Abdul Rehman Madah Khail

Abdul Rehman Madah Khail

Share

Welcome To My Iqra Noor International Onlin Quran Academy
My Name Is Molana Abdul Rehman Madah Khail.I,m Rohani Scholour. WhatsApp: +92 334 3475770

We Provide Online Quran Classes For Kids & Adults Worldwide. Nazra, Qaida, Tajweed, Hifz & Islamic Studies.

26/07/2026

آج کا آسان اسلامی سوال ۔صحیح جواب کیا ہے
A.B.C.D

25/07/2026

صرف ایک منٹ میں حرفِ خ سیکھیں | نورانی قاعدہ

Learn the Arabic Letter Khaa (خ) in Just 1 Minute

📖 حرفِ خ کو آسان انداز میں سیکھیں اور مزید نورانی قاعدہ کے اسباق کے لیے میرا یوٹیوب چینل ضرور وزٹ کریں۔

📺 YouTube Channel:
https://www.youtube.com/-hr2ke

🌍 Online Quran Classes Available Worldwide
📱 WhatsApp: +92 334 3475 770

25/07/2026

🌿 صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین — وفاداری کی بے مثال داستان

جب حق کی خاطر قربانی دینے کا وقت آیا تو صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دنیا کی ہر نعمت کو ٹھکرا کر رسول اللہ ﷺ کا ساتھ اختیار کیا۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ سچی محبت صرف دعووں سے نہیں، بلکہ اطاعت، ایثار اور قربانی سے ثابت ہوتی ہے۔

ان کا ہر قدم ایمان کی خوشبو سے معطر تھا، ہر عمل اخلاص کا آئینہ تھا، اور ہر قربانی امت کے لیے ایک روشن مثال بن گئی۔ آج اگر ہم اپنی زندگیوں میں ان کی سیرت، تقویٰ اور سنتِ نبوی ﷺ سے محبت کو اپنالیں تو ہماری دنیا بھی سنور جائے گی اور آخرت بھی۔

"صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت ایمان کی علامت ہے، اور ان کے نقشِ قدم پر چلنا کامیابی کی ضمانت ہے۔"

اللّٰہ تعالیٰ ہمیں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے سچی محبت عطا فرمائے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔
عبدالرحمن مدخیل



#اسلام

25/07/2026
24/07/2026

صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین: وفائے رسول ﷺ کا عظیم نمونہ
کسی بھی شخصیت کی عظمت کا اندازہ اس کے تربیت یافتہ افراد سے لگایا جاتا ہے، اور اگر دنیا کی بہترین جماعت کو دیکھنا ہو تو صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مبارک جماعت پر نظر ڈالیں۔ یہی وہ مبارک جماعت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نبیِ کریم ﷺ کی صحبت کا شرف عطا فرمایا، اور جس نے آپ ﷺ کی تعلیمات کو صرف سنا ہی نہیں بلکہ اپنی پوری زندگی کا عملی دستور بنا لیا۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ﴾
ترجمہ: "اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔"
(سورۃ التوبہ: 100)
صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی وفاداری کا معیار یہ تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ کا حکم سامنے آتا تو وہ اپنی رائے، خواہش اور ذاتی مفاد کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا پر قربان کر دیتے۔ ان کی سب سے بڑی آرزو یہی ہوتی تھی کہ ان کا ہر قدم نبیِ کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہو۔ یہی کامل اطاعت ان کے بلند مقام اور عظمت کا راز تھی۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایسی تربیت فرمائی کہ وہ ایمان، علم، عمل، اخلاص، دیانت، عدل، صبر اور ایثار کے اعلیٰ نمونے بن گئے۔ یہی پاکیزہ تربیت بعد میں پوری امت کے لیے ہدایت، کردار سازی اور عملی زندگی کا روشن نمونہ ثابت ہوئی۔ اس لیے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت کا مطالعہ محض تاریخ کا مطالعہ نہیں، بلکہ ایمان، اخلاق اور کردار کی تعمیر کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
اساتذہ کے لیے سبق: بہترین معلم وہ ہے جو اپنے شاگردوں کو صرف معلومات نہ دے، بلکہ ان کے ایمان، اخلاق اور کردار کی بھی تعمیر کرے۔
طلبہ کے لیے سبق: بہترین طالبِ علم وہ ہے جو ادب، اخلاص اور محنت کے ساتھ علم حاصل کرے، پھر اسے اپنی زندگی میں عملی طور پر نافذ کرے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سچی محبت نصیب فرمائے، ان کے پاکیزہ کردار سے رہنمائی حاصل کرنے اور نبیِ کریم ﷺ کی سنتِ مبارکہ پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
عبدالرحمن مدخیل
ؓ

23/07/2026

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم: رسول اللہ ﷺ کے جان نثار

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم وہ مبارک جماعت ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے نبیِ کریم ﷺ کی صحبت کے شرف سے نوازا، ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا اور دینِ اسلام کی خدمت کے لیے منتخب کیا۔ ان کے مقام و فضیلت کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

«﴿مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾

ترجمہ: "محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلے میں مضبوط اور آپس میں نہایت رحم دل ہیں۔"

(سورۃ الفتح: 29)»

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے نبیِ کریم ﷺ سے سچا ایمان، اخلاص، تقویٰ اور حسنِ اخلاق سیکھا۔ انہوں نے مشکل ترین مواقع پر رسول اللہ ﷺ کی نصرت، حفاظت اور اطاعت کو اپنی جان، مال اور خاندان پر مقدم رکھا۔ ان کی وفاداری محض جذبات پر مبنی نہیں تھی، بلکہ اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان، رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت اور دین کے لیے اخلاص کا عملی اظہار تھی۔

غزوات اور دیگر مواقع پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے صبر، ایثار، قربانی اور ثابت قدمی کی ایسی عظیم مثالیں قائم کیں جو امتِ مسلمہ کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گی۔ ان کی زندگیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ حقیقی کامیابی صرف علم حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ علم پر عمل کرنے، اپنے معلم کا ادب کرنے اور حق پر ثابت قدم رہنے میں ہے۔

اساتذہ کے لیے سبق: نبیِ کریم ﷺ نے اپنے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی صرف تعلیم نہیں دی، بلکہ ان کی ایسی تربیت فرمائی کہ وہ علم، عمل، اخلاق اور کردار میں امت کے بہترین نمونے بن گئے۔

طلبہ کے لیے سبق: کامیاب طالبِ علم وہ ہے جو اپنے استاد کا احترام کرے، اخلاص کے ساتھ علم حاصل کرے، اس پر عمل کرے اور اپنے کردار سے دوسروں کے لیے خیر اور بھلائی کا ذریعہ بنے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سچی محبت، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے پاکیزہ کردار سے رہنمائی حاصل کرنے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
عبدالرحمن مدخیل

ؓ

22/07/2026

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم: رضائے الٰہی کے برگزیدہ بندے

اللہ تعالیٰ کی رضا ہر مومن کی سب سے بڑی آرزو ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام و فضیلت کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

«﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾»

ترجمہ: "اور مہاجرین و انصار میں سے سبقت لے جانے والے اولین لوگ، اور وہ جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے، اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔" (سورۃ التوبہ: 100)

اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو نبیِ کریم ﷺ کی صحبت کے شرف سے نوازا، ان کے دلوں کو ایمان کے نور سے منور کیا اور انہیں دینِ اسلام کی خدمت، نصرت اور اشاعت کا عظیم شرف عطا فرمایا۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی جانیں، مال، گھر، خاندان اور اپنی ہر محبوب چیز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا پر نچھاور کر دی۔ سخت ترین آزمائشوں، تکالیف اور مصائب کے باوجود ان کے قدم کبھی متزلزل نہ ہوئے، کیونکہ ان کی زندگی کا واحد مقصد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور نبیِ کریم ﷺ کی کامل اطاعت تھا۔

اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ کو امانت و دیانت کے ساتھ امت تک پہنچانے اور ان کی اشاعت کا عظیم ذریعہ بنایا۔ اسی کے نتیجے میں آج امتِ مسلمہ قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ کی مستند تعلیمات سے فیض یاب ہو رہی ہے۔

اگر ہم اللہ تعالیٰ کی رضا، نبیِ کریم ﷺ کی محبت اور دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت، ان کے اخلاص، ان کی قربانی، ان کے حسنِ اخلاق اور ان کی اتباعِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو ایمان کی پختگی، کردار کی بلندی اور اللہ تعالیٰ کی قربت عطا کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی سچی محبت اپنے دلوں میں راسخ رکھنے، ان کے نقشِ قدم پر چلنے، ان کے پاکیزہ کردار کو اپنانے اور ان کے مبارک طریقے پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
عبدالرحمن مدخیل

ؓ

21/07/2026

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم: ایمان و وفا کے روشن مینار

تاریخِ انسانیت میں اگر کسی جماعت نے ایمان، اخلاص، ایثار، وفاداری، عدل، تقویٰ اور حسنِ اخلاق کی ایسی بے مثال داستان رقم کی ہے جس کی مثال دنیا پیش کرنے سے قاصر ہے، تو وہ رسولِ اکرم ﷺ کے جانثار صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے محبوب رسول ﷺ کی رفاقت کے لیے منتخب فرمایا، ان کے دلوں کو ایمان کے نور سے منور کیا اور انہیں دینِ اسلام کی خدمت، نصرت اور اشاعت کا عظیم شرف عطا فرمایا۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی جانیں، مال، گھر، خاندان اور اپنی ہر محبوب چیز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا پر قربان کر دی۔ ان کی زندگیاں صبر، استقامت، ایثار، عدل، رحم، اخلاص اور اتباعِ سنت کا ایسا روشن نمونہ ہیں جو ہر دور کے انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ کی حفاظت، اشاعت اور انہیں امانت کے ساتھ امت تک پہنچانے کا عظیم ذریعہ بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج امتِ مسلمہ دینِ اسلام کی خالص اور مستند تعلیمات سے فیض یاب ہو رہی ہے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں اس حقیقت کی روشن دلیل ہیں کہ جب ایمان، اخلاص اور اتباعِ رسول ﷺ دل میں راسخ ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ انسان کو عظیم درجات سے سرفراز فرما دیتا ہے۔ ان کی سیرت ہمیں صبر میں استقامت، خوش حالی میں شکر، آزمائش میں رضا، اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا درس دیتی ہے۔

آج اگر ہم عزت، اتحاد، اخلاص، حسنِ اخلاق اور حقیقی کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت، ان کے کردار، ان کی قربانیوں اور ان کی اتباعِ رسول ﷺ سے رہنمائی حاصل کرنی ہوگی۔ یہی وہ مبارک راستہ ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی رضا، رسولِ اکرم ﷺ کی محبت اور دنیا و آخرت کی دائمی کامیابی سے ہم کنار کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی سچی محبت اپنے دلوں میں راسخ رکھنے، ان کے نقشِ قدم پر چلنے، ان کے پاکیزہ کردار کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے اور ان کے نقشِ راہ پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
عبدالرحمن مدخیل

ؓ

Want your school to be the top-listed School/college in Hyderabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Hyderabad