Ihya e ummat

Ihya e ummat Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ihya e ummat, Education, G16 Islamabad, Islamabad.

روزانہ کا پیغام قرآن کیلنڈر کے ساتھ 🇵🇰رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَترجمہ:اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں ت...
14/08/2026

روزانہ کا پیغام قرآن کیلنڈر کے ساتھ 🇵🇰

رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ

ترجمہ:
اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مختصر پیغام
پاکستان کی آزادی بھی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اس نعمت کا شکر صرف جشن منانا نہیں، بلکہ اپنے وطن کی قدر، اس کی سلامتی، ترقی اور بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں پاکستان کو امن، اتحاد اور خوشحالی کی راہ پر آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🇵🇰

Quran | Surah An-Naml | 19


14 اگست — شکرِ آزادی سے تعمیرِ پاکستان تک14 اگست آتا ہے تو گلیاں پرچموں سے سج جاتی ہیں، فضائیں ملی نغموں سے گونج اٹھتی ہ...
13/08/2026

14 اگست — شکرِ آزادی سے تعمیرِ پاکستان تک

14 اگست آتا ہے تو گلیاں پرچموں سے سج جاتی ہیں، فضائیں ملی نغموں سے گونج اٹھتی ہیں، چہروں پر مسکراہٹیں بکھر جاتی ہیں اور ہم ایک دوسرے کو آزادی کی مبارک باد دیتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ خوبصورت ہے، مگر 14 اگست کا سب سے اہم سوال شاید یہ ہے کہ ہم آزادی کی اس عظیم نعمت کا شکر کس طرح ادا کر رہے ہیں؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ — "اور جب تمہارے رب نے اعلان فرمایا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا۔" (سورۃ ابراہیم: 7) یہ صرف ایک خوش خبری نہیں، شکر کا ایک اصول بھی ہے۔ شکر محض زبان سے چند کلمات ادا کرنے کا نام نہیں؛ شکر یہ ہے کہ نعمت کو پہچانا جائے، اس کی قدر کی جائے اور اسے اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے جس مقصد کے لیے وہ عطا ہوئی ہے۔

اگر کسی کے پاس پانی ہو، وہ اسے نالیوں میں بہا کر ضائع کرتا رہے اور پھر بیٹھ کر پانی کی نعمت پر تسبیحات پڑھتا رہے تو کیا اسے حقیقی شکر کہا جائے گا؟ اگر کسی کے پاس علم ہو اور وہ اسے معاشرے کی اصلاح کے لیے استعمال نہ کرے، مال ہو اور اسے خیر کے کام میں نہ لگائے، وقت ہو اور اسے غفلت میں گزار دے، صحت ہو اور اسے بے مقصد زندگی میں کھپا دے، تو محض زبان سے "الحمدللہ" کہنا شکر کی تکمیل نہیں کرتا۔ نعمت کا شکر، نعمت کے صحیح استعمال میں ہے۔

تو پھر پاکستان جیسی عظیم نعمت کا شکر کیا ہے؟

کیا صرف یہ کہ ہم سال میں ایک دن سبز ہلالی پرچم لہرا دیں؟ چند ملی نغمے سنیں؟ تقریریں کریں؟ سوشل میڈیا پر مبارک باد کے پیغامات لکھیں؟ چند تسبیحات پڑھیں اور سمجھیں کہ ہم نے اپنا حق ادا کر دیا؟

نہیں!

پاکستان کا شکر پاکستان کو بہتر بنانے میں ہے۔

اس ملک کا شکر یہ ہے کہ ہم اس کے زخموں کو دیکھیں، اس کے مسائل کو محسوس کریں، ان کے اسباب کو سمجھیں اور پھر ان کے علاج کے لیے کھڑے ہوں۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ پاکستان کا کوئی مسئلہ "کسی اور" کا مسئلہ نہیں؛ اس ملک کا مسئلہ، ہم سب کا مسئلہ ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ — "پس تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میرا شکر ادا کرو اور ناشکری نہ کرو۔" (سورۃ البقرۃ: 152) شکر کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اللہ کی عطا کردہ صلاحیتوں کو بیکار نہ جانے دیں۔ اگر ہمارے پاس عقل ہے تو اسے مسائل کے حل میں لگائیں، اگر علم ہے تو اسے جہالت کے خاتمے میں صرف کریں، اگر مال ہے تو اسے معاشرے کی تعمیر میں لگائیں، اگر اختیار ہے تو اسے عدل و خدمت کے لیے استعمال کریں، اور اگر قلم ہے تو اسے حق، خیر اور اصلاح کے لیے وقف کریں۔

پاکستان کا شکر یہ ہے کہ اس ملک کا ہر بچہ تعلیم یافتہ ہو۔ کوئی بچہ صرف اس لیے تعلیم سے محروم نہ رہے کہ اس کے والدین کے پاس وسائل نہیں۔ پاکستان کا شکر یہ ہے کہ ہر نوجوان کے ہاتھ میں ہنر ہو، اس کے سامنے روزگار کے مواقع ہوں، وہ اپنی صلاحیت کو بروئے کار لا سکے اور اپنے خاندان ہی نہیں بلکہ اپنی قوم کے لیے بھی سرمایہ بن سکے۔

پاکستان کا شکر یہ ہے کہ ہماری نئی نسل علومِ دینیہ اور علومِ عصریہ دونوں سے بہرہ مند ہو؛ وہ قرآن کو بھی سمجھے اور کائنات کے علوم کو بھی، دین کی حکمت سے بھی واقف ہو اور جدید ٹیکنالوجی سے بھی، اخلاق و کردار میں بھی مضبوط ہو اور تحقیق و تخلیق میں بھی آگے ہو۔ ہمیں ایسے انسان پیدا کرنے ہیں جو صرف ملازمت تلاش نہ کریں بلکہ مسائل حل کرنے والے، ادارے بنانے والے، معاشرے سنوارنے والے اور تاریخ کا رخ بدلنے والے ہوں۔

پاکستان کا شکر یہ بھی ہے کہ ہر فرد حتی المقدور صاحبِ استطاعت ہو۔ بھوک، بے روزگاری، جہالت اور محرومی کو تقدیر کا نام دے کر قبول نہ کیا جائے بلکہ ان کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوشش کی جائے۔ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے جہاں انسان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو، عزت کے ساتھ روزی کمائے اور دوسروں کے لیے بھی آسانی کا سبب بنے۔

اور پاکستان کا شکر یہ بھی ہے کہ ہم اپنے اجتماعی نظام کو محض وراثت میں ملے ہوئے ڈھانچے کے طور پر نہ دیکھیں، بلکہ مسلسل اصلاح اور احتساب کے عمل سے گزاریں۔ ریاستِ مدینہ کے ان اصولوں کو سامنے رکھیں جن میں عدل، امانت، جواب دہی، مشاورت، حقوق العباد، قانون کی بالادستی اور فلاحِ عامہ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، اور پھر اپنے آئینی، انتظامی اور معاشرتی نظام کو ان اصولوں کی روشنی میں پرکھیں۔ سوال اٹھائیں، تحقیق کریں، اصلاح کریں اور جہاں خرابی ہو وہاں اسے درست کرنے کی کوشش کریں۔

یہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنے جشن کے ساتھ اپنا احتساب بھی کرتی ہیں۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا ہمیں شکر کا ایک اور خوبصورت پہلو سکھاتی ہے: رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ — "اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر فرمائی۔" (سورۃ النمل: 19) یعنی صرف نعمت ملنے پر خوش ہونا کافی نہیں، نعمت کا حق ادا کرنے کی توفیق بھی مانگنی چاہیے۔

آج ہمیں بھی یہی دعا کرنی چاہیے کہ اے اللہ! ہمیں پاکستان کی قدر کرنے کی سمجھ دے، اس کی آزادی کی حفاظت کرنے کی توفیق دے، اس کے مسائل کو سمجھنے کی بصیرت دے اور ان کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کا حوصلہ دے۔

ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں ہر بچہ کتاب سے جڑا ہو، ہر نوجوان ہنر مند ہو، ہر گھر میں عزت کے ساتھ روزگار ہو، ہر ادارہ امانت و دیانت کے ساتھ کام کرے، ہر مظلوم کو انصاف میسر ہو، ہر شہری اپنے حق کے ساتھ اپنی ذمہ داری سے بھی واقف ہو، اور ریاست کا ہر فیصلہ عوامی فلاح، عدل اور قومی مصلحت کے تابع ہو۔

ہمیں صرف ایک آزاد پاکستان نہیں چاہیے؛ ہمیں ایک ایسا پاکستان چاہیے جو اپنی آزادی کے مقصد کو بھی سمجھتا ہو۔

ہمیں صرف پرچم بلند نہیں کرنا؛ ہمیں اس پرچم کے وقار کو بلند کرنا ہے۔

ہمیں صرف پاکستان سے محبت کا دعویٰ نہیں کرنا؛ ہمیں اپنے کردار سے ثابت کرنا ہے کہ ہم پاکستان کے خیر خواہ ہیں۔

کیونکہ وطن سے محبت صرف جذبات کا نام نہیں، ذمہ داری کا نام بھی ہے۔ آزادی صرف ایک نعمت نہیں، ایک امانت بھی ہے۔ اور امانت کا حقیقی شکر یہ ہے کہ اسے سنبھالا جائے، سنوارا جائے اور آنے والی نسلوں کے حوالے پہلے سے بہتر حالت میں کیا جائے۔

اس لیے اس 14 اگست پر صرف یہ نہ کہیں:

پاکستان زندہ باد!

بلکہ اپنے دل سے یہ عہد بھی کریں:

میں پاکستان کے مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھوں گا،
میں اپنی صلاحیت کو پاکستان کی تعمیر کے لیے استعمال کروں گا،
میں علم حاصل کروں گا اور علم بانٹوں گا،
میں دیانت کو اختیار کروں گا،
میں اپنے حصے کی اصلاح سے آغاز کروں گا،
اور میں اس عظیم نعمت کا شکر صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے ادا کروں گا۔

کیونکہ حقیقی شکر تسبیح کے دانوں میں نہیں، کردار کے قدموں میں دکھائی دیتا ہے۔

اور شاید 14 اگست کا سب سے خوبصورت پیغام یہی ہے:

آزادی کا جشن ایک دن منایا جاتا ہے،
مگر آزادی کا شکر پوری زندگی ادا کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، عدل، علم، استحکام اور خوشحالی عطا فرمائے، اس ملک کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری پہچاننے کی توفیق دے، اور ہمیں ایسی نسل تعمیر کرنے کی توفیق دے جو پاکستان کو صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک عظیم امانت سمجھ کر اس کی حفاظت، اصلاح اور تعمیر کرے۔

پاکستان زندہ باد 🇵🇰
پاکستان پائندہ باد 🇵🇰

آج کی آیتِ کریمہ 🌿وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِترجمہ:اور جو شخص اللہ ...
13/08/2026

آج کی آیتِ کریمہ 🌿

وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ

ترجمہ:
اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔ بے شک اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے۔

Quran | سورۃ الطلاق: 3

اللہ پر سچا توکل انسان کے دل سے خوف نکال دیتا ہے؛ کیونکہ جب بندہ اپنے معاملات اللہ کے سپرد کر دیتا ہے تو اللہ اس کے لیے وہ راستے کھول دیتا ہے جن کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔


روزانہ کا پیغام قرآن کیلنڈر کے ساتھوَاصْبِرْ ۖ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللَّهِ ۚترجمہ:اور صبر کیجیے، اور آپ کا صبر اللہ ...
12/08/2026

روزانہ کا پیغام قرآن کیلنڈر کے ساتھ

وَاصْبِرْ ۖ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللَّهِ ۚ

ترجمہ:
اور صبر کیجیے، اور آپ کا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔

Quran | An-Nahl 16:127

🌿 پیغام:
کبھی حالات ہمارے اختیار میں نہیں ہوتے، مگر صبر، حوصلہ اور اللہ پر بھروسہ ہمارے اختیار میں ہوتا ہے۔ جب انسان اپنی طاقت پر نہیں بلکہ اللہ کی مدد پر بھروسا کرتا ہے تو مشکل راستے بھی آسان ہونے لگتے ہیں۔

روزانہ کا پیغام قرآن کیلنڈر کے ساتھيَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ ...
10/08/2026

روزانہ کا پیغام قرآن کیلنڈر کے ساتھ

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ

ترجمہ:
اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

Quran | Al-Baqarah 2:153


روزانہ کا پیغام قرآن کیلنڈر کے ساتھإِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْترجمہ:ب...
09/08/2026

روزانہ کا پیغام قرآن کیلنڈر کے ساتھ

إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ

ترجمہ:

بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔

Quran | Ar-Ra'd 13:11

لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَترجمہ:اے اللہ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، ب...
07/08/2026

لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ

ترجمہ:
اے اللہ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا۔

📖 Quran | Al-Anbiya 21:87

#

کیا مصنوعی ذہانت بھی بیانیوں کی جنگ کا نیا محاذ بن چکی ہے؟زمانہ بدل چکا ہے۔ اب جنگیں صرف بارود، میزائل اور ٹینکوں سے نہی...
05/08/2026

کیا مصنوعی ذہانت بھی بیانیوں کی جنگ کا نیا محاذ بن چکی ہے؟

زمانہ بدل چکا ہے۔ اب جنگیں صرف بارود، میزائل اور ٹینکوں سے نہیں لڑی جاتیں، بلکہ الفاظ، معلومات، الگورتھمز اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے بھی قوموں کے اذہان کو متاثر کیا جاتا ہے۔ آج دنیا میں رائے عامہ کی تشکیل صرف اخبارات اور ٹیلی ویژن تک محدود نہیں رہی، بلکہ انٹرنیٹ اور AI کے پلیٹ فارم بھی اس معرکے کے اہم کردار بن چکے ہیں۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے اپنے مؤقف کو ڈیجیٹل دنیا میں مؤثر بنانے کے لیے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے سابق مینیجر بریڈ پارسکیل کی کمپنی کے ساتھ 46.5 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس منصوبے کے تحت سینکڑوں ویب سائٹس، بلاگز اور آن لائن مضامین تیار کیے گئے تاکہ ChatGPT، Gemini، Claude، Copilot اور Perplexity جیسے مصنوعی ذہانت کے نظام غزہ اور اسرائیل سے متعلق سوالات کے جواب دیتے وقت انہی ذرائع سے زیادہ استفادہ کریں۔

اگر معلومات کی دنیا کو اس انداز سے تشکیل دیا جا رہا ہے تو یہ صرف ایک ڈیجیٹل حکمتِ عملی نہیں، بلکہ انسانی شعور، عالمی رائے عامہ اور مستقبل کے بیانیے پر اثر انداز ہونے کی ایک نئی جہت ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کیا جواب دے رہی ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو پڑھایا کیا جا رہا ہے، اور اسے دکھایا کیا جا رہا ہے؟

مصنوعی ذہانت اپنی طرف سے تاریخ نہیں لکھتی، نہ ہی واقعات تخلیق کرتی ہے۔ وہ انہی معلومات کی ترجمان بنتی ہے جو اسے انٹرنیٹ، تحقیقی مواد اور ڈیجیٹل ذرائع سے میسر آتی ہیں۔ اگر معلومات کے بہاؤ کا رخ کسی ایک سمت موڑ دیا جائے تو AI کے جوابات بھی اسی سمت جھک سکتے ہیں۔ یوں معلومات کا میدان محض ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ سچ، انصاف اور انسانی شعور کی حفاظت کا معاملہ بن جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج علم کی حفاظت بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی سرحدوں کی حفاظت۔ اگر معلومات کا ماحول غیر متوازن ہو جائے تو آنے والی نسلوں کی سوچ، تاریخ کی تعبیر اور حقائق کی شناخت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

اس لیے مصنوعی ذہانت کے اس دور میں ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ تحقیق، علمی دیانت اور مستند معلومات کو فروغ دیا جائے۔ کیونکہ مستقبل کی دنیا میں طاقت صرف اس کے پاس نہیں ہوگی جس کے پاس جدید ٹیکنالوجی ہوگی، بلکہ اس کے پاس ہوگی جس کے پاس سچ پر مبنی علم، معتبر معلومات اور مضبوط بیانیہ ہوگا۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو قوموں کو صرف طاقتور نہیں، بلکہ باوقار بھی بناتا ہے۔

روزانہ کا پیغام قرآن کیلنڈر کے ساتھوَقُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْ...
05/08/2026

روزانہ کا پیغام قرآن کیلنڈر کے ساتھ

وَقُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
ترجمہ:
کہہ دو: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا، بے شک اللہ تمام گناہ بخش دیتا ہے۔ بے شک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
Quran | Az-Zumar 39:53



روزانہ کا پیغام قرآن کیلنڈر کے ساتھوَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّ...
04/08/2026

روزانہ کا پیغام قرآن کیلنڈر کے ساتھ

وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ

ترجمہ:

اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بے شک اللہ کی رحمت سے ناامید تو صرف کافر لوگ ہوتے ہیں۔

Quran | Yusuf 12:87


Address

G16 Islamabad
Islamabad

Telephone

+923475464636

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ihya e ummat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Ihya e ummat:

Shortcuts

Share

Category