یحیٰ بختیار کو نہ بھولیے !
7 ستمبر 1974ء کو قومی اسمبلی نے ایک عظیم الشان کارنامہ سرانجام دیا۔ ایسا کارنامہ جس پر یقیناً پاکستانی قوم فخر کرسکتی ہے ۔ طویل مشاورت، مباحثے ، مکالمے، وضاحتوں ، سوالات ، جوابات اور تنقیح و تجزیے کے بعد بالآخر اس نے متفقہ فیصلہ سنا دیا کہ احمدیوں کے دونوں گروہ غیر مسلم ہیں ۔
اس نتیجے تک پہنچنے سے پہلے جو قانونی اقدامات کیے گئے ، ان میں ایک یہ تھا کہ پوری اسمبلی کو "سپیشل کمیٹی" کی حیثیت دی گئی اور ساتھ ہی اسے باقاعدہ عدالتی اختیارات دیے گئے ۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ احمدیوں کے دونوں گروہوں کے نمائندوں کو بلاکر ان کا موقف سنا جائے ، ان پر جرح کی جائے اور اس کے بعد فیصلہ سنایا جائے ۔ اسی بنا پر یہ ذمہ داری اس وقت کے اٹارنی جنرل جناب یحیٰ بختیار کے کاندھوں پر ڈالی گئی کہ دونوں گروہوں کے نمائندگان سے سوالات وہی کریں گے ۔
یہ پوری کارروائی اب شائع بھی ہوچکی ہے اور قانون کے ہر طالب علم کو میں یہ مشورہ دوں گا کہ ایک دفعہ ضرور یہ پوری کارروائی پڑھیں ۔ اس میں نہ صرف آپ کو چند نہایت اہم سوالات کے جواب مل جائیں گے بلکہ وہ بہت ساری الجھنیں بھی دور ہوجائیں گی جو اس مسئلے پر لوگ خواہ مخواہ ہی پیدا کررہے ہیں ۔ مزید یہ کہ آپ یہ بھی دیکھ لیں گے کہ جرح کیسے کی جاتی ہے ؟ یحیٰ بختیار نے جس طرح سوال کے بعد سوال ، مختلف اطراف سے سوال اور استدراج کے ذریعے بالآخر ان کے منہ سے ہی وہ بات کہلوائی جس سے وہ گریزاں تھے ، یہ سب کچھ نہایت قابلِ تحسین ہے اور قانون کے طالب علموں کے لیے اس میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے ۔ یہ بھی دیکھیے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کسی بھی عبارت سے استدلال کرنے سے قبل کیسے وہ پہلے اس عبارت کا مسلمہ ہونا ثابت کرتے تھے ۔ یہ کارروائی پڑھنے کے بعد کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ دوسرے فریق کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا ، یا ان کا موقف توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ۔
اہم بات یہ ہے کہ کارروائی میں آپ یہ بھی دیکھ لیں گے کہ یحیٰ بختیار صاحب وقفے میں بار بار اسمبلی کے اراکین ، بالخصوص علمائے کرام ،سے مخاطب ہوکر یہ استدعا کرتے ہیں کہ جلدی نہ کریں اور ان کو پورا وقت دیں ۔ وہ بار بار یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ جو کچھ آپ ان سے سننا چاہتے ہیں میں اسی کی طرف ان کو لارہا ہوں لیکن یہ سب کچھ آہستہ آہستہ ہوگا اور اس میں وقت لگتا ہے تو لگنے دیں ۔ یقیناً سوالات جن ارکانِ اسمبلی ،بالخصوص علمائے کرام، نے بناکر دیے تھے وہ بھی داد کے مستحق ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے لیکن یہ بھی دیکھیے کہ ان سوالات کی ترتیب کس نے قائم کی اور پھر ان سوالات کے ذریعے بات اگلوائی کس نے ! آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ یحیٰ بختیار کئی واقع پر علمائے کرام سے ، اور دیگر ارکانِ اسمبلی سے ، یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ جو فلاں سوالات آپ نے دیے تھے وہ ٹھیک نہیں تھے اور براہ کرام مجھے کمزور قسم کے دلائل یا غیرثابت شدہ امور نہ دیں ۔ مزید یہ کہ جگہ جگہ آپ کو یہ بھی مل جائے گا کہ خود اٹارنی جنرل نے اس موضوع پر کتنا تفصیلی مطالعہ کیا تھا اور باوجود بے انتہا مصروف ہونے کےکس طرح انھوں نے پوری یک سوئی کے ساتھ یہ مقدمہ لڑا ۔ ایک جگہ وہ اسمبلی کو میٹنگز کی تفصیل بتاتے ہیں جن کو نمٹا کر وہ اسمبلی میں آئے ہوتے ہیں اور اسمبلی کے بعد پھر چند اہم میٹنگز میں جارہے ہوتے ہیں ۔ یقین کیجیے کہ اس موقع پر تو بے ساختہ ہی دل سے ان کے لیے دعا نکلی۔ جگہ جگہ آپ کو یحیٰ بختیار کے ادبی ذوق کی داد دینے پر بھی خود کو مجبور پائیں گے ، بالخصوص جب وہ غالبؔ کا کوئی شعر پڑھیں ۔
جن امور پر اس کارروائی میں تفصیلی سوالات اور جوابات کا سلسلہ چلا ہے ان میں چند ایک یہ ہیں :
کیا ریاست کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے ؟
کیا قانون میں مسلمان کی تعریف شامل کرنے سے کسی کے حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے ؟
کیا جو خود احمدی کہتے ہیں وہ عام مسلمانوں کی ، جو مرزا صاحب کو نبی نہیں مانتے ، تکفیر کرتے ہیں ؟
سر ظفر اللہ خان نے قائد ِ اعظم کے نمازِ جنازہ میں شرکت کیوں نہیں کی ؟
تقسیمِ ہند کے موقع پر احمدیوں کا طرزِ عمل کیا رہا اور انھوں نے عام مسلمانوں سے خود کو الگ کیوں شمار کروایا؟
کشمیر کے تنازعے میں احمدیوں کا کیا کردار رہا اور انھوں نے کس طرح کشمیری مسلمانوں کے خلاف کارروائی میں دوسرے فریق کا ساتھ دیا؟
احمدیوں کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہے ؟
احمدیوں کا وہ گروہ جو بظاہر مرزا صاحب کو محض مجدد مانتا ہے کیوں عام احمدیوں سے ، جو کھلے عام مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں ، زیادہ خطرناک ہے؟
احمدیوں کے دونوں گروہوں کا اصل تنازعہ مذہبی ہے یا سیاسی و مالیاتی امور پر اختلاف کا شاخسانہ ہے ؟
یہ اور اس طرح کے دیگر نہایت اہم امور پر اس کارروائی میں پوری تفصیل ملتی ہے جس کے بعد ہی قومی اسمبلی نے یہ فیصلہ سنایا ہے ۔ جس طرح کا موقع احمدیوں کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے دیا ایسا موقع کسی کو شاید ہی کبھی دیا گیا ہو ۔ اس کے بعد ہی پوری سمبلی نے علی وجہ البصیرت یہ اعلان کیا کہ یہ دونوں گروہ غیر مسلم ہیں ۔
اللہ تعالیٰ اس اسمبلی کے تمام ارکان اور بالخصوص جناب یحیٰ بختیار پر اپنی رحمتیں نازل کرے اور انھیں بہترین اجر سے نوازے ! آمین ۔
Dr Muhammad Mushtaq Ahmad
Struggle for the Rule of Law
قانون کی حکمرانی کی جِدّ و جُہد
03/09/2024
Student’s package only for one week
Admin
19/08/2024
08/08/2024
کتاب آچکی ہے
پچاس مزید کاپیاں مصنف کے دستخط کے ساتھ دستیاب ہیں۔
ابھی اپنی کاپی بک کیجئے۔
ایڈمن
04/08/2024
کتاب کی فہرست
03/08/2024
کتاب تین چار دن میں آرہی ہے۔
پری بکنگ میں ابتدائی پچاس کتابیں مصنف کے دستخط کے ساتھ دستیاب ہیں۔
پوسٹر پر دیے گئے نمبر پر مصنف کی دستخط شدہ کاپی ابھی سے بک کیجیے۔
کتاب کے بارے میں
جناب جاوید احمد غامدی کے بنیادی اصول کیا ہیں اور کیا یہ اصول آپس میں ہم آہنگ ہیں اور ایک مستحکم فکری نظام تشکیل دیتے ہیں؟ اس فکر کا استشراق کے نئے مذاہب کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ نظمِ قرآن اور قطعی الدلالہ کے اصولوں نے امت کی علمی روایت کی نفی کی راہ کیسے ہموار کی ہے؟ اتمامِ حجت کے نظریے کے ذریعے کس طرح شریعت کے ایک بڑے حصے کو ساتویں صدی عیسوی کی دنیا کے ساتھ خاص کرکے آج کی دنیا کےلیے غیر متعلق کردیا گیا ہے؟ سنت اور حدیث میں فرق کرکے، سنت کو عملی تواتر تک محدود کرکے،سنت کو اسوۂ حسنہ سے الگ کرکے اور احادیث میں بیان کیے گئے بہت سارے احکام کو شرعی امور کے بجاے امورِ فطرت قرار دے کر کیسے دین اور شریعت کا تصور تبدیل کردیا گیا ہے؟فطرت کو شریعت پر مقدم کرکے اور شرعی احکام کو گنتی کے چند امور تک محدود کرکے کیسے انسانی زندگی کے ایک بڑے دائرے کو شریعت کی عمل داری سے خارج کردیا گیا ہے؟ اسلام اور ریاست کے تعلق کے بارے میں غامدی صاحب کا موقف کیا ’جوابی بیانیہ‘ ہے، یا ’ریاستی مقتدرہ کی پالیسی کا اظہاریہ‘ ہے؟
یہ کتاب ایسے کئی اہم سوالات کا تفصیلی جواب دیتی ہے۔
ایڈمن
09/07/2024
اگلے دو ہفتوں تک دستیاب ہوگی
ایڈمن
*رفتید، ولے نہ از دلِ ما* (پانچواں اور آخری حصہ)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
اکتوبر سے دسمبر تک ڈھائی مہینوں میں غزالی صاحب کے اکثر پیغامات کا تعلق فلسطینیوں کے قتلِ عام ، ان کے جہاد اور امت کی اس ضمن میں ذمہ داریوں کے متعلق تھے۔فلسطین میں مظالم نے انھیں بہت زیادہ دکھی کردیا تھا اور وہ مسلسل اس کے متعلق پریشانی میں مبتلا رہے۔ دوسرا دکھ مقامی تھا اور وہ بھی بہت گہرا تھا۔ یہ دکھ اسلامی یونیورسٹی کی بربادی کا تھا۔ وہ یونیورسٹی جس کی بنیادوں میں ان کا خونِ جگر تھا، جس کی خدمت میں انھوں نے زندگی صرف کی تھی، وہ پچھلے چند برسوں میں جس طرح بربادی کا شکار ہوئی، اس کا ان کو بہت صدمہ تھا۔ جب بھی ان سے ملاقات ہوئی، انھیں یونیورسٹی ہی کی فکر میں سرگرداں پایا۔ اس ضمن میں بارہا انھوں نے چانسلر ڈاکٹر عارف علوی، صدرِ پاکستان، کو پیغامات بھیجے، ان کی توجہ کئی امور کی طرف دلائی، لیکن سچی بات یہ ہے کہ وہ علوی صاحب سے سخت مایوس ہوئے تھے۔ اسی طرح انھوں نے سعودی عرب میں پرو چانسلر اور دیگر عہدیداروں کو بھی بارہا متوجہ کیا۔ پھر جب انھیں معلوم ہوا کہ قاضی فائز عیسیٰ صاحب نے چیف جسٹس کا منصب سنبھالنے کے فوراً بعد پہلے قائدِ اعظم یونیورسٹی اور پھر اسلامی یونیورسٹی کے مسائل کی طرف توجہ کی ہے اور ان کے بورڈز کی میٹنگ بلانے کےلیے کہا ہے، تو انھیں بہت خوشی ہوئی۔ انھوں نے چیف جسٹس کے نام طویل پیغام میں یونیورسٹی کے اغراض و مقاصد اور یہاں موجود امکانات پر بھی تفصیلی رہنمائی دی اور ساتھ ہی یہاں کے مسائل کی جڑ کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے تدارک اور آگے بہتری کےلیے کئی تجاویز بھی دیں۔ مجھ سے بھی وہ مسلسل رابطے میں رہے اور کئی پیغامات جو انھوں نے مختلف اعلی عہدیداران کو بھیجے تھے، مجھے بھی بھیجے۔ ایسے ہی ایک پیغام میں، جو 11 دسمبر کو بورڈ آف ٹرسٹیز کی میٹنگ سے ایک دن قبل انھوں نے بھیجا، اس میں لکھا:
"نئے قاضی القضات صاحب کی بار بار یاد دہانی اور تقاضوں سے مجبور ہو کر جامعہ کے اعلی ترین فیصلہ ساز فورم کا اجلاس پیر 11 دسمبر 2023 کو ایوان صدر میں بلایا گیا ہے ۔اب دیکھیں کہیں یہ یہ دسمبر بھی ایک اور شرمناک سرینڈر کا پیش خیمہ نہ ثابت ہو جب 16 دسمبر 1971 کی ایک منحوس صبح کو چشم فلک نے ہماری افواج کا کا ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنا دیکھا اور شرم سے منہ موڑ لیا،لگتا ہے اسی دلخراش اور شرمناک بزدلی کی شکست مان لینے کا خمیازہ ابھی تک پاکستان بھگت رہا ہے، وہ سرینڈر ایک جغرافیائی حصہ سے دستبرداری تھی۔ اگر خدانخواستہ آنے والے کل 11 دسمبر 2023 کو بھی اسی ہزیمت اور شکست خوردہ رویہ کو باقی رکھا گیا تو یہ دشمنان اسلام کی ایک اور بڑی فتح ہوگی وہ دشمنان اسلام و انسانیت جن کی صفیں اب کچھ عرصہ سے بکھرتی نظر آرہی ہیں (خاص طور پر 7 اکتوبر کے مجاہدانہ اقدام اور تاریخ کی سب سے سنگین نسل کشی کے بعد) اللہ تعالی کی فیصلہ کن تقدیر سے دشمنانِ اسلام اور انسانیت کی سب تدبیریں الٹتی نظر آرہی ہیں اور 63 دن سے دنیا دیکھ رہی ہے اور سن رہی ہے کہ اعداء اللہ اور اولیاء الشیطان کی سانسیں اکھڑ رہی ہیں ۔۔۔"
یہ پیغام جو انھوں نے خود وھاٹس ایپ پر لکھا تھا، اے فور سائز کے 8 صفحات پر آتا ہے۔ سوچیے کہ اس ایک پیغام کے لکھنے میں انھوں نے کتنا خونِ دل صرف کیا ہوگا! یہ پیغام ایک عظیم الشان دستاویز ہے اور اسے اسلامی یونیورسٹی کے ریکارڈ کا باقاعدہ حصہ بننا چاہیے۔ اس میں انھوں نے نہ صرف یونیورسٹی کے قیام کے مقاصد کی وضاحت کی ہے، بلکہ اس کی بربادی کے ذمہ داران کا سراغ بھی دیا ہے اور اس کی اصلاح کےلیے لائحۂ عمل بھی تجویز کیا ہے۔ مثلاً فرماتے ہیں:
"یہ جامعہ اسلامیہ عالمیہ، علوم اسلامیہ کے ایسے ماہرین کی ایک جماعت تیار کرنے کے لئے قائم کی گئی تھی جو مشرق و مغرب میں اسلام کا روشن انقلابی اور حیات بخش پیغام عالم انسانیت کو ان کی زبان میں پہنچانے کا عظیم فریضہ ، جو شہادت حق کا فریضہ ہے اور امت کے اصل مقصد کو قرآن کریم میں بیان کرتا ہے اس مقدس فریضہ کو انجام دے ۔ یہی اس ملت اسلامیہ کا نصب العین ہے اور اسی عمل کی وجہ سے یہ امت بطور عالمگیر تہذیب و تمدن و ثقافت کے خیر امت قرار دی گئی ہے ۔اس ادارہ کا بنیادی تصور کچھ حضرات کے ذہن میں پہلے سے تھا،جیسے علامہ اقبال رحمہ اللہ ، قائد اعظم رحمہ اللہ اور ایک مرد مؤمن شہید وزیر اعظم لیاقت علی خان مرحوم کے سامنے تھا جب انہوں نے تاریخی قراداد مقاصد پارلیمان سے منظور کروائی۔"
آگے اس یونیورسٹی کے اغراض و مقاصد کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے:
"اسی اعلی مقصد( انسانیت کے سامنے اسلام کے ابدی پیغام کی ٹھوس علمی،فکری اور تہذیبی بنیادوں پر گواہی اور دعوت دینے کا مقصد) کے لیے اس عظیم ادارہ کا قیام 15 ویں صدی ہجری کے آغاز میں کیا گیا، اسی اعلی اور ارفع نصب العین کے لئے یہ بنیادی اصول مقرر کیے گئے: 1۔یہ جامعہ علوم اسلامیہ ساری امت مسلمہ کے لئے کام کرے گی۔ 2۔اس جامعہ اسلامیہ عالمیہ میں تمام اسلامی دنیا سے بہترین اور اپنے میدان میں مانے ہوئے اساتذہ لائے جائیں گے اور اس طرح یہاں اس امت مسلمہ کے جوہر قابل جمع کیے جائیں گے، یہاں کے اساتذہ اور طلبہ میں مقامی عنصر مغلوب اور امت مسلمہ کا حصہ غالب رکھا جائے گا اور کبھی 50 % سے زیادہ اساتذہ اور طلبہ میں مقامی عنصر نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔ 3۔ اس جامعہ علوم اسلامیہ میں علم کو خرید وفروخت کے لئےتقسیم کبھی نہیں کیا جائے گا بلکہ ساری دنیا سے قابل ترین طلبہ کا اعلی معیار پر انتخاب کیا جائے گا،ان کو وظائف دے کر عزت و تکریم کے ساتھ لایا اور رکھا جائے ،یہ ملک اپنے وسائل ان بہترین طلبہ اور اعلی پایہ کے اساتذہ اور محققین کی خدمت کے لئے وقف کردے گا۔ 4۔یہاں ہر طالب علم کو 60 % اسلامی علوم و فنون میں مہارت کے لئے تربیت دی جائے گی اور 40 % فی صد ضروری اور مفید عصری علوم و فنون کی تعلیم دی جائے گی ۔یہی وجہ ہے کہ یہاں روز اول سے عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں بیک وقت پڑھانے کا اہتمام کیا گیا ۔"
اس کے بعد انھوں نے جامعہ کے چند نامی گرامی اساتذہ کا ذکر کیا، جو مختلف اسلامی ممالک سے یہاں پڑھانے کےلیے آئے:
" واقعہ یہ ہے کہ اس جامعہ کے ابتدائی سالوں میں بڑی حد تک اعلی معیار تعلیم و تحقیق کو قائم رکھا گیا۔اساتذہ میں بہت سے انمول ہیرے جواہر یہاں لائے گئے۔ان میں عالم اسلام کے معروف اور معتبر ترین حضرات شامل تھے،مثال کے طور پر یہاں محمد قطب (مشہور مفسر سید قطب شہید کے بھائی )شعبہ تعلیم وتربیت میں پڑھاتے رہے،اس شعبہ کا ابتدائی مقصد اسی جامعہ کے آئندہ کام آنے والے اساتذہ اور محققین کی تیاری تھی ،بعد میں اس کے تربیت یافتہ فاضل سکالر دیگر جامعات عالم میں خود اپنی جگہ پالیتے۔محمد قطب کے علاوہ اس وقت موجود عالم اسلام کے معروف اور بے نظیر عالم،مفکر،فقیہ اور فلسفی ڈاکٹر حسن الشافعی صاحب مدظلہ اور موجودہ شیخ الازھر ڈاکٹر محمد الطیب،سوڈان کے مشہور فاضل سکالر پروفیسر طیب زین العابدین، مصر کے اسلامی معاشیات کے معروف ماہر پروفیسر عبد الرحمن یسری،سوڈان کے مشہور و معروف ماہر نفسیات پروفیسر مالک بدری مرحوم ( صدر عالمی اسلامی اتحاد ماہرین نفسیات ) شامل ہیں ۔"
پھر یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نامی گرامی طلبہ کا ذکر کیا جو مختلف اسلامی ممالک میں اہم عہدوں پر کام کررہے ہیں۔ اس کے بعد فساد کی جڑ کی نشان دہی کرتے ہوئے لکھا:
" اس جامعہ علوم اسلامیہ میں جو در حقیقت پاکستان کی واحد SPECIALIZED UNIVERSITY تھی اس میں علوم اسلامیہ کی مرکزی حیثیت کو رفتہ رفتہ ختم کیا گیا ،یہ کام خائن ،خائب وخاسر جابر پرویز کے دور حکومت( 2008- 1999) میں شروع کیا گیا اور دھیرے دھیرے اور دبے پاؤں اس جامعہ کو سیکولرائز اور کمرشلائز کردیا گیا، تھوک کے حساب سے نئے نئے شعبے صرف سیکولر میدانوں میں کھلتے چلے گئے، چاہے اس میں مطلوبہ قابلیت کے اساتذہ اور محققین میسر ہوں یا نہ ہوں ۔ اشتہار بازی کے ذریعہ مقامی طلبہ کو رفتہ رفتہ بغیر کسی قابلیت کے امتحان کے دھڑا دھڑ بھرتی کرلیا گیا اور سالانہ فیسوں میں اربوں روپے جمع کیے جانے لگے ۔ گیا ،علوم اسلامیہ کے شعبے سمٹتے چلے گئے، یا لپیٹ کر رکھ دیے گئے ۔"
اس کے بعد ان اساتذہ کا ذکر کیا ہے جنھوں نے اس یونیورسٹی کےلیے زندگیاں وقف کیں لیکن یہاں کے ناقدروں نے انھیں یہاں سے جانے پر مجبور کیا اور پھر وہ جہاں گئے وہاں کے لوگوں نے ان کی قدر شناسی کرتے ہوئے ان کے علم سے فائدہ اٹھایا۔ اس کے بعد بورڈ آف ٹرسٹیز کے اجلاس کی مناسبت سے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ کیسے اس اعلی سطحی بورڈ کو، جو امت کی نمائندگی کرتا تھا، یکسر مفلوج کرکے رکھ دیا گیا ہے:
"بورڈ آف ٹرسٹیز جو اس ثمر بار گلشن بہار کا محافظ اور نگراں تھا اور جس میں از روئے دستور و قانون تمام امت مسلمہ کے ممتاز ترین مفکرین اور قائدین فکر و دانش کی موجودگی لازمی قرار دی گئی تھی اب اس سیاہ تاریک طویل رات میں( خاص طور پر سعودی قبضہ غاصبانہ کے بعد از 2012 تا 2023) اس گلشن بہار بے خار کو بلبلوں سے چھین کر کرگسوں کے حوالے کیا جاچکا ہے یعنی اب عالم اسلام کے معروف اور معتبر اہل علم و فضل کو اس اعلی مجلس سے باہر کردیا گیا اور یہ اعلی محفل کب کی برباد کردی گئی ہے اب خلیجی تیلیوں اور ان کے طفیلیوں کا یہاں ڈیرہ لگا ہوا ہے ۔ان ہی کی اکثریت اب غالب ہے اور سنا ہے کہ اگر کبھی کوئی بولا تو جارج آرویل کے انیمل فارم کی طرح کچھ "خنازیرو عبدة الطاغوت" اس پر فوراً غرانے لگتے ہیں ۔"
آگے انھوں نے تفصیلی لائحۂ عمل تجویز کیا ہے جس میں ایک نکتہ یہ ذکر کیا:
"صدر جامعہ، تمام نائب صدر،ڈین ،ڈائریکٹر جنرل ، ڈائریکٹر، اور صدر ہائے شعبہ فی الفور برخواست کردیے جائیں اور فورا ایک اور ذیلی مجلس اہل علم و دانش کی تشکیل دے کر ایک نئی بہترین visionary ٹیم کو ذمہ داریاں سونپ دی جائیں اور کوئی کام رکنے نہ پائے ۔"
ایک اور اہم نکتہ انھوں نے یہ ذکر کیا:
"جامعہ علوم اسلامیہ میں ہوش ربا فیسوں کا فورا مکمل خاتمہ کیا جائے اور اس کے لیے بہ عجلت ضروری فنڈ مہیا کردئے جائیں اور عہد نو کا آغاز کردیا جائے۔اگر کام ہوتا نظر آئے گا تو دنیا میں اہل خیر کی کمی نہیں وہ خود آگے آکر ان شاء اللہ العزیز اس اس ادارہ کو طلبہ سے پیسے اینٹھنے کی ذلت و رسوائی سے بچائے رکھے گا اور جامعہ واقعی عملا امت مسلمہ کے لئے قابل فخر منصوبہ مستقبل سازی کا مقام حاصل کرکے رہے گی۔"
الحمد للہ، 11 دسمبر کو بورڈ آف ٹرسٹیز کی میٹنگ ہوئی تو اس میں عزت مآب چیف جسٹس نے تقریباً انھی نکات پر بات کی جس کے نتیجے میں بورڈ نے اسلامی یونیورسٹی کو فسادیوں کے ٹولے کے قبضے سے چھڑانے کےلیے چند بہت ہی اہم فیصلے کیے اور، ان شاء اللہ، اس کے اثرات جلد ہی سامنے آئیں گے۔ اسی رات میں نے غزالی صاحب کو مختصر پیغام بھیج کر انھیں خوش خبری دی کہ اسلامی یونیورسٹی کو بربادی سے بچانے کےلیے جو اقدامات انھوں نے تجویز کیے تھے، تقریباً ان سب کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ میرا خیال تھا کہ رات گئے انھیں تنگ کرنا مناسب نہیں ہوگا، اس لیے کال کرنے کے بجاے مختصر پیغام دیا اور کہا کہ صبح آپ سے تفصیلی بات کروں گا۔ ان کا فوراً ہی جواب آیا:
“Thank you brother for the update. I will lose my night sleep if the details are not shared NOW. PLEASE DON'T DELAY.”
میں ابھی پیغام پڑھ ہی رہا تھا کہ ان کی کال آئی اور پھر تقریباً آدھا گھنٹہ ان کے ساتھ گفتگو ہوئی۔ انھوں نے ایک ایک بات کی تفصیل پوچھی اور پھر بہت زیادہ اطمینان کا اظہار کیا۔ بار بار الحمد للہ کہتے رہے۔ پھر کہا کہ اب میں سکون سے سو سکوں گا۔
اس کے ایک ہفتے بعد ہی ان کا انتقا ل ہوا!
اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو، ان کی قبر کو جنت کا باغیچہ بنا دے اور ان کو اعلی علیین میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی معیت عطا فرمائے!
(ختم شد)
*رفتید، ولے نہ از دلِ ما* (حصۂ چہارم)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
غزالی صاحب نے کئی بار اس خواہش کا اظہار کیا کہ استاذِ گرامی پروفیسر نیازی سے تفصیلی نشست ہو۔ نیازی صاحب نے عرصہ ہوا گھر سے نکلنا چھوڑ دیا ہے۔ غزالی صاحب نے ایک آدھ دفعہ ان سے فون پر بات کی اور دو تین دفعہ مجھے کہا کہ ان کے گھر چلتے ہیں، بلکہ ایک دفعہ یہ بھی کہا کہ نیازی صاحب کی پسندیدہ نمکین مٹن کڑاہی اور تکہ بنا کر چلتے ہیں، لیکن وہ جو شکیل بدایونی نے کہا تھا کہ مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی ہم نہیں، کبھی تم نہیں، والا معاملہ تھا۔ سو یہ ملاقات نہ ہوسکی۔ وہ نیازی صاحب کی فقاہت کے بھی قائل تھے اور خصوصاً تراث کی فقہی کتب کے تراجم کے متعلق ان کی صلاحیت کے معترف تھے۔ (نیازی صاحب نے بدایۃ المجتہد، کتاب الاموال، موافقات اور ہدایہ کے علاوہ مبسوط اور بدائع الصنائع کے کئی ابواب کے انگریزی تراجم کیے ہیں۔) غزالی صاحب کی خواہش تھی کہ وہ خود بھی فقہ کی کسی مختصر مگر جامع کتاب کا انگریزی ترجمہ کریں۔ مجھ سے انھوں نے کتاب تجویز کرنے کےلیے کہا، تو میں نے انھیں امام محمد کی الجامع الصغیر کا مشورہ دیا اور عرض کیا کہ حضرت عبد الحی لکھنوی کی شرح کے ساتھ جو متن ملتا ہے، اسی کو مد نظر رکھنا بہتر ہوگا۔ ہمارے شاگردِ رشید مولانا محمد رفیق شینواری نے فوراً ہی اس کے دو نسخے مہیا کیے، ایک ان کےلیے اور ایک میرے لیے۔ (بعد میں شینواری صاحب نے امام سرخسی کی شرح الجامع الصغیر بھی مجھے تحفہ کی۔ شینواری صاحب عام مولویوں سے مختلف ہیں کیونکہ وہ صرف لینے پر یقین نہیں رکھتے بلکہ دینا بھی جانتے ہیں اور انھوں نے اور بھی کتب کے تحفے دیے ہیں۔ ) بہرحال غزالی صاحب نے اس کا آغاز تو کیا، لیکن کچھ عرصے بعد مجھے کہا کہ بہت کوشش کی، پر طبیعت ادھر نہیں آتی! چنانچہ یہ کام ادھورا ہی رہ گیا۔
غزالی صاحب فقہی جزئیات کے بجاے شریعت کی کلیات میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے اور اس کا ایک خوبصورت مظہر ان کی کتاب سوشیالوجی آف اسلام کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ جیسا کہ ابتدا میں عرض کیا، غزالی صاحب برسوں سوشل سائنسز پڑھاتے رہے۔ ان علوم کے متعلق ان کا ایک سوچا سمجھا موقف تھا جسے وہ شاگردوں کی کئی نسلوں تک منتقل کرتے رہے۔ ان کی تحریرات، خصوصاً شاہ ولی اللہ کی حجۃ اللہ البالغہ کے منتخب ابواب کے انگریزی ترجمے اور اس پر ان کی تحقیق، میں اس کی بہترین توضیح ملتی ہے، لیکن آخری عمر میں انھوں نے خصوصاً سوشیالوجی آف اسلام لکھ کر ایک جامع کتاب لکھی جو محققین کےلیے بھی مفید چیز ہے اور نصابی کتاب کا کردار بھی ادا کرسکتی ہے۔
یہ کتاب انھوں نے مجھے تحفہ کی، تو میں پکار اٹھا: ذَٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ ! پھر انھیں بتایا کہ کچھ عرصہ قبل اسلامی یونیورسٹی کے اکیڈمک کونسل میں بی ایس سوشیالوجی کے چار سالہ پروگرام کا نصاب منظوری کےلیے پیش کیا گیا۔ یہ نصاب سوشیالوجی کے شعبے کے بورڈ اور سوشل سائنسز کی فیکلٹی کے بورڈ سے منظور کیا جاچکا تھا اور اب حتمی منظوری کےلیے اکیڈمک کونسل میں پیش کیا گیا۔ وہاں سے بھی تقریباً منظور ہو ہی چکا ہوتا، اگر میں نے اس پر اعتراض نہ کیا ہوتا۔ میرا اعتراض یہ تھا کہ اس نصاب میں اور کسی بھی دیگر یونیورسٹی کے نصاب میں فرق کیا ہے؟ یہی نصاب پڑھانا تھا، تو اسلامی یونیورسٹی بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ (شکر ہے کسی نے ابن انشا کے انداز میں یہ نہیں کہا، کہ غلطی ہوگئی، آئندہ نہیں بنائیں گے۔) چار سالہ نصاب میں صرف دو مقامات پر بس ابن خلدون کا نام نظر آیا ہے۔ کیا یہی علوم کی اسلامیت کی معراج ہے؟ میرے اعتراض کے بعد اکیڈمک کونسل نے اس نصاب کی منظوری مؤخر کردی اور پھر ایک خصوصی کمیٹی بنائی جس میں مجھے بھی شامل کیا گیا۔ (یہ الگ بات ہے کہ اس کمیٹی کی کوئی میٹنگ کم از کم اس وقت تک تو نہیں ہوئی جب تک میں اسلامی یونیورسٹی میں موجود رہا۔) غزالی صاحب یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور بہت داد دی۔ غزالی صاحب کی یہ کتاب اس موضوع پر پائے جانے والے خلا کو بہت خوبصورتی اور عمدگی سے پر کرتی ہے۔
غزالی صاحب کے ساتھ دسمبر میں ہی جو آخری بالمشافہ ملاقات ہوئی اس میں بھی اس کتاب کا تذکرہ آیا۔ اس دن غزالی صاحب سپریم کورٹ تشریف لائے تھے۔ میں ایک اہم مقدمے کی سماعت کی وجہ سے کورٹ روم نمبر 1 میں چیف جسٹس کی معاونت کےلیے بیٹھا تھا۔ وقفے میں دفتر آیا، تو پی اے نے بتایا کہ ڈاکٹر غزالی صاحب آئے تھے اور آپ کا پوچھ رہے تھے۔ میں نے ان سے رابطے کی کوشش کی لیکن بات نہیں ہوسکی۔ میں نے دوبارہ کورٹ میں جاتے ہوئے اپنے پی اے سے کہا کہ غزالی صاحب میرے بہت ہی محترم استاذ ہیں، ان سے رابطے کی کوشش جاری رکھیے اور رابطہ ہو، تو ان کی خدمت میں میری جانب سے معذرت پیش کرکے انھیں بتائیے کہ اس مقدمے کی وجہ سے میرا کورٹ میں بیٹھنا مجبوری ہے اور میں فارغ ہوتے ہی ان سے رابطہ کروں گا۔ میں دوسرے وقفے میں دفتر آیا، تو انتہائی خوشگوار حیرت ہوئی کہ غزالی صاحب وہیں تشریف فرما تھے اور ایک چٹ پر کچھ لکھ رہے تھے۔ مجھے دیکھا تو اٹھے اور گلے سے لگاتے ہوئے کہا کہ میں آپ کےلیے پیغام چھوڑ رہا تھا لیکن اچھا ہوا کہ آپ سے ملاقات ہوگئی۔ کچھ دیر بیٹھے رہے اور چند نصیحتوں اور تنبیہات سے نوازنے کے بعد چل پڑے۔ میں انھیں گاڑی تک چھوڑنے آیا، تو راستے میں سوشیالوجی آف اسلام کا تذکرہ آیا اور انھوں نے پوچھا کہ بھائی مراد علی نے اس کتاب کی اشاعت میں دلچسپی ظاہر کی تھی لیکن وہ بھی شاید آپ کی طرح وعدے کے ساتھ ان شاء اللہ کی قید لگاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں مراد کے کان کھینچوں گا اور وہ فوراً ہی آپ سے رابطہ کرے گا۔ (وہ مراد کی بہت تعریف کرتے تھے اور ایک دفعہ فرمایا کہ صالحیت اور صلاحیت کا اجتماع بہت کم لوگوں میں نظر آیا ہے اور یہ نوجوان بھی ان لوگوں میں ہے۔) انھوں نے کہا کہ اس دن قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے اچانک ہی اس طرف دھیان گیا کہ نظریۂ علم کی حیثیت سے تجربیت (Empiricism) کو تو ہمیشہ انبیاے کرام کے معاندین نے پیش کیا ہے، اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: وَكَذَٰلِكَ مَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ فِي قَرۡيَةٖ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوهَآ إِنَّا وَجَدۡنَآ ءَابَآءَنَا عَلَىٰٓ أُمَّةٖ وَإِنَّا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم مُّقۡتَدُونَ۔ پھر فرمایا کہ مذکورہ کتاب میں تجربیت کی بحث پڑھ کر اس آیت سے میرے استدلال کے متعلق بتائیے گا کہ کیا آپ اس سے مطمئن ہیں یا نہیں؟ پھر انھوں نے اپنے استدلال کی مختصر وضاحت کی اور کہا کہ تفصیلی بحث کےلیے گھر پر تشریف لائیے گا۔ معلوم نہیں تھا کہ اس کے بعد ان سے ملاقات ان کے جنازے میں ہی ہوگی!
اس ملاقات کے بعد ان سے فون پر تو رابطہ رہا اور تقریباً روزانہ ہی ان کی جانب سے ایسا پیغام ملتا جس میں وہ فلسطین کے متعلق اپنے دلی دکھ کا اظہار کرتے اور پھر اس دوران میں چونکہ اسلامی یونیورسٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی میٹنگ بھی آئی، تو انھوں نے اس سلسلے میں تفصیلی پیغامات دیے۔
)جاری)
*رفتید، ولے نہ از دلِ ما* (حصۂ سوم)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
غزالی صاحب حقیقی معنوں میں صوفی تھے۔ لوگ ان کے رعب اور جلالی مزاج کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ شاید ان میں انانیت ہو لیکن جو انھیں جانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ ایک فقیر منش اور سادہ مزاج آدمی تھے جو پروٹوکول اور 'ہٹو بچو' کی صداؤں سے ہمیشہ گریز کرتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ مجلس میں کسی ایسی جگہ بیٹھ جائیں جہاں ان کی انفرادیت اور خصوصی حیثیت کسی پر واضح نہ ہو۔ نفیِ ذات کے بے شمار مناظر ہم نے دیکھے ہیں۔ 2019ء میں جب ہم شریعہ اکیڈمی کے زیرِ اہتمام پاکستان میں قوانین کی اسلامیت کے موضوع پر ایک تین روزہ کانفرنس کی تیاریاں کررہے تھے، تو قدم قدم پر ان کی جانب سے رہنمائی اور مدد میسر رہی، لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ خود صرف سامع کی حیثیت سے ہی شریک ہوسکیں گے۔ میں نے بڑی مشکلوں سے اور منت سماجت کے بعد انھیں قائل کیا کہ وہ ایک سیشن کی صدارت کریں۔ اسی طرح افتتاحی تقریب میں بڑی مشکلوں سے ان کو راضی کیا کہ وہ سٹیج پر رونق افروز ہوں۔ اس تقریب میں سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ صاحب کلیدی خطبہ دے رہے تھے اور اس موقع پر غزالی صاحب کے قد کاٹھ کی شخصیت کا سٹیج پر موجود ہونا ضروری تھا۔ خواجہ صاحب خود بھی صوفی منش آدمی ہیں۔ انھوں نے اپنی گفتگو میں غزالی صاحب کا تذکرہ تو کیا سو کیا، یہ بھی ذکر کیا کہ وہ خود غزالی صاحب کے فرزند حمزہ کے شاگرد ہیں جن سے انھوں نے عربی سیکھنے کی کوشش کی!
آج یہ بات بھی عرض کرتا چلوں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب کے ساتھ میرا تعلق اسی کانفرنس کی وجہ سے بنا اور اس کا سبب بھی غزالی صاحب ہی بنے تھے۔ قاضی صاحب کے ساتھ میری ایک مختصر ملاقات 2015ء میں جسٹس جواد خواجہ صاحب کے چیمبر میں ہوئی تھی جب میں نے ایک فیصلے میں خواجہ صاحب کی معاونت کی تھی اور پھر اس فیصلے کا اردو ترجمہ بھی کیا، تو خواجہ صاحب اس ترجمے پر نظرِ ثانی کررہے تھے اور اس وقت قاضی صاحب بھی ان کے چیمبر میں موجود تھے، تو ان سے بھی ملاقات ہوگئی۔ اس کے بعد ان کے ساتھ کوئی ملاقات اگلے کئی برسوں تک نہیں ہوئی۔ 2019ء میں اس کانفرنس کےلیے تیاری کے سلسلے میں غزالی صاحب نے تجویز کیا کہ اس میں سپریم کورٹ کے کسی جج کو بھی آنا چاہیے اور پھر انھوں نے خود قاضی صاحب کا نام لیا۔ میں نے عرض کی کہ میں ان کی خدمت میں عرضی تو ڈال دیتا ہوں لیکن اس کی منظوری آپ کی کوشش کے بغیر شاید ممکن نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ میں بات کرلوں گا۔ چنانچہ میں نے خط لکھا اور پھر غزالی صاحب نے قاضی صاحب سے بات کی، تو قاضی صاحب نے مجھے فون کیا اور کانفرنس کے بارے میں معلومات لیں۔ پھر کہا کہ آپ کی رسائی ایسے لوگوں تک ہے جنھیں میں انکار نہیں کرسکتا! یوں قاضی صاحب کانفرنس میں پینل ڈسکشن میں حصہ لینے کےلیے آگئے۔ (انگریزی محاورے کے مطابق، باقی تاریخ ہے!) لیکن غزالی صاحب نے مجھے اس بات کا تذکرہ کرنے سے روکا تھا کہ قاضی صاحب کو اسلامی یونیورسٹی لانے کا سبب وہ بنے۔
مجھ پر غزالی صاحب کی شفقت کے مظاہر بہت ہی نرالے تھے۔ ایک تو انھوں نے کبھی مجھے اپنے در سے بغیر کوئی تحفہ دیے جانے نہیں دیا۔ جب بھی ان کی خدمت میں حاضری دی، اٹھنے سے پہلے انھوں نے مجھے کوئی کتاب، کوئی قلم، کوئی تسبیح ضرور پکڑائی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبِ علم قلم کے بغیر صاحبِ علم نہیں بن سکتا۔ چنانچہ ان کی واسکٹ یا کوٹ کی جیب میں ایک دو قلم ضرور موجود رہتے اور اگر دیکھتے کہ میری واسکٹ یا کوٹ کی جیب میں قلم نہیں ہے، تو تنبیہ بھی کرتے اور اپنی جیب سے ایک قلم نکال کر دے دیتے۔ پھر ان کی تنبیہ سے بچنے کی خاطر میں نے یہ اہتمام شروع کیا کہ کہیں اور میرے پاس قلم ہو یا نہ ہو، لیکن ان کے پاس جاؤں تو ضرور ایک قلم جیب میں موجود ہو۔
آخری دور میں تسبیح کے متعلق بھی ان کا یہی طرزِ عمل رہا۔ مجھے کئی دفعہ انھوں نے تسبیح کا تحفہ دیا۔ ایک دن کہنے لگے کہ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ عرب اسے "مسبّحہ" کہتے ہیں لیکن یہ اصل میں "مذکّرہ " (یاد دلانے والی) ہے کیونکہ یہ ہاتھ میں ہو تو بندہ کچھ نہ کچھ ذکر یا ورد کر ہی لیتا ہے، جیب میں پڑی ہو، تو ہاتھ لگتے ہی یاد آجاتا ہے کہ اللہ کا نام لینا چاہیے۔
غزالی صاحب کی بزرگانہ شفقت تو، الحمد للہ، مسلسل میسر رہی، اس شفقت کے ساتھ وقتاً فوقتاً تنبیہ بھی کرتے اور ایک آدھ دفعہ ہلکی سی ڈانٹ بھی پلائی، لیکن اس پر اللہ کا شکر گزار ہوں کہ وہ مجھ سے کبھی ناراض نہیں ہوئے۔ زیادہ تر ان کا گلہ یہ رہتا کہ بہت دنوں سے ملاقات نہیں ہوئی۔ میں خود بھی بہت تشنگی محسوس کرتا اور اس لیے ہر ملاقات پر وعدہ کرتا کہ اگلی ملاقات جلد ہی ہوگی (ان شاء اللہ کی قید کے ساتھ)۔ کئی بار انھوں نے جوش ملیح آبادی کا یہ جملہ سنایا جو انھوں نے خود غزالی صاحب سے گلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مولویوں کے وعدوں کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ (غزالی صاحب کے مزاج کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ وہ جوش ملیح آبادی کی محفل میں مستقل جایا کرتے تھے۔ ان کے کئی دلچسپ واقعات انھوں نے سنائے ہیں لیکن انھیں کسی اور وقت کےلیے اٹھا رکھتے ہیں۔) میں دبے الفاظوں میں انھیں یاد دلاتا کہ وعدے کے ساتھ ان شاء اللہ کی قید لگی ہوئی تھی اور یہ قید تو قسم کے ساتھ بھی لگ جائے تو بندہ حانث نہیں ہوتا۔ وہ کہتے کہ ہاں، فقہاء کو یہ حیلہ آتا ہے کہ جو کام نہ کرنا ہو تو اسے اللہ کی مشیئت سے مشروط کردیں۔
جب قاضی فائز عیسیٰ صاحب نے مجھ سے اپنے اس خواہش کا تذکرہ کیاکہ وہ چیف جسٹس بنیں تو میں ان کے ساتھ سپریم کورٹ میں معاونت کےلیے باقاعدہ ذمہ داری قبول کروں، تو جن چار بزرگوں سے میں نے رہنمائی لی، ان میں ایک غزالی صاحب تھے (باقی تین میں ایک میرے والد گرامی تھے، دوسرے استاذ گرامی پروفیسر عمران احسن خان نیازی اور تیسرے استاذ گرامی پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز)۔ اس موقع پر غزالی صاحب نے بہت تفصیلی رہنمائی دی، سپریم کورٹ میں کام کے مواقع اور وہاں ممکنہ مسائل کے متعلق بھرپور آگاہی بھی دی اور اس پہلو پر خصوصی تاکید کی کہ کام کی نوعیت ایسی ہو جو آپ کے علمی مقام کے مناسب ہو۔
(جاری)
*رفتید، ولے نہ از دلِ ما* (حصۂ دوم)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
شریعت اپیلیٹ بنچ میں زیرِ التوا مقدمات سے یاد آیا کہ سودی قوانین کے خلاف شریعت درخواستوں پر وفاقی شرعی نے 1991ء میں فیصلہ دیا تھا اور انھیں اسلامی احکام سے تصادم کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا تھا، لیکن اس فیصلے کے خلاف حکومت اپیل میں گئی تو شریعت اپیلیٹ بنچ نے 1999ء میں اپنا فیصلہ دیا اور وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ تاہم جب اس فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی کی درخواستیں دائر کی گئیں، تو ان کی سماعت کے بعد 2002ء میں شریعت اپیلیٹ بنچ نے اپنا 1999ء کا فیصلہ ختم کردیا اور مقدمہ واپس وفاقی شرعی عدالت میں از سرِ نو سماعت کےلیے بھیج دیا۔ شریعت اپیلیٹ بنچ کا یہ دوسرا فیصلہ آئینی اور قانونی اصولوں کی بنیاد پر بہت کمزور تھا۔ غزالی صاحب کے لائق فائق فرزند احمد حمزہ غزالی نے اپنا ایل ایل ایم کا مقالہ اس فیصلے کے تنقیدی جائزے پر میری نگرانی میں لکھا۔ چونکہ اس دوران میں حمزہ نے وکالت بھی شروع کی تھی جس کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور ابتدائی مرحلے پر قدم جمانے میں بھی بہت وقت لگتا ہے، اس لیے مقالہ لکھنے میں حمزہ نے کافی وقت لگایا۔ غزالی صاحب اس سلسلے میں بہت فکرمند تھے اور کبھی مجھے گھر پر بلا کر، کبھی فون پر اس سلسلے میں فکرمندی کا اظہار کرتے اور مجھے کہتے کہ اپنے شاگرد سے کام لیں۔ وہ خصوصاً اس بات پر زور دیتے کہ حمزہ کہیں نرا وکیل ہی نہ رہ جائے! حمزہ نے، ما شاء اللہ، بہت ہی عمدہ مقالہ لکھا جو اس موضوع پر برہانِ قاطع کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن غزالی صاحب کی خوشی دیدنی تھی!
غزالی صاحب کی حیثیت میرے لیے تو پیر و مرشد کی تھی۔ جب بھی کسی الجھن کا سامنا کیا، بے چینی محسوس کی، رہنمائی کی ضرورت محسوس ہوئی، انھیں میسج کیا، اور وہ ہمیشہ کھلے دل سے استقبال کرتے۔ بلکہ بارہا تو ایسا ہوا کہ ان کی جانب سے ملاقات کےلیے کہا گیا اور میں ادھر ادھر کے مسائل میں گرفتار، نہ جاسکا، تو پھر شرمندگی محسوس ہوتی، پھر حمزہ کا وسیلہ پکڑتا اور ان کے ذریعے غزالی صاحب کی بارگاہ میں ملاقات کےلیے عرضی پیش کرتا، لیکن انھوں نے ایک بار بھی انکار نہیں کیا۔ ان کے ہاں حاضری ہوتی، تو مجھے ان کی صحت اور آرام کا بھی خیال رہتا اور کوشش ہوتی کہ انھیں زیادہ زحمت نہ دوں، لیکن مغرب سے عشاء کا وقت ہوجاتا، وہ اصرار کرکے مجھے نماز پڑھانے کےلیے آگے کرتے، کبھی میری مان کر حمزہ کو آگے کردیتے (حمزہ کی تلاوت، ما شاء اللہ، بہت پیاری ہے)، اور پھر عشاء کے بعد بھی دیر تک محفل جاری رہتی۔ اس دوران میں ان کی مہمان نوازی کا بھی لطف اٹھاتا، ان کی خوبصورت گفتگو کا بھی حظ لیتا اور ان سے بھرپور رہنمائی بھی حاصل کرتا۔ اس محفل کا اثر پھر اگلے کئی دنوں، بلکہ ہفتوں تک جاری رہتا۔
غزالی صاحب کو اپنے برادرِ بزرگ غازی صاحب کی طرح پشتو اور پشتونوں کے ساتھ خصوصی محبت تھی۔ غازی صاحب سے تو ہم نے پشتو کا ایک آدھ ہی جملہ سنا تھا لیکن غزالی صاحب تو بڑی روانی سے اور صاف لہجے میں پشتو بولتے تھے۔ کئی بار انھوں نے کہا کہ اس کا کریڈٹ ان کے مدرسے کے زمانۂ طالب علمی کے دوستوں اور اساتذہ کو جاتا ہے جن میں بہت سے پشتو بولنے والے تھے۔ پشتونوں اور افغانوں سے خصوصاً اور وسط ایشیائی اقوام سے عموماً ان کو دلچسپی تھی اور ان کے احوال سے آگاہ رہنے کی کوشش کرتے۔ دو دفعہ میں افغانستان گیا اور واپس آیا تو غزالی صاحب کے ساتھ تفصیلی نشستیں وہاں کے حالات کے بارے میں ہوئیں۔ چند مہینے قبل ملاقات میں انھوں نے خود افغانستان کی سیر کی خواہش کا اظہار کیا اور ہمارے دوست ڈاکٹر احمد خالد حاتم (صدر، کاردان یونیورسٹی، کابل) جنھوں نے ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی اور سپریم کورٹ میں غزالی صاحب کے ساتھ کام کیا، کا نمبر لے کر ان سے آنے جانے کے متعلق تفصیلی رہنمائی لی۔ بعد میں کچھ صحت کے مسائل اور کچھ مصروفیات کی وجہ سے باقاعدہ پروگرام نہیں بن سکا، لیکن اس خواہش کا اظہار انھوں نے متعدد بار کیا۔
افغانستان کے ساتھ خصوصی لگاؤ غازی صاحب کو بھی بہت تھا۔جب انھیں معلوم ہوا کہ میرے والد صاحب کا ایم فل کا مقالہ اقبال اور افغانستان کے موضوع پر ہے، تو انھوں نے میرے والد صاحب سے ملاقات اور یہ مقالہ پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ مجھے تو افغانستان سے بھی محبت ہے اور اقبال سے بھی۔ کچھ یہی حالت غزالی صاحب کی بھی تھی۔ اسی طرح انھیں قائدِ اعظم سے بھی والہانہ محبت تھی اور پاکستانیت تو ان کی رگ رگ میں رچی بسی تھی۔ ان کے موبائل پر کالنگ ٹیون کے طورپر پاکستان کا ترانہ سنا جاتا۔
غزالی صاحب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے تھے اور مجدد الف ثانی کے الفاظ میں ان کی رگِ فاروقیت جب پھڑک اٹھتی، تو پھر وہ سماں دیکھنے والا ہوتا۔ حق و باطل کے معرکے میں وہ کسی مداہنت کے قائل نہیں تھے اور ڈنکے کی چوٹ پر بلند آہنگ سے کلمۂ حق کہنا ان کی ایسی خصوصیت تھی جس کی وجہ سے بڑے بڑے ان کا سامنا کرنے سے گھبراتے تھے اور ان کو دیکھ کر راستہ چھوڑ دیتے۔ ان کے برادرِ بزرگ غازی صاحب بہت متحمل مزاج اور وسیع الظرف تھے اور لوگوں کی بے ہودگی کا سامنا ایک خندۂ زیرِ لب کے ساتھ کرتے تھے۔ غزالی صاحب ان کے اس تحمل کے بھی شدید ناقد تھے اور بعض اوقات اسے docility سے تعبیر کرتے (ان فاروقی برادران کے مزاجوں کا موازنہ ایک بہت دلچسپ موضوع ہے، آگے اس ضمن میں خود غزالی صاحب کے بعض کلمات پیش کروں گا)، لیکن بعض اوقات ان کی رگِ فاروقیت بھی پھڑک اٹھتی، تو پھر عجیب ہی منظر ہوتا۔ یہ خصوصاً تب ہوتا جب قائدِ اعظم، علامہ اقبال یا پاکستان کے متعلق کوئی ہلکی یا غلط بات کہی جاتی۔ غزالی صاحب میں فاروقیت کی یہ خصوصیت بدرجۂ اتم پائی جاتی تھی۔
ایک دن یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل کی میٹنگ تھی۔ تمام پروفیسر بیٹھے تھے۔ یونیورسٹی کی علمی پالیسی پر بحث ہونی تھی لیکن صدرِ جامعہ کا طول طویل خطبہ تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ غزالی صاحب نے ایک چٹ پر یہ عبارت لکھ کہ مجھے دی اور پھر اٹھ کر چلے گئے: "اگر دنیا میں کہیں لایعنی گفتگو کا مقابلہ ہو، تو یہ ۔۔۔ اس مقابلے میں اول انعام کے حق دار قرار پائیں گے۔"
جمعہ کی نماز عموماً فیصل مسجد میں ہی پڑھتے تھے۔ ایک دن مصر کے ایک پروفیسر خطبے دے رہے تھے۔ خطبہ کیا تھا، سورۃ ہود میں انبیاے کرام علیہم السلام کے متعلق وارد آیات کی مادی اور اشتراکی تعبیر پر مبنی ایک طویل تقریر تھی۔ میں پچھلی صفوں میں تھا، لیکن اچانک دیکھا کہ غزالی صاحب جو اگلی صفوں میں تھے، اٹھ کھڑے ہوئے اور خطیب کو ٹوکا کہ یہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ قرآن کی معنوی تحریف ہے۔ چمچوں کڑچوں کو یہ بہت برا لگا، لیکن فاروقی خون کے سامنے کون دم مار سکتا تھا۔ خطیب نے بوکھلا کر خطبہ فوراًہی ختم کردیا۔ نماز کے بعد میں غزالی صاحب کو ڈھونڈ رہا تھا، لیکن رش کی وجہ سے ملاقات نہیں ہوسکی۔ میں اپنے دفتر آیا (ان دنوں میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہا تھا)، تو کچھ ہی دیر میں غزالی صاحب تشریف لائے۔ ابھی تک جلال کی کیفیت میں تھے۔فرمایا کہ ان احمقوں کو یہ علم نہیں ہے کہ یہ پاکستان ہے، مصر نہیں ہے۔ مزید فرمایا کہ اگلی صفوں میں بڑے بڑے نابغے بیٹھے تھے لیکن کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ اس بے ہودہ یاوہ گوئی پر اعتراض کرتا، اس لیے مجبوراً مجھے ہی کہنا پڑا۔ میں نے عرض کی یہ کام آپ ہی کرسکتے تھے۔ بہرحال، یہ صرف جذباتی معاملہ نہیں تھا بلکہ وہ اسے علی وجہ البصیرت باطل جانتے تھے اور اس وجہ سے انھوں نے میرے دفتر میں بیٹھے بیٹھے یونیورسٹی کے بعض اعلی حکام کو اس معاملے پر تفصیلی تنقیدی پیغام بھیجا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ صاحب اس کے بعد فیصل مسجد میں خطبہ دینے کےلیے کبھی نہیں آئے۔
یہ بات واضح رہے کہ جو معیار غزالی صاحب نے دوسروں کےلیے مقرر کیا تھا، اپنے لیے اس سے کہیں زیادہ کڑا معیار مقرر کیا تھا۔ خود احتسابی کی جو صفت میں نے ان میں دیکھی ش*ذ ہی کہیں اور نظر آئی ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ایک پیغام کو یہاں جوں کا توں نقل کروں۔ ایک دن انھوں نے مجھے لکھا کہ مجھے ان کے موقف میں یا کام میں کوئی بات غلط نظر آئے، تو میں مداہنت بالکل نہ کروں۔ میں نے عرض کی کہ ایسی کوئی بات مجھے نظر آئی، تو ادب و احترام کے تقاضے ملحوظ رکھتے ہوئے میں، ان شاء اللہ، ضرور توجہ دلاؤں گا۔ اس پر انھوں نے لکھا:
"میں جس طرح کی بے تکلفی برتتا ہوں وہی بے تکلفی آپ سے برتنے کی امید رکھتا ہوں اور اللہ تعالی کو گواہ بنا کر عرض کرتا ہوں کہ یہ بات آپ سے کہنے میں بالکل سچا اور مخلص ہوں ۔آپ اس کو ہرگز تواضع پر محمول نہ کریں اور میری چھوٹی بڑی ہر غلطی پر متنبہ کیا کریں اور یقین جانئے ناصحانہ تنقید چاہے جارحانہ ہو وہ سن کر میں بہت خوش ہوتا ہوں اور الحمد للہ ہر ہما شما کی تعریف کا اثر میرے نفس امٌارة پر بالکل نہیں ہوتا۔البتہ اگر کوئی صاحب علم اگر کسی بات کی تحسین کرے تو مزید کام کرنے کا حوصلہ بڑھتا ہے ۔2010 میں شرعی عدالت کے جج بننے کے چھ ماہ کے اندر اندر ہی میرے دنیا میں سب سے بڑے کیا ، بلکہ واحد معلم ومربی، مخلص بھائی اور بے تکلف دوست دنیا سے رخصت ہوگئے اس وقت سے باوجود کوشش کے کوئی ایسا نہیں مل سکا جو میرے دل میں ان کی جگہ لے سکے۔اور محاورے میں نہیں بلکہ حقیقت میں تنہا محسوس کرتا ہوں، حمزہ سلمہ کو اس ڈھب پر لانے کی کوشش کرتا ہوں، وہ کبھی کبھار دائرہ ادب میں رہتے ہوئے مجھ پر ہلکی پھلکی تنقید کر بھی لیتا ہے مگر بہرحال وہ میرا بیٹا اور میں اس کا باپ ہوں وہ تنقید میں کہاں تک جاسکتا ہے؟اس ساری گذارش کا مقصد ، جو کہ دل کی گہرائیوں سے کررہا ہوں ، یہ ہے کہ آپ سے امید رکھتا ہوں کہ میرے حقیقی بھائی جان کی جگہ آپ لیں اور میرا ہاتھ تھام لیں ۔حالیہ بیماریوں کے ہجوم میں اب ذہنی و علمی و فکری تنہائی کا یہ احساس شدید تر ہوگیا ہے۔آپ کو شاید یقین نہ آئے مگر میرے اور بھائی جان مرحوم کے درمیان جو بے تکلفی کی سطح تھی وہ ایسی تھی کہ ہم دونوں ایک دوسرے پر ایسی سخت تنقید کرتے تھے کہ کوئی اجنبی دیکھتا تو ہمیں جانی دشمن ہی سمجھتا۔امید ہے آپ میری گذارش پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہوں گے ۔"
اس کے جواب میں میں کیا عرض کرتا؟ میں تو سکتے میں چلا گیا۔ کچھ دیر میں ان کا دوسرا پیغام آیا:
" اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام- جو انبیاء کے بعد افضل البشر ہیں اور ہمارے لئے قابل تقلید- تو محسوس ہوگا کہ وہ آپس میں بہت بے تکلف تھے اور ایک دوسرے پر ایسی کڑی تنقید کرتے تھے کہ کسی اور معاشرت میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔
ایک مثال یاد آئی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بزرگترین اصحاب شیخین تھے رضی اللہ عنہما،جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مانعین زکوة کے خلاف لشکر بھیجنے چاہتے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بڑے خدشات اور تحفظات تھے۔کئی دن شیخین کے مابین اس پر بحث مباحثہ ہوتا رہا، ایک موقع پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دوران گفتگو یہ فرمایا:"أجبٌار في الجاهلية خوٌار في الاسلام؟ اب آپ بتائیے کہ آج اگر کوئی اپنے قریبی رفیق اور دوست سے ایسے الفاظ کہ دے تو وہ دوستی کتنے دل چل سکتی ہے؟ اس بات سے اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہماری معاشرت اسلام کے معیار سے کتنی پست ہوچکی ہے ۔اور یہ سب عجمیت کے اثرات ہیں، یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال عجمیت کے اثرات کے اتنے بڑے ناقد تھے۔"
آج بھی یہ پیغام پڑھ کر آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ
(جاری)
Click here to claim your Sponsored Listing.