بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
*لیلہ القدر میں کامیاب ہونے کے لیے چند نفع مند مختصر وصیتیں!*
1- *سورج کے غروب کے ساتھ ہی رات کا آغاز ہوجاتا ہے*
اور اس کے ساتھ ہی (نیکیوں میں) دوڑنے والا شروع ہوجاتا ہے اور نیکیوں کے لیے تیار رہنے والا بھی۔ پس بیدار ہوجاؤ اور اپنے حواس اور تمام اعضاء کو مغرب کی اذان کے ساتھ ہی خوب چاق و چوبند کرلو۔
2- *نیت کے بغیر عمل نہیں*
🔹افطاری کھانا اور رات اور دن کے دوران نیند لینا اچھی نیت کے ساتھ کرو
🔹مثلا یہ نیت کہ میں ان کے ذریعے اطاعت اور دعا میں مضبوطی حاصل کروں گا اور رات کا ایک منٹ بھی ضائع نہیں کروں گا ان شاءالله
3- *دعا کے بغیر ایک لمحہ بھی نہیں گزارنا*
اگر تم اس کی استطاعت رکھتے ہو تو اس کو ایسے ہی کرو
صحیح مسلم میں ہے:
🔹 ”بے شک رات میں ایک گھڑی ایسی ہے جس کے ساتھ مسلمان موافقت کر لے اور اس میں وہ اللہ سے دنیا اور آخرت میں سے جس کام کا بھی سوال کرے اللہ اسے وہ دے دیتا ہے اور ایسا ہر رات ہوتا ہے“
🔹 اور لیلتہ القدر کے بارے میں سفیان ثوری کا یہ قول بھی یاد رکھیں:
"اس رات میں دعا مانگنا مجھے نماز سے بڑھ کر محبوب ہے“
4- *دعا پرحریص ہو*
🔹 اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی،
اور یہ اس رات کی اہم ترین دعا ہے اور عفو(مٹایا جانا) مغفرت سے بڑھ کر ہے
5- *بائیکاٹ*
اس رات دیگر چیزوں کی ورق گردانی اور چینلز اور اپنے فون سے خود کو الگ کر لو کیونکہ یہ راستے تک پہنچنے میں رکاوٹ ہیں۔
6- *دل کی موجودگی (حضور قلب) کیساتھ آنسوؤں کا بہانا*
🔹 اللہ کےلیےانکساری، جھکنا، گڑگڑانا اور اسکے سامنے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرنا
🔹 سجدے میں خوب طویل دعا کرنا، اور یہ سب قبولیت کی علامات ہیں
🔹 عرفہ کے دن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو یاد رکھنا اس طرح جیسے مسکین کھانا کھلائے جانے کے لیے کرے تاکہ اللہ کی مغفرت اس کا فضل اور عطا آسان ہوجاۓ۔
7- *زمین کے ٹکڑے پر اپنی زخم خوردہ امت کو نہ بھولو*
🔹 اپنی دعا میں سے اور خیر کی دعا کے ساتھ خوشخبری پانا
🔹 اپنے ارادے کو عمل پر مضبوط کرنے کی نیت ہر اس چیز کی مدد کیساتھ جس کی استطاعت رکھتے ہو۔
8- *دن کے وقت تمہارا احسان کرنا رات کی کامیابی کی کنجی ہے*
🔹 احسان نافرمانی نہ کرنے، اطاعت کی کثرت اور ایمان والے اعمال پر مشتمل ہے۔
9- *ایمان اور ثواب کی نیت*
🔹 حدیث میں ہے
”جس نے لیلتہ القدر میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے جو گناہ پہلے ہوچکے وہ بخش دیئے جاتے ہیں“
*ایمان* کے معنی ہیں کہ اللہ پر ایمان لانے والا اس کے وعدوں اور بہت بڑے اجر کی اور قیام کی فضیلت کی تصدیق کرنے والا۔
*احتسابا* کا معنی ہے کہ جو اجر اللہ کے پاس ہے اس کی نیت رکھے نہ کہ کسی ریاکاری اور لوگوں سے شہرت حاصل کرنے کی
[زاد القلوب فی رمضان]
📚جامعتہ الفقہ الاسلامی العالمیتہ فی ضوء القرأن واسنتہ📚
Tarteel ul Quran Academy
"And best among you is the one who learn and teaches Quran." We provide intellec female Quran teache
10/05/2020
إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
اس کا حکم تو، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے۔
يس : 82
اپنے معاملات اللہ کے سپرد کر دیں اس نے تو " کن" کہنا ہے اور آپکی تمام الجھنیں سلجھ جانی ہیں۔۔۔ہم پریشان تب ہوتے ہیں جب اپنی قابلیت پر انحصار کرتے ہیں اور ڈرتے رہتے ہیں پتہ نہی کیا ہوگا؟؟؟
آپکے ہاتھ میں کوشش ہے اسکے بعد" دعا" جو تڑپ کر بیقرار ہو کر نکلے اور اسکے بعد مکمل "توکل" اللہ پر۔۔۔
بس پھر پرسکون ہو جائیں کیونکہ آپ نے رب کائنات پر مکمل یقین کیا ہے۔۔وہ آپکے حق میں بہترین فیصلہ کرئے گا ۔۔اور جو بھی فیصلہ آئے گا آپکو اللہ سے راضی رہنا ہے ۔۔کوئی گلہ شکوہ نہی کرنا۔۔۔
اگر کوئی چیز آپکے لیے لکھی ہے وہ دو پہاڑوں کے درمیان بھی چھپی ہو آپ کو مل کر رہے گی اور جو نہی لکھی وہ آنکھوں کے سامنے ہو کر بھی نہی ملے گی
میرا رب بندوں کے ساتھ بہت پیارے معاملات کرتا ہے ۔۔اسے اپنے بندوں سے بےحد محبت ہے۔۔۔بس آپکو اللہ پر ایسا یقین کرنا ہے کہ پوری دنیا بھی کہے "یہ نہی ہوسکتا ۔۔آپ کہیں اللہ نے تو بس کن کہنا ہے"
تحریر : منیبہ فاطمہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Islamabad
47150