Zia's Worldviews

Zia's Worldviews Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Zia's Worldviews, Education, Islamabad.

This page is about the World Historical Events, Modern State system, States Inter-actions, Interational Relations, Diplomacy, Regional and Intl Organizations, Intl Laws, Strategic Studies, Intl Treaties, Intl Institutions and Current Affairs.

27/07/2026

*فوری خبر*

*ایران کا یوکرین کو سخت انتباہ، "ہر حملے کی قیمت چکانا پڑتی ہے"*

🌍گلوبل نیوز
🌍ایران

*تہران:* ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ *ابراہیم عزیزی* نے یوکرین کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ

* *"ایران پر ہونے والا ہر حملہ ہمیشہ بھاری قیمت کا متقاضی رہا ہے، اور آج بھی یہی حقیقت برقرار ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں، جبکہ یوکرین بھی جلد یہ سمجھ لے گا کہ ایران اپنے خلاف کسی بھی اقدام کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑتا۔ غلط اندازے لگانے والوں کی فہرست مسلسل طویل ہوتی جا رہی ہے۔"*

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے بحیرۂ کیسپین میں ایک ایرانی تجارتی جہاز پر یوکرینی حملے کے بعد شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں ایک ملاح ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا، جس کے بعد تہران نے یوکرین کے ناظم الامور کو طلب کرکے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔

دوسری جانب یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے تصدیق کی ہے کہ یوکرینی افواج نے بحیرۂ کیسپین میں ایسے جہازوں کو نشانہ بنایا جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ روس اور ایران سے منسلک فوجی سامان کی نقل و حمل میں استعمال ہو رہے تھے۔

27/07/2026

🌍گلوبل نیوز
🌍ایران

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا بیان

تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ "جس جنگ کا مقصد ایران کو تین محاذوں سے گھیر کر ایک ہی دن میں کچل دینا اور اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا تھا، آج پانچ ماہ بعد اس کے منصوبہ ساز خود اپنے ہی پیدا کردہ دلدل میں پھنس چکے ہیں۔"

ترجمان نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف شروع کی گئی فوجی مہم اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی، جبکہ حالات اب ان قوتوں کے لیے پیچیدہ ہو چکے ہیں جنہوں نے اس جنگ کی منصوبہ بندی کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے اور کسی بھی دباؤ یا جارحیت کے سامنے جھکنے والا نہیں۔

⭕ ٹرمپ بوکھلا گیا ہے اور  اپنی آرزوؤں کو AI سے پوری کررہا ہے ۔🔹ٹرمپ نے AI کا استعمال کرتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر...
27/07/2026

⭕ ٹرمپ بوکھلا گیا ہے اور اپنی آرزوؤں کو AI سے پوری کررہا ہے ۔

🔹ٹرمپ نے AI کا استعمال کرتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ساتھ اپنی ملاقات کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر جاری کی۔

پاگل ہوگیا ہے یہ۔۔۔ پاگل خانے بھجوا دینا چاہیئے اسے 😋

*ٹرمپ نے دوسری صدارتی مدت میں غیر معمولی دولت کیسے کمائی؟، بلومبرگ رپورٹ*🌍گلوبل نیوز 🌍امریکہواشنگٹن: امریکی مالیاتی خبر ...
27/07/2026

*ٹرمپ نے دوسری صدارتی مدت میں غیر معمولی دولت کیسے کمائی؟، بلومبرگ رپورٹ*

🌍گلوبل نیوز
🌍امریکہ

واشنگٹن: امریکی مالیاتی خبر رساں ادارے *بلومبرگ* نے اپنی تازہ رپورٹ اور پوڈکاسٹ *"How to Profit off a Presidency"* میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر *ڈونلڈ ٹرمپ* نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے پہلے دو برسوں کے دوران اتنی آمدنی حاصل کی جتنی انہوں نے اس سے قبل اپنی تقریباً *60 سالہ کاروباری زندگی* میں مجموعی طور پر نہیں کمائی تھی۔

بلومبرگ کے مطابق، ٹرمپ کی دولت میں اس غیر معمولی اضافے کی بڑی وجوہات میں *کرپٹو کرنسی منصوبے، میم کوائنز، بین الاقوامی لائسنسنگ معاہدے، برانڈنگ، سرمایہ کاری اور دیگر کاروباری سرگرمیاں* شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے دوران ان کے کاروباری مفادات میں نمایاں وسعت آئی، جس نے انہیں اربوں ڈالر کی آمدنی پہنچائی۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، اس مالی کامیابی نے امریکہ میں *مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest)*، صدارتی اختیارات کے استعمال اور سرکاری عہدے کے دوران نجی کاروباری سرگرمیوں سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر کے نجی مالی مفادات پر زیادہ شفافیت اور نگرانی ہونی چاہیے، جبکہ ٹرمپ اور ان کے حامی ان تمام سرگرمیوں کو قانونی اور مالیاتی انکشافات کے مطابق قرار دیتے ہیں۔

مالیاتی انکشافات کے مطابق، ٹرمپ کے کاروباروں نے صرف *2025* کے دوران *2 ارب ڈالر سے زائد* آمدنی ظاہر کی، جبکہ بعض تجزیوں کے مطابق یہ رقم *2.4 ارب ڈالر* تک پہنچتی ہے۔ اس آمدنی کا بڑا حصہ کرپٹو منصوبوں، سرمایہ کاری اور لائسنسنگ سے حاصل ہوا۔

بلومبرگ کی یہ رپورٹ امریکی سیاست میں اس سوال کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ آیا موجودہ قوانین صدر کے نجی کاروباری مفادات اور عوامی عہدے کے درمیان مناسب حد بندی فراہم کرتے ہیں یا نہیں۔ اس موضوع پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث جاری ہے۔

*امریکا سے مذاکرات کی بحالی کی کوئی درخواست نہیں کی، ایسا کرنا ہماری فطرت میں نہیں: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ*ایرانی وزا...
27/07/2026

*امریکا سے مذاکرات کی بحالی کی کوئی درخواست نہیں کی، ایسا کرنا ہماری فطرت میں نہیں: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ*

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ثالث ہمیں امریکا کی جانب سے پیغامات پہنچاتے ہیں، فی الحال واشنگٹن کے ساتھ ہماری کوئی بات چیت نہیں ہورہی۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران امریکا کو جنگ کے اختتام کا تعین نہیں کرنے دے گا، امریکا سے مذاکرات کی بحالی کی کوئی درخواست نہیں کی، ایسا کرنا ہماری فطرت کے خلاف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان بات چیت مثبت رہی ہے، آبنائے ہرمز میں صورتحال تبدیل نہیں ہوئی، آبنائے ہرمز بدستور بند ہے۔

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:*زمینی حملہ ایران کو نہیں، امریکہ کو دلدل میں دھکیل دے گا*🌍گلوبل نیوز 🌍ایرانفضائی حملوں کی ناکام...
27/07/2026

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:
*زمینی حملہ ایران کو نہیں، امریکہ کو دلدل میں دھکیل دے گا*

🌍گلوبل نیوز
🌍ایران

فضائی حملوں کی ناکامی کے بعد زمینی یلغار کا آپشن واشنگٹن کے لیے ویتنام، عراق اور افغانستان سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک؛ امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے کئی ماہ گزرنے کے باوجود واشنگٹن اپنے کسی بڑے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ مبصرین کے مطابق امریکہ اپنی خفت مٹانے کے لیے ایران کے خلاف زمینی کاروائی کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران پر زمینی حملے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ اس کے لیے ایک ایسی طویل، مہنگی اور تباہ کن جنگ کا آغاز ہوگا جو ویتنام، عراق اور افغانستان سے بھی زیادہ سنگین ثابت ہو سکتی ہے۔

اب تک کے حملوں کے ذریعے امریکہ نہ تو ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرسکا، نہ اس کی میزائل صلاحیت کو تباہ کر پایا، نہ حکومت کی تبدیلی کا ہدف حاصل ہوا اور نہ ہی مزاحمتی محاذ کو کمزور کیا جا سکا۔ اس کے نتیجے میں وہ جنگ، جسے مختصر مدت میں ایران کو پسپا کرنے کا ذریعہ سمجھا جا رہا تھا، اب امریکی سیاسی اور عسکری حکمت عملی کی ناکامی کی علامت بن چکی ہے۔

فضائی ناکامی کے بعد زمینی حملے کی بحث

فضائی حملوں، انٹیلی جنس کارروائیوں، ٹارگٹ کلنگ، تخریب کاری اور سیاسی و اقتصادی دباؤ کے باوجود جب امریکہ اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا تو اب بعض جنگ پسند حلقے زمینی حملے کی حمایت کر رہے ہیں۔

اسرائیل، اس کے حامی لابیز، وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے بعض سخت گیر عناصر ایران کے خلاف جنگ کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں، تاہم زمینی حملہ سابقہ ناکامیوں کا ازالہ نہیں کرے گا بلکہ امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں پھنسا دے گا جس سے نکلنا انتہائی مشکل ہوگا۔

ٹرمپ کے لیے ایک نیا اور خطرناک جوا

زمینی جنگ کا آپشن طاقت کی علامت نہیں بلکہ اس بات کا اعتراف ہے کہ پہلے اختیار کیے گئے تمام ذرائع اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اگر ڈونلڈ ٹرمپ داخلی جنگ پسند حلقوں اور اسرائیل نواز لابیوں کے دباؤ میں آ کر زمینی حملے کا فیصلہ کرتے ہیں تو وہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوں گے جہاں خطرات اور اخراجات پہلے سے کہیں زیادہ ہوں گے، جبکہ کامیابی کی کوئی واضح ضمانت موجود نہیں ہوگی۔

ایران کا جغرافیہ امریکی فوج کے لیے بڑا چیلنج

ایران کا وسیع رقبہ، بلند پہاڑی سلسلے، صحرائی علاقے، محدود گزرگاہیں، گنجان آباد شہر اور طویل فاصلے کسی بھی حملہ آور فوج کی پیش قدمی کو انتہائی مشکل بنا دیں گے۔

امریکی فوج کو مسلسل ایندھن، اسلحہ، خوراک، سازوسامان اور نفری کی فراہمی درکار ہوگی، لیکن جیسے جیسے فوج اندرونی علاقوں میں داخل ہوگی، سپلائی لائنز طویل اور غیر محفوظ ہوتی جائیں گی، جس سے فوج کا بڑا حصہ پیش قدمی کے بجائے اپنے راستوں اور زیر قبضہ علاقوں کے دفاع پر مجبور ہوگا۔

فضائی برتری بھی فیصلہ کن ثابت نہیں ہوگی

جدید جنگی ٹیکنالوجی اور فضائی برتری زمینی جنگ میں مکمل کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی، کیونکہ زمینی لڑائی میں علاقوں پر مسلسل کنٹرول، سپلائی لائنز کا تحفظ اور مستقل فوجی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔

ایران روایتی اور غیر روایتی دونوں طرز کی دفاعی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ جنگ کو طویل اور منتشر بناسکتا ہے، جس کے نتیجے میں حملہ آور فوج کو مسلسل مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

قومی اتحاد امریکی اندازوں کو غلط ثابت کرسکتا ہے

نتن یاہو اور موساد نے ٹرمپ کو سبز باغ دکھایا تھا کہ ایرانی عوام اس حکومت سے نالاں ہیں اور حملہ ہوتے ہی غیر ملکی فوج کا استقبال کریں گے۔ گذشتہ دو جنگوں کے دوران اس کے بالکل برعکس حقیقت سامنے آئی۔ آئندہ بھی یہ تصور غلط ثابت ہوگا کہ ایرانی عوام بیرونی فوج کا خیر مقدم کریں گے۔ بیرونی حملہ ملک کے اندر موجود سیاسی اختلافات کو پس منظر میں دھکیل دے گا اور مختلف طبقات کو ملکی خودمختاری کے دفاع کے لیے متحد کردے گا۔

ایران کو کلاسیکی جنگ میں امریکہ کو شکست دینے کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف اتنا کافی ہوگا کہ وہ امریکہ کو فوری، کم خرچ اور سیاسی طور پر قابل قبول کامیابی حاصل نہ کرنے دے۔

ویتنام، عراق اور افغانستان سے بھی بڑا دلدل

ویتنام، عراق اور افغانستان میں بھی امریکہ نے اپنی عسکری برتری کے باوجود پائیدار سیاسی کامیابی حاصل نہیں کی۔ حکومتیں گرائی گئیں، مگر مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل نہ ہو سکے اور بالآخر امریکہ کو بھاری جانی و مالی نقصان کے بعد ان جنگوں سے نکلنا پڑا۔

ایران اپنے رقبے، آبادی، منظم حکومتی ڈھانچے، مضبوط مسلح افواج، میزائل اور ڈرون صلاحیت اور خطے میں اپنی اہم جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے ان تمام ممالک سے مختلف ہے، اس لیے یہاں زمینی جنگ کے نتائج امریکہ کے لیے کہیں زیادہ پیچیدہ اور تباہ کن ہوسکتے ہیں۔

جنگ کے اثرات پورے خطے تک پھیل سکتے ہیں

ایران پر زمینی حملہ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈی، امریکی فوجی اڈوں، علاقائی اتحادیوں اور پورے مشرق وسطی تک پھیل سکتے ہیں۔ جیسے جیسے جنگ طول پکڑے گی، امریکی جانی نقصان، مالی اخراجات، داخلی سیاسی دباؤ اور عوامی احتجاج میں اضافہ ہوگا، جبکہ حکومت کے لیے جنگ جاری رکھنے کا جواز پیش کرنا مزید مشکل بنتا جائے گا۔

حاصل سخن

ایران پر امریکی زمینی حملہ کوئی معمولی فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک ایسی اسٹریٹجک غلطی ثابت ہوسکتا ہے جو امریکہ کو ایک طویل، مہنگی اور تباہ کن جنگ میں دھکیل دے۔ ایسی جنگ کا آغاز شاید آسان ہو، لیکن اس کا خاتمہ واشنگٹن کے اختیار میں نہیں ہوگا، اور یہ امریکہ کے لیے ویتنام، عراق اور افغانستان سے بھی زیادہ گہرا دلدل بن سکتی ہے۔

*فی الحال جنگ بندی زیر غور نہیں، آبنائے ہرمز بدستور ایران کے کنٹرول میں ہے، ایرانی مبصر*🌍گلوبل نیوز 🌍آپریشن نصر 2علاقائی...
27/07/2026

*فی الحال جنگ بندی زیر غور نہیں، آبنائے ہرمز بدستور ایران کے کنٹرول میں ہے، ایرانی مبصر*

🌍گلوبل نیوز
🌍آپریشن نصر 2

علاقائی امور کے ایرانی ماہر نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں تاہم فی الحال صرف ایرانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی امور کے ماہر سید رضا صدرالحسینی نے کہا ہے کہ فی الحال جنگ بندی سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، جبکہ آبنائے ہرمز بدستور ایران کی جانب سے بند ہے اور اس وقت صرف اسلامی جمہوریہ ایران کے جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے آمدورفت کی اجازت حاصل ہے۔

مہر نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سید رضا صدرالحسینی نے کہا کہ گزشتہ ہفتے جمعرات اور جمعہ کو آبنائے ہرمز اور ایران کے جنوبی علاقوں میں بیرونی طاقتوں کی جانب سے جاری کشیدگی میں عارضی وقفہ دیکھنے میں آیا، حالانکہ اس سے قبل دو ہفتوں کے دوران امریکہ کی فوجی کارروائیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ اس دو روزہ وقفے نے ماہرین اور ذرائع ابلاغ میں مختلف شکوک وشبہات کو جنم دیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران ہمسایہ ملک عمان نے جہازوں کی آبنائے ہرمز سے آمدورفت کے طریقۂ کار پر بات چیت کے لیے اپنے وفود ایران بھیجے ہیں۔ لممکن ہے امریکہ یہ سمجھ رہا ہو کہ ایران فوجی جارحیت کے معاملے کو پس پشت ڈال کر دوبارہ سفارت کاری کی طرف لوٹ آئے گا، اسی لیے اس نے عارضی طور پر اپنی فوجی کارروائیاں روک دی ہیں۔

صدرالحسینی نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کی مسلسل جارحانہ پالیسیوں اور فوجی مداخلت کے پیشِ نظر، ایران امن، سلامتی اور علاقائی استحکام پر اپنے مؤقف کے باوجود امریکی جارحیت کو نظرانداز نہیں کر سکتا اور اپنے دفاع اور جارح کو سزا دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے تاہم موجودہ حالات میں جنگ بندی کے حوالے سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو رہی۔

ایرانی فوج کو نئے فضائی دفاعی نظام مل گئے، ترجمان🌍گلوبل نیوز 🌍آپریشن نصر 2ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے ...
27/07/2026

ایرانی فوج کو نئے فضائی دفاعی نظام مل گئے، ترجمان

🌍گلوبل نیوز
🌍آپریشن نصر 2

ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے دوران دفاعی صلاحیت مزید مضبوط بنائی، ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے کہا ہے کہ فوج کے جنگی ڈھانچے میں نئے فوجی سازوسامان، خصوصاً فضائی دفاع کے شعبے میں جدید نظام شامل کیے گئے ہیں، جس سے ایران کی دفاعی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ بندی کے دوران ایرانی فوج نے اپنی عسکری صلاحیتوں کی بحالی اور مضبوطی پر خصوصی توجہ دی، بالخصوص فضائی دفاع کے میدان میں اہم پیش رفت کی گئی۔

بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا کے مطابق، پہلے سے موجود دفاعی نظاموں کی مرمت مکمل کر کے انہیں دوبارہ فعال کیا گیا، جبکہ نئے فضائی دفاعی آلات بھی فوج کے عملی ڈھانچے میں شامل کیے گئے ہیں، جس سے ملک کے فضائی دفاع کو مزید تقویت ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ تین ماہ کی جنگ بندی ہماری دفاعی منصوبہ بندی، خصوصاً فضائی دفاع کے شعبے کے لیے ایک بہترین موقع ثابت ہوئی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ مسلح افواج ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، جبکہ ایران کے خلاف جارحیت میں امریکہ اپنے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

*لبنان کے مجاہدین کا دفاع اسلامی جمہوریہ ایران کی اسٹریٹجک پالیسی ہے، رہبر معظم انقلاب*🌍گلوبل نیوز 🌍ایرانرہبرِ معظم انقل...
27/07/2026

*لبنان کے مجاہدین کا دفاع اسلامی جمہوریہ ایران کی اسٹریٹجک پالیسی ہے، رہبر معظم انقلاب*

🌍گلوبل نیوز
🌍ایران

رہبرِ معظم انقلاب نے حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل اور مجاہدین کے خط کے جواب میں فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، شہیدِ انقلاب امام سید علی خامنہ ایؒ کی پالیسی کے مطابق، حزب اللہ کے ان مظلوم اور بہادر مجاہدین کا دفاع اپنی اسٹریٹجک پالیسی قرار دیتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب، آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای نے حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل اور مجاہدین کے خط کے جواب میں ایک پیغام جاری کیا۔

پیغام کا مکمل متن درج ذیل ہے:

بسم‌الله الرّحمن الرّحیم

یا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُواْ قَاتِلُواْ الَّذِینَ یَلُونَکُم مِنَ الْکُفّارِ وَلْیَجِدُواْ فِیکُمْ غِلْظَة...

جناب حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ نعیم قاسم دامت برکاتہ، محترم سیکریٹری جنرل حزب اللہ لبنان، اور حزب اللہ کے تمام جانثار، صابر اور ثابت قدم کمانڈروں اور مجاہدین!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ہمارے ان بھائیوں اور فرزندوں، یعنی حزب اللہ کے باایمان اور بہادر مجاہدین کا خط ملا، جس میں اللہ کے دین کی سربلندی، قرآن مجید کے وعدوں پر یقین، اور امام خمینیؒ اور شہید رہبرِ انقلاب آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کے عزت بخش اہداف پر ثابت قدمی کا پیغام تھا، یقینا یہ خط قابلِ قدر اور لائقِ تحسین ہے۔

آج جب دنیا کی قومیں امریکہ کی حکومت اور مجرم صہیونیوں کے ظلم و ستم اور انسانیت کو تباہ کرنے والے اقدامات سے تنگ آ چکی ہیں، تو جہاد اور مقاومت کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ اس راستے پر ثابت قدم رہنے والے مجاہدین کو اللہ تعالیٰ کی وعدہ کی ہوئی نصرت ضرور حاصل ہوگی۔

آج حزب اللہ لبنان صہیونی حکومت اور اس کے حامیوں کے وحشیانہ حملوں کے مقابلے میں چٹان کی طرح ڈٹی ہوئی ہے۔ اس کی یہ استقامت دنیا کی آزاد قوموں کے لیے ظلم اور عالمی استکبار سے نجات کا ایک حوصلہ افزا پیغام بن گئی ہے۔ اس عظیم کامیابی میں لبنان کے عوام، خاص طور پر جنوبی لبنان کے لوگوں کے صبر، ایثار اور تعاون کا بہت بڑا حصہ ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران بھی شہیدِ انقلاب امام سید علی خامنہ ایؒ کی پالیسی کے مطابق ان مظلوم اور طاقتور مجاہدین کا دفاع اپنی اسٹریٹجک پالیسی قرار دیتا ہے۔ اسی طرح لبنان کی علاقائی سالمیت کا تحفظ اور صہیونی حکومت کی جارحیت کا مکمل اور غیر مشروط خاتمہ، امریکہ کی مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کی پہلی شرط قرار دیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی رحمت اور درود تمام شہداء، زخمیوں، ان کے صابر اہل خانہ اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں پر نازل ہو، جنہوں نے بڑی قربانیوں اور مشکلات کو برداشت کیا۔

اللہ کا سلام حزب اللہ کے سید الشہداء، سید حسن نصر اللہ، مقاومت کے تمام سابق کمانڈروں اور ان کے شہید ساتھیوں پر ہو، جنہوں نے اسلامی مقاومت کے ننھے پودے کو ایک مضبوط اور تناور درخت بنا دیا، جس کی جڑیں مضبوط ہیں اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ یہی وہ مجاہد ہیں جنہوں نے اپنے جہاد اور مقاومت کے ذریعے لبنان کو عالم اسلام میں عزت اور سربلندی عطا کی۔

آخر میں دعا کرتا ہوں کہ ہمارے آقا حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی دعاؤں کے صدقے، اللہ تعالیٰ کی خاص عنایات اور رحمتیں تمام مجاہدین، شہداء، جانبازوں، مہاجرین اور ان کے صابر خاندانوں پر نازل ہوں۔ وَنُرِیدُ أَن نَّمُنَّ عَلَی الَّذِینَ اسْتُضْعِفُوا فِی الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِینَ والسّلام علیکم و رحمة الله و برکاته۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سید مجتبی حسینی خامنہ ای

Address

Islamabad
44000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zia's Worldviews posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category