Learning and Serving HUB

Learning and Serving HUB Muhammad Tahir Rabbani: Educator, Innovator, Learner.
(1)

محمد طاہر ربانی
ہم سے تعلق رکھو طبیعت ٹھیک رہے گی
ہم وہ طبیب ہیں جو لفظوں سے علاج کرتے ہیں
تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ لکھنے کا شوق بھی ہے ایم فل (ایجوکیشن پلاننگ اینڈ مینیجمنٹ ) کی ڈگری مکمل کر چکا ہوں تعلیم و تدریس سے وابستہ ہونے کی بدولت کیمسٹری اور پبلک ہیلتھ میں ایم ایس سیز مکمل کرنے کا موقع ملا پاکستان میں موجود اور بیرون ملک ٹرینر سے تربیت حاصل کرنے کا منفرد اعزاز حاصل ہے
🎓ماسٹرز لیول پر

یونیورسٹی میں سیکنڈ پوزیشن
🔰22 سال سے شعبہ تعلیم و تدریس سے وابستہ ہوں سکول 🏫سے لے کر یونیورسٹی 🏤تک اپنی خدمات دے رہا ہوں
🖋ایف-ڈی-ای میں بطور سینیئر ٹیچر اور ماسٹر ٹرینر کام کر رہا ہوں
🎤بہت ساری تقریبات میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض سر انجام دے چکا ہوں
📝اپسما APPSMA کے ساتھ کمیونٹی ایجوکیشن کے فروغ کے لیے ہمہ وقت مصروف عمل
🏨کمیونٹی اویرنیس پبلک ہیلتھ اور گلوبل ایشوز پر مختلف پروگرامز اور سیمینارز کا انعقاد (بطور کی نوٹ سپیکر)
🏫🏬🌐🌏🌍👊✊💻🖥⌨🔬💰📝🖊🛠🇵🇰
سکل فل پاکستان خوشحال پاکستان پروگرام کا آغاز
انٹرپنیور شپ 💰💸💵💴میں خصوصی دلچسپی کی وجہ سے ٹیچر بطور انٹرپنیور
تاکہ ہمارے بچے سکول لیول پر ہی انٹرپنیور شپ کو سیکھ کر اچھا روزگار حاصل کر سکیں اور ملک کی خوشحالی کی ضمانت بنیں
📚سرکاری سطح کے علاوہ کمیونٹی کی آگاہی کے لیے باقاعدہ رفاعی ادارے کا قیام بھی عمل میں لانے کا منفرد اعزاز حاصل ہے اس ادارے میں طلباء کو ہنرمند بنانے کے ساتھ ساتھ آنے والے کل کے لیے تیار کیا جاتا ہے گورنمنٹ اور پرائیویٹ سیکٹر میں ملازمت کے حصول کے لیے ان کی مکمل رہنمائی کی جاتی ہے اس ادارے میں ماہر اساتذہ کی زیر نگرانی طلباء کو انٹرویوز کی تیاری کروائی جاتی ہے
💰اقرا فیملی سپورٹ پروگرام کا آغاز

16/08/2026

🤔تدریس اور Classroom Practices کے مسائلکبھی مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ استاد نے نہیں پڑھایا، مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ طالب علم نے ...
16/08/2026

🤔تدریس اور Classroom Practices کے مسائل
کبھی مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ استاد نے نہیں پڑھایا، مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ طالب علم نے سیکھا نہیں۔
ایک استاد پوری محنت سے سبق مکمل کر سکتا ہے، لیکچر دے سکتا ہے، نوٹس لکھوا سکتا ہے اور homework بھی دے سکتا ہے، لیکن پھر بھی کچھ بچے concept سمجھ نہیں پاتے۔
طالب علم کی نفسیات کو سمجھنا ضروری ہے
ہر بچہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔
کچھ بچے فوراً سمجھ جاتے ہیں، کچھ کو مثال چاہیے، کچھ کو دوبارہ وضاحت، اور کچھ بچے سوال پوچھنے میں جھجھکتے ہیں۔
کبھی استاد سمجھتا ہے:
"میں نے سمجھا دیا ہے۔"
جبکہ طالب علم کے ذہن میں ہوتا ہے:
"مجھے ابھی بھی سمجھ نہیں آئی، لیکن دوبارہ پوچھتے ہوئے شرم آ رہی ہے۔"
یہی خاموش learning gap وقت کے ساتھ بڑا ہوتا جاتا ہے۔
کلاس روم Classroom میں عام مسائل
Teacher-centered teaching، جہاں زیادہ تر استاد بولتا اور بچے سنتے ہیں۔
مشکل concepts کو طلبہ کی سطح کے مطابق simplify نہ کرنا۔
یہ assume کر لینا کہ "سب بچوں کو سمجھ آ گئی ہوگی۔"
کمزور طلبہ کو identify نہ کرنا۔
بچوں کو سوال پوچھنے اور غلطی کرنے کا محفوظ ماحول نہ دینا۔
صرف syllabus completion پر توجہ دینا، actual learning پر نہیں۔
practice اور meaningful feedback کی کمی۔
Teacher کی نفسیات بھی اہم ہے
استاد بھی انسان ہے۔ بڑے syllabus، محدود وقت، بڑی class، administrative workload اور examination pressure کے درمیان کبھی teaching "lesson complete کرنے" کی طرف چلی جاتی ہے، "learning ensure کرنے" کی طرف نہیں۔
لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں professional teacher خود سے پوچھتا ہے:
"میں نے کیا پڑھایا؟" سے زیادہ اہم سوال ہے، "میرے بچوں نے کیا سیکھا؟"
بہتری کا راستہ
Explain → Engage → Check Understanding → Practice → Feedback → Re-teach
ہر سبق کے آخر میں صرف یہ نہ پوچھیں:
"سمجھ آگئی؟"
بلکہ بچوں سے کوئی مختصر سوال حل کروائیں، explain کروائیں یا concept apply کروائیں۔
کیونکہ:
خاموش کلاس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ انہیں سب سمجھ آ گیا ہے ۔
اور ایک اچھا teacher صرف اچھے طلبہ کو آگے نہیں لے جاتا، بلکہ کمزور طالب علم کو بھی سیکھنے کے قابل بناتا ہے۔

✋نوجوانو! سوچ بدلو، زندگی بدلو گریجویشن کے بعد صرف نوکری نہیں، اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔گریجویشن کے بعد زندگی کا ایک ای...
16/08/2026

✋نوجوانو! سوچ بدلو، زندگی بدلو
گریجویشن کے بعد صرف نوکری نہیں، اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔

گریجویشن کے بعد زندگی کا ایک ایسا مرحلہ شروع ہوتا ہے جہاں لیا گیا ایک درست فیصلہ آنے والے کئی سالوں کی سمت متعین کر سکتا ہے۔

اکثر نوجوان ڈگری مکمل کرتے ہی کسی پرائیویٹ سکول، اکیڈمی یا ادارے میں ملازمت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ کوئی غلط فیصلہ نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عارضی نوکری، مستقل مقصد کی جگہ لے لیتی ہے۔

اگر آپ کا خواب سرکاری ملازمت، بہتر گریڈ اور ایک مستحکم کیریئر ہے تو گریجویشن کے بعد کم از کم ایک سال اپنے مقصد کو سنجیدگی سے آزمائیں۔

PPSC، FPSC، KPPSC، ETEA، PMS اور CSS جیسے مقابلے کے امتحانات صرف خواہش سے نہیں، بلکہ منصوبہ بندی، مستقل مطالعے، سابقہ پرچوں کی مشق اور مسلسل خود احتسابی سے پاس ہوتے ہیں۔

22 سے 28 سال کی عمر صرف عمر کا ایک عدد نہیں، یہ آپ کے کیریئر کی تعمیر کا انتہائی قیمتی وقت ہے۔
اسی عرصے میں آپ اپنی بنیاد مضبوط کر سکتے ہیں، امتحانات کی تیاری کر سکتے ہیں، اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکتے ہیں اور اپنے لیے بہتر مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔

ایک بات ذہن میں رکھیں:

چھوٹی نوکری کو برا نہ سمجھیں، لیکن اسے اپنی منزل بھی نہ بنائیں۔

اگر مالی حالات فوری ملازمت کے متقاضی ہیں تو ضرور کام کریں، مگر ساتھ اپنا اصل ہدف زندہ رکھیں۔ شام کے چند گھنٹے، روزانہ کا مطالعہ اور مستقل تیاری مستقبل میں بہت بڑا فرق پیدا کر سکتی ہے۔

اور یہ جملہ بھی اپنے ذہن سے نکال دیں:

"سرکاری نوکری تو صرف سفارش سے ملتی ہے۔"

ہاں، نظام میں مسائل ہیں۔ مقابلہ سخت ہے۔ ہر امیدوار کامیاب نہیں ہوتا۔ لیکن یہ کہنا کہ محنت اور میرٹ کی کوئی حیثیت ہی نہیں، اپنی ناکامی کو پہلے ہی تسلیم کر لینا ہے۔

آپ کو جذبات نہیں، حکمتِ عملی چاہیے۔
آپ کو صرف امید نہیں، تیاری چاہیے۔
اور سب سے بڑھ کر، آپ کو اپنی عمر کی قدر کرنی چاہیے۔

گریجویشن کے بعد فوراً یہ فیصلہ کریں کہ آپ اگلے ایک سال کو صرف گزاریں گے یا اسے اپنے مستقبل کی بنیاد بنائیں گے۔

کیونکہ بعض اوقات زندگی میں سب سے مہنگی چیز پیسہ نہیں ہوتی،
غلط سمت میں ضائع کیا ہوا وقت ہوتا ہے۔

#نوجوانو #کامیابی

📊 کلاس نہم کے خراب رزلٹ کی وجوہات — ایک تحقیقی سلسلہکسی سکول کا رزلٹ جب توقع کے مطابق نہ آئے تو ہمارا پہلا ردِعمل اکثر ی...
15/08/2026

📊 کلاس نہم کے خراب رزلٹ کی وجوہات — ایک تحقیقی سلسلہ

کسی سکول کا رزلٹ جب توقع کے مطابق نہ آئے تو ہمارا پہلا ردِعمل اکثر یہی ہوتا ہے:

"بچے پڑھتے نہیں تھے۔"

لیکن کیا واقعی پوری کہانی اتنی سادہ ہے؟

اگر ایک کلاس کے بہت بڑی تعداد میں طلبہ ناکام ہو جائیں تو ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ "بچوں نے کیوں نہیں پڑھا؟"

بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ:

کیا ان کے بنیادی concepts مضبوط تھے؟
کیا انہیں مؤثر انداز میں پڑھایا گیا؟
کیا ان کی learning کو سال بھر assess کیا گیا؟
کیا کمزور طلبہ کی بروقت نشاندہی ہوئی؟
کیا والدین اور سکول نے بروقت intervention کیا؟
اور کیا administration نے پورے academic process کو مؤثر انداز میں monitor کیا؟

اسی سوچ کے تحت ہم آپ کے ساتھ ایک سلسلہ شروع کر رہے ہیں:

🔍 "کلاس نہم کے خراب رزلٹ کی وجوہات"

اس سلسلے میں ہم مختلف پہلوؤں کو جذبات کے بجائے evidence، observation اور educational experience کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کریں گے۔

اس سلسلے میں ہم بالخصوص ان پانچ اہم عوامل پر بات کریں گے:

1️⃣ طلبہ کے بنیادی Concepts کا کمزور ہونا
2️⃣ تدریس اور Classroom Practices کے مسائل
3️⃣ Assessment، Testing اور بروقت Intervention کی کمی
4️⃣ Attendance، Study Habits اور گھر کے تعلیمی ماحول کے مسائل
5️⃣ School Administration، Academic Monitoring اور Leadership کا کردار

🔹چیلنج Point 1: طلبہ کے بنیادی Concepts کا کمزور ہونا

کلاس نہم کے خراب رزلٹ کی ایک اہم وجہ طلبہ کے بنیادی تعلیمی concepts کا کمزور ہونا ہو سکتی ہے۔

اگر طالب علم نے پچھلی جماعتوں میں Mathematics، English اور Science کے بنیادی تصورات اچھی طرح نہیں سیکھے تو کلاس نہم کا نسبتاً مشکل اور conceptual syllabus اس کے لیے مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

مثلاً:

🔸 Mathematics میں basic calculations، algebra اور problem-solving کمزور ہونا۔

🔸 English میں reading، comprehension، vocabulary اور sentence formation کے مسائل۔

🔸 Science میں concepts سمجھنے کے بجائے صرف definitions اور answers رٹنے کی عادت۔

🔸 سوال کو سمجھ کر جواب دینے کی صلاحیت کا کمزور ہونا۔

🔸 Analytical، critical thinking اور problem-solving skills کا مطلوبہ سطح پر نہ ہونا۔

🔸 پچھلی جماعتوں کے learning gaps کی بروقت نشاندہی نہ ہونا۔

اصل سوال یہ ہے:

کیا ہم نے کلاس نہم شروع کرتے وقت یہ معلوم کیا تھا کہ ہمارے طلبہ نئے syllabus کو سمجھنے کے لیے بنیادی طور پر تیار بھی ہیں یا نہیں؟

اکثر ہم نئے academic year کا آغاز فوراً نئے syllabus سے کر دیتے ہیں، لیکن یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ طالب علم پچھلی جماعت سے کیا سیکھ کر آیا ہے اور کہاں learning gaps موجود ہیں۔

بہتری کا راستہ کیا ہے؟

کلاس نہم کے آغاز میں ایک Diagnostic/Entry Test ہونا چاہیے۔

اس کے ذریعے طلبہ کو identify کیا جائے:

🟢 بنیادی concepts میں مضبوط
🟡 درمیانی سطح پر
🔴 شدید learning gaps کے حامل

اس کے بعد 🔴 طلبہ کے لیے Remedial/Bridge Program شروع کیا جائے۔

یعنی:

Baseline Test → Learning Gaps → Remedial Teaching → Practice → Re-test

صرف یہ کہنا کہ "بچے محنت کریں" کافی نہیں۔

پہلے یہ معلوم کرنا ہوگا:

«بچے کو کیا نہیں آتا؟»

پھر:

«وہ کیوں نہیں آتا؟»

اور آخر میں:

«اسے دوبارہ مؤثر طریقے سے کیسے سکھایا جائے؟»

یہی حقیقی diagnostic teaching ہے۔

📌 اگلی پوسٹ میں:
Point 2 — تدریس اور Classroom Practices کے مسائل

آپ کے خیال میں کلاس نہم کے خراب رزلٹ کی سب سے بڑی وجہ کیا ہوتی ہے؟
اپنی رائے ضرور شیئر کریں۔

14/08/2026



Thanks for being a top engager and making it on to my weekly engagement list! 🎉 Awna Amina, Hamna Azhar, Iftikhar Ahmad,...
14/08/2026

Thanks for being a top engager and making it on to my weekly engagement list! 🎉 Awna Amina, Hamna Azhar, Iftikhar Ahmad, Yaseen Zameer, Iqraschool Bhawana, Rafaqat Ali

🇵🇰 آزادی صرف ایک دن نہیں، ایک ذمہ داری ہے! 🇵🇰14 اگست ہمیں صرف یہ یاد نہیں دلاتا کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے، بلکہ یہ سوال...
14/08/2026

🇵🇰 آزادی صرف ایک دن نہیں، ایک ذمہ داری ہے! 🇵🇰

14 اگست ہمیں صرف یہ یاد نہیں دلاتا کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے، بلکہ یہ سوال بھی کرتا ہے کہ ہم اس آزادی کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟

آزادی کا اصل مطلب صرف سبز ہلالی پرچم لہرانا نہیں، بلکہ:
🌱 اپنے کردار کو بہتر بنانا
📚 علم کو فروغ دینا
🤝 ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا
⚖️ انصاف اور دیانت کو اپنانا
🇵🇰 پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا

ہمیں ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں تعلیم، کردار، میرٹ، برداشت اور خدمت ہماری قومی شناخت بنیں۔

آج عہد کریں کہ ہم صرف پاکستان سے محبت کا اظہار نہیں کریں گے، بلکہ اپنے عمل سے پاکستان کو مضبوط بنائیں گے۔

پاکستان زندہ باد! 🇵🇰
یومِ آزادی مبارک!

#14اگست

امتحان کا خوف کیسے ختم کیا جائے؟امتحان کا خوف صرف کتابیں زیادہ پڑھنے سے ختم نہیں ہوتا، بلکہ درست تیاری، مسلسل مشق اور مث...
12/08/2026

امتحان کا خوف کیسے ختم کیا جائے؟

امتحان کا خوف صرف کتابیں زیادہ پڑھنے سے ختم نہیں ہوتا، بلکہ درست تیاری، مسلسل مشق اور مثبت سوچ سے کم ہوتا ہے۔

یاد رکھیں:

📚 منظم تیاری کریں
پورے نصاب کو ایک ساتھ دیکھ کر گھبرانے کے بجائے اسے چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں۔

✍️ صرف پڑھیں نہیں، لکھ کر پریکٹس کریں
Past Papers، MCQs اور مختصر سوالات حل کریں تاکہ امتحانی ماحول سے مانوس ہوں۔

🧠 اپنے ذہن کو مثبت پیغام دیں
"میں نہیں کر سکتا" کے بجائے کہیں:
"میں تیاری کر رہا ہوں، اور ہر دن بہتر ہو رہا ہوں۔"

🌿 گہری سانس لیں اور خود کو پرسکون کریں
امتحان سے پہلے چند منٹ گہری سانسیں لینا ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

😴 نیند قربان نہ کریں
تھکا ہوا دماغ زیادہ پڑھ کر بھی کم یاد رکھتا ہے۔

🎯 مقصد خوف ختم کرنا نہیں، خوف کے باوجود بہتر کارکردگی دکھانا ہے۔

طالب علم! امتحان تمہاری قابلیت کا آخری فیصلہ نہیں، بلکہ اپنی تیاری کو جانچنے کا ایک موقع ہے۔

سوال آپ کا، جواب ہمارا!
Learning and Serving HUB
Muhammad Tahir Rabbani

#امتحان #طلبہ #تعلیم

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Yaseen Zameer, Mazhar Shah, Allauddin Achakzai Achakzai, ...
12/08/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Yaseen Zameer, Mazhar Shah, Allauddin Achakzai Achakzai, Sobia Imtiaz, Muhammad Dawood, Jawed Ali Khan, Mansoor Ali Kandhro, Kabir Ullah, Muhammad Riaz Muslims, Aseer Khan, Hameed Khan, Jamia Rahimia, Mirza Tariq Baig, Zafrullah Kalyar, Muhammad Ali Kamoka

👈کیا مسئلہ صرف طالب علم کے رویے میں ہے؟ضروری نہیں۔اگر ایک ہی طالب علم مختلف اساتذہ کے ساتھ نمایاں طور پر مختلف رویہ دکھا...
11/08/2026

👈کیا مسئلہ صرف طالب علم کے رویے میں ہے؟

ضروری نہیں۔

اگر ایک ہی طالب علم مختلف اساتذہ کے ساتھ نمایاں طور پر مختلف رویہ دکھاتا ہے تو ہمیں فوراً یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کہ مسئلہ صرف طالب علم میں ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے کہ طالب علم اور classroom environment ایک دوسرے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

ایک ہی طالب علم مختلف کلاسوں میں مختلف کیوں ہوتا ہے؟

1. استاد اور طالب علم کا تعلق

جس استاد کے ساتھ طالب علم خود کو عزت، سمجھ اور تحفظ محسوس کرتا ہے، وہاں وہ عموماً زیادہ مثبت اور ذمہ دار رویہ اختیار کرتا ہے۔
ایک supportive teacher طالب علم کے لیے ایسا ماحول بناتا ہے جہاں وہ سوال پوچھنے، غلطی کرنے اور سیکھنے سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔

2. Classroom Management

ہر استاد کا classroom management style مختلف ہوتا ہے۔
کسی کلاس میں rules واضح، expectations مناسب اور consequences مستقل و منصفانہ ہوتے ہیں، جبکہ کسی دوسری کلاس میں boundaries غیر واضح یا بہت سخت ہو سکتی ہیں۔

طالب علم ان مختلف ماحول میں مختلف ردِعمل دے سکتا ہے۔

3. Teaching Style

ہر طالب علم ہر teaching style کے ساتھ یکساں طور پر engage نہیں ہوتا۔

ممکن ہے کوئی طالب علم روایتی lecture میں غیر دلچسپ یا disruptive نظر آئے، لیکن discussion، activity، questioning، experiment یا practical work میں بہت active اور focused ہو جائے۔

اس لیے صرف behavior دیکھنا کافی نہیں، یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ طالب علم کس قسم کے learning environment میں بہتر perform کرتا ہے۔

4. استاد کی توقعات

یہ ایک بہت اہم پہلو ہے۔

اگر استاد پہلے ہی کسی طالب علم کو "شرارتی"، "کمزور" یا "مسئلہ پیدا کرنے والا" سمجھ لیتا ہے تو غیر شعوری طور پر اس کے ساتھ برتاؤ بھی اسی perception کے مطابق تبدیل ہو سکتا ہے۔

نتیجتاً طالب علم بھی اسی label کے مطابق ردِعمل دینا شروع کر سکتا ہے۔ Educational psychology میں اسے Pygmalion Effect اور Self-fulfilling Prophecy کے تناظر میں سمجھا جاتا ہے۔

5. Peer Environment

کلاس کے دوسرے طلبہ بھی behavior پر اثر ڈالتے ہیں۔

ممکن ہے ایک کلاس میں طالب علم کے دوست موجود ہوں اور وہ زیادہ distract ہو، جبکہ دوسری کلاس میں وہ زیادہ focused رہے۔ Peer pressure، competition، friendship اور group dynamics طالب علم کے رویے کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتے ہیں۔

6. طالب علم کے اپنے عوامل

یہ بھی ضروری ہے کہ ہم سارا ذمہ دار classroom environment یا teacher کو نہ ٹھہرائیں۔

طالب علم کی personality، motivation، self-regulation، maturity، موجودہ emotional state اور دیگر ذاتی عوامل بھی اس کے behavior میں کردار ادا کرتے ہیں۔

یعنی حقیقت یہ ہے کہ behavior کسی ایک factor کا نتیجہ نہیں ہوتا۔

تو پھر اصل سوال کیا ہونا چاہیے؟

غلط سوال:

«"یہ بچہ مسئلہ کیوں ہے؟"»

زیادہ بہتر سوال:

«"یہ طالب علم کن حالات میں بہتر یا خراب behavior دکھاتا ہے، اور ان حالات میں کیا فرق ہے؟"»

یہی ایک mature educational approach ہے۔

ایک آسان Diagnostic Formula

اگر ایک طالب علم:

Teacher A → مثبت اور focused behavior
Teacher B → disruptive behavior
Teacher C → average behavior

تو فوراً یہ نتیجہ نکالنا کہ "طالب علم بدتمیز ہے" ایک کمزور تشخیص ہو سکتی ہے۔

پہلے یہ دیکھیں:

Student × Teacher × Task × Peers × Classroom Climate

یعنی طالب علم، استاد، سرگرمی، ساتھی طلبہ اور classroom environment کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

لیکن ایک اہم حقیقت بھی ہے

اگر کوئی طالب علم تقریباً ہر استاد، ہر کلاس اور مختلف حالات میں مسلسل disruptive behavior دکھاتا ہے تو پھر student-level factors کو زیادہ سنجیدگی سے investigate کرنا چاہیے۔

لیکن اگر وہ صرف مخصوص اساتذہ یا مخصوص classroom environments میں مسئلہ پیدا کرتا ہے تو teacher–student interaction اور classroom environment کو نظر انداز کرنا بھی ایک professional mistake ہے۔

اصل کام سزا دینا نہیں، pattern سمجھنا ہے

ایک مؤثر استاد صرف یہ نہیں دیکھتا کہ:

"طالب علم نے کیا کیا؟"

بلکہ یہ بھی پوچھتا ہے:

"اس نے ایسا کیوں کیا؟"
"یہ behavior کن حالات میں پیدا ہوتا ہے؟"
"کیا مختلف environment میں اس کا behavior بدل جاتا ہے؟"
"اور ہم environment یا teaching approach میں کیا بہتر کر سکتے ہیں؟"

کیونکہ effective teacher صرف behavior کو punish نہیں کرتا، وہ behavior کے pattern کو diagnose کرتا ہے۔

اور یہی فرق ایک عام teacher اور ایک reflective, psychologically informed teacher کے درمیان ہوتا ہے۔




















#اساتذہ

Address

Islamabad
----

Opening Hours

Monday 00:00 - 00:00
Tuesday 00:00 - 00:00
Wednesday 00:00 - 00:00
Thursday 00:00 - 00:00
Friday 00:00 - 00:00
Saturday 00:00 - 00:00
Sunday 14:00 - 20:00

Telephone

+923009761954

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Learning and Serving HUB posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Learning and Serving HUB:

Shortcuts

Share

Category