور ان لوگوں کے لیے نصیحت ہے جو صراطِ مستقیم پر چلنا چاہتے ہیں۔
🌺سورۃ انفطار میں اللہ پاک نے انسان سے پوچھا ہے کہ تجھے تیرے کریم رب کی طرف سے کس نے دھوکے میں ڈال دیا ہے؟ قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے ہوئے دنیا میں انسانوں کا حساب کتاب کا روزنامچہ لکھنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا ہے جنھیں کرامًا کاتبین کہا جاتا ہے۔ اور یہی اعمال نامہ قیامت کے دن انسانوں کو پیش کیا جائے گا۔ قیامت کا دن بدلے کا دن ہے اور اس دن کوئی کسی کے لیے کچھ نہ کر سکے گا۔
🌺سورۃ مطففین میں ناپ تول میں ڈنڈی مارنے والوں کی مذمت کی گئی ہے اور اجتماعی اخلاقیات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ تباہی ہے انکے لیے جو اپنے لیے ترازو کی پوری تول لیتے ہیں لیکن دوسروں کے لیے تول میں ڈنڈی مارتے ہیں۔ فرمانبرداروں کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا اور ان کے چہروں پر عیش کی تازگی ہوگئی۔
🌺سورۃ انشقاق میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا ہے کہ انسان محنت و مشقت کا خوگر ہے اور اس کو چاہیے کہ اپنے پروردگار کے لیے محنت کرے جس سے اس نے ملاقات کرنی ہے۔ منکرینِ حق کو کیا ہوگیا ہے کہ جب انکے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ سجدہ ریز نہیں ہوتے۔
🌺سورۃ بروج میں اللہ پاک نے اہلِ ایمان پر ظلم و ستم کرنے والوں اور دعوت کے مقابلے میں چالیں چلنے والوں کو برے انجام کی خبر دیتے ہوئے اصحابِ اخدود کی بستی کا ذکر کیا ہے جنھیں ایمان لانے کی پاداش میں انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ قرآنِ مجید بلند پایہ ہے اور لوحِ محفوظ میں ہے۔
🌺سورۃ طارق میں اللہ پاک نے بتایا ہے کہ رات کو نمودار ہونے والے تارے گواہی دیتے ہیں کہ ہر جان پر ایک نگہبان مقرر ہے، اور فرمایا ہے کہ کس طرح انسان کو پانی کے معمولی قطرے سے تخلیق کیا گیا۔ جو خدا انسان کو پانی کے معمولی قطرے سے پیدا کر سکتا ہے وہ انسان کو موت کے بعد بآسانی زندہ بھی کر سکتا ہے اس لیے انسان کو اپنی حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ قرآن پاک ایک دوٹوک بات ہے اور کوئی ہنسی مذاق نہیں۔ اور (اے نبیﷺ ، آپکے مقابلے میں) یہ لوگ ایک چال چل رہے ہیں ، اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں۔ اس لیے ان منکرینِ حق کو ذرا دیر کے لیے چھوڑ دیجیے۔
🌺سورۃ الاعلیٰ میں اللہ پاک نے بیان فرمایا ہے کہ لوگوں کی نگاہ دنیا کی زندگی پر ہوتی ہے لیکن حقیقی اور باقی رہنے والی زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ کامیاب وہ ہے جس نے پاکیزگی اختیار کی ، رب کا ذکر کیا اور نماز پڑھی۔
🌺سورۃ فجر میں اللہ پاک نے سابق نافرمان اقوام عاد ، ثمود اور فرعون کا ذکر کرتے ہوئے انکے انجام سے ڈرایا ہے۔ انسانی معاشرے کی اخلاقی حالت کا جائزہ لیتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ لوگ یتیم کی عزت نہیں کرتے اور مسکین کو کھانا کھلانے کے لیے ایک دوسرے کو نہیں ابھارتے اور میراث کا مال ہڑپ کر جاتے ہیں۔ جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ پاک مومن کو مخاطب ہوکر کہیں گے کہ اے نفسِ مطمئنہ اپنے پروردگار کی طرف راضی ہوکر پلٹ جا اور میرے بندوں اور میری جنت میں داخل ہو جاو۔
🌺سورۃ البلد میں اللہ پاک نے انسان پر اپنے انعامات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ پاک نے اسکو دو آنکھیں ، زبان اور دو ہونٹ عطا فرمائے اور اسکی رہنمائی ہدایت اور گمراہی دونوں راستوں کی طرف کی ہے۔ اسکی مرضی ہے کہ وہ کس راستے کا انتخاب کرتا ہے؟ جو صحیح راستے پر چلے گا جنت میں جائے گا اور جو غلط راستہ اختیار کرے گا وہ جہنمی ہوگا۔
🌺سورۃ شمس میں ارشاد ہے کہ اللہ نے نفس کو تخلیق کیا اور اس میں نیکی اور برائی کو الہام کر دیا۔ جو اپنے نفس کو آلودہ کرے گا وہ تباہ ہوجائے گا اور فلاح اسے ملے گی جو اپنے نفس کو پاک کرے گا۔
🌺سورۃ الیل میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جس نے صدقہ دیا اور نیکی کی تائید کی اسکے لیے جنت کی راہ آسان کی جائے گی اور جس نے بخل کیا اور اچھی بات کو جھٹلایا اس کے لیے مشکل راستے یعنی جہنم کے راستے کو ہموار کر دیا جائے گا۔
🌺سورۃ الضحیٰ میں اللہ پاک نے نبی کریمﷺ کو تسلی اور آئندہ ایک بڑی کامیابی کی بشارت دی ہے۔ پروردگار کی عطا کردہ نعمتوں کا اعتراف کرنا چاہیے اور انکا اظہار بھی کرنا چاہیے۔
🌺سورۃ الم نشرح میں نبی کریمﷺ کو تسلی دی گئی کہ ہم نے آپﷺ کا سینہ کھول دیا ہے اور آپﷺ کا بوجھ ہلکا کر دیا ہے اور آپکے تذکروں کو بلند کر دیا ہے۔ بے شک ہر تنگی کے بعد آسانی ملتی ہے۔
🌺سورۃ التین میں مکہ کو امن والا شہر قرار دیا گیا ہے۔ انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا گیا ہے۔ جو لوگ ایمان لائے اور اعمالِ صالح کیے ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔
🌺سورۃ علق اللہ پاک کی طرف سے اترنے والی پہلی وحی ہے۔ انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے اور انسان کو قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ نماز و عبادت سے روکنے والوں کو برے انجام کی خبر دی گئی ہے۔ سجدوں کے ذریعے
اللہ تعالیٰ سے قریب ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
🌺سورۃ قدر میں ارشاد ہے قرآن کو تقدیر کے فیصلوں والی رات میں اتارا ہے۔ قدر والی رات ہزار مہینوں سے زیادہ فضیلت کی حامل ہے۔
🌺سورۃ بینہ میں قریش اور اہلِ کتاب کے بعض لوگوں کے لغو مطالبے کا ذکر ہے کہ آسمان سے کوئی فرشتہ کتاب پڑھتا ہوا اترے۔ اسلام کوئی نئے احکامات یا نظامِ عبادات لے کر نہیں آیا بلکہ یہ احکامات پہلے سے چلے آ رہے ہیں اور اسلام نے ان میں کہیں کہیں کوئی تبدیلیاں تجویز کی ہیں۔ ایمان اور اعمالِ صالح والے لوگ یقینًا مخلوقات میں بہترین لوگ ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہیں۔
🌺سورۃ زلزال میں انسان کو تنبیہہ کی گئی ہے کہ وہ روزِ حشر سے غافل نہ رہے۔ جب زمین بری طرح ہلائی جائے گی تو وہ اپنے سارے بوجھ نکال باہر کرے گی۔ جس نے ذرہ بھر بھلائی کی ہے وہ بھی دیکھ لے گا۔
🌺سورۃ عادیات میں انسانوں کو انکے برے رویوں کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔ انسان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے اور مال کی محبت میں مبتلا ہے۔ قیامت کے دن انسانوں کے دلوں کے ارادے، نیتیں اور باطنی محرکات سب کھل کر سامنے آ جائیں گے۔
🌺سورۃ قارعہ میں آخرت کا مضمون ہے۔ اس دن لوگ پتنگوں کی طرح اڑیں گے اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کے مانند ہو جائیں گے۔ اس دن جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہ عیش میں ہوں گے اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے انکا ٹھکانہ دہکتی ہوئی آگ کی گہری کھائی ہے۔
🌺سورۃ تکاثر میں دنیا کے مال اسباب کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کا بیان ہے کہ آدمی قبر تک اسی میں لگا رہتا ہے۔
🌺سورۃ عصر میں اللہ پاک نے زمانے کی قسم اٹھا کر کہا ہے کہ ہر انسان ناکام ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور اعمالِ صالح اختیار کیے اور حق بات اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔
🌺سورۃ ھمزہ میں انسان کی کچھ اہم خرابیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو جہنم تک لے جاتی ہیں۔ ان میں اشارہ بازی، عیب لگانا، مال جمع کرنا اور گن گن کر رکھنا شامل ہیں۔
🌺سورۃ فیل میں یمن کے عیسائی بادشاہ کے ہاتھیوں کے ساتھ خانہ کعبہ پر دھاوے کا بیان ہے اور اس لشکر کو پرندوں کے منہوں سے پکی مٹی کی کنکریوں کے ذریعے بھس بناکر رکھ دیا گیا تھا۔
🌺سورۃ قریش میں قریش مکہ کو تلقین ہے کہ کعبہ کی تولیت انھیں حاصل ہے اس گھر کے مالک نے انھیں رزق اور امن سے نوازا ہے۔
🌺سورۃ ماعون میں چھ معاشرتی خرابیوں کا ذکر ہے یعنی روزِ جزا کو جھٹلانا، یتیم کو دھکے دینا، مسکین کو کھانا کھلانے کے لیے نہ ابھارنا، نمازوں کی حقیقت سے غافل ہونا، دکھاوے کی عبادت کرنا، روزمرہ استعمال کی ادنیٰ چیز کسی کو نہ دینا۔
🌺سورۃ الکوثر میں رسول اللہﷺ کو قیامت کے دن حوضِ کوثر کی بشارت دی گئی ہے۔ اپنے رب کے لیے نماز پڑھنے اور اسکے لیے قربانی دینے کا حکم ہے۔
🌺سورۃ کافرون میں نبیﷺ سے اعلان کرایا گیا ہے کہ اے کافروں میں ان چیزوں کی عبادت نہ کروں گا جنکی عبادت تم کرتے ہو اور نہ کبھی تم اس (اللہ) کی عبادت کرو گے جس کی میں عبادت میں کرتا ہوں۔ تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔
🌺سورۃ نصر میں غلبہ حق کی بشارت ہے۔ نبی کریمﷺ کو اللہ کی تسبیح بیان کرنے اور استغفار کا حکم ہے اور اپنے رب سے ملاقات کی تیاری کا اشارہ ہے۔
🌺سورۃ لہب میں اتمامِ حجت کے بعد ابولہب کی تکفیر اور اسکی بیوی پر شدید عذاب کے نزول کا ذکر ہے۔
🌺سورۃ اخلاص میں توحیدِ خالص کا فیصلہ کن بیان ہے کہ اللە اکیلا اور بے نیاز ہے، نہ وہ کسی کا باپ ہے نہ بیٹا ، اور نہ کوئی اسکا ہم مرتبہ ہے۔
🌺سورۃ فلق میں ہر چیز کے نمودار کرنے والے رب سے پناہ طلب کی گئی ہے کہ وہ مخلوقات، چھا جانے والے اندھیرے ، گرہوں پر پھونک مارنے والیوں ، اور حاسدوں کے حسد کے شر سے بچائے۔
🌺سورۃ الناس میں جنوں اور انسانوں میں سے وسوسہ ڈالنے والے خناسوں کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہی گئی ہے۔
#خلاصہ #رمضان٢٠٢٥ #رمضان2025 #رمضان۲۰۲۵
نَحْمَدُہُ وَ نُصَلّیِ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمْ اَمّا بَعْدْ۔
فَاَعُوذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمْ
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
🌺انیتیسویں پارے کا آغاز سورہ ملک سے ہوتا ہے۔ اللہ پاک کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ زندگی اور موت کو اس لیے بنایا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ یہ جان لیں کہ کون اچھے عمل کرتا ہے۔ جب جہنمی جہنم میں ڈالے جائیں گے تو انکا چیخنا چلانا سن کر دروغے پوچھیں گے کہ کیا تمھارے پاس کوئی ہدایت دینے والا نہیں آیا تھا؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا تھا، اگر ہم سنتے اور سمجھتے تو دوزخیوں میں سے نہ ہوتے۔ قیامت کے لیے جلدی مچانے والوں اور عذاب کی وعید کے پورا ہونے کے لیے طعنے دینے والے کافروں کی خواہش جلد پوری ہو جائے گی اور اس دن انکے چہرے لٹک کر برے ہو جائیں گے۔ اگر زمین سے پانی خشک ہو جائے تو اللہ عزوجل کے سوا کون ہے جو تمھارے لیے پانی کا چشمہ بہا لائے؟
🌺سورہ القلم میں ارشاد ہوتا ہے کہ رسولﷺ مجنون نہیں ہیں اور انھیں اخلاقِ عظیم عطا فرمایا گیا ہے۔ ایسے شخص کے کہے میں مت آنا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل اوقات ہو۔ جب مال کو راہِ خدا میں خرچ نہ کیا جائے تو وہ مال ضائع ہو جاتا ہے۔ یہ قرآنِ مجید جہانوں کے لیے نصیحت ہے۔
🌺سورہ الحاقہ میں اللہ پاک نے قیامت کو حقیقت کے نام سے پکارا اور اس حقیقی کھڑکھڑاہٹ کو جھٹلانے والوں (قوم عاد اور ثمود) کے انجام سے آگاہ کیا ہے۔ قومِ ثمود کو ایک چیخ کے ذریعے اور قومِ عاد کو تیز ہوا کے ذریعے ہلاک کیا گیا۔ قیامت کے دن جن لوگوں کو اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ملیں گے وہ کامیاب سب کو دکھاتے پھریں گے۔ جن لوگوں کو اعمال نامے بائیں ہاتھ میں ملیں گے وہ موت مانگیں گے اور انکو آگ میں ستر گز کی زنجیر میں ڈالا
جائے گا۔ وہاں انکا کوئی ہمدرد نہیں ہوگا اور پیپ کے
سوا کوئی خوراک نہ ملے گی۔
🌺سورہ المعارج میں اللہ پاک نے قیامت کے دن کا ذکر کیا ہے کہ اسکی طوالت پچاس ہزار برس کے برابر ہوگی وہ دن ایسا ہوگا کہ مجرم کی خواہش ہوگی کہ اپنا آپ چھڑوانے کے لیے اپنے بیٹے یا اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو پیش کر دے یا زمین میں جو کچھ ہے اس کو بطور فدیہ دِے دے۔ اس دن یہ لوگ قبروں سے نکل کر اس طرح دوڑیں گے جیسے شکاری شکار کے جال کی طرف دوڑتے ہیں۔ انکی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی۔
🌺سورہ نوح میں ارشاد ہے کہ ہم نے حضرت نوح علیہ سلام کو انکی قوم کی طرف بھیجا کہ انکو ہدایت کی دعوت دے دیں۔ حضرت نوح علیہ سلام ساڑھے نو سو برس تک اپنی قوم کو توحید کی دعوت دیتے رہے اور اپنی قوم کے لوگوں کو یہ بات سمجھائی کہ وہ پروردگار سے استغفار کِیا کریں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ بارشوں کو انکی مرضی کے مطابق نازل فرمائے گا اور مال اور نرینہ اولاد دے گا اور انکے لیے نہروں کو چلا دے گا اور باغات کو آباد کر دے گا۔
🌺سورہ جن میں اللہ پاک نے جنات کی ایک جماعت کے قبولِ اسلام کا ذکر کیا کہ انھوں نے قرآن کی تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ قرآن خوبصورت کلام ہے جو ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے پس ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہم اپنے پروردگار کے ساتھ شرک نہیں کریں گے۔ مساجد صرف اللہ پاک کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو مت شریک کرو کیونکہ حاجت روا صرف اللہ کی پاک ذات ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اسکے پیغمبر ﷺ کی نافرمانی کرے گا اسکے لیے جہنم کی آگ ہے۔ غیب کو جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے اور وہ کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا۔
🌺سورہ مزمل میں اللہ پاک نے حضرت محمد ﷺ سے کہا ہے کہ نصف رات یا اس سے کچھ زیادہ یا کم عبادت کیا کریں اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کریں۔ جو لوگ دل آزار باتیں کرتے ہیں، انکو سہتے رہیے اور اچھے طریقے سے ان سے کنارہ کش رہیے۔ اگر پیغمبر کی بات نہ مانو گے تو اس دن کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور جب آسمان پھٹ جائے گا؟
🌺سورہ مدثر میں اللہ پاک نے حضرت محمد ﷺ کو حکم دیا ہے کہ اپنے اوپر لپیٹا ہوا کپڑا اتار پھینکیے اور اٹھ کر لوگوں کو ڈرائیے اور اپنے رب کی بڑائی بیان کیجیے۔ جو لوگ قرآنِ پاک کو غرور کی وجہ سے جھٹلاتے ہیں انھیں جہنم میں ڈالا جائے گا جس کے پہرے دار انیس فرشتے ہیں۔ جہنم میں لے جانے والے بڑے بڑے گناہوں میں نماز میں کوتاہی، مساکین کو کھانا نہ کھلانا اور حق کو جھٹلانا ہے۔ جہنم کی آگ بہت بڑی آفت ہے۔ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے گروی ہے۔
🌺سورہ القیامہ میں اللہ پاک نے قیامت کی گھڑیوں کا ذکر کیا کہ یقینًا قیامت آئے گی اور کافر جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گمان کرتا ہے کہ وہ ہڈیوں کو دوبارہ کیسے بنائے گا تو اللہ پاک کے لیے انگلیوں کے پوروں تک کو بھی دوبارہ ٹھیک ٹھیک پیدا کرنا مشکل نہیں ہے۔ اس دن انسان کہے گا کہ میں کہاں بھاگ جاؤں؟ بے شک کہیں پناہ نہیں ہوگی۔ عالمِ نزع میں روح نکلنے کی شدت کے باعث اسکی پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ رہی ہوتی ہے اور یہی تو اپنے رب سے ملاقات کا وقت ہے۔ کیا انسان خیال کرتا ہے کہ اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا؟
🌺سورہ دہر میں اللہ پاک فرماتے ہیں کہ انسان پر ایک دور ایسا تھا جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں تھا۔اللہ پاک نے پانی کے قطرے سے اسے دیکھنے اور سننے والا بنا دیا۔ اب چاہے وہ شکر کرے یا انکار کرے۔ کافروں کے لیے زنجیریں، طوق اور لپکتی ہوئی آگ کو تیار کیا ہے جب کہ نیک لوگ جنت میں جائیں گے جہاں انکو اَن گنت نعمتیں حاصل ہوں گی۔صبر اور تسبیحات کی کثرت کا حکم ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کر لیتا ہے اور ظالموں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے۔
🌺سورہ مرسلات میں اللہ پاک نے متعدد مرتبہ قیامت کو جھٹلانے والوں کے لیے تباہی کا دن قرار دیا ہے اور کامیابی و کامرانی کو اہلِ تقویٰ کا مقدر قرار دیا ہے۔ قیامت کے دن لوگ ہونٹ نہ ہلا سکیں گے اور نہ ہی انکو عذر کرنے کی اجازت ہوگی، وہ دن صرف فیصلے کا دن ہے۔ اُن سے رکوع کے لیے کہا جائے گا مگر یہ نہیں جھک سکیں گے۔ پرہیز گار لوگ سایوں اور چشموں میں ہوں گے اور اپنے اچھے اعمال کے بدلے مزے سے کھا اور پی رہے ہوں گے۔ اس کے بعد اب یہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟
#خلاصہ #رمضان٢٠٢٥ #رمضان2025
نَحْمَدُہُ وَ نُصَلّیِ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمْ اَمّا بَعْدْ۔
فَاَعُوذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمْ
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
🌺اٹھائیسویں پارے کا آغاز سورہ مجادلہ سے ہوتا ہے۔ اس سورت کے شروع میں ایک صحابیہ کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے جنکے شوہر نے ان سے ظہار کرلیا ، وہ اس مسئلے کے حل کے لیے رسولﷺ کے پاس تشریف لائیں تو آپﷺ نے بھی انھیں رخصت دینے سے انکار فرما دیا۔ اس پر انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔ اللہ تعالیٰ نے انکی فریاد سن لی اور کہا جو اپنی بات سے رجوع کرنا چاہیں تو انھیں یا تو ایک غلام آزاد کرنا ہوگا یا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا ہوں گے اور ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والا کوئی شخص ایسا نہیں جس کے دل میں اللہ پاک کے دشمن کے لیے محبت ہو۔ مجلس میں موجود دو آدمی آپس میں سرگوشی مت کریں۔ جب مجلس میں وسعت پیدا کرنے کا کہا جائے تو وسعت پیدا کرو۔
🌺سورہ حشر میں اللہ پاک فرماتے ہیں کہ زمین و آسمان کی ہر شے اللہ پاک کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ رسولﷺ تم کو جو عطا کریں اسکو لے لیا کرو اور جس سے روکتے ہیں اس سے رک جایا کرو۔ اہلِ ایمان کے تین طبقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ منافقین کی مثال شیطان کی طرح ہے۔ اگر قرآن مجید کو کسی پہاڑ پر نازل کیا جاتا تو پہاڑ اللہ پاک کے خوف سے ریزہ ریزہ ہو جاتا۔
🌺سورہ ممتحنہ میں اللہ پاک نے اہلِ ایمان کو اسلام کے دشمنوں سے براءت کرنے کا حکم دیا ہے اور حضرت ابراہیمؑ اور انکے ساتھیوں کے کردار کو نمونے کے طور پر اہلِ ایمان کے سامنے رکھا ہے۔ وہ کافر جو مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں اور انکے خلاف سازشیں نہیں کرتے انکے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے اور جو کافر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں انکے ساتھ سختی والا معاملہ کرنا چاہیے۔ ہمارے لیے نبیﷺ کی زندگی بہترین اسوہ ہے۔
🌺سورہ صف ہے میں اللہ پاک ارشاد کرتے ہیں اے ایمان والوں وہ کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو۔ اللہ پاک ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو اسکے راستے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جان و مال کے ساتھ جہاد کرنے
کا نفع عذاب سے چھٹکارا ہے۔
🌺سورہ جمعہ میں اللہ تعالیٰ نے تزکیہ کا طریقہ ارشاد فرمایا ہے یعنی قرآن پاک کے اخلاق اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ یہود کے ان علما کا ذکر ہے جو توریت کو پڑھتے تو ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کرتے۔ جب جمعہ کی اذان ہو تو خیر کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ کاروباری سرگرمی چھوڑ کر فوراً جمعہ کی طرف متوجہ ہو جایا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت فلاح کا راستہ ہے۔
🌺سورہ منافقون میں اللہ پاک نے اس امر کا ذکر کیا کہ منافق آکر زبان سے شہادت دیتے ہیں کہ آپﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ منافق جھوٹے ہیں اور آخرت میں انکے لیے
کچھ بھی نہیں ہے۔ دنیا اور آخرت کی عزتیں صرف اللہ عزوجل ، اللہ کے رسولﷺ اور مومنین کے لیے ہیں۔ خیر کے کام میں جلدی کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ ہر ایک کو چاہیے کہ موت آنے سے پہلے پہلے اللہ پاک کے دیے رزق و صلاحیت میں سے بہترین خرچ کرئے۔
🌺سورہ تغابن میں اللہ پاک فرماتے ہیں کہ جو مصیبت بھی آتی ہے اللہ تعالیٰ کے حکم سے آتی ہے اور جو کوئی
اللہ پاک پر ایمان لاتا ہے تو اللہ پاک اسکی رہنمائی فرما دیتے ہیں۔ مال اور اولاد انسان کے لیے آزمائش ہیں۔ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اسکے راستے میں مال خرچ کرتے رہنا چاہیے۔ جو اللہ پاک کے راستے میں خرچ کرتا ہے تو اللہ پاک اسکے لیے اجر کو بڑھا دیتے ہیں۔
🌺سورۃ طلاق میں اللہ پاک نے طلاق کی مختلف عدتوں کا ذکر کیا ہے اور جس کو طلاق دی ہے اس کا نفقہ اور رہائش کا انتظام دوران عدت شوہر کے ذمہ ہے۔ جو تقویٰ کو اختیار کرتا ہے اللہ پاک اسکی تنگیوں کو دور فرماتے ہیں اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرتے ہیں جہاں کا اسے خیال بھی نہیں ہوتا۔
🌺سورہ تحریم میں رسولﷺ سے ارشاد ہے کہ جو کھانے کی چیزیں آپکے لیے حلال ہیں انکو حرام نہ کیجیے۔ اللہ پاک نے کامیابی کو ایمان و عمل سے مشروط کیا ہے۔ اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ خود اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچائیں۔ ازواجِ مطہرات اور اہلِ ایمان کو حضرت نوح اور حضرت لوط علیہما السلام کی بیویوں کا حوالہ دیا ہے کہ وہ نبیوں کی رفاقت میں رہ کر بھی اپنی بدعملی کی وجہ سے ناکام ہوگئیں اور ان کے مقابلے میں فرعون کی بیوی حضرت آسیہ کامیاب رہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی بندگی کو اختیار کیا اور اپنے اخلاق و کردار کو ہر طرح کی آلودگی سے بچا لیا۔ ایمان و اخلاق اور حسنِ عمل ہی کامیابی کی کنجیاں ہیں۔
#خلاصہ #رمضان٢٠٢٥ #رمضان2025
نَحْمَدُہُ وَ نُصَلّیِ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمْ اَمّا بَعْدْ۔
فَاَعُوذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمْ
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
🌺ستائیسویں پارے کے آغاز میں حضرت ابراہیمؑ کے پاس آنے والے فرشتوں کا تذکرہ ہے جو قوم لوط پر عذاب نازل کرنے کی غرض سے آئے تھے۔ اللہ پاک نے انسانوں اور جنات کی تخلیق کا مقصد صرف اور صرف اپنی عبادت اور بندگی بتایا ہے۔
🌺سورۃ طور میں اللہ پاک نے طور پہاڑ ، بیتِ معمور ، بلند و بالا آسمان ، سمندر کی لہروں اور کتابِ مقدس کی قسم اٹھا کر کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ضرور نازل ہو کر رہے گا اور قیامت کا دن ضرور آئے گا۔ اس دن یومِ جزا کو جھٹلانے والوں کو جہنم کی آگ کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جسکا تم انکار کرتے تھے۔ اللہ پاک کی ذات کا انکار کرنے والوں کے دلائل انتہائی بےبنیاد ہیں۔ رسولﷺ کو صبر کی تلقین بھی کی گئی ہے۔ اللہ پاک کی محبت اور معیت ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے۔
🌺سورۃ النجم میں ارشاد ہے کہ حضورﷺ اپنی مرضی یا خواہش کا بول نہیں بولتے بلکہ صرف وحی کے تابع رہ کر بولتے ہیں۔ سفرِ معراج میں نبی کریمﷺ نے اپنے پروردگار کی بہت سی نشانیاں دیکھیں۔ جو لوگ کبیرہ گناہوں اور فحاشی کے کاموں سے اجتناب کرتے ہیں اللہ پاک انکو معاف فرما دے گا۔ بیشک انسان کے لیے وہی کچھ ہے جسکی وہ کوشش کرتا ہے اور وہ اپنی کوشش کے نتیجے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔
🌺سورۃ القمر میں شقِ قمر کا واقعہ ذکر ہے۔ یہ ہجرت سے تقریبًا پانچ برس قبل رونما ہوا اور چاند جبلِ حرا کے دونوں طرف ہوگیا مگر کافر سرکشی پر تلے رہے۔ اس سورت میں قومِ نوح ، قومِ لوط ، قومِ عاد اور قومِ ثمود کا ذکر ہے جو
اللہ عزوجل کی نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ پاک کے غضب کا نشانہ بنیں۔ قومِ نوح پر سیلاب ، قومِ عاد پر ہوا ، قومِ ثمود پر چنگھاڑ اور قومِ لوط پر پتھروں کی بارش کے عذابات آئے۔ اللہ پاک نے قرآنِ مجید کو سمجھنے والوں کے لیے آسان بنا دیا ہے۔
🌺سورۃ الرحمن کے شروع میں ارشاد ہے کہ رحمٰن نے قرآن سکھایا ، انسان کو بنایا اور اسکو بیان کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی۔ سورج اور چاند اللہ تعالٰی کی تسبیح کرتے ہیں اور ستارے اور درخت اللہ پاک کو سجدہ کرتے ہیں۔ اسی نے آسمان کو بلند بنایا اور ترازو قائم کیا۔ زمین کی تخلیق کا ذکر ہے۔ انسانوں اور جنوں کو متعدد بار مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ تم پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ جب آسمان پھٹ کر گلابی رنگ کی تیل کی طرح بن جائے گا اس دن مجرم اپنی پیشانیوں سے پہچانے جائیں گے اور وہیں سے پکڑ کر انھیں جہنم میں داخل کر دیا جائے گا۔
🌺سورہ واقعہ میں اللہ پاک نے تین گروہوں یعنی مقربین ، جنتیوں اور جہنمیوں کا ذکر کیا ہے۔ جہنمیوں کو تھوہر کا درخت کھانا پڑے گا جس سے انکے معدے ابل اور پگھل جائیں گے اور انکو پیپ اور بھاپ والا پانی پلایا جائے گا۔ ستاروں کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ بیشک قرآن کرامت والا ہے۔ اسے پاک لوگ ہی چھوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انسان سے زیادہ اس سے قریب ہے۔
🌺سورۃ الحدید میں اللہ پاک نے اپنی صفات کا ذکر کیا کہ وہ اول بھی ہے اور آخر بھی اور ظاہر بھی ہے اور پوشیدہ بھی، اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ اللہ پاک نے اسلام کی سربلندی کے لیے جان و مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے۔
#خلاصہ #اللہ #رمضان٢٠٢۵ #رمضان2025 #رمضان٢٠٢٥
نَحْمَدُہُ وَ نُصَلّیِ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمْ اَمّا بَعْدْ۔
فَاَعُوذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمْ
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
🌺چھبیسویں پارے کا آغاز سورۃ الاحقاف سے ہوتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جو اللہ پاک کے علاوہ انکو پکارتا ہے جو قیامت تک اسکی پکار کا جواب نہیں دے سکتے اور وہ انکی پکار سے ہی غافل ہیں۔ جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ تعالیٰ ہے پھر اس پر استقامت دکھائی تو نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی غم ، اور یہ لوگ جنتی ہیں جو ہمیشہ وعدہ کی گئی جنت میں رہیں گے۔ انسان کو والدین سے اچھے برتاؤ کا حکم دیا گیا ہے۔
حضورﷺ کو کفار کے رویے پر صبر کی تلقین کی گئی ہے۔
🌺سورۃ محمد میں اللہ پاک اعلان فرماتے ہیں کہ جو لوگ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں انکے اعمال گمراہ کن ہیں۔ اللہ پاک نے منکروں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اہلِ کفر کا رہن سہن اور کھانا جانوروں کے کھانے کے مانند ہے اور جہنم کے دہکتے ہوئے انگاروں کو انکے لیے تیار کر رکھا ہے۔ لوگ قرآنِ مجید پر کیوں غور نہیں کرتے، کیا انکے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں؟ اللہ عزوجل اس بات پر قدرت رکھتا کہ وہ تمھیں تبدیل کرکے کسی اور قوم کو لائے جس سے اللہ پاک کے راستے میں نکلنے کا کام لے اور وہ اللہ پاک کے راستے میں خرچ کرنے میں بخیل نہ ہوں۔
🌺سورۃ فتح میں رسولﷺ کو فتحِ مبین کی بشارت دی گئی ہے۔ صلح حدیبیہ کے معاہدے کی بعض شقوں سے مسلمانوں کی کمزوری ثابت ہوتی تھی لیکن جلد اشاعت و دعوت حق کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹیں ختم ہوگئی تھیں اور صرف دو سال کے عرصے میں مسلمانوں کی تعداد چودہ سو سے دس ہزار ہوگئی تھی اور وہ مکہ کو باآسانی فتح کرسکے تھے۔ رسولﷺ کے ساتھی کفار پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں۔
🌺سورۃ الحجرات میں معاشرتی آداب سیکھائے گئے ہیں۔ اہلِ ایمان کو اللہ تعالیٰ اور اسکے رسولﷺ سے آگے قدم نہیں بڑھانا چاہیے اور نبیﷺ کی آواز سے اپنی آواز کو پست رکھنا چاہیے۔ جب کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اسکی تحقیق کر لینی چاہیے۔ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں جنگ و قتال شروع کر دیں تو انکے درمیان صلح کروا دینی چاہیے۔ ایک دوسرے کا مذاق اڑانے ، عیب نکالنے ، تجسس و بدگمانی کرنے ، برے القابات سے پکارنے اور غیبت کرنے سے منع کیا گیا ہے اور انکی شدت سے مذمت کی گئی ہے۔
🌺سورۃ ق میں تخلیقِ ارض کا ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دن میں بنایا تھا۔ جہنم میں جب جہنمی ڈال دیے جائیں گے تو جہنم کہے گی کہ میرے اندر اور لوگوں کو ڈالا جائے۔ جنت میں داخل ہو جانے والے خوش نصیب وہی ہوں گے جنہوں نے تقویٰ اور پرہیز گاری کو اختیار کیا۔ اللہ پاک انسان کی شہہ رگ سے بھی زیادہ اسکے قریب ہے اور انسانی ذہن میں پیدا ہونے والے احساس کو بھی جانتا ہے۔ دو فرشتے موجود ہیں جو سب کچھ لکھ رہے ہیں اور قیامت کے دن وہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
🌺سورۃ الذاریات میں اللہ پاک نے بہت سی قسمیں اٹھانے کے بعد کہا ہے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ مومنین راتوں کو جاگنے والے اور سحری کے وقت استغفار کرنے والے ہوتے ہیں۔ انسانوں کے رزق کا فیصلہ آسمانوں پر ہوتا ہے۔
#خلاصہ #رمضان۲۰۲۵ #رمضان٢٠٢٥ #رمضان2025
نَحْمَدُہُ وَ نُصَلّیِ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمْ اَمّا بَعْدْ۔
فَاَعُوذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمْ
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
🌺پچیسویں پارے کا آغاز سورت حٰم سجدہ کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مشرکین سے کہیں گے کہاں ہیں وہ شریک جنھیں تم پکارا کرتے تھے؟ تب مشرکین کہیں گے آج ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جو آپکے علاوہ کسی کو پکارتا ہو۔ اللہ پاک انسان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور انکے اپنے نفوس میں بھی یہاں تک کہ انسانوں کو یقین ہو جائے گا کہ اللہ عزوجل ہی حق ہے۔
🌺 سورۃ الشوریٰ میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا کہ فرشتے اپنے رب کی پاکی اور اسکی تعریف بیان کرتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ سے پہلے جتنے بھی انبیاء مبعوث ہوئے
وہ سب کے سب لوگوں کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام
دیتے رہے۔ جب قیامت کا دن آئے گا تو اس دن ظالم اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے خوفزدہ ہوں گے اور اسکا وبال ان پر آکر رہے گا۔ انبیاء علیہم السلام دعوتِ دین کا کام صرف اللہ پاک کی رضا کے لیے کرتے ہیں۔ ایمان والوں کو غصہ آجائے تو معاف کر دیتے ہیں ، اپنے کام باہمی مشورے سے کرتے ہیں اور اگر کوئی زیادتی کر گزرے تو مناسب طریقے سے بدلہ لیتے ہیں۔ انسان کی زندگی میں جتنی بھی مصیبتیں آتی ہیں انکا بنیادی سبب انسان کے اپنے گناہ
ہوتے ہیں۔ اولاد دینا صرف اللہ پاک کا اختیار ہے۔
🌺 سورۃ الزخرف میں اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں کہ اس قرآن کو عربی میں اتارنے کی وجہ یہ تھی کہ اہلِ عرب اس زبان کو جانتے تھے اور اسکو پڑھ کر وہ آسانی سے شعور حاصل کرسکتے تھے۔ بعض عرب بیٹی کی پیدائش کو معیوب سمجھتے تھے اور وہ اسکی پیدائش پہ منہ چھپاتے پھرتے، اور کچھ تو بیٹی کو زندہ درگور کر دیتے تھے ، اس سے منع فرمایا گیا۔ اللہ پاک نے مشرکینِ مکہ کے اس خاص اعتراض کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جو کہتے تھے کہ قرآن مکہ اور طائف کے کسی بااثر شخص پر کیوں نہیں اترا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا میری رحمتوں کو تقسیم کرنا انکے اختیار میں ہے؟ انبیاء کو تعلیم دی گئی ہے کہ جب جاہل بحث کریں تو ان سے جدا ہو جائیں اور انکو سلام کہیں۔
🌺سورۃ الدخان میں ارشاد ہے کہ قرآنِ مجید کو برکت والی رات میں نازل فرمایا گیا۔ اللہ پاک نے بنی اسرائیل کو سرکش اور حد سے تجاوز کرنے والے فرعون کے لشکر سے نجات دی اور جب انھوں نے اپنے بنے بنائے گھر بنی اسرائیل کے لیے چھوڑے تو ان پر نہ زمین میں کوئی رویا اور نہ آسمان میں کوئی رویا۔
🌺کافروں کو زقوم کھانے کو دیا جائے گا جو پگھلے ہویے تانبے کی طرف پیٹ کو جلائے گا اور انکے سر پر بھی عذاب کا کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔ جبکہ مومنین امن کی جگہ ہوں گے، باریک ریشم پہنے ہوئے اور اونچی جگہوں پر براجمان ایک دوسرے سے باتیں کر رہے ہوں گے۔
🌺سورۃ الجاثیہ میں اللہ پاک نے اپنی بہت سی نشانیوں کا ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سمندروں کو مسخر کیا تاکہ اسکے حکم سے ان میں کشتیوں کو چلایا جائے اور اسکے فضل کو تلاش کیا جائے تاکہ اس کا شکریہ ادا کیا جائے۔ جو شخص نیک اعمال کرتا ہے وہ اپنے لیے کرتا ہے۔ قومِ بنی اسرائیل کو کتاب و حکمت ، نبوت اور پاکیزہ رزق بھی دیا اور جہانوں پر فضلیت دی۔ قیامت حق ہے اور قائم ہو کر رہے گی اور اس دن اللہ پاک منکرین قیامت کو فراموش کر دیں گے جیسے وہ دنیا میں قیامت کو فراموش کیے ہوئے ہیں اور
یہ اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے تھے۔
#اللہ #احادیث #آیت #رمضان٢٠٢۵
#رمضان٢٠٢٥ #رمضان2025
نَحْمَدُہُ وَ نُصَلّیِ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمْ اَمّا بَعْدْ۔
فَاَعُوذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمْ
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
🌺چوبیسویں پارے کا آغاز سورۃ زمر کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ رسول ﷺ سچائی کی دعوت لے کر آئے اور جنہوں نے آپکی دعوتِ حق کی تصدیق کی وہ اہلِ تقویٰ اور انعام کے حقدار ہیں۔ قیامت کے دن تمام زمین اللہ پاک کی مٹھی میں ہوگی اور سارے آسمان اسکے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ جب صور میں پھونک ماری جائے گی تو آسمان اور زمین میں جتنے رہنے والے ہیں سب بے ہوش ہو جائیں گے سوائے انکے جنہیں اللہ چاہے گا۔ پھر دوسری بار پھونک ماری جائے گی تو وہ کھڑے ہوکر دیکھنے لگیں گے اور زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہو جائے گی اور تمام اعمال نامے رکھے
جائیں گے اور انبیاء اور شہداء لائے جائیں گے اور انکے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا۔
🌺سورۃ المومن کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بعض صفات کا ذکر کیا ہے کہ وہ گناہوں کو معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے۔ عرشِ عظیم کو اٹھانے والے فرشتے اور جو فرشتے اسکے ارد گرد جمع ہیں اور اپنے رب کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ جب کفار کو جہنم کی آگ میں ڈال دیا جائے گا تو وہ پریشان و نادم ہوں گے اور اپنے آپ سے نفرت کریں گے۔ قیامت کے دن اللہ پاک شدید غضب ناک ہوں گے اور بار بار یہ آواز بلند فرمائے گا کہ آج کے دن کس کی بادشاہی ہے؟ اور کہیں سے جواب نہ پاکر پھر خود ہی جواب دیں گے کہ آج خدائے واحد و قہار کی بادشاہی ہے۔
🌺اللہ تعالیٰ نے فرعون کے قبیلے کے ایک مومن شخص کا بھی ذکر کیا ہے جو دربارِ فرعون میں منصب دار تھا اور اپنے ایمان کا اظہار نہیں کرتا تھا لیکن جب فرعون نے جنابِ موسیٰ علیہ سلام کو شہید کرنے کا ارادہ کیا تو اسکے لیے یہ بات ناقابلِ برداشت ہوگئی اور اس نے اس موقع پر حضرت موسیٰ علیہ سلام کی علانیہ حمایت کی اور اپنے ایمان کا برملا اظہار کیا۔ وہ لوگ جو اللہ عزوجل کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں انکو جہنم میں داخل کر دیا جائے گا۔
🌺سورۃ حم سجدہ میں اللہ پاک فرماتے ہیں کہ قرآنِ مجید کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ آپﷺ لوگوں کو ڈرائیں اور انکو بشارت دیں۔ کافروں کی بدنصیبی ہے کہ وہ اللہ کی کھلی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ زکوٰۃ نہ دینے والے لوگ مشرک اور آخرت کا انکار کرنے والے ہیں۔ انکے مدِمقابل جو لوگ ایمان لائے اور عملِ صالح کرنے والے ہیں انکے لیے اللہ پاک
نے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ جب مشرکوں کو اللہ پاک کے دربار میں جمع کیا جائے گا تو اس وقت ان کے اعضا یہاں تک کہ انکی کھال بھی انکے خلاف گواہی دے گی۔
🌺جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ تعالیٰ ہے اور اس پر استقامت اختیار کی تو اللہ پاک ان پر موت کے وقت فرشتوں کا نزول فرمائے گا اور فرشتے ان کو کہیں گے کہ نہ ڈرو اور نہ غم کھاؤ، تم کو اس جنت کی بشارت دی جاتی ہے جسکا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ان اصحابِ استقامت میں سے بھی وہ لوگ اعلی درجے پر ہیں جو حکمت کے ساتھ لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔ جو لوگ نیک عمل کرتے ہیں سو اپنے لیے کرتے ہیں اور جو برا عمل کرتے ہیں اسکا وبال انھیں پر ہوگا۔
#رمضان٢٠٢٥ #رمضان٢٠٢۵ #رمضان2025 #خلاصہ