07/03/2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم
دورہ الفاتحہ
تیسری قسط
بسم اللہ الرحمن الرحیم
گھر آنے کے بعد سب کا ٹائم بہت مصروف گزرا کیونکہ رمضان کی چاند رات تھی
ملازمہ نے آکر صبا سے پوچھا باجی کیا بات ہے آج آپ نے مجھے چیک نہیں کیا کہ کام ٹھیک کیا یا نہیں
صبا نے صوفے سے سر ٹکا دیا اور بہت مطمئن سے انداز میں بے اختیار کہا کہ ساری زندگی رمضان کو سموسے، رولز، شاپنگ اور افطاری کے مینو منفرد بنانے میں برباد کیا مگر اب پتہ چلا کہ یہ تو قرآن سے دوستی کا مہینہ ہے اور میں نے تو شاید قرآن دوستی کبھی کی ہی نہیں۔۔۔
ملازمہ کچھ سمجھی کچھ نہ سمجھی کی کیفیت میں واپس کچن میں چلی گئی
شام میں ہانیہ اور ثناء صبا کے پاس آئیں ان کو ملازمہ نے یہ بات بتائی تھی
کہنے لگیں کہ مما قرآن سے دوستی مبارک ہو
اور وہ تینوں ہی اموشنل ہوگئیں اور اگلے دن کی کلاس کا پلان کرنے لگیں صبا نے کہا کہ میں بھی ایک سوال کروں تو کیا مجھے جواب ملے گا البیّنہ اکیڈمی سے
جی شیور مما کیوں نہیں ان دونوں نے جواب دیا
نہیں پھر بھی ان کا ڈیزائن کیا ہوا کورس ہے نا۔۔۔صبا تھوڑا گھبرائیں
نہیں مما جو دین سکھانے والے ہوتے ہیں نا وہ ہمیں ری ڈیزائن کرنا چاہتے ہیں آپ بلا جھجک پوچھیں ان سے نو ایشو
اگلی کلاس میں روزے کی وجہ سے ماحول مزید با برکت ہوگیا تھا
سلمی اور عائشہ نے پوچھا شروع کریں
اور صبا نے اپنا سوال کردیا
بیٹا آپ نے قرآن کا مطلب بہت اچھا سمجھایا
اور نام بھی پھر یہ آگے مجید، حکیم اور کریم
قرآن مجید، قرآن حکیم وغیرہ کا مطلب کیا ہے؟
اوہ آنٹی بریلیئنٹ ۔۔۔۔ماشاءاللہ بہت عمدہ سوال ہے آپ کا
دراصل قرآن کی مختلف شان اور صفات کے لئے یہ الفاظ آئے ہیں
قرآن کریم ۔۔۔ إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ (سورہ الواقعہ، آیت 77)
الحکیم۔۔۔ يسۤ وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ (سورہ یٰسین، آیت 1-2)
العظیم۔۔۔ وَالْقُرْآنِ الْعَظِيمِ (سورہ الحجر، آیت 87)
مجید۔۔۔ بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَّجِيدٌ (سورہ البروج، آیت 21)
اور سورہ ق آیت 1: قۤ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ
سلمی ٹیچر نے کہا ایسا ہے ہم اس کو رٹن فارم میں آپ سب کو پرووائڈ کردیں گے ان شاءاللہ
صبا اور باقی سب نے دل سے ان کا شکریہ ادا کیا
پروجیکٹر پر سلائیڈ آئی
قرآن کا زمانہ نزول اور ارض نزول
قرآن کریم کا زمانہ نزول 610 سے 632 تک یعنی 22 برس پر مشتمل ہے
قمری حساب سے یہ 23 برس بنے گے
40 عام الفیل سے شروع کریں تو 12 سال قبل ہجرت اور 11 ہجری سال مل کر 23 سال قمری بنے گے جن کے دوران یہ قرآن بطرز تنزیل تھوڑا تھوڑا نازل فرمایا گیا
قرآن مجید کی سورتوں کی تعداد 114 ہے
تیس اجزا ہیں
سلمی نے مداخلت کی اجزا کے لفظ سے پریشان نہ ہوں
اجزا یعنی جز کا مطلب سپارہ ہے
30 پارے ہیں اور چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ آیات ہیں
جی بلکل عائشہ نے سلائیڈز پر فوکس کیا
540 رکوع سات منزلوں اور بعض کے نزدیک 17658 3 اور بعض کے نزدیک 364271 الفاظ پر مشتمل ہے
ایک ریسرچ کے مطابق
قران میں زبر کی تعداد = 45343
زیر کی تعداد = 39582
پیش کی تعداد = 8804 ہے
صحیح احادیث میں یہ شہادت موجود ہے کہ پہلے سورہ العلق کی 5 آیات نازل ہوئیں
پھر 3 سال کا وقفہ آیا
سورہ العلق کی یہ 5 آیات بھی چونکہ قرآن مجید کا حصہ ہیں لہذا صحیح قول یہی ہے کہ قرآن مجید کا زمانہ نزول 23 قمری اور 22 شمسی سال ہے
اب نزول کی جگہ کونسی ہے؟
یاد رکھیں کہ تقریبا پورا کا پورا قرآن حجاز میں نازل ہوا اس لئے کہ آغاز وحی کے بعد نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی سفر حجاز سے باہر ثابت نہیں ہے
کلاس سے مشترکہ آوازیں آئیں
حجاز سے کیا مراد ہے؟
اوہ بتاتی ہوں عائشہ نے کہا
حِجاز کے اردو معانی
روکنا، الگ رکھنا، کوئی چیز جو بیچ میں آکر دو چیزوں کو جدا کر دے،
جزیرۃ العرب کا شمال مغربی حصّہ جس میں مکّہ معظمہ، مدینہ منوَرہ اور طائف وغیرہ واقع ہیں (جو بالعموم سعودی عرب کی موجودہ سلطنت کا مغربی صوبہ ہے)
قرآن کی زبان عربی ہے
مگر یہ بھی ثابت ہے کہ کچھ الفاظ دوسرے قبائل اور دوسری زبانوں کے بھی آئے ہیں
علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ علیہ نے ایسے الفاظ کی فہرست ترتیب دی ہے
اس علاوہ کچھ غیر عربی الفاظ بھی قرآن مجید میں آئے ہیں جو معرب ہوگئے ہیں
معرب؟ کا مطلب۔۔۔فوری سوال آیا
سلمی ٹیچر نے مسکرا کر کہا
مطلب وہ لفظ جو اصل میں غیر عربی ہو لیکن عربی میں شامل کرلیا گیا ہو
Any guesses
کون سے الفاظ ہوسکتے ہیں عائشہ نے پوچھا؟
ثناء بولی کیا ان الفاظ میں نام ہوسکتے ہیں
اوہ بلکل آپ درست سوچ رہی ہیں
عائشہ حیرانی سے بولیں
ثناء اور کونفیڈنڈٹ ہوگئی اور بولی اصل میں باجی میرا مائنڈ اس لئے بنا کہ میرے بیٹے کا نام ابراہیم ہے اور یہ نام عبرانی زبان سے ہے
جی شاباش ابراہیم، اسحاق، اسرائیل، اسماعیل یہ سب نام درحقیقت عبرانی زبان کے الفاظ ہیں
عائشہ نے پروجیکٹر پر پوری پریزینٹیشن دکھائی اور سلمی ٹیچر نے کہا کہ ظہر کی نماز میں کم ٹائم رہ گیا ہے باقی کل ان شاءاللہ
کلاس میں سے آواز آئی میم یہ تو انٹرو ہی کی dive اتنی مزیدار اور دلچسپ ہے تو سورہ فاتحہ میں کیا کلاس ہوگی
عائشہ اور سلمی ایک دوسرے کو دیکھ کر سکون سے مسکرائیں اور کہا الحمدللہ
پھر بولیں
ابھی تو سمندر کے کنارے کھڑے ہیں پانی کی گہرائی کا اندازہ بھی نہیں کر پائے ہیں
الفاتحہ میں تو ہم سمندر کے اندر اتر چکے ہوں گے باذن اللہ
دعا ہے کہ ہماری زندگی بدل جائے آمین
سب کے اندر اگلی کلاس کا شدید انتظار تھا
کمنگ سون باذن اللہ