Quetta School of thought
way of thinking of life.it's a page about Quetta city people who have a different ELECTRONIC MEDIA PRODUCTION
زندگی مشکل ھوجاتی ھے مگر اسوقت جب ھم
اسے آسان سمجھنا شروع کردیتے ھیں
آج کے موجودہ معاشرتی اور اخلاقی صورت حال میں تارک الدنیا ھونا جائز ھے
25/01/2025
07/02/2024
Course: Iqbal Ki Taweel Nazmain | Masjid-e-Qurtuba | مسجدِ قرطبہ | Ahmad Javed Sahab -e-qurtubaCourse: Iqbal Ki Taweel Nazmain | Masjid-e-Qurtuba | مسجدِ قرطبہ | Ahmad Jave...
سپریم کورٹ میں بات قانون کی بجائے دادوں تک جاپہنچی ۔ جستس قاضی فائز عیسی نے گوہر ایوب کے وکیلُ کو طعنہ دیا کہ ان کے دادا نے آئین توڑا تھا ۔ عزت مآب جسٹس صاحب کے والد محترم قاضی عیسی اسی ایوب خان کے حق میں کوئیٹہ میں کمپین چلانے والوں میں سے تھے اور ان کے مقابلے میں یحیحی بختیار صاحب اور میرے سسر شبیہہ الحسن صدیقی محترمہ فاطمہ جناح کی کمپیئن چلا رہے تھے ۔ تاریخ کی درستگی کے لئے۔۔۔
اوریا م۔ج۔
*عشق پیچاں*
ذات ھی جب زندگی کا نقطہء پر کار ھو
پھر ھے گویا رقصء بسمل آپ اپنے گردو پیش
نغمہء ھستی گرفتن پایائے ء درویش را
گرچہ او دیدی غبارء رقص از بس کہ ماند۔
اک ھجوم ء آرزو موجود ھو جب اردگرد
پھر بھلا کیا عاشقی کیا ذوق ء طلب
خود پہ عاشق ھو کے گویا خود میں غلطاں ھو گئے۔
عشق تھا مقصود جن کو ، عشق ء پیچاں ھوگئے
یک انائے خویش را تسکین دادن آرزوست
ورنہ من دیدم ھمشہ دست ء عاشق بے ثمر۔
*شکیل عدنان*
کوئٹہ چھاونی کھول دیجئے عوام کےلئے۔۔۔چلتن کی چاٹ، پاک فورسز کی چائے اور پکوڑے، رابرٹ مارکیٹ کے تکے، جلیبیاں، بولان مارکیٹ کے وسیع وعریض پارکینگ میں شورمچاتے بچوں اور نظر بازی کرتے نوجوانوں، کو اجازت دیں ھلڑبازی کی ۔۔ خود بھی محظوظ ھوں فوجی بھائی اور ھمیں بھی موقع دیں شرارتیں کرنے اور ٹھٹول اڑانے کی۔۔۔آئیں مل کے ھنستے۔مسکراتے ھیں۔۔ جب فوجی رنگروٹوں اور پٹھان دکان داروں کی۔سودے بازی پہ بحث ھوتی تو دنیا لطف اٹھاتی۔۔ ان بے چاروں کو مذاق اڑانے کا الائونس دو بھائیو۔۔۔۔ عوام کو ھنسنے کا مسکرانے حوصلہ دو فوجی بھائیو۔۔۔ کوئٹہ کے لوگ بہت اچھے ھیں ان پہ شک مت کرو۔۔بھائیو۔۔ نہ ناکے لگائو۔۔نہ انسانوں کے بیچ رکاوٹیں کھڑی کرو۔۔مسکراھٹیں کہیں دیواروں سے رکتی ھیں۔۔؟ قہقہے کہیں چوکیوں سے سہمتے ھیں۔۔؟
پٹھان کو آدھی پنجابی بولنے دو مت ٹوکو ۔۔پنجابی نائی، راج، مستریوں، اور خاکروبوں کو غلط پشتو، براھوی، ھزارگی بولنے دو انھیں مجبور نہ کرو کہ وہ اپنا حلیہ مقامی لوگوں جیسا بنائیں۔۔پنجابی، کو دھوتی، اردو اسپیکنگ کو بے جامہ، ھزاروں کو دھاری دار پیجامہ پہنیں دو۔۔ کبھی کوئٹہ میں نہرو کی ماں سائکل چلاتی تھی کوئٹہ میں آج بھی بچیوں اور عورتوں کو سائیکل چلانے دو۔۔۔ اسکرپٹ پہنے دو عیسائی آبادی کی لڑکیوں کو۔۔۔۔مزاق،اڑاو ،ھنسو ضرور ، مسکرائو بے ساختگی سے، مگر بدتمیزی نہ کرو کوئٹہ والو۔۔۔۔۔
کوئٹہ مسکراتا اچھا۔لگتا ھے۔۔تاتا بلبلی کے چھولے، فلورا کا فالودہ، بسم اللہ کے پائے، ماما اور رنگین کا روش، دلکشا کے کباب اور تکے، کیا پانی میٹھا میٹھا ۔۔۔ آج بھی کوئٹہ کے نان لاجواب ذائقے والے اور صبح کا ناشتہ۔۔آہ۔۔ لیاقت ڈیری کے مکھن اور چنکی چائے کے ساتھ موجود ھے۔ آج بھی کچے مٹکوں کی ترش لسی، توے پہ بھونی کلیجی۔۔رواش، شینے کی ریڑھیاں، چائے کے سماوار زندہ و تابندہ ھیں ضرورت مسکرانے کی ھے ۔۔۔ مسکرائیے۔۔۔
شکیل عدنان ھاشمی
حمد اللہ محب۔۔۔کا بیان اور پاکستان۔۔۔۔۔؟
----------------
لمہہء فکریہ ھے وہ بیان جو کچھ عرصہ قبل افغانستان کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر حمداللہ محب نے وطن عزیز پاکستان کے لئے دیا تھا انھوں نے کہا کہ
"پاکستان ایک Brothel House ھے"۔۔۔۔؟؟؟
نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ھے کہ بین الاقوامی سطح پہ اس طرح کے القابات سے جہاں ایک طرف ھماری قومی، ملی اور اجتماعی نفسیات کی ساخت کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی وھیں دوسری طرف ھماری حمیت، اور وقار کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔۔۔۔یہ بات کہاں تک درست اور قابل غور ھے اور کیوں ایسی بات پاکستانی قوم کے لئے کی گئی اس سلسلے میں گہرے مطالعے اور مشاھدات کی روشنی میں ایک مطالعہ اور تحقیق کی جانی چاھئیے۔۔۔
جہاں تک آج پاکستانی نوجوان نسل کا تعلق ھے تو وہ واضع طور پر دو مختلف نظریات کے زیر اثر اپنی اپنی زندگیوں کی راھیں متعین کرنے کی کوشش کر رھی ھے۔
1- اول وہ نوجوان جو شعائر اسلامی، اخلاقی قدروں ، مذھبی روایات اور اپنے قبائلی ،عصبی ، نظام اخلاق یعنی
, norms, cultural heritage
کو اپنے اخلاقی نظام کی بنیاد تصور کرتے ھیں۔
2- ایسے نوجوان جو ھر اس اخلاقی نظام کو اپنی شخصی آزادی کے مخالف تصور کرتے ھیں جو کلچر، مذھب یا عمومی معاشرتی رویوں کی صورت میں انکے سامنے اخلاقی قدروں اور اسلامی نظریوں کے طور پر پیش کئے جاتے ھیں، اور جس کے خلاف نوجوانوں کی ایک مخصوص نسل گاھے بگاھے، اپنے ردعمل کا اظہار بھی کرتی چلی آئی ھے۔۔۔ اگر چہ نوجوانوں کی یہ نسل اپنی تعداد میں کم ھے مگر چونکہ ان میں سے اکثریت کا تعلق ملک کے اونچے گھرانوں سے ھوتا ھے لہذا پاکستان کی عام معاشرتی زندگی میں ان کے اثرات اتنے دور رس اور قابل ذکر نہیں ھیں مگر بطور فیشن ان کو مقبولیت تو بہر طورحاصل ضرور ھو رھی ھے۔۔
پاکستانی یونیورسٹیز ایک ایسا platform یا جنکشن ھیں جہاں ان دو مختلف الرائے گروہوں کا باھم تصادم ھوتا ھے جسکے نتیجے میں طلباء کی ایک وسیع تعداد گو مگوں کی کیفیت سے دوچار ھو جاتی ھے نتیجا" بےراہروی کے علاوہ نوجوان نسل آج زندگی سے بے زاری ، رشتوں سے بیگانگی، مایوسی ، اور تنہائی کا شکار ھوتی چلی جا رھی ھے۔
زندگی کی صحتمندانہ تفریح ،کھیل کود، Entertainment کی نامناسب سہولیات کی کمیابی کے باعث بڑے گھروں میں indoor parties اور get together کا رجحان اس طبقے کے نوجوانوں میں ایک فیشن کے طور پر عام ھے۔جبکہ متوسط طبقے میں انفرادی ضرورتوں، مسرتوں، اور لطف اندوزی کا انتظام ھوٹلوں، گیسٹ ھاوئسز، اور ھاسٹلز، میں مہیا کیا جاتا ھے جس کی وجہ سے بلیک میلنگ کرنے والے عناصر ایسے نوجوان جوڑوں کی تواضع کے لئے ھمہ وقت Electronic gadgets کے ساتھ بانفس نفیس موجود ھوتے ھیں۔۔ تکلیف دہ بات یہ ھے کہ اس سلسلے میں قانون کا نفاذ کرنے والے ادارے بھی ان بدقماش لوگوں کے ساتھ بری طرح ملوث ھوتے ھیں۔ نوجوانوں میں دیر سے شادی کرنے کا رجحان بھی اس اخلاقی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Islamabad
44000