02/11/2024
اپنے فیملی کو ساتھ لے جائیں ۔۔۔ مکالمہ جو بھی ہے سن لیں ۔
Voice Media Network is an independent, Pvt.Ltd company registered with Securities and Exchange Commission of Pakistan.
Established in 2019, VMN has been focusing and operating in four key areas, which include Research, Dialogue, Trainings and Media.
02/11/2024
اپنے فیملی کو ساتھ لے جائیں ۔۔۔ مکالمہ جو بھی ہے سن لیں ۔
25/10/2024
Future competition
23/10/2024
دینی مدارس رجسٹریشن ! سوسائٹی ایکٹ کیا ہے؟
مسائل اور تجاویز
مدارس کے حوالے سے کئی صحافی دوست رابطہ کررہے ہیں ۔ مگر بدقسمتی سے وقت نہیں ملا اور قانونی ماہرین سے ڈسکس بھی نہیں کیا البتہ سوسائٹی ایکٹ کا نام سن کر مجھے پریشانی لاحق ہوئی ۔
اگر مدارس کو سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کی قانون سازی کی گئی ہے۔ تو انتہائی افسوسناک اور کسی حد تک میرے لئے حیرتناک بھی ہے۔
سب سے پہلے ماہرین قانون رہنمائی فرمائیں کہ سوسائٹی ایکٹ کیا ہے ؟
برطانوی نوآبادیاتی قانون ۔ جو 1860 میں آیا ہے ۔
دینی مدارس کا گزشتہ چالیس سال سے مطالبہ رہا ہے کہ سوسائٹی ایکٹ کے مطابق رجسٹریشن غلط ہے کیونکہ صوبائی حکومتوں میں یہ شعبہ انڈسٹریل ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کیساتھ ہے۔ جبکہ مدرسہ تعلیمی ادارہ ہے انڈسٹری نہیں ۔ لہذا مدارس کی رجسٹریشن وزارت تعلیم کیساتھ ہونی چاہئے۔
تحریک انصاف کے دور میں ملٹری اسٹیلشمنٹ کی مذہبی امور میں اثر رسوخ مزید بڑھ گیا تو اکابر علما اور اکابرین وفاق نے یہ مسئلہ جنرل باجوہ کیساتھ اٹھایا، کمیٹی بنی اور ایک معاہدہ اتحاد تنظیمات اور وفاقی وزارت تعلیم کے درمیان طے پایا۔ پھر وفاقی ڈائریکٹریٹ بنی ۔
وہاں سترہ ہزار مدارس رجسٹرڈ ہوگئے جبکہ اتحاد تنظیمات پیچے ہٹنے پر ردعمل میں پانچ مزید وفاق بنے۔ اتحاد تنظیمات بھی پیچھے ہٹ گئی۔
پھر پرانا مطالبہ آیا کہ انڈسٹریل ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے سوسائٹی ایکٹ کے تحت پرانی رجسٹریشن بحال کی جائے۔
مجھے بڑی حیرت رہی کہ اتنا عجیب مطالبہ کیوں کی جارہا ہے ؟ اس کی لاجک سمجھ نہیں آئی۔
یہ قانون اتنا خطرناک ہے کہ اس میں مدرسے کا بورڈ آف گورننس یا بورڈ آف ڈائریکٹر بنے گا۔
اس میں مہتمم کے ساتھ چھ اور لوگ شریک اختیار ہونگے۔ اور بورڈ مہتمم کو قانونا معطل بھی کرسکتا ہے۔
جنوبی ایشیا کا مہتمم کم ازکم اپنے اختیارات میں کسی کو شریک نہیں بناسکتا۔ اس سے مسائل مزید بڑھیں گے۔ نیز یہ رجسٹریشن ایک سال کیلئے ہوگی اگلے سال دوبارہ دفاتر میں ذلیل ہونا پڑیگا۔
یہ بائی لاز سوسائٹی ایکٹ کے ہیں ۔ مجھے پورا یقین ہے کہ کسی نے پڑھے نہیں ہونگے۔
اس میں بورڈ کے تمام ممبران کی سیکیورٹی کلیئرنس ضروری ہے جوکہ ایک تکلیف دہ مرحلہ ہے۔
اگر بورڈ ممبرز ایک سے زیادہ اضلاع سے تعلق رکھتے ہو تو یہ کلیئرنس کئی ماہ لے سکتا ہے۔
ایک غریب مدرسے کیلئے جس کا پورا سسٹم کیش پر ہوتا ہے ان کیلئے سالانہ آڈٹ لازمی ہے وگرنہ ان کی رجسٹریشن کی رینیویل نہیں ہوگی۔
مطلب ختم ہوگا۔ ایک غریب مولوی کیلئے پولیس اور اس ڈیپارٹمنٹ کو مینیج کرنا بہت ہی مشکل اور تکلیف دہ مرحلہ ہے۔
میں نے گزشتہ بارہ سال میں اس ایکٹ کے تحت تقریبا چھ ادارے بنائے یا اس کا حصہ رہا۔
پوری حکومتی مشینری کیساتھ تعلقات، سیاسی اور بیوروکریسی کے اثرورسوخ کے باوجود مجھے اس رجسٹریشن میں ہزار مسائل پیش آئے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تو اس میں سی ٹی ڈی سے بھی کلیئرنس کرنی پڑیگی جو کہ اور مصیبت ہے۔
سوال یہ ہے سوسائٹی ایکٹ اور انڈسٹریز کیساتھ مدارس کی کیا تک بنتی ہے ؟؟؟
اتحاد تنظیمات کی دیگر قیادت کیساتھ یہ ڈرافٹ بھی شئیر نہیں کیا گیا ہے۔
نیز ڈائریکٹریٹ آف ریلیجس ایجوکیشن پر اعتراض یہی تھا کہ اس میں بنک اکاؤنٹ نہ کھولنے کا مسئلہ ہے، اسی طرح مدرسے کے نام پر زمین وغیرہ ٹرانسفر نہیں کرسکتے۔ اسی طرح دیگر امور ۔
لیکن اگر اسی ادارے کو لیکر باقاعدہ قانون سازی کی جاتی تو زیادہ مناسب تھا۔
اب کرنے کے کام کیا ہیں ؟
۱- ڈائریکٹریٹ کا کام بھی چلتا رہے اور سوسائٹی ایکٹ کا بھی ۔
۲- مہتممین اور مدارس کو جس میں زیادہ سہولت ہو وہی کریں ۔
۳- ڈائریکٹریٹ اپنے کام کو مزید موثر اور بہتر کرے اوقاف، سمیت بنک اکاؤنٹس اور دیگر امور کیلئے تیز سروسز شروع کرے۔
۴- سوسائٹی ایک کے تمام صوبائی ڈیپارٹمنٹ میں ون ونڈو آپریشن کے لئے حکومتی ڈائریکٹوز آنے چاہئے۔
۵- سوسائٹی ایکٹ میں بھی مدرسہ کیلئے سپیشل ونڈو بنائے جائیں تاکہ کام سلیقے طریقے سے ہوسکیں ۔
https://www.facebook.com/share/m5Qa7gxTPtd9Sdos/?
دینی مدارس رجسٹریشن ! سوسائٹی ایکٹ کیا ہے؟
مسائل اور تجاویز
مدارس کے حوالے سے کئی صحافی دوست رابطہ کررہے ہیں ۔ مگر بدقسمتی سے وقت نہیں ملا اور قانونی ماہرین سے ڈسکس بھی نہیں کیا البتہ سوسائٹی ایکٹ کا نام سن کر مجھے پریشانی لاحق ہوئی ۔
اگر مدارس کو سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کی قانون سازی کی گئی ہے۔ تو انتہائی افسوسناک اور کسی حد تک میرے لئے حیرتناک بھی ہے۔
سب سے پہلے ماہرین قانون رہنمائی فرمائیں کہ سوسائٹی ایکٹ کیا ہے ؟
برطانوی نوآبادیاتی قانون ۔ جو 1860 میں آیا ہے ۔
دینی مدارس کا گزشتہ چالیس سال سے مطالبہ رہا ہے کہ سوسائٹی ایکٹ کے مطابق رجسٹریشن غلط ہے کیونکہ صوبائی حکومتوں میں یہ شعبہ انڈسٹریل ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کیساتھ ہے۔ جبکہ مدرسہ تعلیمی ادارہ ہے انڈسٹری نہیں ۔ لہذا مدارس کی رجسٹریشن وزارت تعلیم کیساتھ ہونی چاہئے۔
تحریک انصاف کے دور میں ملٹری اسٹیلشمنٹ کی مذہبی امور میں اثر رسوخ مزید بڑھ گیا تو اکابر علما اور اکابرین وفاق نے یہ مسئلہ جنرل باجوہ کیساتھ اٹھایا، کمیٹی بنی اور ایک معاہدہ اتحاد تنظیمات اور وفاقی وزارت تعلیم کے درمیان طے پایا۔ پھر وفاقی ڈائریکٹریٹ بنی ۔
وہاں سترہ ہزار مدارس رجسٹرڈ ہوگئے جبکہ اتحاد تنظیمات پیچے ہٹنے پر ردعمل میں پانچ مزید وفاق بنے۔ اتحاد تنظیمات بھی پیچھے ہٹ گئی۔
پھر پرانا مطالبہ آیا کہ انڈسٹریل ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے سوسائٹی ایکٹ کے تحت پرانی رجسٹریشن بحال کی جائے۔
مجھے بڑی حیرت رہی کہ اتنا عجیب مطالبہ کیوں کی جارہا ہے ؟ اس کی لاجک سمجھ نہیں آئی۔
یہ قانون اتنا خطرناک ہے کہ اس میں مدرسے کا بورڈ آف گورننس یا بورڈ آف ڈائریکٹر بنے گا۔
اس میں مہتمم کے ساتھ چھ اور لوگ شریک اختیار ہونگے۔ اور بورڈ مہتمم کو قانونا معطل بھی کرسکتا ہے۔
جنوبی ایشیا کا مہتمم کم ازکم اپنے اختیارات میں کسی کو شریک نہیں بناسکتا۔ اس سے مسائل مزید بڑھیں گے۔ نیز یہ رجسٹریشن ایک سال کیلئے ہوگی اگلے سال دوبارہ دفاتر میں ذلیل ہونا پڑیگا۔
یہ بائی لاز سوسائٹی ایکٹ کے ہیں ۔ مجھے پورا یقین ہے کہ کسی نے پڑھے نہیں ہونگے۔
اس میں بورڈ کے تمام ممبران کی سیکیورٹی کلیئرنس ضروری ہے جوکہ ایک تکلیف دہ مرحلہ ہے۔
اگر بورڈ ممبرز ایک سے زیادہ اضلاع سے تعلق رکھتے ہو تو یہ کلیئرنس کئی ماہ لے سکتا ہے۔
ایک غریب مدرسے کیلئے جس کا پورا سسٹم کیش پر ہوتا ہے ان کیلئے سالانہ آڈٹ لازمی ہے وگرنہ ان کی رجسٹریشن کی رینیویل نہیں ہوگی۔
مطلب ختم ہوگا۔ ایک غریب مولوی کیلئے پولیس اور اس ڈیپارٹمنٹ کو مینیج کرنا بہت ہی مشکل اور تکلیف دہ مرحلہ ہے۔
میں نے گزشتہ بارہ سال میں اس ایکٹ کے تحت تقریبا چھ ادارے بنائے یا اس کا حصہ رہا۔
پوری حکومتی مشینری کیساتھ تعلقات، سیاسی اور بیوروکریسی کے اثرورسوخ کے باوجود مجھے اس رجسٹریشن میں ہزار مسائل پیش آئے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تو اس میں سی ٹی ڈی سے بھی کلیئرنس کرنی پڑیگی جو کہ اور مصیبت ہے۔
سوال یہ ہے سوسائٹی ایکٹ اور انڈسٹریز کیساتھ مدارس کی کیا تک بنتی ہے ؟؟؟
اتحاد تنظیمات کی دیگر قیادت کیساتھ یہ ڈرافٹ بھی شئیر نہیں کیا گیا ہے۔
نیز ڈائریکٹریٹ آف ریلیجس ایجوکیشن پر اعتراض یہی تھا کہ اس میں بنک اکاؤنٹ نہ کھولنے کا مسئلہ ہے، اسی طرح مدرسے کے نام پر زمین وغیرہ ٹرانسفر نہیں کرسکتے۔ اسی طرح دیگر امور ۔
لیکن اگر اسی ادارے کو لیکر باقاعدہ قانون سازی کی جاتی تو زیادہ مناسب تھا۔
اب کرنے کے کام کیا ہیں ؟
۱- ڈائریکٹریٹ کا کام بھی چلتا رہے اور سوسائٹی ایکٹ کا بھی ۔
۲- مہتممین اور مدارس کو جس میں زیادہ سہولت ہو وہی کریں ۔
۳- ڈائریکٹریٹ اپنے کام کو مزید موثر اور بہتر کرے اوقاف، سمیت بنک اکاؤنٹس اور دیگر امور کیلئے تیز سروسز شروع کرے۔
۴- سوسائٹی ایک کے تمام صوبائی ڈیپارٹمنٹ میں ون ونڈو آپریشن کے لئے حکومتی ڈائریکٹوز آنے چاہئے۔
۵- سوسائٹی ایکٹ میں بھی مدرسہ کیلئے سپیشل ونڈو بنائے جائیں تاکہ کام سلیقے طریقے سے ہوسکیں ۔
22/07/2024
https://www.facebook.com/share/So8NoH2nwd7RGRJ1/?
🔔 𝐄𝐱𝐜𝐢𝐭𝐢𝐧𝐠 𝐀𝐧𝐧𝐨𝐮𝐧𝐜𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭 🔔
𝐂𝐚𝐥𝐥𝐢𝐧𝐠 𝐚𝐥𝐥 𝐂𝐡𝐚𝐧𝐠𝐞𝐦𝐚𝐤𝐞𝐫𝐬 𝐚𝐜𝐫𝐨𝐬𝐬 𝐏𝐚𝐤𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧! 𝐀𝐳𝐚𝐝𝐢 𝐅𝐞𝐥𝐥𝐨𝐰𝐬𝐡𝐢𝐩 𝐂𝐨𝐡𝐨𝐫𝐭 𝐈𝐈𝐈 𝐢𝐬 𝐡𝐞𝐫𝐞!
Team International Research Council for Religious Affairs - IRCRA proudly presents the Azadi Fellowship Cohort III, an incredible opportunity for youth leaders, social activists, Changemakers and interfaith leaders aged 18-35 to join a transformative community.
𝐏𝐫𝐨𝐠𝐫𝐚𝐦 𝐎𝐯𝐞𝐫𝐯𝐢𝐞𝐰:
Azadi Fellowship is a fully funded, seven-day residential program designed to empower young Pakistanis. Through intensive discussions, workshops, and experiential learning sessions, participants will delve into crucial themes such as the Constitution of Pakistan, Inter-religious Dialogue, Countering Violent Extremism, Regional Connectivity and Stability, International Law and Treaties, and more.
𝐊𝐞𝐲 𝐓𝐡𝐞𝐦𝐞𝐬 𝐂𝐨𝐯𝐞𝐫𝐞𝐝:
1. Constitution of Pakistan
2. Inter-religious Dialogue
3. Countering Violent Extremism
4. Regional Connectivity and Stability
5. International Law and Treaties
6. National Narrative Pegham-e-Pakistan
7. Pakistan Women Peace and Security
8. Human Rights and Civic Rights Protection
9. Climate Change
10. Democracy and Religious Freedom
𝐀𝐩𝐩𝐥𝐢𝐜𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐃𝐞𝐚𝐝𝐥𝐢𝐧𝐞: July 26, 2024 by 11:59 PM.
Don't miss this chance to be part of a dynamic network committed to building a more peaceful Pakistan. Apply now via the link below:
𝐀𝐏𝐏𝐋𝐈𝐂𝐀𝐓𝐈𝐎𝐍 𝐅𝐎𝐑𝐌:
You can visit our website for application form.
𝗪𝗲𝗯𝘀𝗶𝘁𝗲: https://ircra.org/
Note: Equal participation from individuals of diverse professions, faiths, and genders is encouraged. Best wishes to all applicants!
𝐏𝐥𝐞𝐚𝐬𝐞 𝐛𝐞 𝐢𝐧𝐟𝐨𝐫𝐦𝐞𝐝 𝐭𝐡𝐚𝐭 𝐚𝐧𝐲 𝐟𝐨𝐫𝐦 𝐟𝐢𝐥𝐥𝐞𝐝 𝐮𝐬𝐢𝐧𝐠 𝐀𝐈, 𝐂𝐡𝐚𝐭𝐆𝐏𝐓, 𝐨𝐫 𝐜𝐨𝐩𝐢𝐞𝐝 𝐟𝐫𝐨𝐦 𝐭𝐡𝐞 𝐢𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐞𝐭 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐛𝐞 𝐞𝐥𝐢𝐦𝐢𝐧𝐚𝐭𝐞𝐝 𝐝𝐮𝐫𝐢𝐧𝐠 𝐭𝐡𝐞 𝐢𝐧𝐢𝐭𝐢𝐚𝐥 𝐬𝐡𝐨𝐫𝐭𝐥𝐢𝐬𝐭𝐢𝐧𝐠 𝐩𝐡𝐚𝐬𝐞.
𝗜𝗻𝘀𝘁𝗮𝗴𝗿𝗮𝗺 𝗟𝗶𝗻𝗸: https://www.instagram.com/ircra3?igsh=MWFsbnp2dG8ydXdtdQ==
𝗟𝗶𝗻𝗸𝗲𝗱𝗜𝗻 𝗟𝗶𝗻𝗸: https://www.linkedin.com/in/ircra-isd-870400218?utm_source=share&utm_campaign=share_via&utm_content=profile&utm_medium=android_app
Join us in shaping a brighter, more harmonious future for Pakistan! 🕊️🇵🇰
21/07/2024
قرآنی معاہدات ! قران مجید کی تعبیر و تشریح کے حوالے سے یہ اپنی نوعیت کا پہلا منفرد کام ہے۔ جسے ہمارے انتہائی محترم احمر بلال صوفی نے ترتیب دیا ہے۔ یہ کتاب انگریزی میں تھا ہمارے ادارے نے اس کا اردو ترجمہ کیا۔ تحقیقات۔Tahqiqaat کے مدیر شفیق منصور صاحب نے ترجمہ کیا جبکہ راقم نے تصحیح نظر ثانی کی اور مقدمہ لکھا۔ یہ کتاب اب tahqiqaat.pk
کے ای لائبریری مفت ڈاونلوڈ کریں اور اپنا فیڈ بیک ضرور دیں ۔
علوم قرانیہ میں دلچسپی لینے والے حضرات کیلئے یہ ایک منفرد تحفہ ہے۔ امید ہے پسند آئیگا ۔
تحقیقات اسلامیات ایڈوانسڈ
تاریخ ادب اور مذہب
Meerahmad Yaad
https://www.facebook.com/share/gE2K16PgSBamc6QL/?
We are pleased to announce the release of our publication, “Qurani’c Covenants: An Introduction,” now available in Urdu! This research explores the contractual aspects of the Quran, providing a fresh perspective for believers. Download the free PDF from our website
Link: https://lnkd.in/grbpDPS3
The English version is published by Sangemeel and is also available on our website and on Amazon.
Link: https://lnkd.in/dGsGswdY
Link to Amazon : https://lnkd.in/gjR3ypH3
05/07/2024
ذوق پرواز، ایک سفرنامہ
سعداللہ جان برق
۔۔۔
ہمارے عزیز دوست ڈاکٹر فصیح الدین اشرف، ایک صاحبِ طرز ادیب اور مضمون نگار ہیں اور صوبہ خیبرپختونخوا کا ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے یوں تو وہ پولیس کے محکمے سے وابستہ ہیں، مگر تصوف و سلوک، تاریخ اور بین الاقوامی اُمور بھی ان کی گفتگو اور تحریری موضوعات کا حصہ ہوتے ہیں اور انہیں ان پر کمال دسترس حاصل ہے۔ ابھی ان کا ایک سفرنامہ ’ذوقِ پرواز‘ کتابی شکل میں شائع ہوا ہے جو پاکستان کے فکری و ادبی ذخیرے میں ایک خوشگوار اضافہ ہے۔ ان کی اس کتاب پر خیبرپختونخوا کے معروف صحافی اور کالم نگار سعداللہ جان برق نے تبصرہ لکھا ہے، جو قارئین کے لیے پیشِ خدمت ہے۔
(محمد اسرار مدنی)
https://www.facebook.com/100093321586401/posts/352626381191412/?app=fbl
’ذوقِ پرواز‘ ایک سفر نامہ ہمارے عزیز دوست ڈاکٹر فصیح الدین اشرف، ایک صاحبِ طرز ادیب اور مضمون نگار ہیں اور صوبہ خیبرپختونخوا کا ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے یوں تو وہ پولیس کے محکم....
28/06/2024
بلا تبصرہ بلاعنوان !
سینئر صحافی رؤف کلاسرا کی وال سے !!!
میری آج سعید بکس کے مالک احمد سے بات ہوئی ہے کہ اصل ایشو کیا ہوا تھا جس پر ہنگامہ مچا ہوا ہے۔
احمد سعید کا کہنا ہے ایک گاہک ایک کتاب لے کر گیا جو تین ہزار روپے کی تھی۔ پانچ گھنٹے بعد واپس آیا اور کہا سامنے تو وہ کتاب پانچ سو روپے کی مل رہی ہے۔
احمد نے اس سے وہ کتاب لی اور اسے دکھا کر کہا وہ کتاب فوٹو کاپی/سکین کر کے بائنڈنگ کی گئی ہے جبکہ ہماری کتاب امپورٹڈ اور اورینجل ہے۔ وہ کلائنٹ کہنے لگا لیکن دیکھ لیں اس میں تو کاما فل اسٹاپ تک سیم ہے۔ میں نے تو پڑھ کر پھینک دینی ہے۔
احمد نے اسے بتایا جب وہ فوٹو کاپی/سکین ہوگی اور لوگ اسے کتاب بنا دیں گے تو صاف ظاہر ہے فل اسٹاپ کاما تک وہی ہوگا۔
اسے کہا گیا چلیں آپ کتاب واپس کر دیں۔ پیسے واپس لے لیں۔
اس خریدار نے کہا نہیں مجھے یہی اوریجنل کتاب پانچ سو روپے میں دیں کیونکہ یہ باہر سے پانچ سو روپے کی مل رہی ہے ۔اسے سمجھایا گیا یہ کتاب پانچ سو روپے کی نہیں مل سکتی۔ یہ مہنگی کتاب ہے۔یہ کتابیں کامن ویلتھ انتظامات تحت برطانیہ اور دیگر ملکوں سے لائی جاتی ہیں ۔ جو کتاب برطانیہ میں بیس پونڈز کی ہے وہ اسلام آباد میں اس لیے آٹھ دس پونڈز پر بیچتے ہیں ورنہ تو بیس پونڈز اس کی اصل قیمت ہے اور یہ پہلے سے ہی بہت رعایت پر دستیاب ہے۔ پھر غیرملکی پبلشرز کی ڈیمانڈ ہوتی ہے کہ آپ کو بہت رعایت پر دے رہے ہیں تو ہر سال میں تین چار سو کتب کم از کم بیچی جائیں ورنہ وہ آڈرز نہیں لیتے لہذا ہم تو کم سے کم قیمت رکھتے ہیں تاکہ زیادہ بک جائیں ورنہ غیرملکی پبلشرز اگلا آڈر نہیں لیں گے۔ اس گاہک کو کہا گیا کہ آپ کتاب واپس کر دیں اور تین ہزار واپس لے لیں۔
اس پر اس نوجوان نے اصرار کیا نہیں مجھے یہ کتاب پانچ سو روپے کی دیں کیونکہ باہر پانچ سو کی مل رہی ہے۔ اس پر سمجھایا گیا ایک پبلشر اس کتاب پر لاکھوں خرچ کرتا ہے۔رائٹر کو رائلٹی دیتا ہے۔ ہم بیرون ملک سے ڈالرز لگا کر امپورٹ کر کے لاتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ، گودام، دکان ملازمین ، بجلی بلز وغیرہ سب کا خرچہ ہوتا ہے۔ یہ جو اسے پانچ سو روپے میں کتاب ملی ہے وہ تو کس نے پکڑ کر /pirated/photocopy کر کے چھاپ دی ہے۔
وہ نوجوان باضد رہا کہ آپ کو بتانا چاہئے کہ باہر مارکیٹ سے یہی کتاب pirated پانچ سو روپے میں مل سکتی ہے۔ آپ کو بتانا چاہیے ہر گاہک کو کہ واپس نہیں ہوگی۔ اسے بتایا گیا ہم کیسے ہر گاہک کو بتائیں باہر pirated یا فوٹوکاپی یا سکین کر کے کتاب دستیاب ہے وہ خرید لیں۔
اسے دونوں کتابیں آمنے سامنے رکھ کر دکھایا گیا کہ دونوں کتابوں میں کتنا فرق ہے۔ ایک اوریجنل باہر سے منگوائی گئی کتاب اور ایک لوکل سکین/فوٹوکاپی/پائی ریٹڈڈ کتاب بنا کر بیچی جارہی ہے۔
پھر بھی اس نوجوان کو پیش کش کی گئی تھی کہ وہ پیسے واپس لے لیے لیکن وہ باضد رہا کہ نہیں اسے پانچ سو روپے میں ہی وہ برطانیہ سے امپورٹ کی گئی کتاب پیش کی جائے ورنہ ہنگامہ ہوگا اور پہلے ہنگامہ کافی دیر تک سعید بکس کے اندر ہوا اور اب پورے ملک میں سوشل میڈیا پر ہورہا ہے۔
رہے نام اللہ کا
05/04/2024
Great initiative
03/04/2024
Interfaith iftar dinner unites diverse religious communities in a message of harmony Interfaith iftar dinner unites diverse religious communities in a message of harmony
30/03/2024
اسلام آباد کلب میں بین المذاہب افطار کی تقریب !
ہمارے ادارے کی طرف سے اسلام آباد کلب میں ایک بین المذاہب افطار کا اہتمام کیا گیا۔ اس افطار میں امریکہ ، برطانیہ ، آسٹریا، رومانیہ سمیت دیگر ممالک کے سفرا سمیت ملک کے نامور علما مشائخ سمیت سکھ ،ہندوں ،مسیحی اور مسلم رہنماؤں نے شرکت کی۔ سول سوسائٹی تنظیموں اور تھنک ٹینکس کے سربراہوں ، چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل ، سابق سیکرٹری خارجہ، نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ، دفاعی ماہرین ، میڈیا، سرکاری اداروں سمیت وزارت خارجہ اور دیگر اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
راقم نے افتتاحی تقریر مسلکی اور مذہبی ہم آہنگی سمیت پاکستان کے تنوع پر بات کی۔ سینیٹر گوردیپ سنگھ نے پاکستان میں اقلیتوں کے کردار جبکہ ڈاکٹر سویرا پرکاش نے بطور اقلیت اپنے سیاسی اور سماجی کردار پر بات کی۔
ٹیم کا بہت شکریہ جن کی شب و روز کوششوں سے یہ پروگرام ممکن ہوا۔ تقریباً ایک سو کے قریب شرکا نے شرکت کی اور رمضان جیسے مبارک مہینے میں امن ، رواداری ، برداشت اور ہم آہنگی کا پیغام دنیا کو پیش کیا۔
حالات اور چھٹیوں کے وجہ سے کئی نامور سفارتکار شرکت نہیں کرپائے ۔مگر انہوں نے تہنئتی پیغامات ارسال کئے۔
جن حضرات نے شرکت کی ان کا بھی شکریہ ۔ بہرحال پاکستان کے حوالے سے ایک مثبت پیغام بھی دنیا کو چلا گیا ۔
https://www.facebook.com/share/9KNDbGcH9hukgmdW/?
اس ملک کے ایلیٹ کلاس کی تعلیم کتنی اہم ہے ؟ سکول پرنسپل کتنا اہم ؟
ایچیسن پرنسپل گورنر پنجاب کا معاملہ دو دن سے ہیڈ لائنز میں ہے۔ دیہاتوں کا نوے فیصد تعلیمی نظام ناکارہ ہے ۔ کوئی خبر نہ کوئی ایکشن !