سلام غزہ .......
اِس دَور میں صِدق و وفا کے تم اِمام ہو،
شہرِ غزہ کے باسیو! تم کو سلام ہو۔
شرمندہ ہیں تمہارے لیے، جِیے نہ مر سکے،
ہم تو تمہارے واسطے کچھ بھی نہ کر سکے۔
کیوں بولتے ہو حقوقِ اِنسانی کے نام پر،
سب کی زباں ہے بند کیوں اِس قتلِ عام پر؟
دانہ و پانی دُشمن نے بند کر دیا،
زِندہ ہوئی ہے پھر غزہ میں رسمِ کربلا۔
عرب و عجم کے حاکم خاموش ہیں سبھی،
اِن کو رہا نہ یادِ خُدا، نہ نسبتِ نبی ﷺ
مگر خدا کی رحمت اترے تمہارے نام،
اے اہلِ غزہ! تم پہ سلام۔ 🌹
Islamiceducation
Assalamualaikum. We post Daily Difference Thoughts Support our YouTube fb and Instagram brother and
ایمان کا سودا: 5 ملین ڈالر!!
اگر آپ کو پانچ ملین ڈالر انعام ملنے کا یقین ہو۔ کرنا کیا ہے، کچھ نہیں، بس ایک اشارہ ہی کرنا ہے۔ جی ہاں، صرف اک اشارہ۔ پھر زندگی سنور جائے۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر تھوڑی دیر کے لیے سوچیں اک اشارے پر 5 ملین ڈالر۔ کتنے؟ ایک ارب 41 کروڑ 65 لاکھ 81 ہزار 500 روپے۔ جی ہاں، کئی نسلوں کی عیاشی کے لیے کافی۔ آپ بس کسی ایک قیدی کے بارے میں بس ذرا اشارہ کردیں، یہ رقم آپ کی جیب میں۔
آپ ہیں بھی جنگ زدہ علاقے میں، جہاں ہر سو بھوک نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ 142 ڈالر کا ایک کلو آٹا مل رہا ہے۔ مسور کی دال 55 ڈالر کا کلو۔ آپ کی جیب خالی۔ پیٹ پر پتھر بندھے ہوئے۔ بچے بھوک سے بلک رہے ہیں۔ سامنے 5 ملین ڈالر کی پیشکش منہ چڑا رہی ہے۔ اس قحط زدہ زمانے میں یہ کتنی بڑی رقم ہے۔ مگر یہی رقم اُس وقت بھی بے وقعت ہو گئی جب ایمان کا سودا درہم و دینار سے کرنے کی کوشش کی گئی۔
تصور کیجئے، ایک صہیونی قیدی کے بارے میں صرف ایک خبر، ایک اشارہ یا سراغ لگانے والے کو پانچ ملین ڈالر دینے کی پیشکش کی گئی۔ یہ اعلان مسلسل تئیس ماہ تک جاری رہا۔ ہر تیسرے چوتھے روز ہیلی کاپٹروں سے پمفلٹ اس وعدے کے ساتھ گرائے جاتے رہے کہ اطلاع دینے والے کی معلومات کو مکمل طور پر صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔ پھر رابطہ کے لیے خفیہ نمبر دیا جاتا۔ اس دوران سینکڑوں جانباز، محققین، ڈاکٹرز، انٹیلی جنس کارکنان اور وہ تمام لوگ جو ان اسرائیلی قیدیوں کو خوراک، علاج، پناہ، لباس اور پانی فراہم کرتے تھے، سبھی جانتے تھے کہ وہ کہاں رکھے گئے ہیں۔ مگر ان میں سے کسی ایک نے بھی اس بھاری بھرکم انعام کے لالچ میں دشمن کو کوئی اطلاع نہیں دی۔
یہ وہ ایمان تھا جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔
میں آپ سے پھر درخواست کرتا ہوں۔ تھوڑی دیر کے لیے سوچیے۔ کیا انسانی عقل اس کی کوئی توجیہہ کر سکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی قوت کو دنیا کے کسی بھی پیمانے پر نہیں تولا جا سکتا۔ یہ ہے ایمان۔ اگر بالفرض 5 ملین کے بجائے 5 بلین ڈالر کا انعام ہوتا تو کیا کوئی مخبری کرتا؟
اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ نے خود اسرائیلی ٹیلی ویژن پر کہا:
“اگر یہ پیشکش کسی اور قوم کے سامنے کی جاتی، تو یقیناً کوئی شخص اپنے باپ یا اپنے سب سے عزیز دوست تک کی خبر دے دیتا، اتنی بڑی رقم کے بدلے میں!”
مگر یہاں معاملہ مختلف تھا۔
یہ اُس عقیدے کی طاقت ہے جس نے دشمن کے قلعوں کی بنیادیں ہلا دیں۔ وہ عقیدہ جو محمد عربی ﷺ سے محبت، وفاداری اور اُس سنت کی پیروی سے جنم لیتا ہے جس نے دنیا کو عزت، غیرت، اور ایمان کا سبق دیا۔
یہ وہ قوم ہے جس نے دنیا کے مال و متاع کو بیچ کر آخرت کی جنتیں خرید لیں۔
اے اہلِ غزہ! تم نے واقعی بہترین سودا کیا
ربحتم البيع يا أهل غزة الشرفاء۔
اے غزہ کے باعزت لوگو! تم نے ایمان کا سب سے کامیاب سودا کر لیا۔ تمہیں یہ سودا بہت بہت مبارک ہو۔
14/10/2025
06/07/2025
70:43,44
جس دن یہ اپنی قبروں سے تیز دوڑتے ہوئے نکلیں گے گویا کہ وہ کسی گاڑے ہوئے نشان کی طرف دوڑے جا رہے ہیں ۔ اُن کی نگاہیں جھکی ہوں گی ، ذلت انہیں گھیرے ہوئے ہو گی یہی وہ دن ہے جس کا اُن سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔
Engineer's Pro Zionish
قوم پرستی یا اللہ پرستی؟ قرآن کا فیصلہ
آیت 9:24 میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت واضح انداز میں ان رشتوں کا ذکر فرمایا ہے جو عربوں کے قبائلی معاشرے میں سب سے زیادہ محترم و محبوب سمجھے جاتے تھے: باپ، بیٹے، اور بھائی… یہ وہ رشتے ہیں جن سے نسل کا تسلسل جُڑا ہوتا ہے، اس لیے قبائلی دور میں ان کی اہمیت بے حد تھی، اور انسان کی سب سے بڑی وفاداری انہی سے وابستہ ہوا کرتی تھی۔
پھر اللہ نے لفظ عَشِيرَتُكُمْ استعمال فرمایا، جو کہ "عشیرہ" سے ہے، جس کا مطلب ہے: قریبی خاندان یا قبیلہ—یعنی وہ گروہ جن سے انسان کا قریبی تعلق، تعلقِ خون، انسیت اور روزمرہ کا ناتا ہوتا ہے۔ عرب معاشرے میں قبیلہ، یعنی clan، زندگی کا محور تھا۔
اس آیت میں فرمایا گیا کہ اگر یہ سب—یعنی تمہارے والد، بیٹے، بھائی، بیویاں، قبیلہ، کمائی ہوئی دولت، تمہارے کاروبار، اور تمہارے پسندیدہ گھر—اللہ، اس کے رسول، اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں… تو پھر انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ لے آئے، اور یاد رکھو! اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے بہنوں، بیٹیوں یا ان رشتوں کا ذکر نہیں کیا جنہیں اس وقت کے معاشرے میں وہ درجہ حاصل نہ تھا، اس لیے یہ بات صاف ہوتی ہے کہ آیت خاص ان رشتوں کی بات کر رہی ہے جنہیں قبائلی لوگ سب سے زیادہ عزیز رکھتے تھے… اور اگر وہ اللہ و رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے بڑھ کر عزیز ہوں تو انسان فاسق قرار پاتا ہے۔
اب غور کیجیے… اگر کوئی شخص اپنے باپ، بیٹے، بھائی، بیوی یا قبیلے کو اللہ اور اُس کے رسول ﷺ سے زیادہ عزیز رکھے تو وہ فاسق کہلاتا ہے… تو پھر جو شخص اپنے وطن، اپنی قوم یا اپنی سرزمین کو اللہ، رسول، اور جہاد سے زیادہ عزیز رکھے، وہ فاسق کیوں نہیں ہوگا؟
آج کے دور میں جو مقام قبائل اور عشیرت کا تھا، وہی مقام وطن کا بن چکا ہے۔ یہ آیت دراصل ہمیں خبردار کرتی ہے کہ کوئی بھی شے—چاہے وہ رشتہ ہو، مال ہو، کاروبار ہو یا وطن—اگر اللہ اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہو گئی… تو انسان فاسق ہو جائے گا۔
یہ آیت ہر باشعور انسان کے لیے کھلی نصیحت ہے کہ اصل وفاداری اللہ، اس کے رسول ﷺ، اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے ہونی چاہیے… اور اگر تمہاری محبتیں کسی اور طرف زیادہ جھک گئی ہیں، تو پھر اللہ کے فیصلے کا انتظار کرو۔
بےشک جو چیز اللہ اور اس کے دین سے زیادہ محبوب ہو جائے، وہی انسان کے لیے گمراہی اور فِسق کا دروازہ بن جاتی ہے۔
Live Session QnA
26/05/2025
Ye ayat puri ard k st st khas palestine k lea b hai, ye sirf zaboor nhi quran ki b ayat hai, agr hum chty hain ye zulm bnd ho to apna ap صلحون banna ho ga or صلحونka direct tahluq salahiyat sy hai
Click here to claim your Sponsored Listing.