Al Quran Institute

Al Quran Institute

Share

Contact For Learn Quran.
03134824444

03/05/2026

DOCUMENTS CLEARING SERVICE CO.

​OUR SERVICE INCLUDE:

​VISA DUBAI CATEGORY 2: 6500/- AED
​VISA DUBAI CATEGORY 3: 8500/- AED
​AJMAN FREEZONE EMPLOYEMENT VISA: 6500/- AED
​AJMAN FREEZONE PARTNER VISA BANGLADESH: 7000/- AED
​TRADE LICENSE - 18 QUOTA: 12000/- AED
​TRADE LICENSE - 60 QUOTA: 28000/- AED
​QUOTA DUBAI: 1500/- AED
​QUOTA SHARJAH: 1200/- AED

Louction 📌
Al Muteena Dubai

​BOOK NOW
055 528 6701

02/05/2026

DOCUMENTS CLEARING SERVICE CO.

​OUR SERVICE INCLUDE:

​VISA DUBAI CATEGORY 2: 6500/- AED
​VISA DUBAI CATEGORY 3: 8500/- AED
​AJMAN FREEZONE EMPLOYEMENT VISA: 6500/- AED
​AJMAN FREEZONE PARTNER VISA BANGLADESH: 7000/- AED
​TRADE LICENSE - 18 QUOTA: 12000/- AED
​TRADE LICENSE - 60 QUOTA: 28000/- AED
​QUOTA DUBAI: 1500/- AED
​QUOTA SHARJAH: 1200/- AED

​BOOK NOW
055 528 6701

04/03/2024

ہر طرف انوکھے نام اور نئے کام کا جنوں ہے،
اچھے کام کیا کیجیے. یہ کوئی نہیں کرتا.
اللہ کا نام لیا کیجیے، درود پڑھا کیجیے، نماز کے لیے مسجد جایا کیجیے، یہ سب کان ہمارے معاشرے کے صرف %5 لوگ کرتے ہیں.

۔





#قاری
#رمضان2024























03/03/2024

سپیشل رمضان شیڈول

1- تجوید القرآن کورس
وقت:
بعد از نماز فجر
2- سیرت النبیﷺ کورس
وقت:
بعد از نماز ظہر
3- خلاصة القرآن کورس
وقت:
بعد از نماز عصر
نوٹ:
ہر کلاس تقریباً دس منٹ کی ہو گی. اور تمام کورسز یکم تا 21 رمضان ہوں گے. إن شاء الله
القرآن انسٹیٹیوٹ
📌دی اسکالر ہاسٹل، پارک روڈ، ہاسٹل سٹی،
اسلام آباد
0313 4824444
رمضان کورسز میں آنلائن شرکت کے لیے اور اس کے متعلق دیگر اپڈیٹس کے لیے ہمارا چینل فالو کیجیے.
القرآن انسٹیٹیوٹ
https://whatsapp.com/channel/0029Va8IPxFIt5rtMgDmLC13

۔

#قران #رمضان
#رمضان2024



#قاری





















01/03/2024

خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں اللہ نے قرآن کی وجہ سے عزت دی،

ـ





#رمضان2024






#منشاوي
#قاری
#قرآن

27/02/2024

شیڈول برائے رمضان

1- تجوید القرآن کورس
وقت:
بعد از نماز فجر
2- سیرت النبیﷺ کورس
وقت:
بعد از نماز ظہر
3- خلاصة القرآن کورس
وقت:
بعد از نماز عصر
استاذ:
حضرت مولانا مفتی معاویہ محبوب صاحب مدظلہ
نوٹ:
ہر کلاس دس منٹ کی ہو گی. اور تمام کورسز یکم تا 25 رمضان ہوں گے. إن شاء الله
بمقام
الفلاح - اسلام آباد
0313 4824444

۔



#رمضان2024 #رمضان #رمضانيات #رمضانكريم

27/02/2024

جب قرآن نہیں پڑھیں گے تو ہر عربی لفظ کو قرآن سمجھنے سے فتنے بپا ہوں گے

26/02/2024

تجوید کورس

اس کورس میں ہم درست عربی تلفظ اور تجویدی قواعد کے مطابق قرآن پڑھنا سیکھائیں گے.
إن شاء الله

استاذ:
حضرت مولانا مفتی معاویہ محبوب صاحب دامت برکاتہم العالیہ
الفلاح اسلام آباد

وقت:
بعد از نمازِ عصر
دوانیہ کورس:
یکم رمضان تا 25 رمضان

بمقام: دی اسکالر ہاسٹل، ہاسٹل سٹی، اسلام آباد
کلک برائے رجسٹریشن👇
0313 4824444























26/02/2024

اچھرہ واقعہ کے سب کردار جاہل تھے،
اور اس جہالت کو مولوی پر تھونپنے والے بھی جاہل ہیں،
لہذا ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک سے جہالت ختم کی جائے، اور تعلیم عام کی جائے،
آنلائن قرآنی تعلیم کے لیے ہم سے رابطہ کیجیے،
0313 4824444

22/02/2024

اجتماع
بموقع
شب برآت

جس میں تلاوت، نوافل، صلاة التسبیح کے ساتھ ساتھ نماز اور اس کے متعلقہ دیگر مسائل پر تفصیلی ورکشاپس بھی ہوں گی، إن شاء الله

بتاریخ
25 فروری بروز اتوار
بعد از نمازِ عشاء

بمقام: دی اسکالر ہاسٹل، ہاسٹل سٹی اسلام آباد 03134824444

22/02/2024

حالیہ متنازعہ فیصلہ کی حقیقت اور مکمل روداد
ــــــــــ

مقدمہ نمبر 22/661 تھانہ چناب نگر چینوٹ -- قادیانی مذہب کی تشہیرقاضی فائز عیسی سپریم کورٹ پاکستان
*پس منظر*
قادیانی جماعت کے کہ ذمہ داران ایک عرصہ سے تحریف شدہ ترجمے اور تفسیر پر مبنی قرانی مصحف سادہ لوح لوگوں میں تقسیم کر رہے تھے۔ مسلمان دھوکہ کھا کر دین سمجھنے سے قاصر تھے۔ مسلمان سراب کو سایہ سمجھ کر قادیانی مذہب کی حقیقت سے نہ آشنا ہوتے ہوئے گمراہ ہو رہے تھے اس ایشو کے خاتمے کے لیے ایک عرصہ سے چند عاشقان رسول اپنی وفاداری نبھاتے ہوئے قانونی جنگ لڑ رہے تھے یہاں تک کہ تمام فورم سے مایوس ہو کر 2018 میں لاہور ہائی کورٹ میں محمد حسن معاویہ کے ذریعے ایک رٹ پٹیشن دائر کی گئی جس کا فیصلہ مارچ 2019 میں آیا کہ قانون ساز ادارے قادیانیوں کے غیر قانونی غیر آئینی اقدامات کے خلاف قانونی کاروائی کریں 6.3.2019 کو قادیانیوں نے چناب نگر کالج کے گراؤنڈ میں ایک تقریب منعقد کی جہاں پران کے سرکردہ لوگوں نے تحریف شدہ ترجمہ تفسیر پر مبنی قرآنی مصحف تقسیم کرنے کا اعلان کیا جس پر محمد حسن معاویہ کے ذریعے چناب نگر تھانے میں درخواست دی گئی مگر کوئی کاروائی نہ ہونے پر 7 مارچ 2019 کو یہ تقریب منعقد ہوئی جس کی تمام شواہد کے ساتھ 14 مارچ 2019 کو دوبارہ درخواست دی گئی۔ درخواست پر چینوٹ پولیس کے SOPs کے مطابقDPO چینوٹ، DIC کمیٹی اور بعد میں JIT اور دیگر کمیٹیوں کے روبرو انکوائری چلتی گئی جس میں فریقین پیش ہوتے رہے اور تحریری موقف دیا جاتا رہا حتی کہ ان کمیٹیوں کے فیصلے کے مطابق درخواست قران بورڈ پنجاب کو رائے کے لیے پولیس کی طرف سے بھجوا دی گئی جس پر بعد ازاں پنجاب قران بورڈ نے ایف ائی ار کے اندراج کا لیٹر لکھا مدعی فریق کی جانب سے 12.12.2022 کو بذریعہ تحریری بیان یہ بات ریکارڈ پر لائی گئی کہ یہ تحریف شدہ ترجمہ قران پاک ابھی تک چناب نگر میں مدرسۃ الحفظ اور عائشہ اکیڈمی میں پڑھائے جا رہے ہیں مدعی فریق کی 2019 سے لے کر 2022 تک دی گئی درخواستوں کو مقدمے کا حصہ بنایا جا چکا ہے جس پر مقدمے میں قران ایکٹ 2011 کی ترمیم شدہ دفعات مقدمہ میں لگائی گئی یہ بات غلط ہے کہ یہ دفعہ 2019 کو ہونے والے وقوعے کی وجہ سے لگائی گئی بلکہ درحقیقت یہ جرم 2019 سے 2022 تک مسلسل رونما ہوتے رہے اور قادیانیوں نے کسی بھی سٹیج پر اس چیز کا انکار نہ کیا کہ وہ قران پاک کے تحریف شدہ مصحف کی پرنٹنگ ، یا اسکی تشہیر ،یا ا سکی تبلیغ نہیں کرتے. المیہ یہ کہ معزز چیف جسٹس صاحب مدعی فریق کے وکلا کی کوئی بحث ریکارڈ پر نہ لائے جس سے عوام الناس کو اصل حقائق کا علم ہو سکتا۔
مقدمہ (اور ایف آئی آر 6 دسمبر) 2022 میں درج ہوئی اور بوقت گرفتاری بھی ملزم سے جو سلیبس اور تفصیلات برآمد ہوئی ان کے مطابق اس وقت تک تحریف شدہ مصحف کی نہ صرف تشہیر کی جا رہی تھی بلکہ تعلیم و تربیت اور تبلیغ بھی کی جا رہی تھی۔
(قاضی فائز عیسی نے درخواست گزار مبارک ثانی کے وکیل کے حوالہ سے کہا کہ ایف آئی آر میں 2019 کے واقعے کا ذکر ہے.. اس وقت تک تفسیر صغیر ممنوعہ کتاب نہیں تھی.. جوکہ 2021 میں ممنوع قرار پائی)
کاروئی سماعت سپریم کورٹ بینچ 1 مورخہ 24/2/6
1.سرکاری وکیل کی جانب سے ٹائم مانگا گیا کہ میری تیاری نہیں ہے اور میرے پاس ریکارڈ نہ ہے پہلی تاریخ ہے اور مجھے دو دن کا وقت چاہیے مقدمہ حساس نوعیت کیا ہے جب تک میرے پاس مکمل ریکارڈ نہیں ہوگا میں بحث نہیں کر سکتا قاضی فائز عیسی کی طرف سے سرکاری وکیل کو ٹائم دینے سے انکار-----------مدعی کی طرف سے وکیل نے پیش ہو کر بتایا کہ میں آج ہی اس کیس میں نامزد ہوا ہوں اور سرکار دو دن کا ٹائم مانگ رہی ہے کیس کو ایک دو دن کے لیے ملتوی کر دیا جائے -------مدعی کون ہوتا مقدمہ کروانے والا یہ ریاست کے خلاف جرم ہے--- چیف جسٹس کی ریمارکس۔
جب قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا ہے تو ان کی طرف سے شائع کیا گیا قران پاک ،ترجمہ یا تفسیر ان کی کتاب ہے-- قران پاک نہیں اس کو قران پاک کہنا بے ادبی ہے اور جو انہوں نے چھپا ہے وہ ان کی کتاب ہے--- آپ اس کو قران پاک نہ کہیں اپ ان کے پاس جائیں انہیں پیار سے سمجھائیں آپ وکیل کے طور پہ پیش ہوں مدعی کے جذبات جو ہیں اگر وہ وکیل کے اندآ جائیں تو پھر وہ وکیل نہیں رہتا---- چیف جسٹس کا مدعی کے وکیل سی مکالمہ شکایت کنندہ کے پاس کیا حق ہے کہ وہ ایسے معاملات میں مدعی بنے--- چیف جسٹس کی ریمارکس ۔وہ تو تمام قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو کیا کریں---- جسٹس مسرت حلالی۔ مدعی کے وکیل کی طرف سے تمام حقائق عدالت کو علم میں لانے کی کوشش کی گئی جس پر چیف جسٹس مزید برہم ہو کر وکیل صاحب کو توہین عدالت اور جیل بھیجنے کی دھمکیاں دینے لگے کہ اگر آپ نے مزید کوئی جملہ بولا تو آپ کو کمیٹی کے حوالے کر دوں گا ۔
معزز چیف جسٹس صاحب نے فرمایا کہ -B 295 کا اطلاق ہی نہ ہوتا ہے جبکہ ڈیفائل کا مطلب کسی چیز میں ملاوٹ کرنا ہوتا ہے جو -B 295 کے اندر درج ہے قران پاک کے ترجمہ میں ملاوٹ کرنا -B 295 میں ہر حال میں آتا ہے اسی طرح 298-C جو واضح کرتا ہے کہ قادیانی کسی صورت بھی شعائر اسلام اور اسلامی بنیاد استعمال نہ کر سکتے ہیں مگر اس ساری چیز کے باوجود -B 295 298-C, اور 7 قران ایکٹ حذف کر دیے گئیں-
فیصلہ اور اثرات
معزز چیف جسٹس صاحب نے آرٹیکل 20 کی بابت بتایا کہ قادیانیوں کو مذہبی آزادی ہے اسی آرڈر کو لے کر قادیانی جماعت ارباب حکومت کے ہر ذمہ دار کے پاس درخواستیں دائر کر رہے ہیں کہ انہیں مذہبی آزادی چیف جسٹس آف پاکستان نے دے دی ہے لہذا ان کے خلاف کوئی قانونی کاروائی پورے ملک میں مت کیجائے مگر فیصلے کے اندر چیف جسٹس صاحب یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ قادیانی کون سا مذہب ہے؟ اسکا کون نبی ہے؟ اسکی کتاب کیا ہے؟ شریعت کیا ہے؟ یہ کہاں پایا جاتا ہے؟ اس مذہب کا مقصد کیا ہے؟ ان تمام سوالوں کا جواب اس فیصلے میں موجود نہیں کیونکہ قادیانیت مذہب نہیں جعلسازی کا دوسرا نام ہے جعلسازی کو پاکستان کا قانون قابل گرفت سزا قرار دیتا ہے۔آ ئین پاکستان آرٹیکل 20 تمام شہریوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ اور اشاعت کا حق دیتا ہے مگر قانون کے دائیرے کے اندر رھتے ہوے ۔معزز چیف جسٹس نے بددیانتی کرتے ہوئے فیصلے میں حقائق کو چھپا کر قادیانیوں کو فائدہ دینے کی کوشش کی ہے اور جب بھی کسی عدالت میں ان جرائم کے متعلق کیس جائے گا تو قادیانی جماعت کی طرف سے اس فیصلے کا حوالہ دے کر عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔جب وکیل مدعی نے معزز عدالت کو بتایا کہ جیسے طالبان آئین کے کچھ سیکشن نکال کر یا اس کی اپنی تشریحات کے ساتھ آئین کی پرنٹنگ کر کے اسے اپنے علاقے، اپنی کمیونٹی میں 1973 کا آئین ظاہرکر کے چلانا چاہیں تو قانون اس کی اجازت نہیں دیتا اسی طرح قانون قران پاک کی تحریف شدہ ترجمہ و تشریح کے مصحف کی تشہیر کی اجازت نہیں دیتا تو معزز عدالت نے وکیل مدعی کو توہین عدالت دینے کا عندیہ دیا۔ اہم ترین بات یہ ہیکہ قادیانیوں کے متعلق جب بھی کوئی اھم ایشو سپریم کورٹ آف پاکستان میں جاتا ہے تو بوقت بحث UNO کے نمائندے, یورپی یونین کے نمائندے اور دیگر مبصرین اپنے ٹاؤٹوں کو بچانے کیلیے گوری شکلیں لیکر سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت میں بیٹھے پائے ہیں جنہیں دیکھ کر معزز جج صاحبان کے رویے بدل جاتے ہیں۔ مگر افسوس یہ کہ ہمارے مذہبی طبقہ سپریم کورٹ کی سماعت میں موجود ہونا اپنے قیمتی وقت کا ضیاع سمجھتا ہے
سپریم کورٹ نے قادیانی ملعونوں کو پاکستان میں قرآن کی من مانی تشریح اور ترجمہ کی اجازت دے دی،
کچھ سال پہلے چناب نگر میں قادیانی ملعونوں کا ایک پریس پکڑا گیا تھا جس میں مرزا ملعون کی تفسیر قرآن کو چھاپہ جارہا تھا، جس پر پریس کے مالک کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئ تھی، 6 فروری کو جب پورا پاکستان الیکشن کے معاملات میں مگن تھا سپریم کورٹ نے اس ملعون کی پٹیشن پر فیصلہ سنا کر اسکے خلاف ایف آئی آر کو ختم کرکہ اس کو بری کرنے کا حکم دیا ہے،
مزید یہ بھی حکم دیا ہے کہ قادیانیوں کو دیگر کافروں کی طرح پاکستان میں اپنے مذہب پر عمل کرنے اور ترویج کرنے کی اجازت ہے اس ضمن میں وہ اپنی کتب شائع اور انکا اجراء بھی کرسکتے ہیں،
اس فیصلہ نے تکنیکی طور پر قادیانیوں کو پاکستان مکمل آزادی دے دی ہے،
کیونکہ قادیانی ملعون اپنے مذہب کے دلائل قرآن و حدیث کی من مانی تشریح کرکے ہی اخذ کرتے اگر یہ آزادی انکو مل گئی تو پھر انکو کافر قرار دینے والی شقوں کی کوئی تکنیکی حیثیت نہیں بچے گی،
میں تمام لوگوں سے التماس کرتا ہوں کہ اپنے ارد گرد تمام علماء تک اس بات کو پہنچائیں تاکہ اس حوالے سے کوئی قانونی جنگ لڑی جاسکے اور عوامی پریشر کے ذریعہ اس لعین حکم کو روکا جاسکے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Hostel City Islamabad
Islamabad