23/07/2026
حیا اور پردہ انسان کی فطرت ہے، کسی تہذیب یا معاشرے کی ایجاد نہیں۔
قرآن بتاتا ہے کہ جب حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ سے لغزش ہوئی تو سب سے پہلے انہیں اپنی شرم گاہوں کو چھپانے کا شدت سے احساس ہوا اور وہ جنت کے پتوں سے خود کو ڈھانپنے لگے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شرم، حیا اور پردہ انسانی فطرت کا حصہ ہیں، کسی تہذیب یا رسم و رواج کی پیداوار نہیں۔
اسی لیے شیطان کا پہلا ہدف بھی انسان کو لباس اور حیا سے محروم کرنا ہے:
"وہ چاہتا ہے کہ ان کا لباس اتار دے..." (الاعراف: 27)
آج بھی ابلیس کی اولاد، آدم کی اولاد کو بے لباس کرنے پر مصر ہے۔
اولاد ابلیس جنسی خواہشات کی راہ سے بے حیائی اور فواحش کو عام کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
آج بھی ابلیس نئے انداز، جدید نعروں اور نفسانی خواہشات کے ذریعے بے حیائی اور فواحش کو فروغ دے رہا ہے۔ ایسے میں حیا اور پردہ صرف لباس نہیں، بلکہ ایمان، عزت، وقار اور اللہ کی فطرت کی حفاظت کا نام ہیں۔
جس معاشرے سے حیا رخصت ہو جائے، وہاں انسانیت بھی آہستہ آہستہ رخصت ہونے لگتی ہے۔