26/07/2021
حمد اللہ محب۔۔۔کا بیان اور پاکستان۔۔۔۔۔؟
----------------
لمہہء فکریہ ھے وہ بیان جو کچھ عرصہ قبل افغانستان کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر حمداللہ محب نے وطن عزیز پاکستان کے لئے دیا تھا انھوں نے کہا کہ
"پاکستان ایک Brothel House ھے"۔۔۔۔؟؟؟
نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ھے کہ بین الاقوامی سطح پہ اس طرح کے القابات سے جہاں ایک طرف ھماری قومی، ملی اور اجتماعی نفسیات کی ساخت کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی وھیں دوسری طرف ھماری حمیت، اور وقار کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔۔۔۔یہ بات کہاں تک درست اور قابل غور ھے اور کیوں ایسی بات پاکستانی قوم کے لئے کی گئی اس سلسلے میں گہرے مطالعے اور مشاھدات کی روشنی میں ایک مطالعہ اور تحقیق کی جانی چاھئیے۔۔۔
جہاں تک آج پاکستانی نوجوان نسل کا تعلق ھے تو وہ واضع طور پر دو مختلف نظریات کے زیر اثر اپنی اپنی زندگیوں کی راھیں متعین کرنے کی کوشش کر رھی ھے۔
1- اول وہ نوجوان جو شعائر اسلامی، اخلاقی قدروں ، مذھبی روایات اور اپنے قبائلی ،عصبی ، نظام اخلاق یعنی
, norms, cultural heritage
کو اپنے اخلاقی نظام کی بنیاد تصور کرتے ھیں۔
2- ایسے نوجوان جو ھر اس اخلاقی نظام کو اپنی شخصی آزادی کے مخالف تصور کرتے ھیں جو کلچر، مذھب یا عمومی معاشرتی رویوں کی صورت میں انکے سامنے اخلاقی قدروں اور اسلامی نظریوں کے طور پر پیش کئے جاتے ھیں، اور جس کے خلاف نوجوانوں کی ایک مخصوص نسل گاھے بگاھے، اپنے ردعمل کا اظہار بھی کرتی چلی آئی ھے۔۔۔ اگر چہ نوجوانوں کی یہ نسل اپنی تعداد میں کم ھے مگر چونکہ ان میں سے اکثریت کا تعلق ملک کے اونچے گھرانوں سے ھوتا ھے لہذا پاکستان کی عام معاشرتی زندگی میں ان کے اثرات اتنے دور رس اور قابل ذکر نہیں ھیں مگر بطور فیشن ان کو مقبولیت تو بہر طورحاصل ضرور ھو رھی ھے۔۔
پاکستانی یونیورسٹیز ایک ایسا platform یا جنکشن ھیں جہاں ان دو مختلف الرائے گروہوں کا باھم تصادم ھوتا ھے جسکے نتیجے میں طلباء کی ایک وسیع تعداد گو مگوں کی کیفیت سے دوچار ھو جاتی ھے نتیجا" بےراہروی کے علاوہ نوجوان نسل آج زندگی سے بے زاری ، رشتوں سے بیگانگی، مایوسی ، اور تنہائی کا شکار ھوتی چلی جا رھی ھے۔
زندگی کی صحتمندانہ تفریح ،کھیل کود، Entertainment کی نامناسب سہولیات کی کمیابی کے باعث بڑے گھروں میں indoor parties اور get together کا رجحان اس طبقے کے نوجوانوں میں ایک فیشن کے طور پر عام ھے۔جبکہ متوسط طبقے میں انفرادی ضرورتوں، مسرتوں، اور لطف اندوزی کا انتظام ھوٹلوں، گیسٹ ھاوئسز، اور ھاسٹلز، میں مہیا کیا جاتا ھے جس کی وجہ سے بلیک میلنگ کرنے والے عناصر ایسے نوجوان جوڑوں کی تواضع کے لئے ھمہ وقت Electronic gadgets کے ساتھ بانفس نفیس موجود ھوتے ھیں۔۔ تکلیف دہ بات یہ ھے کہ اس سلسلے میں قانون کا نفاذ کرنے والے ادارے بھی ان بدقماش لوگوں کے ساتھ بری طرح ملوث ھوتے ھیں۔ نوجوانوں میں دیر سے شادی کرنے کا رجحان بھی اس اخلاقی