Al Quran Ul kareem
Anwar Ul Quran Academy
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Anwar Ul Quran Academy, Education, Islamabad.
Learn Quran Online with Expert Teacher
Our vision is to spread the knowledge of the Quran and islam around the world
✔ Kids & Adults
✔ Male & Female Teacher
✔ Tajweed Course Available
WhatsApp: +923335624317
رولا دینے والا واقعہ
حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نہایت خوبصورت تھے۔ تفسیر نگار لکھتے ہیں کہ آپ کا حسن اس قدر تھا کہ عرب کی عورتیں دروازوں کے پیچھے کھڑے ہو کر یعنی چھپ کر حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کرتی تھیں۔
لیکن اس وقت آپ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ایک دن سرورِ کونین تاجدارِ مدینہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر حضرت دحیہ کلبی پر پڑی۔ آپؐ نے حضرت دحیہ قلبی کے چہرہ کو دیکھا کہ اتنا حیسن
نوجوان ہے۔
آپ نے رات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی؛ یا اللہ اتنا خوبصورت نوجوان بنایا ہے، اس کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے، اسے مسلمان کر دے، اتنے حسین نوجوان کو جہنم سے بچا لے۔ رات کو آپ نے دعا فرمائی، صبح حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔
حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کہنے لگے؛ اے اللہ کے رسول ! بتائیں آپؐ کیا احکام لے کر آئے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔
پھر توحید و رسالت کے بارے میں حضرت دحیہ کلبی کو بتایا۔ حضرت دحیہ نے کہا؛ اللہ کے نبی میں مسلمان تو ہو جاؤں لیکن ایک بات کا ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے ایک گناہ میں نے ایسا کیا ہے کہ آپ کا اللہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ آپؐ نے فرمایا؛
اے دحیہ بتا تونے کیسا گناہ کیا ہے؟ تو حضرت دحیہ کلبی نے کہا؛ یا رسول اللہ میں اپنے قبیلے کا سربراہ ہوں۔ اور ہمارے ہاں بیٹیوں کی پیدائش پر انہیں زندہ دفن کیا جاتا ہے۔ میں کیونکہ قبیلے کا سردار ہوں اس لیے میں نے ستر گھروں کی بیٹیوں کو زندہ دفن کیا ہے۔ آپ کا رب مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ اسی وقت حضرت جبریل امین علیہ السلام حاضر ہوئے؛
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اسے کہیں اب تک جو ہو گیا وہ ہو گیا اس کے بعد ایسا گناہ کبھی نہ کرنا۔ ہم نے معاف کر دیا ۔
حضرت دحیہ آپ کی زبان سے یہ بات سن کر رونے لگے۔ آپؐ نے فرمایا دحیہ اب کیا ہوا ہے؟ کیوں روتے ہو ؟ حضرت دحیہ کلبی کہنے لگے؛ یا رسول اللہ، میرا ایک گناہ اور بھی ہے جسے آپ کا رب کبھی معاف نہیں کرے گا۔ آپؐ نے فرمایا دحیہ کیسا گناہ ؟ بتاؤ ؟
حضرت دحیہ کلبی فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ، میری بیوی حاملہ تھی اور مجھے کسی کام کی غرض سے دوسرے ملک جانا تھا۔ میں نے جاتے ہوئے بیوی کو کہا کہ اگر بیٹا ہوا تو اس کی پرورش کرنا اگر بیٹی ہوئی تو اسے زندہ دفن کر دینا۔
دحیہ روتے جا رہے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں۔ میں واپس بہت عرصہ بعد گھر آیا تو میں نے دروازے پر دستک دی۔ اتنے میں ایک چھوٹی سی بچی نے دروازہ کھولا اور پوچھا کون؟
میں نے کہا: تم کون ہو؟ تو وہ بچی بولی؛ میں اس گھر کے مالک کی بیٹی ہوں۔ آپ کون ہیں؟ دحیہ فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، میرے منہ سے نکل گیا: اگر تم بیٹی ہو اس گھر کے مالک کی تو میں مالک ہوں اس گھر کا۔
یا رسول اللہ! میرے منہ سے یہ بات نکلنے کی دیر تھی کہ چھوٹی سی اس بچی نے میری ٹانگوں سے مجھے پکڑ لیا اور بولنے لگی؛ بابا بابا بابا بابا آپ کہاں چلے گئے تھے؟ بابا میں کس دن سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں۔ حضرت دحیہ کلبی روتے جا رہے ہیں اور فرماتے ہیں؛
اے اللہ کے نبی! میں نے بیٹی کو دھکا دیا اور جا کر بیوی سے پوچھا؛ یہ بچی کون ہے؟ بیوی رونے لگ گئی اور کہنے لگی؛ دحیہ! یہ تمہاری بیٹی ہے۔ یا رسول اللہ! مجھے ذرا ترس نہ آیا۔ میں نے سوچا میں قبیلے کا سردار ہوں۔ اگر اپنی بیٹی کو دفن نہ کیا تو لوگ کہیں گے ہماری بیٹیوں کو دفن کرتا رہا اور اپنی بیٹی سے پیار کرتا ہے۔
حضرت دحیہ کی آنکھوں سے اشک زارو قطار نکلنے لگے۔ یا رسول اللہ وہ بچی بہت خوبصورت، بہت حیسن تھی۔ میرا دل کر رہا تھا اسے سینے سے لگا لوں۔ پھر سوچتا تھا کہیں لوگ بعد میں یہ باتیں نہ کہیں کہ اپنی بیٹی کی باری آئی تو اسے زندہ دفن کیوں نہیں کیا؟ میں گھر سے بیٹی کو تیار کروا کر نکلا تو بیوی نے میرے پاؤں پکڑ لیے۔ دحیہ نہ مارنا اسے۔ دحیہ یہ تمہاری بیٹی ہے۔
ماں تو آخر ماں ہوتی ہے۔ میں نے بیوی کو پیچھے دھکا دیا اور بچی کو لے کر چل پڑا۔ رستے میں میری بیٹی نے کہا؛ بابا مجھے نانی کے گھر لے کر جا رہے ہو؟ بابا کیا مجھے کھلونے لے کر دینے جا رہے ہو؟ بابا ہم کہاں جا رہے ہیں؟ دحیہ قلبی روتے جاتے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں
۔ یا رسول اللہ ! میں بچی کے سوالوں کاجواب ہی نہیں دیتا تھا۔ وہ پوچھتی جا رہی ہے بابا کدھر چلے گئے تھے؟ کبھی میرا منہ چومتی ہے، کبھی بازو گردن کے گرد دے لیتی ہے۔ لیکن میں کچھ نہیں بولتا۔ ایک مقام پر جا کر میں نے اسے بٹھا دیا اور خود اس کی قبر کھودنے لگ گیا۔
آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دحیہ کی زبان سے واقعہ سنتے جارہے ہیں اور روتے جا رہے ہیں۔ میری بیٹی نے جب دیکھا کہ میرا باپ دھوپ میں سخت کام کر رہا ہے، تو اٹھ کر میرےپاس آئی۔ اپنے گلے میں جو چھوٹا سا دوپٹہ تھا وہ اتار کر میرے چہرے سے ریت صاف کرتے ہوئے کہتی ہے؛
بابا دھوپ میں کیوں کام کر رہے ہیں؟ چھاؤں میں آ جائیں۔ بابا یہ کیوں کھود رہے ہیں اس جگہ؟ بابا گرمی ہے چھاؤں میں آ جائیں۔ اور ساتھ ساتھ میرا پسینہ اور مٹی صاف کرتی جا رہی ہے۔ لیکن مجھے ترس نہ آیا۔
آخر جب قبر کھود لی تو میری بیٹی پاس آئی۔ میں نے دھکا دے دیا۔ وہ قبر میں گر گئی اور میں ریت ڈالنے لگ گیا۔ بچی ریت میں سے روتی ہوئی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ میرے سامنے جوڑ کر کہنے لگی؛ بابا میں نہیں لیتی کھلونے۔ بابا میں نہیں جاتی نانی کے گھر۔
بابا میری شکل پسند نہیں آئی تو میں کبھی نہیں آتی آپ کے سامنے۔ بابا مجھے ایسے نہ ماریں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ریت ڈالتا گیا۔ مجھے اس کی باتیں سن کر بھی ترس نہیں آیا۔ میری بیٹی پر جب مٹی مکمل ہو گئی اور اس کا سر رہ گیا تو میری بیٹی نے میری طرف سے توجہ ختم کی اور بولی؛
اے میرے مالک میں نے سنا ہے تیرا ایک نبی آئے گا جو بیٹیوں کو عزت دے گا۔ جو بیٹیوں کی عزت بچائے گا۔ اے اللہ وہ نبی بھیج دے بیٹیاں مر رہی ہیں۔ پھر میں نے اسے ریت میں دفنا دیا۔ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ واقعہ سناتے ہوئے بے انتہا روئے۔
یہ واقعہ جب بتا دیا تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنا رو رہے ہیں کہ آپؐ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے گیلی ہو گئی۔ آپؐ نے فرمایا؛ دحیہ ذرا پھر سے اپنی بیٹی کا واقعہ سناؤ۔ اس بیٹی کا واقعہ جو مجھ محمد کے انتظار میں دنیا سے چلی گئی۔ آپؐ نے تین دفعہ یہ واقعہ سنا اور اتنا روئے کہ آپ کو دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رونے لگ گئے
اور کہنے لگے؛ اے دحیہ کیوں رلاتا ہے ہمارے آقا کو؟ ہم سے برداشت نہیں ہو رہا۔ آپؐ نے حضرت دحیہ سے تین بار واقعہ سنا تو حضرت دحیہ کی رو رو کر کوئی حالت نہ رہی۔
اتنے میں حضرت جبرائیل علیہ اسلام حاضر ہوئے اور فرمایا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم! دحیہ کو کہہ دیں وہ اُس وقت تھا جب اس نے اللہ اور آپؐ کو نہیں مانا تھا۔ اب مجھ کو اور آپ کو اس نے مان لیا ہے تو دحیہ کا یہ گناہ بھی ہم نے معاف کر دیا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے دو بیٹیوں کی کفالت کی، انہیں بڑا کیا، ان کے فرائض ادا کیے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ اس طرح ہو گا جس طرح شہادت کی اور ساتھ والی انگلی آپس میں ہیں.
۔
جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اس کی یہ اہمیت ہے تو جس نے تین یا چار یا پانچ بیٹیوں کی پرورش کی اس کی کیا اہمیت ہو گی؟
بیٹیوں کی پیدائش پر گھبرایا نہ کریں انہیں والدین پر بڑا مان ہوتا ہےاور یہ بیٹیاں اللہ کی خاص رحمت ہوتی ہیں۔
Like Share Follow comment Please
ان شاءاللہ اللہ نے چاہا تو ایک دن فجر کی نماز ھوگی اور سامنے مسجد نبویﷺ
Online Anwar Ul Quran Academy
Beautiful place follow me
’’جب فتنے آئیں گے تو ایمان شام میں ہو گا۔‘‘
جی ہاں، نبی کریم ﷺ کو شام (بلاد الشام) کی سرزمین سے خاص محبت تھی، اور آپ ﷺ نے شام کے بارے میں کئی فضیلتیں بیان فرمائیں۔ ان احادیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شام صرف جغرافیائی خطہ ہی نہیں بلکہ دین، ہدایت، برکت اور آخری دور کے فتنوں سے حفاظت کا مرکز بھی ہے۔
شام اللہ کی زمینوں میں سے سب سے بہترین زمین ہے
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا:
’’شام کے لیے خوشخبری ہو! شام کے لیے خوشخبری ہو! شام کے لیے خوشخبری ہو!‘‘
صحابہؓ نے پوچھا: ’’یا رسول اللہ! شام کو یہ فضیلت کیوں؟‘‘
آپ ﷺ نے فرمایا:
’’اللہ کے فرشتے شام پر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں۔‘‘
[سنن ترمذی: 3954، صحیح]
شام اہلِ ایمان کا مرکز ہو گا
آپ ﷺ نے فرمایا:
عنقریب تم تین لشکروں میں تقسیم ہو جاؤ گے: ایک شام میں، ایک یمن میں، اور ایک عراق میں...
صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں کس طرف رہنا بہتر ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
تم پر لازم ہے کہ شام کو اختیار کرو، کیونکہ وہ اللہ کی چنی ہوئی زمین ہے، اللہ اپنے چنے ہوئے بندوں کو وہاں سمیٹے گا۔
[سنن ابی داود: 2483، صحیح الاسناد]
[مسند احمد: 21381، صحیح]
ایمان اور ہجرت کا مرکز شام ہو گا
’’جب فتنے آئیں گے تو ایمان شام میں ہو گا۔‘‘
إِنَّ الإِيمَانَ حِينَ تَقَعُ الفِتَنُ بِالشَّامِ.
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه البزار: 3332، والطبراني في الشاميين ‘: 449، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22076
آخر الزمان میں مسلمانوں کا مضبوط قلعہ
’’ایمان کا مضبوط قلعہ شام ہو گا۔‘‘
عُقْرُ دَارِ الْإِيمَانِ بِالشَّامِ
[مسند احمد: 21716، صحیح الاسناد]
دجال کے خلاف جنگ کا مرکز بھی شام
يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ... عِندَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام دمشق (شام) کے مشرق میں سفید مینار کے قریب نازل ہوں گے۔
[صحیح مسلم: 2937]
شام: نبوت و برکت کی زمین
عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’میں نے دیکھا کہ کتاب (قرآن) کا ستون میرے تکیے کے نیچے سے نکالا گیا، اور میں نے اس کی روشنی دیکھی، تو وہ شام کی طرف بلند کیا گیا۔ یاد رکھو! جب فتنے آئیں گے تو ایمان شام میں ہو گا۔
رأيت عمودَ الكتابِ انتُزع من تحت وسادتي، فأتبعْتُه بصري، فإذا هو نورٌ ساطعٌ عُمِد به إلى الشامِ، ألا وإنَّ الإيمانَ حين تقعُ الفتنُ بالشامِ.
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه الطبراني في مسند الشاميين: 1357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17775 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17928
اللہ کے فرشتے شام میں پھیلائے جاتے ہیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’شام تمہارے لیے بہتر ہے، یہ اللہ کی بہترین زمین ہے، اس میں اس کے پسندیدہ بندے بستے ہیں۔ اگر وہاں نہ جا سکو تو یمن جاؤ، اور وہاں سے پانی پیو، کیونکہ اللہ نے شام اور اس کے لوگوں کی کفالت میرے ذمے لی ہے۔‘‘
عليك بالشام فإنها صفوة بلاد الله، يسكنها خيرته من خلقه، فإن أبَيْتَ فإلْحَقْ بيمنك واسق من غُدُرك، فإن الله قد تكفّل لي بالشام وأهله.
[مسند احمد: 21665، صحیح]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
عنقریب اسلام کو اس قدر غلبہ حاصل ہو گا کہ اہل اسلام کے بہت سے لشکر ہوں گے، ایک لشکر شام میں ایک یمن میں اور ایک عراق میں ہوگا۔
تو ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے کہا:
اے اللہ کے رسول! اگرمجھے یہ دور نصیب ہوتو میرے لیے کسی علاقہ کا انتخاب فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
تم ملک شام میں رہنا، تم شام کو لازم پکڑنا، بس تم شام میں رہنا، جو اس علاقے کا انکار کرے تو وہ یمن میں چلا جائے اور وہاں کے جوہڑوں کا پانی پیے، پس بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کی حفاظت کی ضمانت دی ہے۔
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، اخرجه ابوداود: 2483، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17005 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17130
منقول
#دمشق
@
سیدہ فاطمہ الزہرہؓ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ نے ان کی وصیت کے مطابق دوسری شادی کی حسنؓ حسینؓ زینبؓ ابھی چھوٹے تھے
آپ نے سیدنا عقیلؓ کو رشتہ دیکھنے کے لیے کہا تو کلبسی بنو قلاب کے قبیلے کا انتخاب ہوا
سیدنا علیؓ کی خواہش تھی کہ کوئی ایسی خاتون ہو جو شجاعت سخاوت اور ایثار کی خصوصیات سے مالا مال ہو بنو قلاب کی خاتون فاطمہ بنت حزم کے گھر رشتہ بھیجا تو سردار حزم اپنی بیوی کے پاس گئے اور پوچھا کہ سیدنا علیؓ کا بیٹی فاطمہ کے لیے رشتہ آیا ہے کیا آپ نے اپنی بیٹی کی ایسی تربیت کی ہے جو نبیؐ کے خاندان میں بیاہی جا سکے رشتہ قبول ہوتا ہے تو فاطمہ بنت حزم( سیدہ ام البنین) سیدنا علیؓ کے گھر جاتی ہیں تو سیدنا حسنؓ حسینؓ اور بی بی زینبؓ فاطمہ کو گلے لگا لیتی ہیں
سیدنا علیؓ سے درخواست کرتی ہیں کہ ان بچوں کے سامنے آپ مجھے کبھی
فاطمہ مت کہئیے گا
انہیں اس سے ان کی ماں یاد آ جائے گی
میں اس گھر میں ان کی ماں بن کر نہیں آئی بلکہ کنیز بن کر آئی ہوں
میرا یہ مقام نہیں کہ ان کی ماں کی جگہ لے سکوں
ان کے چار بیٹے ہوئے اس لیے انہیں ام البنین بھی کہتے مطلب بیٹوں کی ماں
اپنے بیٹوں کو ہمیشہ حسنؓ حسینؓ کی اطاعت کا حکم دیا ادب سکھایا اور کہا جو وہ کہیں بس حکم بجا لانا ہے بحث نہیں کرنی
یہ اہلبیت ہیں ہم ان کے نوکر ہیں
چار بیٹوں میں عباس ابن علیؓ، عبداللہ ابن علیؓ، جعفر ابن علیؓ اور عثمان ابن علیؓ تھے
سیدنا عباسؓ لشکر حسین کے سپہ سالار بھی رہے
شجاعت میں یہ ایک مقام رکھتے تھے، دونوں ہاتھوں سے تلوار چلاتے تھے
جنگ صفین میں سیدنا علیؓ نے ان کو بھیجا تو محمد بن حنفیہ کہتے کہ مولا آپ صرف عباسؓ کو کیوں آگے بھیجتے ہیں تو سیدنا عباس کہنے لگے حسنؓ حسینؓ میرے ابا کی آنکھیں ہیں اور میں ان کا بازو اور بازو ہمیشہ آنکھوں کی حفاظت کرتے ہیں
حالانکہ عمر میں حسنؓ و حسینؓ سے چھوٹے تھے
مطلب کہ یہ سوال بھی نہیں بنتا، ماں کی تربیت ہر مقام پر جھلکتی تھی
واقعہ کربلا میں جب ایک ایک کرکے لشکر حسینؓ کے سپاہی شہید ہوتے گئے تو سیدنا عباسؓ نے حضرت امام حسینؓ سے درخواست کی کہ مجھے جانے دیں
سیدنا امام حسینؓ ان سے تلواریں لے لیتے ہیں کہ بس عباسؓ تم پانی لے آؤ
آپ پانی لینے جاتے ہیں تو یزیدی لشکر ان پر حملہ کر دیتا ہے دونوں بازو کاٹ دئیے جاتے ہیں
امام عالی مقام کی آنکھیں بھر آتی ہیں
سیدنا عباسؓ حضرت امام حسینؓ سے درخواست کرتے ہیں کہ میرے گھٹنے سے تیر نکال دیں اور کہتے ہیں کہ میری والدہ سے کہہ دیجئیے گا کہ عباسؓ کے دونوں بازو نہیں تھے اس لیے صرف آپ کو تیر نکالنے کا کہا
یہ وہ ادب تھا وہ اطاعت تھی جو سیدہ ام البنین کی تربیت تھی جنہوں نے ساری زندگی نبیؐ کے اس گھرانے کی کنیز بن کر گزار دی
آپ کے چاروں بیٹے اس جنگ میں شہید ہو گئے
حضرت علیؓ کے پانچ بیٹوں نے میدان کربلا میں جام شہادت پائی
جس میں 4 سیدہ ام البین کے فرزندان تھے
جو لشکر حسینؓ کا نہ صرف حصہ بنے بلکہ امام عالی مقام پر اپنی جان تک قربان کر دی اور ساری عمر کبھی زبان پر کوئی سوال نہ لائے
سیدہ ام البنین کو جب بیٹوں کی شہادت کی خبر ملی تو کہا عباسؓ شہد ہوا جعفرؓ شہید ہوا عثمانؓ شہید ہوا عبداللہؓ بھی شہید ہو گیا
فرمانے لگی سب چھوڑیں میرے حسینؓ کا بتائیں تو بتایا کہ وہ بھی شہید ہو گئے تو کہنے لگی کیا میرے بیٹے حسینؓ سے پہلے شہید ہوئے کہ بعد میں تو بتایا کہ نہیں وہ پہلے شہید ہوئے اور امام عالی مقام کی حفاظت کے لئے خوب لڑے تو شکر ادا کیا کہ انہوں نے بیشک حق ادا کر دیا
یہ وہ ماں تھی جو اہلبیت کے مقام کو سمجھتی تھی جس نے اپنے سارے بیٹوں کو ساری عمر صرف اطاعت سکھائی ادب سکھایا خود کو اس گھر کی کنیز بنایا
خدا ہم سب کو اہلبیت کا مقام سمجھنے اور اس ادب و اطاعت کی ہدایت فرمائے جو سیدہ ام البینین نے اپنی اولاد کو سکھایا..
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
44000