افکار ڈاکٹر علی شریعتی

افکار ڈاکٹر علی شریعتی انقلاب ایران کا وہ نام جسکی آواز نے انقلاب کو دوام بخشا۔
(3)

حوالہ : علیؑ اور تنہائیSend Stars to help this page grow !
29/09/2026

حوالہ : علیؑ اور تنہائی

Send Stars to help this page grow !




Send Stars to help this page grow !
28/09/2026

Send Stars to help this page grow !




28/09/2026

*ڈاکٹر علی شریعتی کا اپنے بیٹے ڈاکٹر احسان کے نام ایک خط 3
میں نے اپنے دل میں کہا تھا کہ جب تم وہ فاصلہ طے کر لو جو تقدیر نے میرے اور تمہارے درمیان کھینچ دیا ہے اور میرے پاس آ پہنچو، تو ہر بات سے پہلے میں تمہیں اپنے پاس بٹھاؤں اور اس “کام” کی پوری روداد تمہیں سنا دوں تاکہ تم جان سکو کہ اس امانت کے ساتھ جو مجھے سونپی گئی تھی میں نے کیا کیا، یہ راستہ کہاں تک آیا، اور کل جب یہ تمہارے ہاتھ میں آئے تو جان لو کہ اس کے ساتھ کیا کرنا ہے اور کہاں سے سفر کو آگے بڑھانا ہے۔ اب جب پہلی بار تمہیں دیکھ رہا ہوں اور تم پہلی بار میری بات سن رہے ہو، تو مجھے افسوس ہے کہ میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کوئی مٹھاس نہیں۔ میری خبریں سب سرخ ہیں اور سیاہ، اور میری عمر کی رپورٹ بھی زیادہ روشن اور کامیاب نہیں۔ اس گفتگو میں جس میں میں تم سے بول رہا ہوں، اور وہ بھی دنیا کی باتیں نہیں یہ الفاظ نہ مصلحت کے کھلونے ہیں، نہ سیاست کی بساط، نہ تقیہ کی چالیں؛ یہ تو بے خطا پیغام بر ہیں جو حقیقت کی خبر لاتے ہیں اور روح اٹھائے ہوئے ہیں لیکن وہ روح نہیں جس کی بات فلسفی کرتے ہیں، جس پر صوفی بحث کرتے ہیں، جسے زاہد بیان کرتے ہیں، اور جسے قبر کے کنارے قرآن خوان دہراتے ہیں جس پر علما جھگڑتے ہیں کہ ہے یا نہیں، کیسی ہے، کہاں سے آئی مجھے نہیں معلوم وہ کیا ہے، اور میں جاننا بھی نہیں چاہتا، کہ کہیں خدا کی طرف سے “لَن تَرانی” سننے کو نہ مل جائے یعنی: فضول سوال بند! “روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دو: روح میرے رب کے حکم میں سے ہے!” میری مراد اُس روح سے ہے جسے خدا نے تمام فرشتوں سے الگ تنہا نام لے کر پکارا ہے وہ روح جس کے ساتھ تمام فرشتے زمین پر اترتے ہیں۔ کب؟

28/09/2026

کہتے ہیں ایک سست آدمی کی شادی کرنا چاہتے تھے؛ اتفاق سے اس کام کے لیے ایک چالاک عورت کا انتخاب کیا گیا۔ اس عورت نے شادی کے بعد ہر کچھ عرصے بعد کسی نہ کسی بہانے اپنے سست شوہر کے لیے کوئی کام نکالا اور اسے اسی میں مشغول رکھا، اور کچھ مدت کے بعد وہ اتنے مختلف کاموں میں الجھ گیا کہ اسے ایک لمحے کی بھی فرصت نہ رہی۔ ایک دن وہ اپنی بیوی کی پیدا کی ہوئی بے حساب مصروفیات کی شکایت کسی سے کر رہا تھا، اُس شخص نے کہا اگر ایسا ہے تو اسے طلاق کیوں نہیں دے دیتے؟ اُس نے جواب دیا اگر سچ پوچھو تو مجھے طلاق دینے کی بھی فرصت نہیں۔
ڈاکٹر علی شریعتی*
*آج کے انسان کی ضروریات

27/09/2026

ڈاکٹر علی شریعتی کا اپنے بیٹے ڈاکٹر احسان کے نام ایک خط 2

اور تم میری اس خوشی کو نہیں سمجھ سکتے، کیونکہ اس خوشی کو سمجھنے کے لیے صرف سمجھ دار ہونا کافی نہیں، باپ ہونا پڑتا ہے۔ اور میں اُس عزیز خدا سے محمد اور ابوذر کے خدا سے، مستضعفین کے خدا سے، میرے اور تمہارے خدا سے اُس مہربان رفیق سے، جس کا احسان کفر و دین، پاکی و ناپاکی، حتیٰ کہ دوستی اور دشمنی کی تمام سرحدوں سے گزر جاتا ہے اپنے پورے وجود کے ساتھ مانگتا ہوں۔ اور اُس کے دامن کو ایک ضدی حق دار کی سی ہٹ کے ساتھ تھام لیتا ہوں، اُسی اندھے فریادی کی طرح جس نے راہ چلتے عیسیٰ کا دامن پکڑ لیا تھا اور چھوڑا نہیں تھا میں بھی نہیں چھوڑتا جب تک وہ میرے اس احسان کے بدلے تم پر بھی احسان نہ کرے، تاکہ ایک دن تم بھی میری طرح اس خوشی کا ذائقہ سمجھ سکو۔

جاری۔

27/09/2026

ڈاکٹر علی شریعتی کی شہادت کی خبر جب ان کے والد تک پہنچی تو ان پر کیا گزری؟ ایک دل دہلا دینے والا، پرآشوب اور ایمان افروز واقعہ

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when افکار ڈاکٹر علی شریعتی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share