28/05/2026
وہ جن کے قدموں...!!
سے مدارس آباد ہیں:
(اربابِ مدارس سے ایک درد بھری فریاد)
تحریر! ابوعبیدہ
عید کا دن…
ہر گھر میں خوشیوں کے چراغ روشن ہوتے ہیں…
ماں اپنے بچوں کو نئے کپڑے پہنا رہی ہوتی ہے…
باپ مسکراتے ہوئے اپنے بیٹوں کو سینے سے لگا رہا ہوتا ہے…
ہر طرف خوشبوئیں، قہقہے اور محبتوں کی بہار ہوتی ہے…
مگر...!
انہی خوشیوں کے درمیان کچھ چہرے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی عید… عید نہیں ہوتی…!
یہ مدارس کے وہ طلباء ہوتے ہیں…
جو اپنے گھروں کی محبت، ماں کی دعائیں، باپ کی شفقت اور بہن بھائیوں کی مسکراہٹیں چھوڑ کر مدرسے کی بقا کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں…
کوئی دھوپ میں کھڑا ہے…
کوئی گلیوں میں آوازیں لگا رہا ہے…
کوئی کندھوں پر بوجھ اٹھائے پھر رہا ہے…
اور کوئی لوگوں کے سخت جملے سن کر بھی خاموشی سے آگے بڑھ جاتا ہے…
ان کے کپڑے اور جسم خون میں لت پت ہوتے ہیں…
کسی مارکیٹ اور قصاب خانے کے مزدور لگ رہے ہوتے ہیں...
جسم تھکن سے چور اور چہرے زرد ہو جاتے ہیں…
مگر ان کے دلوں میں ایک ہی فکر زندہ رہتی ہے:
“کہیں میرے مدرسے کا چراغ بجھ نہ جائے…”
اہلِ علم کے اقوال...!!
طلباء کرام کی عظمت:
یہی وہ مقام ہے جہاں اہلِ علم نے طلباء کی قدر کو عبادت قرار دیا ہے:
امام شافعیؒ فرماتے ہیں:
“طلبۂ علم کی خدمت دراصل دین کی خدمت ہے، کیونکہ علم انہی کے ذریعے محفوظ رہتا ہے۔”
امام مالکؒ فرماتے ہیں:
“علم کی عزت یہ ہے کہ اس کے حاملین (طلبہ) کی عزت کی جائے۔”
امام احمد بن حنبلؒ سے منقول ہے:
“طالبِ علم کے ساتھ نرمی کرو، کیونکہ وہ دین کے چراغوں کو روشن کرنے والا ہے۔”
امام غزالیؒ لکھتے ہیں:
“طالبِ علم کی پرورش دراصل امت کی تعمیر ہے، کیونکہ یہی لوگ دین کے وارث بنتے ہیں۔”
حضرت علیؓ کا ارشاد ہے:
“مجھے دو قسم کے لوگ محبوب ہیں: عالم اور طالبِ علم، کیونکہ یہ دونوں ہدایت کے راستے کے مسافر ہیں۔”
اربابِ مدارس…!!
خدارا…
ان تھکے ہوئے چہروں کو صرف “عام بچے” نہ سمجھیے…!
یہ وہ بچے ہیں جو اپنی جوانی دینِ اسلام کی خدمت پر قربان کر رہے ہیں…
یہ وہ خاموش سپاہی ہیں جن کے دم سے آج بھی مدارس میں “قال اللہ” اور “قال الرسول ﷺ” کی صدائیں گونج رہی ہیں…
انہیں ڈانٹ سے زیادہ محبت کی ضرورت ہے…
انہیں حکم سے زیادہ شفقت چاہیے…
انہیں روٹی سے زیادہ عزت درکار ہے…
کیونکہ بعض اوقات ایک سخت جملہ برسوں کے حوصلے توڑ دیتا ہے…
ابوعبیدہ کہتا ہے…!!
جو طالبِ علم آج گرمی، تھکن، لوگوں کے رویّوں اور محرومیوں کو برداشت کرکے مدرسے کے لیے نکلتا ہے…
تصویر میں نظر آنے والے کوئی قصاب اور ذبح خانے کے مزدور نہیں
بلکہ...
یہ وہ ہیں جو کل کو محراب کا چراغ بنیں گے ، منبر کی صدا اور امت کا سہارا بنیں گے…
خدارا…
ان کے جذبوں کو مت توڑیے…
ان کے دلوں میں مدارس کی محبت کو زندہ رکھیے…
ان کی قدر کیجیے… یہ مدارس کی بقا اور دین کا سرمایہ ہیں…
کیونکہ...
جب ایک طالبِ علم اندر سے ٹوٹ جاتا ہے تو صرف ایک انسان نہیں ٹوٹتا…
بلکہ ایک عالم، ایک خطیب، ایک داعی… اور پوری امت کا مستقبل بکھر جاتا ہے…
اللہ تعالیٰ ہمارے مدارس، اساتذہ اور طلباءِ کرام کی حفاظت فرمائے، اور ہمیں ان کی صحیح قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
22/05/2026
19/05/2026