Maulana Mohsin Aziz

Maulana Mohsin Aziz

Share

We aim to provide quality Quranic and Islamic education online.The main focus is on reciting the Holy Quran with the rules of Tajweed. Quran Teacher

Tajweed is necessary for reverence and submission in Salah . Tajweed is one of the etiquettes to read the Holy Quran.

08/12/2025

شیخ عبدالرحمن السديس
نماز فجر
حرم شریف 🕋
8 دیسمبر 2025م 17 جمادی الثاني 1447ہجری

31/05/2025

صلاۃ المغرب
سورۃ الشمس والتین
بدر بن محمد الترکی

Photos from Maulana Mohsin Aziz's post 18/12/2024

تحقیقِ روایات: کچرا پھینکنے والی اور سامان لے جانے والی بوڑھی عورتيں!

15/11/2024

*درسِ حدیث 20:*

‼️ *قبرستان میں دعا کرتے وقت قبلہ رُخ ہونے کا حکم:*
1️⃣ قبرستان جاکر مرحومین کے لیے دُعائے مغفرت کرنا یا میت کو دفن کرنے کے بعد اُس کے لیے دعائے مغفرت کرنا احادیث سے ثابت ہے۔
2️⃣ قبرستان میں دعائے مغفرت کرتے وقت قبر کی طرف رُخ کرنا بھی جائز ہے، اور قبلہ رُخ ہونا بھی جائز ہے کیوں کہ روایات سے دونوں طرح کے طریقوں کی تائید ہوتی ہے۔ پھر میت کے لیے دعائے مغفرت کرتے وقت بعض حضرات اہلِ علم نے قبر کی طرف رخ کرنے کو افضل قرار دیا ہے کیوں کہ روایات سے اس کا ثبوت ملتا ہے، جبکہ بعض دیگر حضرات اہلِ علم نے قبلہ رُخ ہونے کو افضل قرار دیا ہے کیوں کہ ایک تو عام حالات میں بھی دعا کے لیے قبلہ رخ ہونا مستحب ہے۔ دوم یہ کہ بعض روایات سے بھی دعائے مغفرت کے وقت قبلہ رخ ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ ذیل میں اس حوالے سے چند روایات ذکر کی جاتی ہیں تاکہ زیرِ بحث مسئلہ بخوبی واضح ہوسکے۔ ملاحظہ فرمائیں:
▪️ *روایات:*
1️⃣ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور اقدس ﷺ میت کو دفن کرنے سے فارغ ہوجاتے تو قبر کے پاس ٹھہر کر یہ فرماتے کہ: ’’اپنے اس بھائی کے لیے مغفرت مانگو اور اس کے لیے (قبر کے سوالات کے وقت) ثابت قدمی کی دعا کرو، کیوں کہ ابھی اس سے سوالات ہوں گے۔‘‘
☀️ سنن أبي داود:
3223- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِىُّ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَحِيرٍ عَنْ هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: كَانَ النَّبِىُّ ﷺ إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَيِّتِ وَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ: «اسْتَغْفِرُوا لأَخِيكُمْ وَسَلُوا لَهُ التَّثْبِيتَ فَإِنَّهُ الآنَ يُسْأَلُ».
(باب الاِسْتِغْفَارِ عِنْدَ الْقَبْرِ لِلْمَيِّتِ فِى وَقْتِ الاِنْصِرَافِ)
اس حدیث میں میت کو دفن کرنے کے بعد اس کے لیے مغفرت اور ثابت قدمی کی دعا کی ترغیب دی گئی ہے، لیکن اس میں قبلہ رخ ہونے کا ذکر نہیں، البتہ قرائن سے قبر کی طرف رخ ہونا ہی معلوم ہوتا ہے، اس لیے یہ روایت دعائے مغفرت کے وقت قبر کی طرف رخ کرنے کو ثابت کرتی ہے۔
☀️ مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:
133- (وَعَنْهُ) أَيْ عَنْ عُثْمَانَ (قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا فَرَغَ) مَعْلُومٌ، وَقِيلَ: مَجْهُولٌ (مِنْ دَفْنِ الْمَيِّتِ) الْمُرَادُ مِنْهُ الْجِنْسُ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنَ النَّكِرَةِ (وَقَفَ عَلَيْهِ) أَيْ عَلَى رَأْسِ الْقَبْرِ (فَقَالَ:) أَيْ: لِأَصْحَابِهِ (اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ) ..... (رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ) وَقَالَ مِيرَكُ شَاهْ: بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ.
(بَابُ إِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ)
2️⃣ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ مدینہ کے قبروں سے گزرے تو اُن کی طرف رخ کرکے فرمایا کہ:
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا اَهْلَ القُبُوْرِ، يَغْفِرُ اللّٰهُ لَنَا وَلَكُمْ، اَنْتُمْ سَلَفُنَا، وَنَحْنُ بِالْاَثَرِ.
▪️ ترجمہ: اے قبر والو! تم پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے، تم ہم سے پہلے جانے والے ہو اور ہم تہارے بعد آنے والے ہیں۔
☀️ سنن الترمذي:
1053- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ عَنْ أَبِي كُدَيْنَةَ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ ﷺ بِقُبُورِ المَدِينَةِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ القُبُورِ، يَغْفِرُ اللهُ لَنَا وَلَكُمْ، أَنْتُمْ سَلَفُنَا، وَنَحْنُ بِالأَثَرِ».
وَفِي البَاب عَنْ بُرَيْدَةَ، وَعَائِشَةَ. (بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ المَقَابِرَ)
اس حدیث سے قبرستان میں دعائے مغفرت کرتے وقت قبروں کی طرف رخ کرنے کا ثبوت ملتا ہے، بلکہ حضرت ملا علی قاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کی بنا پر دعائے مغفرت کرتے وقت قبر کی طرف رخ کرنے کو مستحب قرار دیا ہے اور اسی پر امت کا تعامل بھی ذکر فرمایا ہے۔ عبارت ملاحظہ فرمائیں:
☀️ مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:
1765- (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ بِقُبُورٍ بِالْمَدِينَةِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ) أَيْ عَلَى أَهْلِ الْقُبُورِ، وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْمُسْتَحَبَّ فِي حَالِ السَّلَامِ عَلَى الْمَيِّتِ أَنْ يَكُونَ وَجْهُهُ لِوَجْهِ الْمَيِّتِ، وَأَنْ يَسْتَمِرَّ كَذَلِكَ فِي الدُّعَاءِ أَيْضًا، وَعَلَيْهِ عَمَلُ عَامَّةِ الْمُسْلِمِينَ، خِلَافًا لِمَا قَالَهُ ابْنُ حَجَرٍ مِنْ أَنَّ السُّنَّةَ عِنْدَنَا أَنَّهُ حَالَةَ الدُّعَاءِ يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ، كَمَا عُلِمَ مِنْ أَحَادِيثَ أُخَرَ فِي مُطْلَقِ الدُّعَاءِ، اهـ. وَفِيهِ أَنَّ كَثِيرًا مِنْ مَوَاضِعِ الدُّعَاءِ وَقَعَ اسْتِقْبَالُهُ ﷺ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ مِنْهَا مَا نَحْنُ فِيهِ، وَمِنْهَا حَالَةُ الطَّوَافِ وَالسَّعْيِ، وَدُخُولُ الْمَسْجِدِ، وَخُرُوجُهُ، وَحَالُ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَأَمْثَالُ ذَلِكَ، فَيَتَعَيَّنُ أَنْ يَقْتَصِرَ الِاسْتِقْبَالُ وَعَدَمُهُ عَلَى الْمَوْرِدِ إِنْ وُجِدَ، وَإِلَّا فَخَيْرُ الْمَجَالِسِ مَا اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ كَمَا وَرَدَ بِهِ الْخَبَرُ، وَأَمَّا مَا فَعَلَهُ بَعْضُ السَّلَفِ بَعْدَ الزِّيَارَةِ النَّبَوِيَّةِ مِنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ لِلْأَدْعِيَةِ فَهُوَ أَمْرٌ زَائِدٌ لَا مَسْطُورَ فِيهِ لِلْأَئِمَّةِ (بِوَجْهِهِ) قَالَ الْمُظْهِرُ: وَاعْلَمْ أَنَّ زِيَارَةَ الْمَيِّتِ كَزِيَارَتِهِ فِي حَالِ حَيَاتِهِ، يَسْتَقْبِلُهُ بِوَجْهِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي الْحَيَاةِ إِذَا زَارَهُ يَجْلِسُ مِنْهُ عَلَى الْبُعْدِ لِكَوْنِهِ عَظِيمَ الْقَدْرِ فَكَذَلِكَ فِي زِيَارَاتِهِ يَقِفُ، أَوْ يَجْلِسُ عَلَى الْبُعْدِ مِنْهُ، وَإِنْ كَانَ يَجْلِسُ مِنْهُ عَلَى الْقُرْبِ فِي حَيَاتِهِ كَذَلِكَ يَجْلِسُ بِقُرْبِهِ إِذَا زَارَهُ اهـ. (كِتَابُ الْجَنَائِزِ: بَابُ زِيَارَةِ الْقُبُورِ)
3️⃣ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور اقدس ﷺ حضرت عبد اللہ ذو البجادَین رضی اللہ عنہ کو دفن کرنے سے فارغ ہوئے تو قبلہ رُخ ہوکر ہاتھ اُٹھا کر اُن کے لیے دعا فرمائی۔
☀️ معرفة الصحابة لأبي نعيم:
4105- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْأَبَجِّ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ شَاذَانُ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: وَاللهِ لَكَأَنِّي أَرَى رَسُولَ اللهِ ﷺ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَهُوَ فِي قَبْرِ عَبْدِ اللهِ ذِي الْبِجَادَيْنِ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَقُولُ: «أَدْنِيَا مِنِّي أَخَاكُمَا»، فَأَخَذَهُ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ حَتَّى أَسْنَدَهُ فِي لَحْدِهِ، ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ وَوَلَّاهُمَا الْعَمَلَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ دَفْنِهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ رَافِعًا يَدَيْهِ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنِّي أَمْسَيْتُ عَنْهُ رَاضِيًا فَارْضَ عَنْهُ»، وَكَانَ ذَلِكَ لَيْلًا فَوَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَلَوَدِدْتُ أَنِّي مَكَانَهُ، وَلَقَدْ أَسْلَمْتُ قَبْلَهُ بِخَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً.
(بَابُ الذَّالِ مِنْ بَابِ الْعَيْنِ: عَبْدُ اللهِ ذُو الْبِجَادَيْنِ الْمُزَنِيُّ)
اس حدیث سے میت کو دفن کرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونے اور اس میں ہاتھ اُٹھانے کا ثبوت ملتا ہے۔

⬅️ *خلاصہ:*
1️⃣ احادیث مبارکہ اور فقہی عبارات سے یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ قبرستان میں مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کرتے وقت قبر کی طرف رخ کرنا بھی درست ہے اور قبلہ رخ ہونا بھی درست ہے، ان میں سے کسی بھی طریقے کو غلط یا ناجائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ البتہ جس جگہ قبروں سے مانگنے اور اس طرح کے شرکیہ عقائد کا رواج ہو یا قبر کی طرف رخ کرکے دعا مانگنے سے فتنہ پیدا ہونے اور لوگوں کے عقائد بگڑنے کا اندیشہ ہو تو وہاں قبلہ رُخ ہوکر دعا مانگنا ہی مناسب اور بہتر ہے تاکہ فتنوں سے بچا جاسکے۔
2️⃣ واضح رہے کہ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ اگر قبرستان میں ہاتھ اُٹھا کر دعا کی جائے تو ایسی صورت میں قبلہ رُخ ہونا مناسب ہے، البتہ اگر بغیر ہاتھ اُٹھائے دعا کی جائے تو ایسی صورت میں قبر کی طرف رُخ کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ اس رائے کے مطابق مذکورہ احادیث میں بھی تطبیق ہوجاتی ہے اور اس میں شرک جیسی برائیوں اور ان کے فتنوں سے بھی بچا جاسکتا ہے۔ دیکھیے: فتاویٰ محمودیہ، فتاویٰ دار العلوم زکریا۔

▪️ *وضاحت:* جہاں تک حضور اقدس سرورِ کائنات حبیبِ خدا ﷺ کے روضہ مبارکہ کے پاس درود وسلام عرض کرنے کے مسئلے کا تعلق ہے تو اس کی تفصیل کسی اور تحریر میں ذکر کی جائے گی ان شاء اللہ۔

📚 *فقہی عبارات*
☀️ حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح:
قوله: (والسنة زيارتها قائما) قال في «شرح المشكاة»: ينبغي أن يدنو من القبر قائما أو قاعدا بحسب ما كان يصنع لزواره في حياته ا هـ. وكذا ذكره غيره، وفي «القهستاني»: ويقوم بحذاءه وجهه قربا وبعدا مثل ما في الحياة. قال في «الإحياء»: والمستحب في زيارة القبور أن يقف مستدبر القبلة مستقبلا وجه الميت وأن يسلم ولا يمسح القبر ولا يقبله ولا يمسه فإن ذلك من عادة النصارى، كذا في «شرح الشرعة». قال في «شرح المشكاة» بعد كلام: وحديث ما نصه فيه دلالة على أن المستحب في حال السلام على الميت أن يكون لوجهه وأن يستمر كذلك في الدعاء أيضا وعليه عمل عامة المسلمين خلافا لما قاله ابن حجر.
(فصل في زيارة القبور)
☀️ الفتاوى الهندية:
فإذا بَلَغَ الْمَقْبَرَةَ يَخْلَعُ نَعْلَيْهِ ثُمَّ يَقِفُ مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ مُسْتَقْبِلًا لِوَجْهِ الْمَيِّتِ وَيَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يا أَهْلَ الْقُبُورِ وَيَغْفِرُ اللهُ لنا وَلَكُمْ، أَنْتُمْ لنا سَلَفٌ وَنَحْنُ بِالْأَثَرِ. كَذَا في «الْغَرَائِبِ». وإذا أَرَادَ الدُّعَاءَ يَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، كَذَا في «خِزَانَةِ الْفَتَاوَى».
(الْبَابُ السَّادِسَ عَشَرَ في زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ في الْمَقَابِرِ)
☀️ حلبي صغير:
ويدعو قائما مستقبل القبلة وقيل: يستقبل وجه الميت، وهو قول الشافعي رحمه الله تعالى.

✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی
7جمادی الآخرۃ 1445ھ/ 21 دسمبر 2023

14/11/2024

*مسجد النبوی میں آمین چیخ کر کہنے والوں کے لیے امام و خطیب شیخ حسین آل شیخ نے نماز کے بعد تنبیہ فرمائی۔*

بعض مصلین آمین کہتے ہوئے اپنی آوازوں کو بلند کرتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رسول ﷺ کی سنت کے خلاف ہے۔

(شیخ نے اس میں علماء احناف کے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ) آمین ایک دعاء ہے اور دعاء آہستہ آواز میں کرنا مسنون ہے۔

اور حرم مدنی ادب کا مقام ہے لہذا اس مقام کی تعظیم کریں اور اپنی آواز کو بلند نہ فرمائیں۔

06/11/2024

جـو شخص گفتگو میں اپنی جائیداد گاڑی خاندان اور اُونـچے تعلقات کا بار بار ذکر کرے تو اُس سے دور رہـیں ایسا شخص ذہنی مریض ہوتـاہے۔

05/11/2024
03/11/2024

تبلیغی اجتماع بدعت کیوں نہیں ؟ اور جشن عید میلاد تیجہ چالیسواں کیوں بدعت ہیں؟ سنئے اس اشکال کا انتہائی آسان عام فہم جواب از استاد محترم استاد الحدیث حضرت مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی مدظلہ العالی

02/11/2024

الدکتور الشیخ عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس

02/11/2024

مجرب عمل
خود بھی کریں اور دوست احباب کو بھی تلقین کیجئے
ایک عجیب مختصر وآسان عمل۔۔۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Islamabad
45570