اگر آپ پوری دنیا کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں، تو ایک مسئلہ ہے: آپ کو اپنا بستر بنانے کی کم پرواہ ہے- اسے بھول جانا دنیا کا ایک بہت بڑا حصہ ہے۔ یہ میرے ذہن میں اس وقت آتا ہے جب میں بین الاقوامی سیاست میں ہمارے کردار اور قدرتی آفات سے نمٹنے میں دوسرے ممالک کی مدد کرنے کے بارے میں ہمارے آئن سٹائن کے وزراء کے بلند و بانگ دعوے پڑھتا ہوں۔ گھر میں حقائق؛ تاہم، اتنے گلابی نہیں ہیں.
معقولیت کی ایک چوٹکی کے ساتھ ایک باطنی نقطہ نظر انتہائی مشورہ دیا جاتا ہے. یہ سنکنرن، زہریلا اور تکلیف دہ ہو سکتا ہے لیکن حقیقت کی جانچ ضروری ہے – خاص طور پر دائمی بیماریوں کے لیے۔ ہر روز؛ عام آدمی انہیں دیکھتا ہے، ان کا تجربہ کرتا ہے اور ان کے ساتھ رہتا ہے صرف اس بات کے لیے کہ اس کی مایوسی کو معلوم ہو کہ ہم عوام کے ساتھ اپنی وابستگی میں بہت کم اہمیت رکھتے ہیں۔
حال ہی میں، جیسے ہی ہمارے ملک کا بے ہنگم جہاز معاشی خرابی کے ہنگامہ خیز سمندر سے گزرنے کی کوشش کر رہا ہے، اشرافیہ کی گرفت کے بارے میں بہت سی باتیں ہوئیں، جیسا کہ عشرت حسین اور ایک فیصد حکمران طبقے نے ذکر کیا ہے- یہ اصطلاح مبینہ طور پر حال ہی میں مفتاح اسماعیل نے وضع کی ہے۔
فخر نے پاکستان کو دوسرے ون ڈے میں نیوزی لینڈ کو شکست دینے کی طاقت دی۔
اگر ہم فرض کریں کہ ایک فیصد نے ملک کو پھلنے پھولنے نہیں دیا۔ کیا اس سے کوئی نکتہ نکلے گا کہ باقی ننانوے فیصد آبادی نے پاکستان کو اس مقام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا یا کوئی کردار ادا نہیں کیا؟ دنیا میں؛ ملک کے متوسط طبقے کو ملک کو آگے بڑھانے اور ایک شہری احساس وضع کرنے اور معاشرے کی ثقافت کو بچانے کے لیے سب سے مضبوط ڈرائیور سمجھا جاتا ہے جو آج ہمارے معاشرے میں ناپید نظر آتی ہے۔ تو پھر اعلیٰ متوسط اور متوسط طبقے اپنا کردار کیوں ادا نہیں کر رہے؟
چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر گردش کر رہی تھیں جن میں ملک کے ایک مضافاتی علاقے میں ایک سرکاری سکول کے مرکزی دروازے کو دکھایا گیا تھا۔ غور طلب بات یہ تھی کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بجائے اس کے کہ وہ اس دروازے سے خوابوں اور دماغوں سے بھری آنکھوں کے ساتھ یہ سوچ رہے ہوں کہ وہ دنیا میں عزت کی زندگی کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔ اسکول سے بڑی بڑی، بے فکر اور لاپرواہ سیاہ بھینسیں نکل رہی تھیں۔
International News For Css & Pcs
This page is good for Those who has been preparing for Competitive Exam!
India decided to arm 5000 Kashmiris who have joined the all-Hindu militia units. While the BJP government claims that this is a ‘line of defence’ against ‘anti-India attacks’, one can easily conclude—judging from previous extremist incidents by Indian forces—that that militia units will evolve to be instigators of violence. Very evidently so, India is creating an offensive force that is bound to exacerbate conflict in a region that is already prone to extreme violence.
As of right now, Delhi already has half a million soldiers stationed in parts of IIOJK to maintain the forceful control of the region. Now, it has decided to arm Hindu civilians with deadly rifles and created militia units by the name of Village Defence Guards who have been actively terrorising Kashmiris, forcing them to bear arms themselves. The justification given behind taking such a step revolves around the increased frequency of attacks on Indian forces in Kashmir, but little attention is paid to the fact that this outburst of violence comes from a population that has only seen forceful occupation, violence and have been pushed beyond their limits. Of course, the use of violence to show resistance must be condemned but it is imperative to understand that this remains the only resort for most Kashmiris who are so suppressed in their daily lives that not much else is an option.
Fakhar powers Pakistan to thrashing win over New Zealand in 2nd ODI
But more than that, governments are expected to maintain a different standard of responsibilities and moral duties such that they cannot resort to forceful action for achieving personal objectives. Carrying out an operation against civilians and distributing arms that enable extremist people to take the law in their own hands is a severe violation of said responsibilities, and actions like these should be held accountable. These are those very militia units that have been proven to be guilty of crimes of r**e, murder and extortion by international human
26/12/2020
ھارت، ثابت شدہ عالمی دہشت گرد
ڈاکٹر مجاہد منصوری13 اکتوبر ، 2020
FacebookTwitterWhatsapp
(گزشتہ سے پیوستہ)
حقیقت تو یہ ہے کہ جنیوا معاہدہ کے نتیجے میں افغانستان میں قابض سوویت افواج کا انخلا ہونے پر بھی پاکستان میں ’’مجاہدین‘‘ کی قبائلی علاقوں میں بیس کو ’’دہشت گردوں‘‘ کی آماجگاہ کے طور پر پروپگیٹ کرنے اور اسلام آباد کو امکانی ایٹمی تجربے سے باز رکھنے کے لئے سی ٹی بی ٹی کرنے کا ہوم ورک بالکل تیار تھا، جس پر پوری شدت سے عمل ہوا۔ دیوارِ برلن کے انہدام پر جب بی بی سی کے نمائندے نے نیٹو کے سیکرٹری جنرل سے نیٹو کے مزید جواز یا ختم ہونے سے متعلق بڑا اہم سوال کیا تو جواب تھا کہ نہیں، اب ہم ایک اور نیا دشمن اُبھرتا دیکھ رہے ہیں، جو ’’اسلامی بنیاد پرستی‘‘ ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب فلسطین میں انتفادہ زور و شور سے آغاز کے بعد ایک نئے سیاسی عمل میں آ چکی تھی۔ ادھر پہلی مرتبہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی معاونت یا پالیسی سے ماورا خالصتاً مقامی تحریک حصولِ حقِ خودارادیت منظم ہوکر شروع ہو چکی تھی جبکہ بھارت میں آر ایس ایس کی فلاسفی پر قائم جماعت مختلف سیاسی روپ دھارنے کے بعد پارلیمانی پارٹی بن کر بتدریج مقبولیت کی طرف بڑھ رہی تھی، اب حکومت میں آ کر بھارت اور دنیا میں دہشت گردی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ اِس پس منظر میں مسئلہ فلسطین اور کشمیر اسرائیل اور بھارت کو خطرہ بنتے نظر آ رہے تھے۔ ہر دو عالمی مسائل پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سے وزن بڑھنے لگا کیونکہ سوویت افواج کے انخلا کےفیصلے پر عمل، جہاد کے نتیجے میں روسی افواج کی کمر ٹوٹنے اور جنرل اسمبلی کے سات آٹھ اجلاسوں میں افغانستان سے اُن کے انخلا کے عالمی مطالبے سے ممکن ہوا۔ پھر سوویت فلاسفر قائد گوربا چوف کے تھیسز گلاسناسٹ اور (OPENNESS) ’’پریسٹریکا‘‘ (ضمیر کی آواز) کی مقبولیت سے آزادی کا جو کڑا تیار ہو رہا تھا، زور پکڑنے پر ہر اُس خطے اور ملک میں پہنچ گیا جہاں کے عوام عرصے سے حق خودارادیت یا اپنے جمہوری حق سے محرومی کی گھٹن شدت سے محسوس کر رہے تھے۔سوویت یونین کے انسانیت سوز اسٹیٹس کو کے ٹوٹنے کے پیدا ہوتے ماحول اور اثرات پر اگر ’’کیس ٹو کیس‘‘ ہماگیر تحقیقی کام ہو تو سب سے بڑی فائنڈنگ یہی ہوگی کہ جب بڑے بڑے تجزیوں، دعوئوں اور پیش گوئیوں کے برعکس سوویت یونین کے خاتمے اور دیوارِ برلن کے انہدام کا عالمی سیاست کو پلٹنے والا یہ ماحول بن رہ تھا تو اس میں دنیا کے تین اہم ممالک اور ایک خطے کے مستقبل قریب و بعید کے کچھ بڑے بڑے مفادات باہم گڈ مڈ ہو رہے تھے، جنہوں نے آنے والے برسوں میں واقعی پختہ شکل اختیار کرلی۔ یہ تھے امریکہ، یورپی یونین، بھارت اور اسرائیل۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر مزاحمت کے لئے غیر اعلانیہ اتحاد ہو گیا جو آج اپنی انتہا پر عملی شکل میں عیاں ہے۔ اگر متذکرہ چاروں عالمی سیاسی کھلاڑیوں کے اپنے اپنے، بڑے بڑے مفادات کے لئے یہ گٹھ جوڑ نہ ہوتا، دنیا آج نام نہاد ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ اورکلیش آف سویلائزیشنز کے نظریے کے برعکس ممکنہ حد تک پُرامن آزاد، خوشحال اور محفوظ و مستحکم ہوتی لیکن اِس صورت میں عالمی سیاست کے متذکرہ چاروں کھلاڑیوں کو یہ ہرگز برداشت نہیں تھا کہ مسئلہ کشمیر و فلسطین بھی روسی افواج کے انخلا کی طرح سے فقط اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں اور دیگر عالمی سفارتی حتیٰ کہ مشترکہ عسکری نوعیت (جو کہ افغانستان میں ہوئیں) کی کوششوں سے حل ہو، سو اُن کے لئے ناصرف یہ کہ ریکارڈڈ عالمی فیصلوں اور قراردادوں کو مکمل نظر اندازی سے ناقابلِ غور بنانے پر مکمل غیر علانیہ اور اندرون خانہ سفارتی اتفاق و اتحاد وجود میں آیا۔ اسی کے نتیجے میں امریکہ نے بھارت کو اپنا فطری اتحادی قرار دیا، اسرائیل اور بھارت کے ناطے بڑھنے لگے، مغربی یورپی ممالک نے سکینڈے نیوین ممالک کی آڑ میں کپری کیچر ایشو گھڑ کر اس شیطانی شر سے اسلاموفوبیا پیدا کیا۔ جبکہ بنتے منظر میں مسلم دنیا کی حکومتیں تو نہیں، کچھ محدود سے گروپس ضرور ایسے پیدا ہوئے، جنہوں نے افغان جہاد سے چارج ہوکر اور امریکہ کی وقتی نظر اندازی ہی نہیں تعریف و توصیف میں طاقت پکڑی۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں دھماکہ، نیروبی اور دارالسلام کے امریکی سفارت خانوں پر دہشت گردانہ حملے، انڈونیشیا کے سیاحتی مقام بالی پر ایسا ہی حملہ اور سب سے بڑھ کر نائن الیون نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو عملی شکل دینے میں مسلسل حائل اور اسی پر سختی سے قائم رہنے کے انسانیت مخالف اتحاد کا ناروا ردِعمل تھا، جسےمسلم ممالک کی حکومتوں اور عوام دونوں نے ہی قبول نہیں کیا۔ جو شدت پسند، گوریلا یا دہشت پسند گروپس وجود میں آئے انہیں مینج کرکے دنیا کو امن کی راہ پر ڈالنا عالمی کوششوں میں آسان تر تھا لیکن ’’اتحادی عزائم‘‘ کچھ اور تھے۔ بطور ریاست سب سے بڑا دہشت گرد بھارت بنا بلکہ یہ امریکہ اور یورپی یونین کی علانیہ پالیسیوں کے برعکس بہت کھل کھلا کر اس طرف مائل ہو گیا۔ بظاہر تو اس کا سارا زور پاکستان پر رہا لیکن اب جو فارن پالیسی میگزین نے بھارت کے ریاستی دہشت گرد ہونے کے تہلکہ خیز انکشافات کئے ہیں، اُن کی تصدیق امریکی ڈیپارٹمنٹ آف ٹریژریز کے فنانشل کرائمز انویسٹی گیشن نیٹ ورک کی اِس تفتیشی رپورٹ سے ہو گئی جس کے مطابق بھارت کے 44ریاستی اور نجی بینک منی لانڈرنگ، دہشت گردی اور منشیات کے دھندوں کی ٹرانزیشن میں ملوث پائے گئے۔ پھر یہ ہی نہیں عملاً تو بھارت، اسرائیل سے بھی بڑا عالمی ریاستی دہشت گرد ثابت ہوا جیسا کہ امریکی معتبر میگزین ’’فارن پالیسی‘‘ نے بھارت کو سویڈن، انڈونیشیا، شام اور سری لنکا میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت ملنے کا انکشاف کیا ہے جبکہ پاکستان نے بھارتی جاسوس کمانڈر کو بلوچستان میں قائم دہشت گردی کی کمانڈ کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا اور دنیا کے سامنے سارے ثبوت لایا۔ اب بھارت کو عالمی کٹہرے میں لانے کی مکمل راہ ہموار ہو گئی ہے۔ یہ سب کچھ پاکستان کے تمام متعلقہ عالمی اداروں جن کو کالم کے آغاز پر مخاطب کیا گیا، سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ بھارت کو متعلقہ عالمی اداروں میں بلیک لسٹ کرانے اور اُس پر پابندی لگانے کے لئے وزارتِ خارجہ میں ہنگامی بنیاد پر ایک الگ مشترکہ سیٹ اپ قائم کرکے دوست ممالک خصوصاً چین، ایران، روس، ترکی، انڈونیشیا، سویڈن، سری لنکا اور دوسرے متاثرہ ممالک سے رابطہ کرکے بھارت میں اُس پر بنتی عالمی پابندیاں لگانے کے لئے ہماگیر سفارتی منصوبہ بندی کریں۔ یہ بڑا سفارتی موقع کسی طور پر رائیگاں نہ جائے۔ یہ مقبوضہ کشمیر کا محاصرہ ختم کرانے کا بھی بڑا تقاضا ہے۔ وما علینا الالبلاغ
Copied.

Wednesday, 07 Oct 2020 |
Today's Paper
HOME
LATEST NEWS
PAKISTAN
CITIES
POLITICS
BUSINESS
VIDEOS
WORLD
LIFE & STYLE
SPORTS
OPINION
BLOGS
SCI-TECH
T.EDIT
PHOTOS
HEALTH
ADVICE
OTHER
HOME
LATEST NEWS
PAKISTAN
CITIES
POLITICS
BUSINESS
VIDEOS
WORLD
LIFE & STYLE
SPORTS
OPINION
BLOGS
SCI-TECH
T.EDIT
PHOTOS
HEALTH
ADVICE
OTHER
Giving Gilgit-Baltistan provincial status could be a political masterstroke – Part 2
It is time to reward the patience and loyalty of the people of Gilgit-Baltistan
Riaz Akbar & Yawar Abbas | October 07, 2020

This is the second article in a two part series. Read part one here.
~
Private sector development
Economic development in Gilgit-Baltistan (G-B) has also been a casualty of G-B’s statelessness. According to the World Bank, G-B’s vague legal status and fragile governance structure discourages investors from investing in the region. Giving G-B provincial status will remove these roadblocks and help spur economic growth in the region, especially attracting private sector investment which has been highlighted by the G-B government to the national government and other international development partners like the World Bank as one of the major development issues of G-B. Issues of economic integration, regional linkages and trade that have kept G-B as, arguably, the least industrially developed part of Pakistan. Tourism and mineral industries can easily prove to be great sources of indigenous drivers for jobs and growth. Once these areas are established, they can provide their own revenues for public investment in infrastructure and hydropower generation to power more development projects. G-B already has a highly educated human resource that can provide the social and economic basis of further economic growth.
Securing funding for the Diamer-Bhasha Dam
It has been 20 years since the first grou
Click here to claim your Sponsored Listing.