Taleem o Tarbiyat

Taleem o Tarbiyat This page aims to share about Taleem o Tarbiyat.

07/04/2026
02/04/2026
02/04/2026
02/04/2026

کاروبار یا دھندہ — ایک خاموش فرق

وہ باہر ملک کی ایک مصروف سڑک پر کھڑا تھا۔ رات کے دو بج رہے تھے، مگر شہر جاگ رہا تھا۔ اس کا نام جوشی تھا۔ جیب میں پیسے تھے، موبائل میں بیلنس تھا، اور بینک اکاؤنٹ بھی پہلے سے بہتر تھا… مگر دل عجیب طرح سے خالی تھا۔

کچھ سال پہلے جب وہ پردیس آیا تھا تو اس کے ذہن میں ایک ہی لفظ تھا: "کاروبار"۔ وہ چاہتا تھا کہ کچھ ایسا کرے جو اس کے خاندان کو سنبھالے، آگے بڑھے، اور اس کے بعد بھی چلتا رہے۔ لیکن پردیس کی چمکتی روشنیوں میں اسے ایک اور لفظ ملا… "دھندہ"۔

پہلے پہل اسے فرق سمجھ نہیں آیا۔

کاروبار وہ ہوتا ہے جو وقت لیتا ہے، محنت مانگتا ہے، اور آہستہ آہستہ پروان چڑھتا ہے۔ اس میں برکت ہوتی ہے، تسلسل ہوتا ہے، اور سب سے بڑھ کر اس میں عزت ہوتی ہے۔ ایسا کاروبار صرف ایک شخص کو نہیں بلکہ پورے خاندان کو سنبھالتا ہے، نسلوں تک چلتا ہے۔

لیکن دھندہ… دھندہ وہ ہوتا ہے جو شارٹ کٹ دیتا ہے۔

جوشی نے بھی وہی کیا جو آج کل اکثر نوجوان کرتے ہیں۔ اس نے ایسے کاموں میں قدم رکھا جہاں پیسہ تیزی سے آتا تھا۔ نہ زیادہ محنت، نہ زیادہ انتظار۔ ایک فون کال، ایک ڈیل، اور ہزاروں روپے جیب میں۔

شروع میں سب کچھ بہت آسان لگا۔ ہر مہینے پیسے گھر جا رہے تھے، خاندان خوش تھا، دوست متاثر تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ اسے احساس ہونے لگا کہ یہ راستہ سیدھا نہیں ہے۔

دھندہ وقتی سکون دیتا ہے، مستقل بے چینی۔

اس کے اردگرد کے نوجوان بھی اسی دوڑ میں شامل تھے۔ ہر کوئی جلدی امیر بننا چاہتا تھا۔ کوئی یہ نہیں سوچ رہا تھا کہ یہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے، اور کہاں جائے گا۔ بس ایک ہی جنون تھا: "جلدی کمانا ہے۔"

یہی وہ لمحہ تھا جہاں پردیس کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔

آج کل پردیس میں دھندے کا رجحان عروج پر ہے۔ نوجوان محنت کے بجائے شارٹ کٹ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ وہ وقتی فائدے کے لیے ایسے راستے اختیار کر لیتے ہیں جن کا انجام اکثر خطرناک ہوتا ہے۔ کچھ قانونی مسائل میں پھنس جاتے ہیں، کچھ اخلاقی طور پر گر جاتے ہیں، اور کچھ ایسے دلدل میں جا گرتے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہتی۔

جوشی نے ایک دن اپنے ایک دوست کو اچانک غائب ہوتے دیکھا۔ نہ کوئی خبر، نہ کوئی رابطہ۔ بس اتنا پتا چلا کہ وہ کسی "کام" میں پکڑا گیا تھا۔ اس دن جوشی کو پہلی بار ڈر محسوس ہوا۔

اس نے خود سے سوال کیا:
"کیا میں واقعی کاروبار کر رہا ہوں… یا صرف دھندہ؟"

یہ سوال آسان نہیں تھا، مگر ضروری تھا۔

کاروبار وقت لیتا ہے، مگر عزت دیتا ہے۔
دھندہ وقت نہیں لیتا، مگر عزت لے جاتا ہے۔

کاروبار خاندان کو سنبھالتا ہے، اسے بنیاد دیتا ہے۔
دھندہ وقتی سہارا دیتا ہے، مگر آنے والے وقت میں کچھ نہیں چھوڑتا۔

جوشی نے اس رات فیصلہ کیا کہ وہ سست روی قبول کرے گا، مگر غلط راستہ نہیں۔ وہ کم کمائے گا، مگر صحیح کمائے گا۔ کیونکہ اسے اب سمجھ آ چکی تھی کہ اصل کامیابی وہ نہیں جو جلدی مل جائے، بلکہ وہ ہے جو قائم رہے۔

یہ صرف جوشی کی کہانی نہیں، یہ آج کے ہزاروں نوجوانوں کی حقیقت ہے۔ ہم سب ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں "جلدی" نے "درست" کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

لیکن یاد رکھیں، ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔

پردیس میں جانا برا نہیں، کمانا بھی ضروری ہے… مگر یہ فیصلہ سب سے اہم ہے کہ آپ "کاروبار" کر رہے ہیں یا صرف "دھندہ"۔

کیونکہ آخر میں پیسہ نہیں، اس کا طریقہ آپ کی پہچان بنتا ہے… اور آپ کے بعد آپ کے خاندان کا مستقبل بھی۔

#منقول

31/03/2026

زندگی بہتر بنانے کے لیے چار کام کیجیے
(قاسم علی شاہ)
ساتویں جماعت تک وہ پڑھائی میں اچھا چل رہا تھا لیکن جب وہ آٹھویں میں پہنچا تو پھر اس کی تعلیمی کارکردگی کمزور ہونا شروع ہوگئی۔ دراصل وہ چند آوارہ لڑکوں کی صحبت میں بیٹھنے لگا تھا، جس نے اسے پڑھائی سے بے زار کردیا تھا۔ چنانچہ جب سالانہ امتحانات ہوئے اور نتیجہ آیا تو وہ فیل ہوچکا تھا۔ اس کے ساتھی اگلی جماعت میں چلے گئے اور وہ وہیں بیٹھا رہ گیا لیکن پھر بھی اس کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اگلے سال نتیجہ آیا تو وہ ایک بار پھر ناکام ہوگیا۔ اب وہ کچھ سنجیدہ ہوگیا اور اپنی پڑھائی کے بارے میں سوچنے لگا لیکن اس کا دِل پڑھنے کے لیے آمادہ ہی نہیں ہوتا تھا۔ تیسرے سال اس نے امتحان دیا، ابھی نتیجہ نہیں آیا تھا لیکن اسے ڈر تھا کہ وہ پاس نہیں ہوسکے گا اور واقعی ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار بھی وہ ناکام ہوچکا تھا۔ اب گھر والوں کی ہمت بھی جواب دے گئی۔ وہ اسے سبق سکھانا چاہتے تھے۔ اسی خوف کی وجہ سے وہ گھر سے بھاگ گیا۔ چلتے چلتے وہ ایک بستی میں پہنچا، اسے پیاس لگی تھی۔ پانی کی تلاش اسے ایک کنویں تک لے آئی۔ وہاں اس نے چند خواتین کو دیکھا جو پانی لینے کے لیے آئی ہوئی تھیں۔ ہر خاتون کے پاس دو گھڑ ے تھے۔ ایک میں وہ پانی بھرتی اور دوسرا پاس ہی پڑے پتھر پر رکھ دیتی۔ لڑکے نے دیکھا کہ پتھر کی سطح گھس چکی تھی، اس نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ مسلسل گھڑا رکھنے کی وجہ سے ایسا ہوا تھا۔ اس کے ذہن میں روشنی پھوٹی، جیسے کوئی بڑا راز اس نے پالیا ہو۔ اس نے سوچا، گھڑا اگرچہ مٹی سے بنا ہے لیکن مسلسل رکھنے سے اس نے پتھر پر اپنے اثرات چھوڑے ہیں اور اس کی سطح کو بدل دیا ہے۔ پھر وہ اپنے آپ سے بولا، میں انسان ہوں، اس گھڑے سے زیادہ عقل مند اور قابل قدر ہوں۔ میں اگر مستقل مزاجی سے کام لوں تو اس سے زیادہ کام یابیاں حاصل کرسکتا ہوں۔ چنانچہ وہ وہیں سے واپس ہوگیا۔ گھر آکر اس نے والدین سے معافی مانگی، مستقل مزاجی کے ساتھ محنت کرنے لگا اور اگلے سال جب نتیجہ آیا تو اس نے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ اس نکتے پر وہ بعد میں بھی کاربند رہا، محنت کرتے کرتے اس نے ڈویژن بھر میں سب سے زیادہ نمبر لے لیے اور اسی محنت کی بدولت اسے بیرون ملک کی ایک بڑی یونی ورسٹی میں اسکالرشپ مل گیا۔
نیلسن منڈیلا کہتا ہے کہ کبھی ناکام نہ ہونا، زندگی کا حسن نہیں بلکہ گر کر اُٹھ جانا زندگی کی خوب صورتی ہے۔
ہمیں جو زندگی ملی ہے یہ عجیب طرح کے اتفاقات اور حادثات سے بھری ہوئی ہے۔ روز و شب ہمارے آس پاس بیسیوں واقعات رونما ہوتے ہیں، جن سے ہم سبق حاصل کرسکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم زندگی کی تیزرفتاری میں اس قدر کھوئے ہوئے ہیں کہ بہت سی سبق آموز چیزوں کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض اوقات نقصان بھی اٹھالیتے ہیں۔
سمجھ دار انسان حالات سے سیکھتا ہے۔ وہ اگر بار بار ناکام ہو رہا ہو تو کچھ دیر کے لیے رُکتا ہے۔اپنی زندگی کے بارے میں غور کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ کمزوری کہاں پر ہے۔ معلوم ہونے پر وہ اسے درست کرتا ہے اور پھر آگے بڑھتا ہے۔ جب کہ ناسمجھ انسان اپنا تجزیہ کرنے کے بجائے شکوہ و شکایت کرتا ہے۔ وہ اپنے حالات نہیں بدلتا، البتہ رو دھو کر لوگوں کی ہم دردیاں حاصل کرنے کی کوشش ضرورکرتا ہے۔
ہماری زندگی کے تین حصے ہیں۔ ماضی، حال اور مستقبل۔ ان میں سے ماضی اور مستقبل کی دو قسمیں ہیں۔ مثبت ماضی، منفی ماضی اور مثبت مستقبل، منفی مستقبل اب ان چاروں قسموں سے کیسے نمٹنا ہے، آج کی تحریر میں اس موضوع پر بات کریں گے۔
منفی ماضی
جب ہم ماضی میں جھانکتے ہیں تو عام طورپرہمارا ذہن ہمارے سامنے منفی حالات لے کر آتا ہے۔ یہ زندگی کا وہ حصہ ہے جس میں آپ کے ساتھ برا ہوا تھا۔ آپ کا حق دبایا گیا تھا یا کسی نے آپ کو تکلیف پہنچائی تھی۔ یہ آپ کا برا ماضی ہے۔ اس طرح کے حالات جب بھی آپ کے سامنے آئے توان کے بارے میں ایک فیصلہ کرلیں کہ آپ نے ان سے سبق لینا ہے۔ آپ ان حالات کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ کون سے واقعہ نے آپ کو کیا سبق دیا۔ ہوسکے تو اس چیز کو اپنی ڈائری میں نوٹ بھی کریں۔زندگی میں منفی واقعات دراصل ہماری تربیت کے لیے واقع ہوتے ہیں اور ایسے حالات کا آنا ہماری ترقی کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
ہم سب ارتقاکے سفر سے گزر کر آج کے دن تک پہنچے ہیں۔ یادرکھیں کہ ترقی ہمیشہ صفر سے شروع ہوتی ہے۔ ابتدا میں انسان کئی صلاحیتوں سے محروم ہوتا ہے۔ وہ سیکھنا شروع کرتا ہے اور اسی کی بدولت آگے بڑھتا ہے۔ تبدیلی کبھی کبھار ناموافق حالات کی صورت میں بھی آتی ہے۔ البتہ یہ مشکل حالات انسان کو جتنا کچھ سکھاتے ہیں، کوئی انسان نہیں سکھا سکتا۔ جو شخص اپنی مشکلات کا سامنا کرتا ہے اور انھیں حل کرتا ہے، اس کا اعتماد دوسروں کی بہ نسبت زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔
حضرت یوسف ؑ کا واقعہ کئی طرح کے اسباق، مطالب اور حکمتوں سے بھرپور ہے او ر اسی وجہ سے قرآن کریم میں اسے احسن القصص (سب سے بہترین قصہ) بتایا گیا ہے۔حضرت یوسف ؑ کو بھائیوں نے کنویں میں پھینکا۔ زمین کو اگر ہم Zero Line مان لیں تو کنواں منفی کے درجے میں آتاہے، کیوں کہ وہ سطح زمین سے نیچے ہوتا ہے۔ اس کے بعد انھیں قافلہ والوں نے نکال کرمصر کے بازار میں فروخت کیا۔ پھر ان پربہتان لگا، اس کے بعد انھیں کئی سال تک جیل میں بندکیا گیا اور آخر کار وہ مصر کے بادشاہ بن گئے۔ اس واقعہ میں ہمارے لیے بہت بڑاسبق ہے کہ مکمل طورپر ناکام ہونے کے بعد بھی انسان کے لیے کام یابی کے راستے کھل سکتے ہیں اور وہ Zero Line سے تخت شاہی تک پہنچ سکتا ہے۔
آپ کا ماضی اگر منفی ہے تویہ کوئی بری بات نہیں لیکن اگر آپ کے پاس اچھے مستقبل کی اُمید نہیں تو یہ چیز قابل توجہ ہے۔ آپ کے ماضی کا ہر واقعہ جو آپ کو پسند ہے یا ناپسند، اس میں آپ کے لیے سبق ضرور ہوگا۔ واصف صاحب فرماتے ہیں کہ”بعض چٹھیوں (لفافوں) پر غم لکھا ہوتا ہے لیکن جب ہم اسے کھولتے ہیں تو اندر سے خوشی نکلتی ہے۔“چوں کہ ہماری سمجھ محدود ہے اس لیے ہم بہت جلد منفی واقعات سے مایوس ہوجاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ برا ہو رہا ہے جب کہ درحقیقت اس میں ہمارے لیے اچھائی ہوتی ہے۔
یادرکھیں کہ جب انسان کو درد ملتا ہے تو اس کے اندر تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ دنیا کا اعلیٰ ترین ادب غم کے حالت میں وجود میں آیا ہے۔ اگر یہ درد نہ ہوتا تو نہ کوئی مرزاغالب بنتا، نہ علامہ اقبال اورنہ ہی شیکسپیئر۔ اس لیے اگر آپ کو زندگی نے دُکھ، درد اور غم دیے ہیں تو انھیں اپنی طاقت بنائیے، انھیں اچھا معنی دیجیے اور ان سے سبق سیکھ کر آگے بڑھیے۔
مثبت ماضی
یہ زندگی کا وہ حصہ ہے جسے یاد کرکے آپ کو خوش گوار احساس ہوتا ہے۔ مثبت ماضی کے لیے آپ شکرگزاری والا رویہ اپنائیے۔ دِ ل سے الحمدللہ کہیے۔ اللہ کا شکر ادا کیجیے کہ اس نے آ پ کی زندگی میں اچھے حالات پیدا کیے تھے جن کی بدولت آ ج آپ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ نعمتوں پر بھی شکر ادا کیجیے۔ کیوں کہ اللہ کا کرم صرف ماضی میں نہیں ہوا تھا بلکہ اب بھی آپ پر ہو رہا ہے۔ آپ کے پاس ایسی بہت سی نعمتیں ہیں جو دوسروں کے پاس نہیں۔ عالمی شعبہ صحت (WHO) کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تین کروڑ، نوے لاکھ لوگ ایسے ہیں جو اندھے ہیں، آپ اللہ کا شکر ادا کیجیے کہ خدا نے آپ کو بینائی سے نوازا ہے۔ سات کروڑ لوگ بہرے ہیں، لیکن آپ کو اللہ نے سننے کی صلاحیت دی ہوئی ہے۔ پچاس لاکھ لوگوں کے ہاتھ پاؤں کام نہیں کرتے جب کہ آپ ہاتھ، پاؤں کا استعمال کر رہے ہیں اور اپنے بیسیوں کام بہترین انداز میں سرانجام دے رہے ہیں۔
منفی مستقبل
یہ آنے والے وقت کے وہ اندیشے ہیں جو آ پ کو ڈراتے رہتے ہیں۔ انھی کی وجہ سے آپ کبھی غصہ، کبھی خوف اور کبھی لالچ میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں۔ منفی مستقبل سے نمٹنے کاطریقہ یہ ہے کہ آپ ایسی تمام فکروں کو ذہن سے جھٹک دیں، کیوں کہ جو حالات ابھی آئے نہیں، ان کے بارے میں پریشان ہونے کاکوئی فائدہ نہیں۔ مستقبل کے بارے میں اپنا گمان درست کریں۔ دُعا کو سہارا بنائیں اور اس کے ساتھ ساتھ مخلوق خدا پر رحم کریں کیوں کہ جو شخص انسانوں پر رحم کرتا ہے، اللہ اس پر رحم کرتا ہے۔ اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں، ایسے لوگ جو آپ کو مایوسی میں مبتلا نہ کریں بلکہ آپ کی ہمت بڑھائیں اور اللہ پر آپ کا یقین مضبوط بنائیں۔
مثبت مستقبل
یہ آپ کی زندگی کا وہ حصہ ہے جو آپ کے خوابوں اور آپ کی اُمیدوں سے بھرپور ہے۔ اس حصے کی حفاظت بہت ضروری ہے کیوں کہ یہ خواب ہی ہیں جو انسان کو جگاتے ہیں اور اُسے محنت کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ خدانخواستہ یہ زادِراہ اگر چھِن جائے تو پھر آپ کے لیے اپنا سفر جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ اپنے خوابوں کو لکھ کر رکھیے تاکہ یہ مضبوط ہوں۔ ان کے بارے میں ایسا تصور کریں گویا یہ چیزیں واقع ہوچکی ہیں۔ آپ کے گمان کی طاقت جس قدر مضبوط ہوگی، اسی طرح کے حالات آپ کی زندگی میں واقع ہوں گے۔
الفریڈ ایڈلر ایک نامی Psychotherapist (نفسیاتی معالج) تھا۔ اس نے پوری عمر انسان اور اس کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کا مطالعہ کیا اور اس کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ انسان کے اندر ایک حیرت انگیز خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی بھی”نہیں“ کو ”ہے“ میں بدل سکتا ہے۔
اللہ نے یہ طاقت آپ کے اندر بھی رکھی ہے۔ اسے استعمال میں لائیے اور منفی ماضی سے پریشان ہونے کے بجائے، تاب ناک مستقبل کی طرف قدم بڑھائیے۔

31/03/2026

Address

Gilgit
Hunza

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Taleem o Tarbiyat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share