06/07/2025
مرحب کے قتل سے شہادت سیدنا حسین تک 💔
جب نبی اکرم ﷺ نے مکہ مکرمہ میں اسلام کی دعوت دی تو آپؐ کے مد مقابل مشرکین مکہ تھے۔ مگر ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں ایک نئے دشمن یعنی یہود سے واسطہ پڑا ۔ یہود کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے بڑا بغض یہ تھا کہ آپ کی مدینہ آمد سے ان کی مذہبی، سیاسی اور معاشی بالادستی چھن گئی۔ چنانچہ بنو قینقاع، بنو نضیر، اور بنو قریظہ نامی یہودی قبائل ہر آن سازشوں، جھوٹے پروپیگنڈے، عہد شکنی اور مسلمانوں کے خلاف فساد میں مصروف رہتے ۔ آخر اس یہودی فتنے کو مدینہ بدر کردیا گیا ۔ پہلے کو بازار میں مسلمان عورت کی بے حرمتی کرنے پر مدینہ سے نکالا گیا، دوسرے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کی سازش پر جلا وطن کیا گیا، اور تیسرے نے جنگِ خندق میں عہد شکنی کی جس کے نتیجے میں خیبر پر لشکر کشی کی گئی ۔ حضرت علیؓ کی قیادت میں مرحب کو قتل کردیا گیا، اور اس کے ساتھ ہی یہود کی عسکری طاقت کا مکمل طور پر قلع قمع ہوگیا
اب یہود سامنے آکر لڑنے کی صلاحیت کھو چکے تو انہوں نے سرد جنگ اختیار کی اور مسلمانوں کو کمزور کرنے کی سازشیں چلنے لگے ۔ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دور میں انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ہوسکی، سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں یمن سے عبد اللہ بن سبا نامی ایک یہودی آیا ، اس نے اسلام قبول کرنے کا ڈھونگ رچایا اور عہدہ طلب کیا ، تاکہ اندر گھس کر سازشیں چل سکے ، سیدنا صدیق اکبر نے اسے عہدہ دینے سے انکار کردیا ۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں دوبارہ مدینہ آیا اور عہدہ مانگا ، سیدنا عمر فاروق نے اسے مدینہ بدر کروا دیا ، سو عہدہ ملنے سے مایوس ہوکر حضرت عثمانؓ کی خلافت کے آخری سالوں میں اس نے باقاعدہ ایک فتنے کی تحریک کا آغاز کیا۔ اس نے صحابہ کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلائے، اموی گورنروں کے خلاف الزامات عام کیے، اور حضرت علیؓ کو خلافت کا اصل وارث اور منصوص من اللہ امام قرار دیا۔ یوں اس نے پہلے کوفہ، بصرہ، مصر، اور دیگر شہروں میں اپنے چیلے پھیلائے، اور پھر مدینہ پر چڑھائی کروائی۔ سو دوہرے داماد نبی سیدنا عثمانؓ، انہی سبائیوں کے ہاتھوں گھر میں محصور ہو کر قرآن پڑھتے ہوئے شہید کر دیے گئے ۔ یہ واقعہ امت کی تاریخ کا پہلا داخلی وار تھا، جس کے بعد مسلمانوں میں عملی تقسیم کا آغاز ہوا
سیدنا علیؓ کو خلافت ملی، مگر قاتلانِ عثمان کی موجودگی کے باعث دیگر اکابر صحابہ کو بے چینی ہوئی۔ ام المومنین سیدہ عائشہ اور سیدنا معاویہؓ نے، جو شام کے گورنر تھے، قاتلوں کے خلاف فوری کارروائی اور قصاص کا مطالبہ کیا۔ سیدنا علیؓ نے مصلحتاً جلدی کارروائی سے اجتناب کیا تاکہ امن بحال ہو اور حکومت کو استحکام ملے، یوں امت دو گروہوں یعنی حامیان معاویہ اور حامیان علی میں بٹ گئی ، جب کہ امت کا ایک گروہ ان معاملات سے علیحدہ رہا
سیدہ عائشہؓ، سیدنا طلحہؓ اور سیدنا زبیرؓ جو کہ حج کیلئے مکہ میں تھے ، نے اپنے حامیوں کے ہمراہ بصرہ کی جانب پیش قدمی کی، اور سیدنا علیؓ سے قصاص عثمان کا مطالبہ کیا ۔ سیدنا علی نے اسے نقص امن جانا اور اپنا لشکر لیے بصرہ کی جانب روانہ ہوئے ۔ دونوں لشکر ایک دوسرے کے سامنے خیمہ زن ہوئے ، کئی دن بغیر لڑائی کے لشکر ٹھہرے رہے ، دونوں طرف کے لشکری ایک دوسرے کے پاس جاتے ، ملتے جلتے ۔ معاملات مصالحت کی جانب بڑھتے دکھائی دیے ، مگر اس مصالحت میں ان سبائیوں کیلئے موت تھی سو ایک رات انہوں نے دونوں جانب سے تیر چلوا دیے کہ ہر لشکر سمجھے کہ دوسرے لشکر نے حملہ کردیا ہے ۔ جنگ زوروں پر تھی کہ سیدہ عائشہ کے اونٹ کے پاؤں کاٹ دیے گئے ، جس پر جنگ تھم گئی ۔ سیدہ عائشہ کے لشکر کے ستون سیدنا طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں اس جنگ میں شہید ہوگئے ۔ ان دونوں صحابہ کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہوتا ہے ۔ سیدنا علی ان کی شہادت پر بہت رنجیدہ ہوئے ۔ سیدہ عائشہ کو باعزت مدینہ روانہ کیا ۔ سیدنا علی اور ام المومنین دونوں کو اس جنگ پر نہایت پچھتاوا ہوا
اس واقعہ کے بعد جنگِ صفین رونما ہوئی، سیدنا علی کی جانب سے بیعت کے مطالبے اور سیدنا معاویہ کی جانب سے قصاص عثمان کی شرط نے حامیان علی اور حامیان معاویہ کو آمنے سامنے لا کھڑے کیا ۔ یاد رہے کہ عبید اللہ بن زیاد کا باپ زیاد اور شمر دونوں اس جنگ میں سیدنا علی کے ہمراہ تھے ۔ سیدنا علی اپنا لشکر لیے شام کی جانب روانہ ہوئے ۔ دن کو جھڑپیں چلتیں ، رات کو دونوں لشکر آپس میں گھل مل جاتے ، نمازیں ایک دوسرے کے پیچھے پڑھتے، یہاں تک کہ لڑائی نے شدت اختیار کی، سیدنا معاویہؓ کے لشکر کی جانب سے صلح کی پیشکش آئی، جسے حضرت علیؓ نے قبول کرلیا۔ اس موقع پر خوارج نے جنم لیا، یہ وہی سبائی عناصر تھے جنہوں نے سیدنا عثمان کو شہید کیا ، سیدنا علی کو سیدہ عائشہ و سیدنا معاویہ کے خلاف لشکر کشی پر ابھارا اور اب صلح ہوتی دیکھ کر حکم مقرر کرنے کو بہانا بنایا اور سیدنا علی علیحدگی اختیار کرلی ۔ اس خارجی گروہ نے دونوں لشکروں کو کافر قرار دیا اور سیدنا علیؓ ، سیدنا معاویہ اور سیدنا عمرو بن عاص کو شہید کرنے کا فیصلہ کیا۔ سیدنا معاویہ پر حملہ آور ہونے والا پکڑا گیا ، سیدنا عمرو بن عاص کو شہید کرنے کیلئے جانے والے شخص نے لا علمی میں کسی اور شخص کو شہید کردیا ، اور ابن ملجم نے سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ کر کے اپنے مشن میں کامیابی حاصل کرلی
سیدنا علی کی شہادت کے بعد سیدنا حسنؓ نے خلافت سنبھالی تو سیدنا علی کے لشکر میں موجود سبائی منافقوں نے سیدنا حسن پر سیدنا معاویہ سے جنگ کرنے کیلئے دباؤ ڈالا ، یہاں تک کہ آپ پر خنجر سے حملہ آور ہوئے ، سیدنا حسن نے ان کا خبیث باطن دیکھ کر سیدنا معاویہ کو صلح کا پیغام بھیجا اور سیدنا معاویہؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ نبی کریم ﷺ نے اسی موقع کے بارے فرمایا تھا کہ : "میرا یہ بیٹا امت کے دو عظیم گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا" (صحیح بخاری )
سیدنا معاویہؓ نے اس سبائی ٹولے کا خوب قلع قمع کیا اور اپنے دور میں انہیں سر نہ اٹھانے دیا ، یوں یہ دور پُرامن رہا ۔ سیدنا معاویہ کو بزرگ صحابی سیدنا مغیرہ بن شعبہ نے مشورہ دیا کہ اپنے بعد اپنے بیٹے یزید کو خلیفہ نامزد کردیں ، ورنہ آپ کی وفات کے بعد پھر سے تلواریں نکلنے کا اندیشہ ہے ۔ سیدنا معاویہ نے دیگر صاحب الرائے حضرات سے مشورہ لینے کے بعد یزید کیلئے عام رعایا سے بیعت لینے کا سلسلہ شروع کیا ۔ اس پر مدینہ، شام، مصر، فارس، خراسان، یمن میں بیعت ہو گئی ۔ چونکہ یزید تین بار امیر حج بھی رہ چکا تھا اور قسطنطنیہ کے محاذ پر لشکر کا امیر بھی تھا ، جس لشکر کے بارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغفرت کی بشارت دی تھی ، سو اس کے کردار و عمل پر کسی کو اعتراض نہ تھا ، البتہ اس طریقہ انتخاب پر پانچ حضرات کو اختلاف ہوا ۔ جن میں سیدنا حسین ، سیدنا عبد اللہ بن عمر ، سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر ، سیدنا عبد اللہ بن زبیر اور سیدنا عبد اللہ بن عباس شامل تھے ۔ البتہ ان حضرات پر سیدنا معاویہ کی جانب سے کوئی دباؤ نہ ڈالا گیا یہاں تک سیدنا امیر معاویہ وفات پا گئے
سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر پہلے ہی وفات پاچکے تھے ، سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا عبد اللہ بن عباس نے یزید کی بیعت کرلی ، سیدنا عبد اللہ بن زبیر اور سیدنا حسین نے مہلت مانگی اور فوری بیعت سے گریز کیا۔ سیدنا حسین مدینہ سے مکہ روانہ ہو گئے، جہاں انہوں نے مہینوں قیام کیا۔ اس دوران کوفہ سے ہزاروں کی تعداد میں خطوط موصول ہوئے، جن میں انہیں یقین دلایا گیا کہ ہمارا کوئی امیر نہیں ، ہم نے ابھی تک یزید کی بیعت نہیں کی ، پس آپ آئیں اور امت کی اقتداء کریں ، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ سیدنا حسینؓ نے حالات کا معائنہ کرنے کیلئے مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ روانہ کیا اور پھر خود بھی اپنے چھوٹے سے قافلے کے ہمراہ کوفہ کی جانب روانہ ہوگئے ۔ کوفہ جاتے ہوئے آپ کا ارادہ جنگ کا ہرگز نہ تھا ورنہ آپ اپنے ساتھ خواتین اور بچوں کو نہ لے جاتے ، نیز یہ حج کا موقع تھا ، اگر ارادہ جنگ کا ہوتا تو آپ کو اس موقع پر امت کی ایک اچھی خاصی تعداد ہمراہی کیلئے میسر ہوجاتی ۔ آپ کا کوفہ کی جانب سفر وہاں قیام کرنے کیلئے تھا ، تاکہ حالات دیکھ کر مستقبل کے بارے نتیجہ اخذ کیا جاسکے ۔ آپ مکہ سے روانہ ہوئے تو آپ کے بھائی محمد بن حنفیہ ، سیدنا عبد اللہ بن عباس ، سیدنا عبد اللہ بن جعفر سمیت کئی صحابہ نے آپ کو کوفہ جانے سے روکا کہ وہ دغا باز ہیں ، انہوں نے سیدنا علی کو شہید کیا ، سیدنا حسن سے دھوکہ کیا اور اب آپ کو بھی دھوکے سے بلوا کر کچھ برا نہ کردیں، مگر آپ نے اپنا ارادہ تبدیل نہ کیا
راستے میں سیدنا حسینؓ کو خبر ملی، کہ کوفی اپنے وعدوں سے پھر گئے ہیں اور گورنر کو مخبری کرکے مسلم بن عقیل کو شہید کروا دیا گیا ہے ۔ اس موقع پر آپ نے واپسی کا ارادہ کیا مگر مسلم بن عقیل کے عزیز نہ مانے اور مسلم بن عقیل کا بدلہ لینے کی ٹھان لی ۔ سیدنا حسین نے اپنے رفقاء کے جذبات کا پاس رکھا اور سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ۔ جب سیدنا حسین کا قافلہ عذیب اور قادسیہ کے درمیان ایک مقام پر پہنچا تو حر بن یزید سے ملاقات ہوئی، جنہوں نے سیدنا حسین سے گفتگو کی اور کوفیوں کی صورتحال بیان کی ۔ طرفین کی جانب سے یزید کے پاس جانے یا مدینہ واپس لوٹنے کی تجاویز آئیں ، سیدنا حسین نے اس مقام سے واپس لوٹے اور العذیب نامی مقام سے دمشق کا راستہ اختیار کرلیا ، تاکہ دمشق جاکر یزید سے خود اپنے معاملات طے کرلیں ۔ کربلا عذیب سے کوفہ کے راستے پر نہیں بلکہ عذیب نامی منزل سے دمشق کے راستے پر آتا ہے ۔ جیسا کہ سیدنا زین العابدین رحمہ اللہ کے صاحب زادے سیدنا محمد باقر رحمہ اللّٰہ کا بیان ہے کہ دادا جان سیدنا حسین قادسیہ سے تین میل قبل کربلا کی طرف مڑ گئے (طبری)
حر ابھی لوٹا نہ تھا کہ عمرو بن سعد کو جو کہ اپنی فوج کے ہمراہ ایران کے ( تہران کے قریب ) ایک شہر ری کی جانب دیلمیوں سے لشکر کشی کیلئے روانہ ہورہا تھا ، عبید اللہ بن زیاد نے حکم دیا کہ پہلے جاکر سیدنا حسین کا راستہ روکے اور انہیں بیعت پر آمادہ کرے ۔ سیدنا حسین دمشق کے راستے پر روانہ تھے اور کربلا پہنچے تھے کہ عمرو بن سعد جاملا ، اس نے سیدنا حسین کے ساتھ مصالحت پر مبنی گفتگو کی ، اور سیدنا حسین کے دمشق جانے پر آمادگی کی خبر پاکر ابن زیاد کو اطلاع دی ۔ ابن زیاد یہ سن کر خوش ہوا مگر شمر اور دیگر کوفی و سبائی غداروں نے اس کا ارادہ بدل دیا ۔ ابنِ زیاد کو سمجھایا گیا کہ اگر ابھی حسین کو جانے دیا اور وہ یزید کے پاس بھی نہ گئے تو موقع ہاتھ سے نکل جائے گا ، جو کسی بڑی بغاوت کا سبب بن سکتا ہے ، چنانچہ سیدنا حسین کو آمادہ کیا جائے کہ پہلے وہ ابن زیاد کے ہاتھ پر یزید کی بیعت کریں ۔ چونکہ کوفیوں کو اپنا ڈر تھا کہ اگر سیدنا حسین بچ گئے اور یزید کے پاس پہنچ گئے تو پھر ہماری خیر نہیں ۔ پس شمر اور دیگر کوفیوں کے ورغلانے پر ابن زیاد نے عمرو بن سعد کو معزول کیا اور اس کی جگہ شمر کو کمانڈ سونپ دی ۔ شمر نے کربلا پہنچ کر اس مظلوم قافلے کو عاشور کے دن بلوہ بول کر بے دردی سے شہید کردیا اور سبائی کوفیوں نے اپنے خطوں کو ضائع کرنے کیلئے خیموں کو آگ لگا دی ۔ سبائی خیبر میں قتل ہونے والے مرحب اور آل مرحب کا بدلہ عراق میں سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آل علی سے لینے میں کامیاب ہوگئے ۔ ساتھ ہی امت مکمل طور پر دو ٹکڑوں میں بٹ گئی ، سیدنا علی اور ان کی اولاد سے غداری کرنے والے خود ان کے محب ہونے کے دعویدار بن گئے
جنگِ جمل، صفین، اور کربلا ، تینوں ایسے مقام تھے جہاں عظیم المرتبت شخصیات تصادم سے بچنا چاہتی تھیں، مگر ماحول کو ان کے ہاتھ سے نکال دیا گیا۔ جس طرح جمل میں حضرت علیؓ کے لشکر کے ہاتھوں عشرہ مبشرہ میں شامل صحابہ حضرت طلحہؓ و زبیرؓ شہید ہوئے ، اسی طرح کربلا میں یزید کے لشکر کے ہاتھوں سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی ، حالانکہ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا پھر یزید نے ان ہستیوں کو شہید کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا تھا ۔ جس طرح جنگ جمل کے بعد سیدنا علیؓ نے سیدہ عائشہؓ اور ان کے قافلے کو عزت و احترام سے مدینہ واپس روانہ کیا، ویسا ہی رویہ ہمیں حادثہ کربلا کے بعد بھی نظر آتا ہے ۔ یزید نے قافلہ حسینی کو نہایت ادب و احترام سے ایک ماہ تک اپنے گھر رکھا ۔ سیدنا زین العابدین رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں کہ کوئی ایسی چیز نہیں جو ہمیں ضرورت ہو اور ہمیں یزید نے مہیا نہ کی ہو ( از تاریخ اسلام ، ذہبی) ۔ سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لخت جگر نے یزید بن معاویہ سے لیکر ولید بن عبد الملک تک تمام اموی خلفا کی بیعت کی اور دونوں خاندانوں میں اس حادثے کے بعد بھی گہری رشتہ داریاں رہیں ۔ ایک ماہ دمشق رہنے کے بعد یہ قافلہ واپس مدینہ کی جانب روانہ ہوا تو یزید نے تحائف کے ہمراہ نہایت عزت کے ساتھ روانہ کیا
یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ شہادت عثمان سے لیکر شہادت حسین تک یہ تمام سانحات ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں
» حنظلہ نعمان