04/04/2021
کاش کہ میں قرآن کے علاوہ اور کسی چیز میں مشغول نہ ہوتا
حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا:بے شک وہ گھر جس میں قرآن پڑھا جاتا ہے وہ اپنے رہنے والوں کے لیے کشادہ ہو جاتا ہے اس کی خیر بڑھ جاتی ہے اس میں فرشتے آتے ہیں اور شیاطین نکل جاتے ہیں اور بے شک وہ گھر جس میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہیں پڑھا جاتا وہ اپنے رہنے والوں کے لیے تنگ ہو جاتا ہے اس کی خیر کم ہو جاتی ہے اور فرشتے اس سے نکل جاتے ہیں اور شیطان آنے لگتے ہیں اس میں۔
سفیان الثوری رحمہ اللہ نے فرمایا:”کاش کہ میں خود کو صرف قرآن تک محدود رکھتا“
ابن تیمیہ رحمہ اللہ میں اس بات پرشرمندہ ہوں کہ میں نے قرآن کے معنی کے علاوہ اور چیزوں پر زیادہ وقت ضاٸع کردیا“
سفیان ابن عینیہ رحمہ اللہ :اللہ کی قسم یہ معاملہ اپنے اعلی مقام کو اس وقت پہنچے گا جب اللہ تعالی تمہیں ہر چیز سے بڑھ کر محبوب ہو جاے تو جس نے قرآن سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی خوب سمجھ لو جو تم سے کہا جا رہا ہے ۔
حضرت ابن مسعودؓ”جب تم علم کا ارادہ کرو تو قرآن کو کریدو کیونکہ یقینا اس میں پہلوں اور پچھلوں کا علم ہے
اعمش رحمہ اللہ کہتے ہیں وہ چیز جس کے ساتھ اللہ نے مجھے بلند کیا وہ قرآن ہے
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں اللہ کی قسم قرآن کے علاوہ کوٸی غنی نہیں اور اس کے بعد کوٸی محتاجی نہیں
کسی سلف نے کہا قرآن کا جتنا میرا حصہ زیادہ ہوا اتنی ہی میرے وقت میں برکت ہوٸی اور میں مسلسل اسے بڑھاتا رہا یہاں تک کہ میرا حزب دس پاروں تک چلا گیا
ابراہیم بن عبد الواحد المقدسی رحمہ اللہ کہتے ہیں جب انہوں نے علم کے لیے سفر کا ارادہ کیا تو ضیا المقدسی نے انھیں وصیت کی:”قرآن کو بہت زیادہ پڑھو اس کو چھوڑو نہیں کیونکہ جس قدر تم اسکو پڑھو گے اسی کے مطابق تمہارے لیے آسانی کی جاٸے گی۔
الضیاء رحمہ اللہ نے کہا: میں نے یہ دیکھا ہے اور اس کا بہت زیادہ تجربہ کیا ہے کیونکہ جب میں نے قرآن کو زیادہ پڑھنا شروع کیا تو میرے لیے حدیث کا سننا اور اسے کثرت سے لکھنا آسان کر دیا گیا اور جب نہیں پڑھا تو آسانی بھی نہیں ہوٸی
حضرت حسنؓ بن علیؓ نے کہا: جو تم سے پہلے تھے وہ قرآن کو تمہارے رب کے پیغامات سمجھتے تھے تو وہ رات کو غور و فکر کرتے اور دن میں اس کا جاٸزہ لیتے
حضرت عثمان بن عفانؓ نے فرمایا: اگر تمہارے دل پاک ہوتے تو وہ قرآن کی قرأت سے کبھی سیر نہ ہوتے
حضرت ابن مسعودؓ نے کہا:قرآن کو شعر کی طرح گا کر نہ پڑھو اور نہ ہی اسے ردی کھجور کی طرح پھینکو اس کے عجاٸبات کے پاس ٹھر جاٶ اور اسکے ساتھ دلوں کو حرکت دو اور تم میں سے کسی کی فکر یہ نہ ہو کہ وہ سورت کو ختم کر دے
حضرت ابی بن کعبؓ سے کسی نے کہا: مجھے وصیت کیجیے انہوں نے کہا اللہ کی کتاب کو اپنے سامنے رکھو اور اس کے حاکم ہونے پر راضی ہو جاٶ پس بے شک یہ قرآن ہی وہی چیز ہے جس نے تمہارے بیچ تمہارے رسول کو خلافت دی، یہ وہ سفارشی ہے جس کی بات مانی جائے، وہ گواہ ہے جس پر الزام نہ لگایا جائے،اس میں تمہارا ذکر ہے اور انکا ذکر جو تم سے پہلے تھے،فیصلہ کرنے والا جو تمہارے سامنے ہے اور خبر جو تمہارے بعد ہے
حضرت کعب الاحبارؓ نے کہا:تم پر قرآن واجب ہے کیونکہ اس میں عقل کی سمجھ بوجھ,حکمت کی روشنی اور علم کا سرچشمہ ہے
رحمان کی طرف سے آنے والی نٸی کتاب ہے
حضرت کعب احبارؓ نے کہا:السابقون السابقون وہ اہل القرآن ہیں
ذو النون مصری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:اللہ کے ساتھ انس کیا ہے؟ کہا علم اور قرآن
حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا:حلاوت کو تین چیزوں میں تلاش کرو نماز میں ,قرآن اور اللّه کے ذکر میں پھر جب تم اس کو پالو گے پس چل پڑو اور خوش ہوجاٶ پھر اگر تم نہ پاٶ یہ مٹھاس تو جان لو کہ تمہارے دل کا دروازہ بند ہے
قتادہ رحمہ اللہ نے کہا:اپنے دلوں کو اس کے ساتھ آباد کرو اور اپنے گھروں کو بھی یعنی قرآن کے ساتھ
حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا یقینا یہ دل سمیٹنے والے ہیں تو تم انکو قرآن کے ساتھ مشغول کرو اور اس کے علاوہ کسی اور کے ساتھ نہیں
حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا: تم پر قرآن واجب ہے پس اسے سیکھو اور اپنے بیٹوں کو سکھاٶ پس بے شک تم سے اس بارے میں سوال ہوگا اور اسی کے ساتھ تمہیں بدلہ دیا جاٸے گا اور یہ ہی نصیحت کرنے کے لیے کافی ہے اس کو جو عقل رکھتا ہے
ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا: جب تم اس بات کا اراداہ کرو کہ تم یہ جانو کہ تمہارے پاس اور دوسروں کے پاس اللہ کی محبت میں سے کیا ہے تو اپنے دل میں قرآن سے محبت کو دیکھ لو۔