23/05/2026
پوٹھوہاری اکھان
”آب آب کر مویا بچڑا ۔۔۔ اِنھّاں فارسیاں کارھ پٹیا“
کبھی پنجاب کی سرکاری زبان فارسی ہوا کرتی تھی۔ اُنھی دنوں ایک دیہاتی کا بیٹا پڑھ لکھ گیا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ وہ سخت بیمار پڑ گیا اور آخری سانسوں تک جا پہنچا۔ ماں باپ اور بہن بھائی اُس کی چارپائی کے گرد بیٹھے تھے۔
لڑکا بار بار کہتا: ”آب ۔۔۔ آب ۔۔۔“
گھر والے پریشان تھے کہ شاید وہ کسی دوائی کا نام لے رہا ہے، مگر کوئی سمجھ نہ سکا۔ اسی بے بسی میں وہ دنیا سے چل بسا۔
جنازے پر باپ لوگوں سے افسوس کرتے ہوئے کہنے لگا:
“آخری ویلے آب ناں نِیں دوائی منگڑاں مر گیا۔”
وہیں موجود ایک اسکول ماسٹر نے کہا:
“او چاچا! پُتّر پانی منگڑاں مر گیا اِی”
یہ سُن کر باپ نے ٹھنڈی آہ بھری اور حسرت سے بولا:
”آب آب کر مویا بچڑا ۔۔۔ اِنھّاں فارسیاں کارھ پٹیا۔“
20/12/2025
سرما کی سرد صبح، زمین پر کہر کی چادر اور سُورج کی بے جان روشنی۔ آج، ٢١ دسمبر، شمسی سال کا سب سے چھوٹا دن ہے۔ کل سے سُورج کی آمد چند ثانیے قبل ہو گی۔
ہم کل کے دن کے بارے میں بے خبر سہی مگر سورج اس سے خوب آشنا ہے۔ وُہ اس دن سے روزانہ چند ثانیے قبل اپنی کرنیں پھیلایا کرے گا۔ یہ وقت اتنا کم ہے کہ ہمیں اس کا ادراک تک نہیں ہوتا مگر مگر قدرت اپنے حساب میں کوئی غلطی نہیں کرتی۔یوں سمجھ لیجیے کہ سردی کے عروج پر ہی اس کے لوٹنے جانے کا ساماں ہو جاتا ہے۔
ان دنوں راتیں لمبی ہی ہوں گی مگر ان کی طوالت قطرہ قطرہ گھٹ رہی ہوں گی۔ اُدھر دن ابھی چھوٹے ہی ہیں مگر اُن کی ہمّت بندھ چکی ہے کہ ضرور بڑے ہوں گے۔
روز و شب کی یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ شب تاریک کے عروج پر پہنچتے ہی اس کے زوال کا ًًآغاز ہو جاتا ہے۔ بس صبح روشن کے لیے ذرا صبر کرنا پڑتا ہے۔
عاصم ندیم
#بڑے-دن
19/10/2025
**خزاں — ایک موسم، کئی معنی**
خزاں صرف موسم کا نام نہیں، یہ احساسات کے زرد ہونے، خوابوں کے ٹوٹنے، اور وقت کے بدلنے کا استعارہ ہے۔ ہر زبان اور ادب میں خزاں کا ایک الگ لہجہ ہے، ایک الگ خوشبو، ایک الگ فلسفہ۔
اردو شاعری میں خزاں کی خوشبو اداسی سے لپٹی رہتی ہے۔ میر کے گلستاں میں پتوں کی سرسراہٹ، دل کے ٹوٹنے کی صدا بن جاتی ہے۔ غالب کے نزدیک خزاں فنا کی یاد دہانی ہے، کہ ہر شے زوال پذیر ہے۔ فیض نے اسی خزاں میں امید کا چراغ جلایا — وہ روشنی جو ظلمت میں بھی بُجھتی نہیں۔ ان کے یہاں خزاں، خوابوں کے ادھورے پن کے باوجود، زندگی کے تسلسل کی علامت ہے۔
انگریزی ادب میں **John Keats** نے *To Autumn* میں خزاں کو زندگی کی پختگی اور مکمل ہونے کی ساعت کہا۔
> “Season of mists and mellow fruitfulness…”
> یعنی وہ لمحہ جب زندگی اپنے کمال پر پہنچ کر خاموشی سے جھڑنے لگتی ہے۔
> **Robert Frost** نے کہا،
> “Nothing gold can stay”
> یعنی کوئی بھی حسن ہمیشہ نہیں رہتا، اور یہی ناپائیداری حسن کو معنی بخشتی ہے۔
فارسی شاعری میں خزاں فنا اور بقا کی جدلیات ہے۔ حافظ کہتا ہے:
> “خزانِ گلشنِ ما را بہارِ عشق است”
> یعنی عاشق کے لیے خزاں بھی بہار ہے، اگر دل میں شوق باقی ہو۔
> رومی نے خزاں کو روحانی تجدید کا موسم کہا — ایک ایسا وقت جب پرانا نفس جھڑ کر نیا جنم لیتا ہے۔
جاپانی ادب میں، خاص طور پر ہائیکو میں، خزاں سکوت کی خوبصورتی ہے۔ **Bashō** کے یہ الفاظ جیسے خاموش ہوا میں بکھر جاتے ہیں:
> “A lonely crow / on a withered branch — / autumn evening.”
> یہ چند سطریں پورا منظر کھینچ دیتی ہیں: خاموشی، تنہائی، مگر ایک عمیق سکون۔
فرانسیسی شاعر **Charles Baudelaire** کے ہاں خزاں روح کی تھکن کا موسم ہے، مگر اسی تھکن میں وہ جمال تلاش کرتا ہے۔ وہ لکھتا ہے:
> “Soon we shall be plunged into the cold darkness; farewell, brief summer brightness!”
> یہ فقرہ خزاں کے آنے سے پہلے انسان کی اس بے بسی کو ظاہر کرتا ہے جو وقت کے بہاؤ کے سامنے کچھ نہیں کر سکتا۔
روسی ادب میں خزاں عموماً غور و فکر اور اداسی کی علامت ہے۔ **Pushkin** نے لکھا:
> “There is something strangely touching in autumn’s desolation.”
> خزاں کی ویرانی میں بھی ایک نرمی ہے، جیسے زندگی ہمیں رخصت ہوتے لمحوں کی قدر سکھا رہی ہو۔ **Turgenev** نے اسے دیہات کے سنہری کھیتوں، دھند اور خاموش راستوں کی صورت میں یادوں کی نرمی سے بھر دیا۔
یوں لگتا ہے کہ خزاں ہر ادب میں صرف ایک موسم نہیں بلکہ ایک مکاشفہ ہے۔ کوئی اسے زوال کہتا ہے، کوئی اسے پختگی۔ کوئی اس میں جدائی دیکھتا ہے، کوئی وصال کی تیاری۔
خزاں سکھاتی ہے کہ گِرنے میں بھی وقار ہے، اور ہر زرد پتّا ایک نئی بہار کا وعدہ۔
#خزاں #ادب
17/10/2025
انٹر میں اُردُو کے استاد جی نے بتایا کہ غریب اسے کہتے ہیں جو اپنے وطن سے دُور ہو یعنی غریب الدّیار۔ جس کے پاس روپیہ، پیسہ نہ ہو اسے مفلس کہتے ہیں، غریب نہیں۔
آج زندگی کی کئی بہاریں، اور خزائیں بھی، دیکھنے کے بعد سمجھ آئی کہ مفلس تو اپنے وطن میں ہوتے ہوئے بھی اجنبی ہوتا ہے۔ اس کی زندگی ویسے ہی کٹتی ہے جیسے وطن سے دور، کوئی اپنا نہیں ہوتا۔ یوں مفلس اور غریب الدّیار یا غریب ایک ہی ہوئے۔
08/10/2025
ورلڈ پوسٹل ڈے — دلوں کو جوڑنے والے خطوط
آج کی دُنیا عالمی گاؤں ہے -- پیغام بھیجنے کے لیے نہ ڈاکیے کی ضرورت نہ ڈاک ٹکٹ کی۔ مگر کبھی ایک زمانہ تھا کہ جب کسی کے دروازے پر ڈاکیے کی دستک دل کی دھڑکن تیز کر دیتی تھی۔ ’’چٹھی آئی ہے‘‘ کا جملہ سنتے ہی آنکھوں میں چمک اور چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی تھی۔
آج 9 اکتوبر، ’’ورلڈ پوسٹل ڈے‘‘ اسی یادگار روایت کا دن ہے -- وہ زمانہ جب خطوط صرف کاغذ پر لکھے الفاظ نہیں ہوتے تھے، بلکہ دلوں کے درمیان پُل بنتے تھے۔
اردو شاعری نے خط کو ہمیشہ جذبات، جدائی اور امید کی علامت سمجھا۔ مرزا غالب نے کہا تھا:
“خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو”
یعنی محبوب کو خط لکھنا خود ایک مقصد ہے، چاہے کچھ کہنا باقی نہ بھی ہو۔
پروین شاکر نے اپنے درد کو یوں بیان کیا:
“چھیڑو نہ بات اُن کی، جو خط لکھ کے بھول بیٹھے”
یہ بھولا ہوا خط، جیسے ایک ادھورا وعدہ، ایک خاموش جدائی۔
پنجابی لوک شاعری اور گیتوں میں بھی چٹھی محبت اور ہجر کی سب سے زندہ علامت رہی ہے۔ مادام نورجہاں کے گیتوں سے لے کر عطاء اللہ کے گانوں تک خط، پردیس اور جدائی پر کچھ نہ کچھ ضرور ملے گا۔
وارث شاہ نے ’’ہیر رانجھا‘‘ میں رانجھے کا پیغام خط کی صورت میں چن کے حوالے کیا —
“رانجھا لکھے خط ہیر نوں، نال پٹھائے چن دا پیغام”
یہ خط فقط لفظ نہیں، چاندنی میں لپٹا ایک دردناک اقرارِ محبت تھا۔
پرانے گیتوں میں جب ماں بیٹے یا محبوب کے لیے خط لکھتی تھی، تو وہ چٹھی صرف پیغام نہیں، دعا، تڑپ اور امید کا مجموعہ ہوتی تھی۔
’’چٹھی آئی ہے وطن سے چٹھی آئی ہے‘‘ جیسے بول آج بھی دیارِ غیر میں بسنے والوں کے لیے جذبات کی لہریں پیدا کر دیتے ہیں۔
وقت نے رابطے کے ذرائع بدل دیے، مگر جذبات نہیں بدلے۔ اب واٹس ایپ پر میسج آ جاتا ہے، مگر اس میں وہ خوشبو نہیں جو خط کے کاغذ میں بسی ہوتی تھی۔ ڈاکیے کے قدموں کی چاپ، لفافے پر ہاتھ کا لمس، اور سیاہی سے بہتا ہوا دل -- یہ سب اب یادوں کے بن میں بستا ہے۔
ورلڈ پوسٹل ڈے ایک یاد دہانی ہے کہ خط و کتابت صرف حال احوال کا تبادلہ نہ تھی، یہ محبت کی ایک تہذیب تھی -- جس میں انتظار بھی پرستش لگتا تھا، اور ایک چٹھی، فقط ایک چٹھی، دل کی دنیا بدل دیتی تھی۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم کم از کم ایک خط دوبارہ لکھیں -- کسی اپنے کے نام، دل سے، ہاتھ سے، سچے جذبوں کے ساتھ۔
عاصم ندیم
#خط #چٹھی #محبت #یادیں
04/10/2025
کبھی وقت ایسے بھی ماپا جاتا تھا۔
'اَٹھ پہریا روزہ' کے الفاظ سنے آپ نے؟ چلیں دوپہر توسنا ہی ہو گا، آپ نے۔ یہ پہر کیا ہے؟
پہر کا نظام برصغیر اور قدیم ایشیائی تہذیبوں میں وقت ماپنے کا ایک عملی طریقہ تھا۔ اس میں دن اور رات کو چار چار حصوں (یعنی کل آٹھ پہر) میں بانٹا جاتا۔ ہر پہر کی لمبائی لازمی طور پر "تین گھنٹے" نہیں تھی بلکہ سورج کے طلوع اور غروب کے درمیان وقت کو برابر حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔
پہر کا نظام
دن کے چار پہر (صبح تا شام):
پہلا پہر (صبح/صبح کاذب تا سورج نکلنا اور آگے کا وقت)
فجر کے بعد کا وقت، کام شروع کرنے کی گھڑی۔
دوسرا پہر (دوپہر تک)
سورج چڑھنے سے لے کر دوپہر تک۔
تیسرا پہر (دوپہر تا عصر)
دھوپ کی شدت اور کھانے کا وقت۔
چوتھا پہر (عصر تا غروب آفتاب)
شام ڈھلنے تک، کھیت سے واپسی یا بازار بند ہونے کا وقت۔
رات کے چار پہر (شام تا صبح):
5. پانچواں پہر (مغرب تا عشاء)
چراغ جلنے کا وقت۔
چھٹا پہر (عشاء تا آدھی رات)
آرام اور نیند کا آغاز۔
ساتواں پہر (آدھی رات تا سحر)
گہری نیند اور جاگنے کا کم وقت۔
آٹھواں پہر (سحر تا طلوعِ آفتاب)
اذانِ فجر اور جاگنے کی گھڑی۔
یعنی ایک دن رات = ۸ پہر
دن کے چار پہر (صبح سے شام)
رات کے چار پہر (شام سے صبح)
اس نظام کا فائدہ یہ تھا کہ لوگ گھڑی دیکھے بغیر قدرتی مظاہر اور انسانی معمولات سے وقت پہچان لیتے تھے۔
عاصم ندیم
4 اکتوبر، 2025
یہ لیجیے پہر کے نظام سے متعلق ہیش ٹیگ:
#پہرکاتقسیم
#قدیموقتکانظام
#دنکےچارپہر
#راتکےچارپہر
#وقتکاحساب
#روایتیوقت
#برصغیرکاسماج
#قدرتاوروقت
#قدیمدانائی
#پرانازمانہ
28/09/2025
اپنی زبان اُردو
کل رات میری ایک دوست سے ڈسکشن ہو رہی تھی۔ میں کہا کہ “یار، ہماری نیشنل لینگویج اُردو ہے، لیکن ہم اس کی بہت زیادہ انگلش یوز دیتے ہیں!”
وہ فوراً بولا “ایگزیکٹلی! یہ تو کلچرل ڈِس ٹورشن ہے۔”
میں نے کہا: “بھائی، یہی تو پرابلم ہے۔ ہم اُردو کو پروموٹ کرنے کی بجائے اس کا کانفیڈنس شیک کر دیتے ہیں۔”
اس پر اُس نے کافی سیریس ہو کر کہا: “ڈونٹ وری، اُردو ویل سروائیو، کیونکہ ہماری لینگویج ہے۔”
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ایجوکیشن سسٹم میں اُردو کو بیک بینچ پر ڈال دیا گیا ہے۔ بچوں کو میتھ کے فارمولے تو سمجھ آ جاتے ہیں، لیکن جب اُردو کا پیپر آتا ہے تو وہ کہہ رہے ہوتے ہیں: “او، یہ کون سا ڈفیکلٹ سبجیکٹ ہے؟”
آپ نے کبھی نوٹس کیا ہے، ہم شادی کی تقریبات میں بھی اُردو کو اگنور کرتے ہیں۔ دولہا اکثر اناؤنس کرتا ہے: “لیڈیز اینڈ جنٹلمین، پلیز ویلکم مائی بیوٹی فل دلہن!”۔
بیچاری دلہن سوچتی رہ جاتی ہے کہ یہ “بیوٹی فل” اُردو میں کیوں نہیں کہا؟
اور سرکاری دفاتر کا حال تو یہ ہے کہ چپڑاسی بھی فائل پکڑا کر کہتا ہے: “سر، یہ ڈاکیومنٹ پروسیسنگ کے لیے فارورڈ کر دیں، آفیسر صاحب ویٹ کر رہے ہیں۔”۔
یعنی اُردو کے ''کاغذات'' اور “انتظار” بھی اب ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں۔
لیکن ماننا پڑے گا، اُردو اتنی لچک دار ہے کہ انگلش کو اپنے ساتھ ایڈجسٹ کر لیتی ہے۔ جیسے ہم کہتے ہیں: “چلو بھائی، فریش جوس پی کر موڈ ری فریش کرتے ہیں، پھر آ کے دوبارہ ڈسکس کرتے ہیں۔”
یہ ہے ہماری نیشنل لینگویج کا میجک، جس میں انگریزی بھی گھل مل کر “اپنا پن” اختیار کر لیتی ہے۔
آخر میں میرا پیغام یہ ہے: “اُردُو کو اُردُو رہنے دیں۔''
عاصم ندیم۔
26/09/2025
ناموں کے ذائقے: اردو کھانوں کی کہانیاں
کھانے کا ذائقہ زبان پر اترتا ہے اور ان کے نام دل پر۔ اب رہ گیا دماغ، تو کھانے کے نام کے بارے میں کبھی سوچا؟ سوچیں کہ بریانی آخر ’’بریانی‘‘ کیوں ہے؟ یا قورمہ کا یہ نام کہاں سے آیا؟
بریانی
لفظ ’’بریانی‘‘ فارسی کے لفظ براین سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے "تلنا" یا "بھوننا"۔ اصل ترکیب میں چاول بھون کر پکائے جاتے تھے، پھر اس پکوان نے پاک و ہند کی زمین پر آ کر مسالوں کا چٹخارہ پایا اور ہمیشہ کے لیے ہماری ثقافت کا حصہ بن گیا۔
قورمہ
’’قورمہ‘‘ کی جڑ بھی فارسی زبان میں ہے، جہاں قورما کا مطلب ہلکی آنچ پر گوشت پکانا ہے۔ یہ پکوان مغلیہ دور کی یادگار ہے، اور کہا جاتا ہے کہ شاہی دعوتیں اس کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی تھیں۔
حلیم
یہ نام عربی لفظ حلم سے نکلا ہے، جس کے معنی نرم مزاج ہونا ہے۔ اس ڈش کے تمام اجزا، بشمول گوشت، نہایت نرم ہوتے ہیں۔ بغداد سے یہ ڈش دہلی پہنچی اور محرّم کے دسترخوانوں پر خاص علامت بن گئی۔
نہاری
اس کے نام کی وجہ تسمیہ نہایت سادہ ہے۔ ’’نہار‘‘ یعنی علی الصبح۔ دہلی کے نوابین اسے فجر کے بعد ناشتہ کے طور پر کھایا کرتے تھے۔ گویا نہاری صرف کھانا نہیں بلکہ ایک وقت کی علامت بھی ہے۔
سجی
بلوچستان کی سوغات ’’سجی‘‘ دراصل گوشت کے سیخ پر لگ کر کوئلوں پر سُوکھنے اور پُکنے کا نام ہے۔ لفظ "سج" کا مطلب ہے لٹکانا یا معلق کرنا۔ یہی عمل اس نام کی بنیاد بنا۔
جلیبی
ظالم کو جالم کہتے ہوئے تو سُنا ہوگا۔ بس یہی معاملہ عربی زلابیہ کے ساتھ پیش آیا، جو ایرانی لہجے میں جلابی اور پھر جلیبی ہو گیا۔ یوں زبانوں کی مٹھاس گھلتی گئی اور جلیبی شادی بیاہ اور میلے ٹھیلوں کی جان بن گئی۔
سموسہ
سموسہ وسط ایشیا سے آیا۔ اسے گوشت سے بھرا جاتا اورتندور میں پکایا جاتا تھا۔ اسے آلوؤں سے بھر کر اور تل کر پنجابی سموسہ بنا دیا۔ سموسہ تین حروف سے مل کر بنا ہے: سہ معنی تیںن، مُو یعنی مُنھ، سا معنی کی طرح۔ یوں سموسہ کا مطلب ہوا، تین مُنھ والا۔
کھانے صرف ذائقہ نہیں، تہذیب کا حصّہ ہوتے ہیں۔ ان کے نام تاریخ کی ڈولی میں رکھے ہوئے وہ مسالے ہیں جو ہمیں ماضی کے ذائقے سے جوڑتے ہیں۔ جب ہم نہاری یا بریانی کی پلیٹ سامنے رکھتے ہیں تو یہ صرف کھانے کی کشش نہیں بلکہ زبان، تاریخ اور تہذیب کا سفر بھی ہوتا ہے۔
عاصم ندیم
18/09/2025
A Wise Saying
Life often teaches us through simple yet powerful metaphors. Mian Muhammad Bakhsh, the celebrated Punjabi poet, conveys such wisdom in one of his verses. He says:
"The berry tree keeps giving sweet fruit, even though people throw stones at it. O people! Look at the patience of the berry tree — despite the stones, it continues to do good."
This verse is more than poetry; it is a lesson in patience, resilience, and kindness. Just like the berry tree, which responds to cruelty with sweetness, we too can choose to answer negativity with positivity. The true greatness of a person lies not in how they treat those who are kind to them, but in how they respond to those who are unkind.
In a world where bitterness is easily returned with bitterness, the berry tree inspires us to rise above, to keep giving, and to keep doing good — no matter what comes our way.
\ #حکمت #میاں محمد\_بخش #صبر #برداشت #نیکی
07/09/2025
زرعی یا موسمی فلکیات
اب آدھی رات کے بعد پنکھا آہستہ کرنا ہو گا یا کوئی چادر لینے ہوگی، تارا جو نکل آیا۔ آدھی رات کے بعد پنکھے کی ہوا ٹھنڈی کیوں ہوتی ہے اور نکلنے والے تارے سے اس کا کیا تعلق؟
سوچیں کہ کئی سو برس پہلے پاک و ہند کے باسی موسمیاتی تبدیلی کی جانکاری کہاں سے لیتے تھے؟ اس سوال کا جواب ہے ''آسمان پر نمودار ہونے والے ستاروں، برجوں اور مہاجر پرندوں کے آنے اور جانے سے۔'' ایسا پاک وہند کے باشندے ہی نہیں دیگر خطّوں کے باسی بھی کرتے تھے۔ ستاروں اور برجوں کے آنے جانے سے موسموں کا حساب رکھنے کا یہ علم زرعی فلکیاتِ یا موسمی فلکیات کہلاتا ہے۔
دیسی تقویم (کیلنڈر) کے مطابق بھادوں (بھادرے) کی بائیس (چھے ستمبر) کو جنوبی افق پر ایک روشن تارا نمودار ہوتا ہے۔ اس تارے کی آمد کے بعد رات ،خاص کر آخری پہر، میں خنکی ہو جاتی ہے۔ رات کی یہ خنکی ایک اعلان ہے کہ اب گرمی کی شدّت ہفتہ، دس دن کی مہمان ہے اور پھر اسوج یا اسّے میں نئی رُت انگڑائی لے گی۔
ماہرین فلکیات بتاتے ہیں کہ نمُودار ہونے والا تارا دوسرا بڑا تارا ہے۔ اس تارے کا نام canopus ہے اس کے دیگر نام اگستیا اورسُہیل ہیں، اگستیا ہندوی میں اور سہیل عربی میں۔ یہ تارا ستمبر میں دنیا کے جنُوبی کُرّے (southern hemisphere) میں دکھائی دیتا ہے۔ پاک و ہند کا خطّہ بھی جنوبی کرّے میں ہے اسی لیے یہ تارہ اس خطّے میں با آسانی نظر آتا ہے۔ اس تارے کا ذکر عربوں کے ہاں بھی ملتا ہے۔
پاک و ہند میں نظر آنے والا اگستیا یا سہیل جنوبی افق کے قریں ہی نمودار ہوتا ہے یعنی یہ آسمان کی اونچائی میں نہیں پایا جاتا۔ یہ تارا پت جھڑ اور سرما میں ہی نظر آتا ہے۔ ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ماضی میں یہ تارا اپنی خاص جگہ اور روشنی کی بدولت لوگوں کی نظروں میں آیا ہو گا۔ ساتھ ہی لوگوں نے موسم میں بھی کچھ تبدیلی بھی محسوس کی ہوگی۔ یوں اس تارے کی آمد کو موسم کی تبدیلی کی نشانی سمجھ لیا گیا ہو گا۔ جب کلینڈر نہ تھے اور نہ ہی کسی اورذریعے سے مہینوں اور دنوں کا حساب رکھا جاتا تھا تو لوگ تارے کے انتظار میں رہتے کہ موسم کی تبدیلی کا اشارہ ملے۔
اگستیا یا سہیل کے نکلنے کے ہفتہ، دس دن بعد کسان نئی فصلوں پر سوچ بچار شروع کر دیتے ہیں۔ انھیں سونے کی کنڑیں سے پہلے اپنی زمینیں تیار کرنی ہیں اور گندم کے بیج کا اہتمام کرنا ہے۔ ان کسانوں کا کلینڈر ماہانہ نہیں تھا جیسا کہ ہم تنخواہ داروں کا ہوتا ہے۔ وُہ موسمیانہ کلینڈر پر چلتے اور اس کے مطابق اپنی معاشی اور مالی منصوبہ بندی کرتے، ویسے ہی جیسے ہم فنانشل ایئر کے حساب سے اپنی پلاننگ کرتے ہیں۔
رات کی ٹھنڈک اور جنوبی افق پر نمودار روشن تارے سے بات موسمیانہ اور ماہانہ کلینڈر تک جا پہنچی۔ زندگی تب بھی رواں تھی جب چھَپے کلینڈر نہ تھے، نہ ہی خبرنامہ اور نہ گوگل۔ اور زندگی آج بھی رواں ہیں کہ جب یہ سب ذرائع موجود ہیں۔ ہو سکے تو انٹرنیٹ پر دیکھتے رہیں کہ دیسی مہینہ کون سا ہے۔ ساتھ ہی کوشش کریں کہ اس مہینے اور موسم کا کیا تعلق ہے۔
عاصم ندیم
7ستمبر 2025