21/04/2025
It's December 2009, and the Maghrib Azan fills the air with a soft, calm sound.
You come back from the playground, your face glowing with happiness. The world feels big but safe. Your mom waits for you with a warm smile and your favorite snacks made just for you. You eat slowly, enjoying every bite, feeling so free because your final exams are done, No homework today.
You turn on your old PC and start playing GTA Vice City, lost in the game. Suddenly, rain starts falling, and the power goes out.
Everything is quiet now, except for the sweet tap of raindrops. You lie on your bed, listening, your heart full of calm. The rain feels like a soft hug from the world.
Those days were so simple, so peaceful, like a warm memory you want to hold forever❤️
20/04/2025
یہ جو مرد ہوتے ہیں یہ بدل جاتے ہیں(ناول پائڈرا )
12/04/2025
مبشر زیدی
آپ یقین کریں کہ نو سو سال پہلے بالکل ایسا ہی ہوا تھا۔ علمائے مذہب نے اعلان کیا کہ بیت المقدس پر ظالموں کا قبضہ ہے اور جہاد فرض ہوچکا ہے۔ لاکھوں افراد مذہبی جوش میں گھروں سے نکل پڑے۔ دشمن نے انھیں گاجر مولی کی طرح کاٹ کے رکھ دیا۔ اس کے بعد مذہبی جوش ختم ہوا۔ لوگ سمجھ گئے کہ مذہب ڈھکوسلا ہے اور علمائے مذہب جھوٹے اور مکار ہیں۔ کچھ عرصہ اندھیرا رہا اور اس کے بعد روشن خیالی کا دور آیا جس سے دنیا آج تک منور ہے۔
یہ میں یورپ کی بات کررہا ہوں۔ ایک کے بعد ایک آنے والے پوپ اور ان کے پادریوں نے کروسیڈز یعنی کرسچن جہاد کا اعلان کیا تھا۔ بیت المقدس پر مسلمانوں کا قبضہ تھا۔ صلیبی جنگیں تین سو سال چلیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان جیت گئے۔ میں کہتا ہوں کہ یورپ جیت گیا کیونکہ اسے عقل آگئی کہ مذہبی رہنما کی بات ماننا حماقت ہے۔ مذہب سے جان چھڑا کر ہی ترقی کی جاسکتی ہے۔
آج کا مسلمان نو صدیاں پیچھے جی رہا ہے۔ کیا آپ تین سو سال خواری کے بعد عقل سے کام لینا سیکھیں گے؟
05/04/2025
A man’s sexual choice is the result and the sum of his fundamental convictions. Tell me what a man finds sexually attractive, and I will tell you his entire philosophy of life. Show me the woman he sleeps with, and I will tell you his valuation of himself. ... He will always be attracted to the woman who reflects his deepest vision of himself, the woman whose surrender permits him to experience - or to fake - a sense of self- esteem. The man who is proudly certain of his own value, will want the highest type of woman he can find, the woman he admires, the strongest, the hardest to conquer - because only the possession of a heroine will give him the sense of an achievement, not the possession of a brainless slut۔
04/04/2025
عزت پیار اور محبت بڑی انوکھی چیز ہے۔
آپ کسی کو بھی عزت پیار و محبت دیں وہ آپکو خود اپنی اصلیت بتا دے گا کہ وہ اس قابل ہے بھی یا نہیں۔
یہ وہ ٹیسٹ ہے جس میں ہر انسان کے کردار اور اس کی حقیقت کا پتہ لگ جاتا ہے وہ کتنا طاقتور ہے اور کس قدر آپکے ساتھ ہے اور آپکی قدر کرتا ہے یا نہیں۔
آپکو یقین نا آئے تو یہ ٹیسٹ کر کے دیکھ لیں۔😁😁
Dec 2020
04/04/2025
Rule for Young.
If you want to impress,don't Impress.
Showing Fancy cars,how much wealth you've,your family and your achievements is insecurity.
True strength lies in calmness.
16/03/2025
It is the same rain that loved you, drowned you
10/02/2025
بات تو سچ ہے مگر بات ہے۔۔؟
28/01/2025
سیکس اور اُداس نسلیں....
سِگمنڈ فرائیڈ نے کہا تھا ’’وہ جذبات جِن کا اِظہار نہ ہو پائے، کبھی بھی مرتے نہیں ہیں، وہ زِندہ دفن ہو جاتے ہیں، اور بعد ازاں بدصورت طریقوں سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔‘‘ آپ غالِب، میر، داغ، جِگر، جُون، پروین، وصی، اور دیگر اردو کے شُعرا کی کتابیں پڑھ لیں، اِنکا کثیر حِصہ وصل و ہجر و فراق، اَن کہے جذبات، حسرتوں، اور پچھتاووں کے موضوعات پر مُشتمل ہو گا۔ آپ گُوگل کے اعداد و شُمار کا تجزیہ بھی کر لیں، پاکستان کا شُمار اُن مُمالک میں ہوگا، جہاں فحش ویبسائیٹس دیکھنے کا رِواج سب سے زیادہ ہے۔
آپ خیبر سے کراچی تک کا سفر بھی کر لیں، عورت چاہے شٹل کاک بُرقعے میں ہی ملبُوس کیوں نہ گُزر رہی ہو، آس پاس موجود مَرد حضرات اُسے تب تک گُھورتے رہیں گے جب تک وہ گلی کا موڑ مُڑ کر نظروں سے اوجھل نہ ہو جائے۔ آپ کِسی سے بھی گُفتگو کر کے دیکھ لیں، ہر دو فقروں کے بعد ماں بہن کے جِنسی اعضا پر مُشتمل گالیاں شامِل ہوں گی۔ آپ مذہبی مُبلغین و عُلما کے بیانات بھی سُن لیں، اِن میں بہتر حُوروں کے نشیب و فراز کے سائز پر سیر حاصِل روشنی ڈالی گئی ہوگی۔ آپ پاکستان کے ڈرامے، ناول، ڈائجسٹ، فلمیں بھی دیکھ لیں، یہ عِشق معشوقی، اور لو افئیرز کے اِرد گِرد گھوم رہے ہوں گے۔ آپ ہر روز اخبار بھی پڑھ کر دیکھ لیں، کِسی ن نے م بی بی کے ساتھ یا کِسی ف نے کِسی ش بی بی کے ساتھ زیادتی بھی کی ہوئی ہوگی، ننھے بچے حتیٰ کہ قبر میں لاشوں کی عزت بھی محفوظ نہیں مِلے گی۔
آپ کو کہیں سائینسی ڈاکومنٹری، مریخ پر زندگی، یا روبوٹس کا تذکرہ نہیں مِلے گا، کوئی نِطشہ، رسل، آئینسٹائین، یا فلسفہ پر گفتگو کرتا نہیں مِلے گا۔ ہم ہالی وُڈ کی فلموں پر تو بین لگا دیتے ہیں، مگر سٹیج ڈراموں کے نام پر مجرے اور کیا کُچھ نہ دِکھایا جاتا رہا۔ آپ اندازہ کریں کہ ہم نے صدیوں کے غوروفکر کے بعد اپنی ذریں روایات و اقدار کی بنیاد پر ایک ایسا مثالی معاشرہ تشکیل دیا ہے جہاں شادی کرنے کیلیے ایک مرد سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ پہلے تعلیمی ڈگریوں کے انبار، نوکری، گھر، گاڑی، بینک بیلنس بنائے، تاکہ جب جوانی اختتام پذیر ہو، تب شادی کا سوچے، یعنی اپنی آدھی سے زیادہ عُمر کنوارا گھومتا رہے۔ لڑکیوں پر جہیز کا بوجھ الگ۔ اگر یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ جنسی تسکین ایک بُنیادی اِنسانی ضروت ہے، اور جب تک انسان کی یہ بنیادی ضروت پوری نہ ہو، انسان دیگر تخلیقی کاموں پر بھرپور توجہ نہیں دے پاتا، ذہنی خلفشار کا شکار رہتا ہے، تو ہم یہ حقیقت ماننے سے انکاری کیوں ہیں؟ ہم کب تک نیوٹن، آئینسٹائین، بِل گیٹس کے بجائے شاعر، مجنوں، رانجھا، اور غمزدہ نسلیں پیدا کرتے رہیں گے؟
ہم کب تک زندگی کے چار میں سے دو دن آرزو اور باقی کے دو دن انتظار میں گزارنے پر نوجوانوں کو مجبور کرتے رہیں گے؟ دُنیا کی کون سی سائینس، دُنیا کی کون سی نفسیات، اِس معاشرت کو درُست کہے گی؟ ہم کِس کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ہم کِس سے جھوٹ بولنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ یہ کیسا نظامِ زندگی ہے جہاں بُنیادی اِنسانی ضروریات کے اظہار، اور تکمیل پر پابندی ہے، گھُٹن ہی گھُٹن ہے؟ جب سچائی اور حقیقتوں کے اظہار کے تمام دروازے بند کر دئے جائیں، تو ہوتا تو تب بھی سب کُچھ ہے، مگر مُنافقت کے پردہ میں، ہر شخص فرشتہ صفت ہونے کا دعویدار بن جاتا ہے، اور ڈھونڈنے سے بھی کہیں کوئی اِنسان دِکھائی نہیں دیتا۔ ہمیں ماننا پڑے گا کہ مُنافقت پر مبنی مُعاشرے کََسی اور سے نہیں بلکہ اپنے ساتھ جھوٹ بولنے کا بیوپار کرتے ہیں، اور خمیازہ بھی پھر خُود ہی بھُگتتے ہیں۔ منٹو بتا گیا تھا ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں اپنی خواہشات کے دبانے کو بڑا ثواب تصور کیا جاتا ہے۔
فرائیڈ نے کہا تھا
’’وہ جذبات جِن کا اِظہار نہ ہو پائے، کبھی بھی مرتے نہیں ہیں، وہ زِندہ دفن ہو جاتے ہیں، اور بعد ازاں بدصورت طریقوں سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔‘‘