07/03/2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم
دورہ الفاتحہ
تیسری قسط
بسم اللہ الرحمن الرحیم
گھر آنے کے بعد سب کا ٹائم بہت مصروف گزرا کیونکہ رمضان کی چاند رات تھی
ملازمہ نے آکر صبا سے پوچھا باجی کیا بات ہے آج آپ نے مجھے چیک نہیں کیا کہ کام ٹھیک کیا یا نہیں
صبا نے صوفے سے سر ٹکا دیا اور بہت مطمئن سے انداز میں بے اختیار کہا کہ ساری زندگی رمضان کو سموسے، رولز، شاپنگ اور افطاری کے مینو منفرد بنانے میں برباد کیا مگر اب پتہ چلا کہ یہ تو قرآن سے دوستی کا مہینہ ہے اور میں نے تو شاید قرآن دوستی کبھی کی ہی نہیں۔۔۔
ملازمہ کچھ سمجھی کچھ نہ سمجھی کی کیفیت میں واپس کچن میں چلی گئی
شام میں ہانیہ اور ثناء صبا کے پاس آئیں ان کو ملازمہ نے یہ بات بتائی تھی
کہنے لگیں کہ مما قرآن سے دوستی مبارک ہو
اور وہ تینوں ہی اموشنل ہوگئیں اور اگلے دن کی کلاس کا پلان کرنے لگیں صبا نے کہا کہ میں بھی ایک سوال کروں تو کیا مجھے جواب ملے گا البیّنہ اکیڈمی سے
جی شیور مما کیوں نہیں ان دونوں نے جواب دیا
نہیں پھر بھی ان کا ڈیزائن کیا ہوا کورس ہے نا۔۔۔صبا تھوڑا گھبرائیں
نہیں مما جو دین سکھانے والے ہوتے ہیں نا وہ ہمیں ری ڈیزائن کرنا چاہتے ہیں آپ بلا جھجک پوچھیں ان سے نو ایشو
اگلی کلاس میں روزے کی وجہ سے ماحول مزید با برکت ہوگیا تھا
سلمی اور عائشہ نے پوچھا شروع کریں
اور صبا نے اپنا سوال کردیا
بیٹا آپ نے قرآن کا مطلب بہت اچھا سمجھایا
اور نام بھی پھر یہ آگے مجید، حکیم اور کریم
قرآن مجید، قرآن حکیم وغیرہ کا مطلب کیا ہے؟
اوہ آنٹی بریلیئنٹ ۔۔۔۔ماشاءاللہ بہت عمدہ سوال ہے آپ کا
دراصل قرآن کی مختلف شان اور صفات کے لئے یہ الفاظ آئے ہیں
قرآن کریم ۔۔۔ إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ (سورہ الواقعہ، آیت 77)
الحکیم۔۔۔ يسۤ وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ (سورہ یٰسین، آیت 1-2)
العظیم۔۔۔ وَالْقُرْآنِ الْعَظِيمِ (سورہ الحجر، آیت 87)
مجید۔۔۔ بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَّجِيدٌ (سورہ البروج، آیت 21)
اور سورہ ق آیت 1: قۤ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ
سلمی ٹیچر نے کہا ایسا ہے ہم اس کو رٹن فارم میں آپ سب کو پرووائڈ کردیں گے ان شاءاللہ
صبا اور باقی سب نے دل سے ان کا شکریہ ادا کیا
پروجیکٹر پر سلائیڈ آئی
قرآن کا زمانہ نزول اور ارض نزول
قرآن کریم کا زمانہ نزول 610 سے 632 تک یعنی 22 برس پر مشتمل ہے
قمری حساب سے یہ 23 برس بنے گے
40 عام الفیل سے شروع کریں تو 12 سال قبل ہجرت اور 11 ہجری سال مل کر 23 سال قمری بنے گے جن کے دوران یہ قرآن بطرز تنزیل تھوڑا تھوڑا نازل فرمایا گیا
قرآن مجید کی سورتوں کی تعداد 114 ہے
تیس اجزا ہیں
سلمی نے مداخلت کی اجزا کے لفظ سے پریشان نہ ہوں
اجزا یعنی جز کا مطلب سپارہ ہے
30 پارے ہیں اور چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ آیات ہیں
جی بلکل عائشہ نے سلائیڈز پر فوکس کیا
540 رکوع سات منزلوں اور بعض کے نزدیک 17658 3 اور بعض کے نزدیک 364271 الفاظ پر مشتمل ہے
ایک ریسرچ کے مطابق
قران میں زبر کی تعداد = 45343
زیر کی تعداد = 39582
پیش کی تعداد = 8804 ہے
صحیح احادیث میں یہ شہادت موجود ہے کہ پہلے سورہ العلق کی 5 آیات نازل ہوئیں
پھر 3 سال کا وقفہ آیا
سورہ العلق کی یہ 5 آیات بھی چونکہ قرآن مجید کا حصہ ہیں لہذا صحیح قول یہی ہے کہ قرآن مجید کا زمانہ نزول 23 قمری اور 22 شمسی سال ہے
اب نزول کی جگہ کونسی ہے؟
یاد رکھیں کہ تقریبا پورا کا پورا قرآن حجاز میں نازل ہوا اس لئے کہ آغاز وحی کے بعد نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی سفر حجاز سے باہر ثابت نہیں ہے
کلاس سے مشترکہ آوازیں آئیں
حجاز سے کیا مراد ہے؟
اوہ بتاتی ہوں عائشہ نے کہا
حِجاز کے اردو معانی
روکنا، الگ رکھنا، کوئی چیز جو بیچ میں آکر دو چیزوں کو جدا کر دے،
جزیرۃ العرب کا شمال مغربی حصّہ جس میں مکّہ معظمہ، مدینہ منوَرہ اور طائف وغیرہ واقع ہیں (جو بالعموم سعودی عرب کی موجودہ سلطنت کا مغربی صوبہ ہے)
قرآن کی زبان عربی ہے
مگر یہ بھی ثابت ہے کہ کچھ الفاظ دوسرے قبائل اور دوسری زبانوں کے بھی آئے ہیں
علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ علیہ نے ایسے الفاظ کی فہرست ترتیب دی ہے
اس علاوہ کچھ غیر عربی الفاظ بھی قرآن مجید میں آئے ہیں جو معرب ہوگئے ہیں
معرب؟ کا مطلب۔۔۔فوری سوال آیا
سلمی ٹیچر نے مسکرا کر کہا
مطلب وہ لفظ جو اصل میں غیر عربی ہو لیکن عربی میں شامل کرلیا گیا ہو
Any guesses
کون سے الفاظ ہوسکتے ہیں عائشہ نے پوچھا؟
ثناء بولی کیا ان الفاظ میں نام ہوسکتے ہیں
اوہ بلکل آپ درست سوچ رہی ہیں
عائشہ حیرانی سے بولیں
ثناء اور کونفیڈنڈٹ ہوگئی اور بولی اصل میں باجی میرا مائنڈ اس لئے بنا کہ میرے بیٹے کا نام ابراہیم ہے اور یہ نام عبرانی زبان سے ہے
جی شاباش ابراہیم، اسحاق، اسرائیل، اسماعیل یہ سب نام درحقیقت عبرانی زبان کے الفاظ ہیں
عائشہ نے پروجیکٹر پر پوری پریزینٹیشن دکھائی اور سلمی ٹیچر نے کہا کہ ظہر کی نماز میں کم ٹائم رہ گیا ہے باقی کل ان شاءاللہ
کلاس میں سے آواز آئی میم یہ تو انٹرو ہی کی dive اتنی مزیدار اور دلچسپ ہے تو سورہ فاتحہ میں کیا کلاس ہوگی
عائشہ اور سلمی ایک دوسرے کو دیکھ کر سکون سے مسکرائیں اور کہا الحمدللہ
پھر بولیں
ابھی تو سمندر کے کنارے کھڑے ہیں پانی کی گہرائی کا اندازہ بھی نہیں کر پائے ہیں
الفاتحہ میں تو ہم سمندر کے اندر اتر چکے ہوں گے باذن اللہ
دعا ہے کہ ہماری زندگی بدل جائے آمین
سب کے اندر اگلی کلاس کا شدید انتظار تھا
کمنگ سون باذن اللہ
04/03/2026
اس دوران ایک چھوٹا سا ریفریشمنٹ بریک آیا
بہت ہی مناسب سا ارینج منٹ تھا
نہ اسراف نہ بخیلی
خوبصورت پلیٹرز میں کھجور، ویج رولز ڈرائی فروٹس اور چائے
سلمی، عائشہ اور دیگر اسٹاف بھی ایک ہی ساتھ تھا
کیسا لگا عائشہ نے پوچھا
بہت زبردست باجی ہانیہ نے خوش ہوکر کہا
امیزنگ ہے
مگر باجی ایک تجویز ہے اگر آپ کو اور باقی بہنوں کو قبول ہو
اور اس نے ثناء کو کہا کہ وہ بتائے
ثناء نے کہا باجی ہماری suggestion ہے کہ سورہ فاتحہ سے پہلے تھوڑا قرآن کا تعارف جو آپ کروارہی ہیں اس کو اور بتائیں
ہم جیسے لوگ اپنے بچوں کو بتائیں کہ قرآن کیا ہے کیسے نازل ہوا ، وحی کیا ہے سورہ کیا ہے
پھر وہ رکی اور تھوڑا امبیرس سا فیل کیا کہ شاید زیادہ بول دیا
مگر وہاں کی فیکلٹی تو خوش اور مزید پر جوش ہوگئی
بالکل ان شاء اللہ Gen z زی قرآن کو جانے گے تو Gen beta
دین سے کنیکٹ ہوگی باذن اللہ
پھر دوبارہ کلاس شروع ہوئی
قرآن کا مطلب کیا ہے؟
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن اسم غیر مشتق ہے
جس طرح توریت ، زبور اور انجیل غیر مشتق ہیں
یہ مشکل ہے نا ؟
سلمی ٹیچر رکیں
سب نے اثبات میں سر ہلایا
اوکے میں سمجھاتی ہوں مگر آپ لکھیں ضرور یہ ورڈ
انہوں نے عائشہ سے کہا کہ بورڈ پر ایکسپلینیشن دیں
ماہین جو کہ زیادہ تر انگریزی جملہ بولتی تھی بولی ٹیچر مگر کیوں لکھیں اتنی مشکل terminology
سلمی مسکرائیں اس لئے مائی ڈیئر کہ قرآن کی شان تعلیم کچھ خاص شان کو ظاہر کرتی ہے تو اس لئے پتہ ہونا چاہیے
پھر عائشہ نے بورڈ پر لکھا
اسم غیر مشتق کا مطلب وہ نام جو کسی دوسرے لفظ سے نہیں بنا ہوتا بلکہ اپنی اصل شکل میں ہوتا ہے
یعنی کسی مادہ یا فعل سے نہیں نکلا ہوتا یعنی کسی لفظ سے نکالا نہ گیا ہو
A name that is not taken from any other word or root
It exists in its original form
گویا قرآن نام ہے اللہ کے پاک کلام کا جو نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل فرمایا گیا
بعض علماء لفظ قرآن کو قرن (ملانا ) سے مشتق مانتے ہیں
عربی میں قرن کا مطلب ہوتا ہے ملانا ،جوڑنا
یعنی وہ کتاب جو حقائق، قصص،احکام اور ہدایت کو آپس میں جوڑ کر جمع کرتی ہے
وہ کتاب جو دلوں کو جوڑتی ہے
ماہین چونکہ بہت ذہین تھی اپنا ہینڈ ریز کیا اور بولی میم میں اس کی مثال دے سکتی ہوں
پرمیشن ہے
ٹیچر خوشی سے بولیں
آف کورس مائی ڈیئر
جیسے پچھلی کتابوں کے مضامین کو جمع کرتا ہے
دنیا اور آخرت کو جوڑتا ہے
اور فائنلی انسان کو اللہ سے جوڑتا ہے
یس ماشاءاللہ
That's a strong understanding
عائشہ نے ہاتھ کے اشارے سے شاباش دی
بلکل عائشہ نے کہا اور قرآن میں رکوع، آیات اور سورتیں چونکہ آپس میں ملی ہیں اس لئے قرآن کو قرآن کہا جائے گا
بعض علماء کے نزدیک قرآن کے معنی ہوئے پڑھا گیا،یا جو بہت پڑھا جائے جس کی کثرت سے تلاوت کی جائے اور قرآن خود اس معنی کی تائید کرتا ہے
قرآن مجید کے بہت سے نام ہیں
سب سے exclusive القران ہے
اس کے بعد کثرت سے استعمال ہونے والا نام الکتاب ہے
قرآن کی اصل حقیقت پر روشنی ڈالنے والا نام الذکر ہے
قرآن کی سب سے زیادہ افادیت کے لئے سب سے جامع نام الہدی ہے
قرآن کی حیثیت اور نوعیت کے اعتبار سے اہم ترین نام النور ہے
قرآن کی اہم ترین شان ایک لفظ کے طور پر الفرقان ہے (حق و باطل کی تفریق کرنے والا )
ایک نام الوحی بھی ہے
پروجیکٹر پر سلائیڈز یکے بعد دیگرے تبدیل ہوتی رہیں،
اور قرآن کے فہم کے سفر میں پہلی باقاعدہ deep dive کا آغاز ہوگیا
Next episode coming soon
باذن اللہ
01/03/2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہانیہ، ثناء، ماہین اور وہ سب خواتین جنہیں دورۂ الفاتحہ کا دعوت نامہ ملا تھا، بے حد پُرجوش تھیں۔ رمضان کی خوشبو فضا میں گھلنے لگی تھی اور دلوں میں انتظار کی روشنی جاگ رہی تھی۔
ماہین نے ہانیہ کو کال کی۔
“آپی! کورس تو اسی ویک سے شروع ہو رہا ہے۔ رمضان سے چار دن پہلے کیوں؟”
ہانیہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا،
“ٹیچر سلمی کہہ رہی تھیں کہ صرف surface study نہیں کرنی… ہمیں dive لگانی ہے، ان شاء اللہ!”
“واہ! زبردست۔ میں ابھی بھابی اور مما کو بتاتی ہوں!”
پیر کی صبح
البینہ اکیڈمی کا منظر۔
ہلکی سی ٹھنڈی ہوا، داخلی دروازے پر خوش خط انداز میں آویزاں آیت مبارکہ، استقبالیہ ڈیسک پر مسکراتی رضاکار خواتین، ترتیب سے رکھی رجسٹریشن شیٹس، اور دیواروں پر سادہ مگر باوقار اسلامی آرٹ۔ ماحول میں وقار بھی تھا اور اپنائیت بھی۔
جب یہ سب اندر داخل ہوئیں تو سامنے سے سلمی ٹیچر، عائشہ اور چند خواتین نے پُرجوش انداز میں استقبال کیا
“مرحباً، اہلاً و سہلاً!”
“السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!”
“تشریف لائیے پلیز، ہم آپ کا انتظار کر رہے تھے۔”
کلاس روم جدید طرز پر سجا ہوا تھا۔
سامنے بڑی LED اسکرین، سائیڈ پر پروجیکٹر نصب، مائیک سسٹم مکمل ترتیب کے ساتھ، ہر طالبہ کے سامنے نوٹ پیڈ اور پین رکھا ہوا۔ نشستیں نیم دائرے کی شکل میں تھیں تاکہ رابطہ اور مکالمہ آسان رہے۔ روشنی متوازن، ماحول سنجیدہ مگر دلکش۔
سب بیٹھ گئیں تو سلمی ٹیچر نے مائیک سنبھالا۔
“آئیے آغاز دعا سے کرتے ہیں۔
یا اللہ! ہمیں clarity of speech عطا فرما،
ہمیں کلامِ پاک کو سمجھنے کی توفیق دے،
اور سمجھنے کے بعد اسے صحیح طور پر آگے پہنچانے کی صلاحیت عطا فرما۔ آمین۔”
پھر مسکراتے ہوئے بولیں
“یہ کورس صرف تلاوت یا ترجمہ تک محدود نہیں ہوگا۔
ہم Surah Al-Fatihah کو surface پر نہیں پڑھیں گے۔
ہم اس میں dive لگائیں گے۔
ہم اس کے الفاظ، اس کے معانی، اس کے عقیدے، اس کے ربط، اس کے پیغام اور اس کی عملی تطبیق سب پر بات کریں گے۔
یہ deep study ہوگی۔
ہم سمجھیں گے، سوال کریں گے، غور کریں گے، اور اپنے ایمان کو مضبوط کریں گے، ان شاء اللہ۔”
تھوڑی دیر توقف کے بعد انہوں نے کہا
“شروع کرنے سے پہلے، آئیے قرآن کا مختصر تعارف جان لیتے ہیں۔
سوال یہ ہے ۔۔۔۔ قرآن کیا ہے؟”
کلاس میں خاموشی چھا گئی۔
سلمی ٹیچر نے خود جواب کی ابتدا کی
“قرآن ہمارا عقیدہ ہے۔
اور ہمارا عقیدہ قرآن کے بارے میں تین بنیادی نکات پر قائم ہے
اول ۔۔۔۔ قرآن اللہ کا کلام ہے۔
یہ مخلوق کا کلام نہیں، یہ ربّ العالمین کی صفتِ کلام ہے۔
دوم ۔۔۔۔ یہ رسول اللہ حضرت محمد مصطفی ﷺ پر نازل فرمایا گیا۔
آپ ﷺ نے اسے سنا، محفوظ کیا، اور امت تک پہنچایا۔
سوم ۔۔۔۔قرآن ہر اعتبار سے محفوظ ہے۔
نہ اس میں کمی ہو سکتی ہے نہ زیادتی۔
اس کی حفاظت کا وعدہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال گزرنے کے باوجود ایک حرف تک تبدیل نہیں ہوا۔”
پھر انہوں نے ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلائی:
“قرآن کی حقانیت کی گواہی سابقہ آسمانی کتب میں بھی موجود ہے۔
کتابِ استثناء (Deuteronomy)، جو صحفِ موسیٰ علیہ السلام میں سے ہے، اس کے اٹھارویں باب میں ایک پیش گوئی بیان کی گئی
‘میں ان کے بھائیوں میں سے ان کے لئے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا، اور اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا، اور وہ ان سے وہی کچھ کہے گا جو میں اس سے کہوں گا۔’
علماء کے نزدیک یہ پیش گوئی رسول اللہ ﷺ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔”
سلمی ٹیچر نے وضاحت جاری رکھی
“ایک اہم بات سمجھ لیجئے۔
کلامِ پاک اللہ کی صفت ہے۔
اللہ نے اسی کلام کو ہماری ہدایت کے لیے حروف اور آوازوں کا لباس عطا فرمایا، اور سیدالمرسلین ﷺ کے قلبِ اطہر پر بطریقِ تنزیل نازل فرمایا۔
یہی کلام لوحِ محفوظ میں درج ہے جسے امّ الکتاب یا کتابِ مکنون بھی کہا جاتا ہے۔”
پھر انہوں نے بورڈ پر دو الفاظ لکھے
انزال
تنزیل
“نزولِ قرآن کی دو صورتیں بیان کی جاتی ہیں۔
انزال
قرآن کا لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا، یعنی بیتُ العزّة، میں یکبارگی نزول۔
اس سے قرآن کی عظمت، اس کی حفاظت اور آسمانی نظامِ وحی واضح ہوتا ہے۔
تنزیل
قرآن کا آسمانِ دنیا سے نبی ﷺ پر تدریجاً نازل ہونا۔
تقریباً 23 سال میں، حالات اور مواقع کے مطابق۔
اس میں حکمت کیا ہے؟
انزال ۔۔۔۔۔ قرآن کی شان اور محفوظ ہونا ظاہر کرتا ہے۔
تنزیل ۔۔۔۔ امت کی تربیت، فہم اور عمل میں آسانی پیدا کرتا ہے۔
دونوں مل کر وحی کے کامل نظم اور الٰہی حکمت کو ظاہر کرتے ہیں۔”
پھر انہوں نے سوال کیا
“اگر قرآن ایک ہی بار مکمل نازل ہو جاتا تو کیا ہوتا؟”
ثناء نے کہا:
“شاید سمجھنا مشکل ہو جاتا؟”
“بالکل۔
تدریجی نزول نے ایمان کو مضبوط کیا، سوالات کے جواب دیے، اور عملی زندگی کے مراحل میں رہنمائی فراہم کی۔”
ماہین نے پوچھا
“تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن صرف کتاب نہیں، بلکہ ایک تربیتی سفر ہے؟”
سلمی ٹیچر مسکرا دیں۔
“جی ہاں۔ یہی اصل بات ہے۔
قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں،
یہ جینے کی کتاب ہے۔
اور جب ہم Surah Al-Fatihah سے آغاز کرتے ہیں،
تو دراصل ہم پورے قرآن کے دروازے میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں۔”
کلاس میں ایک خاص سنجیدگی چھا گئی۔
سلمی ٹیچر نے آخری جملہ کہا
“اگر قرآن اللہ کا کلام ہے…
اور ہم اس کے مخاطب ہیں…
تو سوال یہ ہے
کیا ہم واقعی سننے کے لیے تیار ہیں؟”
خاموشی…
اور اسی خاموشی میں دورۂ الفاتحہ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔
جاری ہے باذن اللہ
24/02/2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جی نمبر 6
۔متواتر۔۔۔جس کے راوی ہر زمانے میں اتنے ہوں کہ جھوٹ پر اکٹھا ہونا ممکن ہی نہ ہو
7۔مقبول۔۔۔جس حدیث کے راویوں کی دیانت اور سچائی تسلیم ہو مقبول کہلاتی ہے
8۔غیر مقبول۔۔۔جس حدیث کے راویوں کی دیانت اور سچائی مشتبہ ہو غیر مقبول کہلاتی ہے
9۔ضعیف۔۔جس حدیث میں نہ تو صحیح حدیث کی شرائط موجود ہوں اور نہ ہی حسن کی مطلب کہ جس حدیث کے راویوں میں کوئی راوی کم فہم، بد حافظہ ہو یا سند میں ایک یا زیادہ راوی محذوف کئے گئے ہوں
10 ۔۔موضوع۔۔۔یعنی من گھڑت جس حدیث کا کوئی ایک بھی راوی بہت جھوٹا یعنی کذاب ہو
کذاب کا مطلب پتہ ہے کسی کو؟
عائشہ نے سوال کیا
سب نے شرمندگی سے نگاہیں جھکا لیں
کوئی بات نہیں میں بتاتی ہوں
کذاب کا مطلب وہ راوی جس سے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جھوٹ بولنا ثابت ہوچکا ہو
جی سمجھ آیا
Standard of Authentic Hadith
جی
صبا آنٹی اب آپ بتائیں کہ اب وہ والی بات سمجھ آئی کہ حدیث تو حدیث ہے؟
ہاں بیٹا
غیر مقبول، موضوع اور ضعیف حدیث پر یقین نہیں کرنا
جی اور ہانیہ اب آپ بتائیں وہ حدیث جو شب برات کے لئے کوڈ کی جاتی ہے
جی باجی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موجود نہ پاکر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نکلیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع میں تھے
اور کچھ بات چیت کے بعد فرمایا کہ اللہ اس رات قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کے عدد سے زیادہ بخشش فرماتا ہے
عائشہ نے کہا جی اس حدیث کے ساتھ امام ترمذی نے خود لکھا ہوا ہے کہ یہ حدیث منقطع ہے
یعنی راویوں کی ملاقات نہیں ہوئی
اوکے باجی اسی کی تلاش تھی مجھے ثناء نے کہا
اور وہ جو تقدیر کے فیصلے، رزق کی تقسیم وغیرہ
یہ قرآن کی رو سے بلکل غلط ہے دراصل یہ سب رمضان المبارک کی شب قدر میں ہوتا ہے
جزاک اللہ خیرا کثیرا
سب نے کہا
و ایاکی
عائشہ نے کہا مگر اب آپ۔ سب کو جو پتہ چلا ہے اس کو آگے پھیلانا ہے جیسے جس کے لئے پاسبل ہو کیونکہ ہماری ذمہ داری صرف علم سیکھنا نہیں بلکہ آگے پھیلانا بھی ہماری ذمہ داری ہے
جی ان شاء اللہ سب نے کورس میں جواب دیا
مگر درست بات احتیاط اور حکمت کے ساتھ عائشہ نے ریئمانڈ کروایا
تو پھر شعبان میں کیا کریں؟ ایک سوال آیا
عائشہ نے کہا
دیکھیں شعبان نہیں رجب سے شروع کریں سلف صالحین کہتے ہیں کہ
رجب ۔۔فصل لگانا
شعبان۔۔پانی دینا
اور رمضان۔۔فصل کاٹنا اور رحمت کی بارش
تو اپنے نیک اعمال کو پانی دیں یعنی ہمیشگی کی کوشش اور قرآن و سنت کے مطابق
چلیں اب ختم کرتے ہیں اس انوائٹ کے ساتھ
عائشہ نے البینہ اکیڈمی کی جانب سے دورہ الفاتحہ کے فلائیر تقسیم کئے
ہانیہ نے کہا اوہ باجی آپ بھی اس کا حصہ ہیں مجھے یہ انوائٹ میری کزن ماہین نے دیا تھا اس نے بتایا تھا کہ کوئی سلمی ٹیچر ہیں وہ کروائیں گی
جی بلکل سلمی باجی ہماری ہیڈ آف کورس ہیں اور ہم سب ہی اس میں شامل ہونگے کہیں نہ کہیں
تو آنا ہے نا ؟
جی سب نے دل سے کہا
عائشہ نے کہا بازن اللہ
اب ان شاء اللہ البینہ اکیڈمی کے پلیٹ فارم پر ملاقات ہوگی
To be continued
20/02/2026
عائشہ کے جانے کے بعد ثناء اور ہانیہ آنے والی بدھ کی پلاننگ کرنے لگیں
صبا بھی آکر بیٹھ گئیں
ثناء اور ہانیہ نے پوچھا مما آپ کے ویوز میں کوئی تبدیلی آئی ہے
صبا نے کہا ہاں بیٹا عائشہ نے جو یہ کہا نا کہ دین وہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کی ۔۔اس بات میں بہت وزن ہے
ہم تو بس یہ ہی کہتے ہیں کہ میری دادی شب برات مناتی تھیں یا میری نانی نے یہ کیا
حالانکہ سچی بات ہے کہ میری دادی اللہ ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام دے قرآن بھی پڑھنا نہ جانتی تھیں اور ہم ان کی کم علمی کو دین سے وابستہ کرکے اندھی تقلید کر رہے ہیں
ثناء بہت خوش ہوئی اور صبا کے پاس آکر بولی مما آپ کو اللہ نے قلب سلیم دیا ہے جو آپ نے اس طرح سوچا ورنہ لوگ تو دلیل کے بجائے بحث پر اتر آتے ہیں۔۔۔
اگلی بدھ آئی اور عائشہ اپنے ٹائم پر پہنچیں ڈرائنگ روم تک پہنچنے کے لئے لاونج سے گزرنا پڑا تو صبا وہاں عصر کی نماز ادا کر رہی تھیں عائشہ نے سلام کیا
اسلام وعلیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ
صبا نماز مکمل کرکے عائشہ کے پاس آئیں اور بہت پیار اور معذرت سے کہا کہ آپ کے سلام کا جواب اب دیتی ہوں میری نیت بندھی ہوئی تھی
عائشہ نے بہت سوفٹلی کہا آنٹی اگر کوئی گھر میں آئے اور کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو آنے والے کو سلام کرنا چاہیئے اور نماز پڑھنے والا جواب اشارہ سے دے
نماز میں بات چیت منع بلکہ نماز کو توڑ دیتی ہے مگر سلام کا جواب نمازی اشارہ سے دے گا
صبا ،ہانیہ، ثناء اور باقی خواتین حیران ہوگئیں؟؟؟؟
ہیں ہمارے بڑے تو کہتے ہیں کہ کوئی کھانا کھارہا ہو تو بھی سلام نہ کرو
عائشہ بے ساختہ مسکرائیں اور بولیں ہمارے بڑے ہمارے نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں
چلیں ایک حدیث سنا دیتی ہوں
حضرت عبداﷲ بن عمر (رضی اﷲ عنهما) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت بلال رضی اﷲعنہ سے پوچھا کہ لوگ اﷲ کے رسول ﷺ کو نماز کی حالت میں سلام کہتے تھے تو آپ ﷺ اس کا جوا ب کس طرح دیتے تھے؟تو آپ رضی اﷲعنہ نے جواب دیا کہ آپ ﷺ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔
امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح اور علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیاہے۔
اوہ مائی گاڈ باجی ہم کن باتوں میں مصروف ہوکر رہ گئے ہیں کہ اتنی اہم بات ہی نہیں پتہ ثناء نے افسوس سے کہا
عائشہ نے کہا اوکے چلیں اب پتہ چل گئی نا الحمدللہ اب آگے پھیلانا ہے
اچھا لاسٹ سٹنگ میں کہاں تک ہوا تھا
باجی۔ نمبر 1صحیح حدیث
نمبر 2 حسن حدیث
عائشہ نے سلسلہ جوڑا جی اور
نمبر 3
مرفوع ۔۔۔جس حدیث میں صحابی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لے کر حدیث بیان کریں وہ مرفوع کہلاتی ہے
4۔موقوف۔۔۔جس حدیث میں صحابی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لئے بغیر حدیث بیان کریں یا اپنے خیال کا اظہار کریں
5۔آحاد۔۔۔جس حدیث کے راوی تعداد میں متواتر حدیث کے راویوں سے کم ہوں وہ آحاد کہلاتی ہے
اب ذرا توجہ سے سنیں
آحاد کی تین اقسام ہیں
1۔مشہور ۔۔۔جس حدیث کے راوی ہر زمانے میں دو سے زائد رہے ہوں
2۔عزیز۔۔جس کے راوی کسی زمانے میں کم سے کم دو رہے ہوں
3۔غریب۔۔۔جس حدیث کا راوی کسی زمانے میں ایک رہا ہو اور ہر راوی پرہیزگار اور قابل اعتبار حافظہ کا مالک ہو اور سند متصل ہو
بتاتے بتاتے عائشہ نے ایک نظر سب حاضرین پر ڈالی
ینگ آڈیینس نوٹ کر رہی تھی یا موبائل پر ریکارڈنگ کر رہی تھی
باقی لوگ بہت انہماک سے سن رہے تھے
مگر واقعی یہ سب کے face expressions ظاہر کر رہے تھے کہ تھوڑا مشکل ہے
عائشہ نے کہا مشکل لگ رہا ہے نا؟
ہانیہ نے فوری کہا جی باجی مگر ہم سیکھیں گے اور سمجھیں گے ان شاء اللہ
آپ بس بتائیں۔۔۔ہر مشکل کو چیلنج سمجھ کر دوڑتے ہیں تو دین کے لئے کیوں نہیں؟؟؟
عائشہ بہت پیار سے مسکرائیں اور کہا الحمدللہ
اگر یہ جذبہ ہم سب کا ہوجائے تو ان شاء اللہ ہماری نسلوں میں دین باقی رہے
میرا مقصد آپ پریشان کرنا نہیں صحیح حدیث کا تعارف کروانا ہے تاکہ کوئی من گھڑت بات ہمارے نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب نہ کرسکے
کمنگ سون باذن اللہ
Next episode
17/02/2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سب خواتین پن ڈراپ، موبائل سائلنٹ کیے بیٹھی تھیں،
بالکل ہمہ تن گوش۔
عائشہ مسکرائیں اور کہا
“ارے واہ! ماشاءاللہ… یہ تو حدیث کے علم کی بھی مجلس بن گئی ہے۔”
پھر بولیں
الحمد للہ للذی ہدانا لھذا وما کنا لنھتدی لو لا ان ھدانا اللہ،
و صلی اللہ تعالیٰ علی خاتم النبیین محمد ﷺ و علیٰ اصحابہ اجمعین۔
اس کے بعد عائشہ نے نہایت سنجیدہ اور خطیبانہ انداز میں بات شروع کی
“حدیث کا مطلب تو *بات* ہے،
لیکن شریعت کی اصطلاح میں حدیث اس مکمل علمی ذخیرے کو کہتے ہیں جو
رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہو
چاہے وہ آپ ﷺ کا فرمان ہو،
آپ ﷺ کا عمل ہو،
آپ ﷺ کی خاموش تائید ہو
یا آپ ﷺ کی صفات اور اخلاق۔
اسی لیے حدیث
دینِ اسلام کا دوسرا بڑا ماخذ ہے
اور قرآنِ کریم کی عملی تشریح ہے۔”
پھر انہوں نے ترتیب سے اصطلاحات بیان کیں
“حدیث کی بنیادی اصطلاحات یہ ہیں
1۔ قولی حدیث
یعنی رسول اللہ ﷺ کا فرمایا ہوا کلام۔
جو الفاظ کی صورت میں ہم تک پہنچا۔
2۔ فعلی حدیث
یعنی رسول اللہ ﷺ کا کیا ہوا عمل۔
جیسے نماز، روزہ، معاملات کا طریقہ۔
3۔ تقریری حدیث
یعنی رسول اللہ ﷺ کے سامنے کوئی عمل ہوا
اور آپ ﷺ نے اس پر نکیر نہیں فرمائی۔
آپ ﷺ کی یہ خاموشی اس بات کی دلیل ہوتی ہے
کہ وہ عمل شریعت میں قابلِ قبول ہے۔
4۔ صفتی حدیث
یعنی آپ ﷺ کی ظاہری و باطنی صفات
حلیہ مبارک، اخلاق، عادات اور کردار۔”
ثناء نے اسی وقت کہا
“عائشہ باجی، یا تو تھوڑا رک جائیں یا ریکارڈنگ کی اجازت دے دیں،
میں نوٹس لکھنا چاہتی ہوں۔”
عائشہ نے جواب دیا
“لکھ لینا بہتر ہے،
علم لکھا جائے تو محفوظ رہتا ہے۔”
ہانیہ نے موبائل ریکارڈنگ کی اجازت لی
اور آگے شیئر کرنے کا بھی کہا۔
عائشہ نے بات آگے بڑھائی
“یہ تو اصطلاحات تھیں،
اب ہم اقسامِ حدیث پر آتے ہیں۔
یہ حصہ اگر واضح ہو گیا
تو دین کو سمجھنے میں بہت سی غلطیاں خود بخود ختم ہو جائیں گی،
باذن اللہ۔”
1۔ صحیح حدیث
“وہ حدیث جس کے تمام راوی
دیانت دار، پرہیزگار اور مضبوط حافظے والے ہوں،
اور حدیث کی سند متصل ہو۔”
یہاں صبا نے سوال کیا
“راوی کسے کہتے ہیں؟”
عائشہ نے وضاحت کی
راوی اس شخص کو کہتے ہیں
جو کسی بات کو آگے منتقل کرے۔
یعنی جس نے حدیث سنی
اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بیان کی۔
حدیث کا پورا نظام
انہی راویوں کی امانت اور سچائی پر کھڑا ہے۔”
پھر عائشہ نے فوراً سند کی وضاحت کی
“اور سند متصل کا مطلب یہ ہے
کہ یہ حدیث جس سے سنی گئی
وہ بھی معتبر ہو،
اور اس سے پہلے والا بھی
یہ سلسلہ رسول اللہ ﷺ تک
بغیر کسی وقفے کے پہنچتا ہو۔
اگر بیچ میں کوئی کڑی گِر جائے
تو حدیث قابلِ قبول نہیں رہتی۔”
ہانیہ نے کہا
“یعنی یہ ایک چین ہے؟”
عائشہ نے جواب دیا
“جی،
علم کی چین۔
دین اندازوں پر نہیں
بلکہ جڑی ہوئی سند پر قائم ہے۔”
پھر عائشہ نے دوسری قسم بیان کی
2۔ حسن حدیث
“وہ حدیث جس کے راوی
دیانت دار اور پرہیزگار ہوں
اور سند بھی متصل ہو،
لیکن حافظہ
صحیح حدیث کے راویوں جتنا مضبوط نہ ہو۔
اسی لیے اسے حسن کہا جاتا ہے،
رد نہیں کیا جاتا۔
ثناء نے آہستہ سے کہا
“یہ حصہ واقعی توجہ مانگتا ہے۔
عائشہ نے وقت دیکھ کر کہا
“اسی لیے آج یہاں رکتے ہیں۔
اگلی نشست میں
بقیہ اقسامِ حدیث بیان کریں گے،
اور پھر یہ واضح کریں گے
کہ دین میں عمل
روایات سے نہیں
بلکہ مستند حدیث سے لیا جاتا ہے۔
صبا نے ذرا گھبرا کر، مگر خلوص کے ساتھ کہا
“عائشہ بیٹے
پھر ہم کیسے پہچانیں کہ کون سی حدیث صحیح ہے؟
فیس بک اور واٹس ایپ پر تو اتنا کچھ آتا ہے،
ہر بات کے ساتھ ‘حدیث’ لکھا ہوتا ہے۔”
عائشہ نے غور سے دیکھا
اور کہا
یہی وہ مقام ہے
جہاں نیت کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔
دین
فارورڈ سے نہیں لیا جاتا،
دین
علم سے سیکھا جاتا ہے۔
جو حدیث
قرآن کے خلاف ہو،
یا جس کا ماخذ معلوم نہ ہو،
یا جسے اہلِ علم نے بیان نہ کیا ہو
اسے قبول کرنا دیانت نہیں۔
راہِ ہدایت یہ نہیں
کہ جو آیا مان لیا،
بلکہ یہ ہے
کہ جو ثابت ہو، وہی لیا جائے۔
اگر ہم خود تحقیق نہیں کر سکتے
تو معتبر اہلِ علم سے رجوع کریں،
اور جس بات پر یقین نہ ہو
اسے آگے پھیلانا بند کر دیں۔
یاد رکھئے،
نیکی کا پھیلانا ثواب ہے
مگر دین میں غلط بات پھیلانا
گناہ بن جاتا ہے۔”
عائشہ نے بات یہاں ختم کی،
اور محفل نے سمجھ لیا
ہدایت کا راستہ
شیئر بٹن سے نہیں،
سند اور علم سے کھلتا ہے۔
کسی نے پوچھا
اگلی محفل کب؟
عائشہ نے کہا
“بدھ کو ان شاء اللہ،
آپ یاد دلا دیجئے گا۔”
مجلس ختم ہوئی،
مگر ایک بات ذہنوں میں بیٹھ چکی تھی
دین جذبات سے نہیں،
علم، سند اور فہم سے سمجھا جاتا ہے۔
13/02/2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم
دین محمد ﷺ یا دین آبا و اجداد
ہانیہ کے میسج کا فوری ریپلائی اس طرح آیا کہ وہاں کی ایڈمن عائشہ نے اس دعوت کو قبول کیا اور جمعہ کو آنے کا وعدہ کیا
جمعہ کی نماز کے بعد جب عائشہ ہانیہ کے گھر پہنچیں تو صبا نے دروازے پر خود استقبال کیا۔
آؤ بیٹا، اللہ کے ذکر کے لیے دروازے تو کھلے ہیں، مگر میں سوال بھی کروں گی۔
عائشہ مسکرا دیں،
“آنٹی، سوال ہی تو علم کا دروازہ کھولتے ہیں۔”
سب عورتیں بیٹھ گئیں۔ صبا نے اپنی بہنوں کو بھی بلا رکھا تھا۔ ماحول میں کوئی جوش نہیں، بس برسوں کے یقین تھے جو سوال بن کر سامنے آ رہے تھے۔
عائشہ نے کہا بس اس یقین اور نیت پر یہ محفل سجانی ہے
عبادت اور دین وہ جو سنت ہے ۔۔۔۔
وہ نہیں جو سنا ہے
یعنی ہم سنت اور سنا ہے کہ فرق کو سمجھنے کی کوشش کریں گے باذن اللہ
درس شروع ہوتے ہی صبا نے سیدھا سوال کیا،
“بیٹا عائشہ، یہ بتاؤ، پندرہ شعبان کی رات آخر ہے کیا؟ ہم تو بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ اس رات کچھ خاص ہوتا ہے، روحیں آتی ہیں، فیصلے ہوتے ہیں۔”
عائشہ نے آہستہ اور صاف لہجے میں کہا،
“آنٹی، سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کسی رات کا خاص ہونا ہمیں رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہونا چاہیے۔ اگر نبی ﷺ نے کسی رات کو خاص نہیں کیا تو ہم اسے اپنی طرف سے خاص نہیں بنا سکتے۔”
صبا نے فوراً کہا،
“لیکن ہم تو عبادت ہی کرتے ہیں نا! عبادت میں کیا برائی ہے؟”
اچھا تو عبادت میں اگر آپ ظہر کی نماز ایک بار پڑھ لیں اور پھر دوبارہ کہ ثواب ہی توہے تو کیا یہ درست ہے
صبا نے سوچا بات تو ٹھیک ہے؟
عائشہ نے نرمی سے مسکرا کر جواب دیا،
“آنٹی، عبادت اپنی جگہ بہت بڑی چیز ہے، مگر عبادت بھی وہی قبول ہوتی ہے جو سنت کے طریقے کے مطابق ہو۔ سنے ہوئے طریقے کے مطابق نہیں اگر نبی ﷺ سے اس رات میں خاص عبادت نہیں ثابت تو ہم اس عبادت کو دین کا حصہ نہیں بنا سکتے۔”
صبا کی بہن بول پڑیں
“تو کیا ہمارے بڑوں کو یہ باتیں معلوم نہیں تھیں؟ وہ سب غلط تھے؟”
عائشہ نے فوراً بات سنبھالی،
“آنٹی، میں یہ نہیں کہہ رہی کہ وہ نیک نہیں تھے۔ وہ اللہ سے محبت کرنے والے تھے۔ مگر نیکی کا معیار محبت نہیں، اتباعِ رسول ﷺ ہے۔ کئی چیزیں وقت کے ساتھ رسم بن گئیں، دین نہیں رہیں۔”
اور میں نے شروع میں کیا کہا کہ ہمیں سنا اور سنت کے فرق کو جاننا ہے
ثناء نے پوچھا،
“عائشہ باجی، یہ جو کہا جاتا ہے کہ اس رات روحیں گھروں میں آتی ہیں، اپنے گھر والوں کو دیکھتی ہیں…؟”
عائشہ نے سر ہلایا،
“یہ بات بہت عام ہے آنٹی، مگر قرآن و صحیح حدیث میں اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ روحوں کا آنا جانا، فہرستیں دیکھنا، یہ سب قصے ہیں، دین نہیں
اس دن کیا کسی کی روح کبھی بھی واپس نہیں آسکتی کیونکہ وہ برزخ میں ہے دنیا سے ہر تعلق ختم ہوگیا ہے وفات کے بعد
صبا نے ذرا حیرانی سے کہا،
“لیکن ہم تو حلوہ بھی اسی نیت سے بناتے ہیں، خیرات کرتے ہیں، ثواب ہی تو ہے؟”
عائشہ نے جواب دیا،
“آنٹی، صدقہ ہر دن ثواب ہے، حلوہ ہر دن جائز ہے۔ لیکن کسی مخصوص دن یا رات کو خاص ثواب سمجھ کر کوئی کام کرنا، بغیر دلیل کے، یہی بدعت کہلاتا ہے۔ اگر حلوہ بنانا عبادت ہوتا تو نبی ﷺ اور صحابہؓ سب سے پہلے ہمیں سکھاتے۔”
صبا نے تھوڑا سا دفاعی انداز میں کہا
“تو کیا اس رات جاگنا بھی غلط ہے؟”
عائشہ نے واضح کیا،
“آنٹی، اگر کوئی شخص عام دنوں کی طرح نفل پڑھتا ہے، دعا کرتا ہے، تو ٹھیک ہے۔ مسئلہ تب بنتا ہے جب اس رات کو خاص سمجھا جائے، اور یہ یقین رکھا جائے کہ آج نہ کیا تو کچھ چھوٹ جائے گا۔”
ہانیہ، جو غور سے سن رہی تھی، بولی،
“یعنی اصل مسئلہ وہ عمل ہے جس کی ، دلیل ہو ؟”
عائشہ نے مسکرا کر کہا،
“بالکل، دین دلیل سے چلتا ہے، جذبات سے نہیں۔”
دین کا مطلب؟ قرآن و سنت بس
صبا نے ایک آخری سوال کیا،
“اچھا، یہ بتاؤ، کیا اس رات اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نہیں آتے؟”
عائشہ نے فوراً کہا،
“آتے ہیں آنٹی، مگر صرف اس رات نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر رات آخری تہائی حصے میں نزول فرماتے ہیں۔ ‘پندرہویں رات؟ وہ تو ہر رات اترتا ہے۔’”
محفل میں خاموشی چھا گئی۔
صبا نے آہستہ سے کہا،
“ہم نے تو کبھی اس زاویے سے سوچا ہی نہیں تھا۔”
عائشہ نے احترام سے کہا
“آنٹی، سوچنا ہی تو پہلا قدم ہے۔ ہم کسی سے اس کا یقین چھیننے نہیں آئے، بس یہ دیکھنے آئے ہیں کہ ہمارا دین واقعی محمد ﷺ کا بتایا ہوا ہے یا روایتوں میں گم ہو چکا ہے۔”
ثناء نے ہانیہ کی طرف دیکھا،
ہانیہ نے کہا،
باجی وہ جو حدیث بیان ہوتی ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا والی وہ کیا ہےاس کا تو بکثرت حوالہ دیا جاتا ہے
عائشہ نے کہا ہاں بلکل ہم نے بھی سنی ہے مگر وہ معتبر نہیں
صبا کچھ سمجھی نہ سمجھی کیفیت میں بولیں یہ کیا ہوتا ہے حدیث تو حدیث ہے
آپ نے کہاں سنی عائشہ نے پوچھا
ٹی وی شو میں بڑے اچھے مولانا تھے
بلکل ہوں گے عائشہ نے کہا مگر شاید حدیث کا معنی اور معیار نہیں بتا سکے
آپ کو پتہ ہے حدیث کیا ہے
اس کے پیچھے کتنی بھاگ دوڑ ہوئی ہے۔۔۔
صبا نے کہا اچھا بتائیں
جی بلکل حدیث کیا ہے؟؟
کمنگ سون باذن اللہ
10/02/2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم
دین محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا دین آباواجداد
شعبان کا مہینہ شروع ہوگیا تھا نیوز میں پتہ چلتا ہے چاند نظر آگیا
صبا نے جلدی جلدی روم سے باہر آکر نوٹیفکیشن کا انداز اختیار کیا
باہر دونوں بہوئیں بیٹھی تھیں
ایک نئی اور ایک پرانی
نئی ہانیہ اور پرانی ثناء
ہانیہ نے حیرانی سے ثناء کی طرف دیکھا؟
صبا نے کہا کہ کل جو بھی ڈرائیور کے ساتھ گروسری کے لئے جائے چنے کی دال زیادہ لائے اور ساتھ ہی اپنی ملازمہ سے سخت لہجے میں کہا اس دفعہ حلوہ جلنا نہیں چاہیے
اس دفعہ تو عرفہ کی نیاز دلوانی ہے
صبا کے اندر جانے کے بعد ہانیہ نے ثناء سے پوچھا بھابی یہ حلوے کی کہانی تو سنی سنائی ہے مگر یہ عرفہ کی کیا مسٹری ہے عرفہ کا دن تو ذوالحجہ میں ہوتا ہے نا
ثناء ہنسنے لگی اور بولی ہانیہ یہ بہت بڑا ہمارا المیہ ہے کہ ہماری فیملی میں لوگ نااعوذ باللہ خود کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے سے بہتر سمجھتے ہیں اور ہماری نانی اور دادی جنھوں نے شاید قرآن بھی نہ پڑھا ہو ان کی کم علمی کو استغفراللہ شریعت کا حصہ بنادیتے ہیں ۔۔۔۔ ہانیہ بولی اور عرفہ کون سی ایجاد ہے؟
جن کے گھر میں کوئی ڈیتھ ہوئی ہو تو وہ so called شب برات سے ایک دن پہلے نیاز دلواتے ہیں
استغفراللہ ۔۔ان کے نزدیک مرنے کے بعد انسان سپر پاور بن جاتا ہے
وہ کیسے ہانیہ نے پوچھا
وہ ایسے کہ زندگی میں جو پاورز نہیں ہوتی مرنے کے بعد مل جاتی ہیں
ان وزیبل ( نہ نظر آنے والی پاور)( اڑنے کی پاور) اور ان کو استعمال کرتے ہوئے وہ شعبان میں آتے ہیں اور چیک کرتے ہیں میرے لئے حلوہ بنا یا نہیں
ثناء نے اتنا بےساختہ کہا کہ دونوں کے ساتھ ان کی ملازمہ بھی ہنس پڑی۔۔
تو بھابی مما کو سمجھاتے ہیں نا
ثناء ہاں مگر اس کے لئے درست انفارمیشن بہت ضروری ہے وہ میرے پاس نہیں انفیکٹ میرے گھر میں بھی یہ ہوتا تھا مگر کچھ دل میں سوال اٹھتے تھے کہ یہ کیا مذاق ہے اتنے پریکٹیکل دین میں سب ہو نہیں سکتا ۔۔بس اسی کی تلاش میں سرگرداں ہوں کچھ پتہ چلا کچھ نہیں
یعنی آپ ڈائوٹ میں ہیں ہانیہ نے کہا
نہیں میں کلیئر ہوں الحمدللہ مگر ابھی قائل نہ کو پاوں شاید
اوہ اوہ۔۔پھر
اچھا بھابی کسی بھی چیز کا نام اس کی خاصیت کو بتا دیتا ہے
ثناء ہاں مطلب
ہانیہ نے کہا شعبان کا مطلب دیکھتے ہیں کیا ہے کچھ مائنڈ میں آئے گا
انہوں نے تھوڑی سی سرچنگ کی تو نام کا مطلب پتہ چلا کہ
اس دین میں موجود ہر لفظ ہمیں سبق سکھاتا ہے۔
لفظ شعبان بھی اپنے اندر نصحیت کا عنصر رکھتا ہے
اس سے مراد ہے
بکھر جانا ، اس لیۓ کہ عرب اس مہینے میں پانی کی تلاش میں بکھر جایا کرتے تھے۔
تاکہ خیر سمیٹ کر لے آئیں۔
یعنی یہ رمضان کی خیر سمیٹنے کی پلاننگ کا مہینہ ہے
Wow interesting
وہ اسی کنفیوژن میں تھیں کہ ایک سوشل گروپ پر استقبال رمضان کا انویٹیشن آیا
ہانیہ نے انویٹیشن سینڈ کرنے والی شخصیت کو میسج کیا کہ یہ تو بہت اچھا ہے مگر ہم چاہتے ہیں کہ اس سے بھی اہم مسئلہ پر کلاس رکھی جائے کیا آپ آئیں گی؟؟؟؟؟
Next episode coming soon
باذن اللہ