Mashal Public School Formuli

Mashal Public School Formuli We aim to be an effective school, providing a quality environment for people to develop and achieve

Happy birthday Aaila
18/10/2024

Happy birthday Aaila

مشتاق احمد یوسفی صاحب لکھتے ہیں:- میں آفس میں آتے ہی ایک کپ چائے ضرور پیتا ہوں۔ اُس روز ابھی میں نے پہلا گھونٹ ہی بھرا ت...
17/09/2024

مشتاق احمد یوسفی صاحب لکھتے ہیں:-
میں آفس میں آتے ہی ایک کپ چائے ضرور پیتا ہوں۔ اُس روز ابھی میں نے پہلا گھونٹ ہی بھرا تھا کہ اطلاع ملی: کوئی صاحب مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔
میں نے کہا: بھجوا دیجیے۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور شلوار قمیض پہنے گریبان کے بٹن کھولے گلے میں کافی سارا ٹیلکم پاؤڈر لگائےہاتھوں میں مختلف قسم کی مُندریاں اور کانوں میں رِنگ پہنے ہوئے ایک نیم کالے صاحب اندر داخل ہوئے۔ سلام لیا اور سامنے بیٹھ گئے۔
ان کا ڈیل ڈول اچھا تھا، اس لیے میں نے خود کو قابو میں رکھا اور آنے کا مقصد پوچھا۔ اُس نے محتاط نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھا‘ پھر ٹیبل پر آگے کو جھک کر بولا ''میں بھی ایک مراثی ہوں۔ میں بوکھلا گیا، کیا مطلب.؟ وہ تھوڑا قریب ہوئے‏ اور بولے ''مولا خوش رکھے میں کافی دنوں سے آپ سے ملنا چاہ رہا تھا سنا ہے آپ بھی میری طرح.......... میرا مطلب ہے آپ بھی لوگوں کو ہنساتے ہیں؟‘‘
میں نے جلدی سے کہا، ہاں لیکن میں مراثی نہیں ہوں۔
“اچھی بات ہے‘‘ وہ اطمینان سے بولے ''میں نے بھی کبھی کسی کو اپنی حقیقت نہیں بتائی. میرا خون کھول اٹھا۔ عجیب آدمی ہو تم، تمہیں لگتا ہے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں؟ یہ دیکھو میرا شناختی کارڈ... ہم یوسفزئی ہیں ۔وہ کارڈ دیکھتے ہی چہکا. “مولا خوش رکھے... وہی بات نکلی ناں.. میرا دل چاہا کہ اچھل کر اُس کی گردن دبوچ لوں‘ لیکن کم بخت ڈیل ڈول میں میرے قابو آنے والا نہ تھا۔
وہ پھر بولا مجھے نوکری چاہیے‘‘۔ میں پہلے چونکا‘ پھر غصے سے بھڑک اٹھا ''یہ کوئی کمرشل تھیٹر کا دفتر نہیں ہے‘تم نے کیسے سوچ لیا کہ یہاں مراثی بھرتی کیے جاتے ہیں؟‘‘
وہ کچھ دیر مجھے گھورتا رہا‘ پھر اپنی مندری گھماتے ہوئے بولا ''یہاں نہ سہی‘ کسی دوسرے دفتر میں ہی کام دلوا دیں۔ میں کوئی سخت جواب دینے ہی والا تھا‏ کہ اچانک میرے ذہن میں ایک اچھوتا خیال آیا اور میں مسکرا اٹھا۔
آفس بوائے سے اُس کے لیے بھی چائے لانے کے لیے کہا اور خود اُٹھ کر اُس کے ساتھ والی کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں میں الجھن سی اُتر آئی۔ میں نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، ‏سنو! تمہیں بہت اچھی نوکری مل سکتی ہے‘ اگر تم مجھے ہنسا کے دکھا دو۔
وہ ہونقوں کی طرح میرا منہ دیکھنے لگا۔ میں نے اُس کی حالت کا مزا اٹھاتے ہوئے اُسے زور سے ہلایا ''ہیلو! ہوش کرو بتاؤ‘ یہ چیلنج قبول ہے؟؟ اُس نے کچھ دیر پھر مندری گھمائی اور نفی میں سر ہلا دیا. میں حیران رہ گیا‘ وہ مراثی ہونے کے باوجود مجھ جیسے اچھے خاصے معزز انسان سے ہار مان رہا تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو اُس نے عجیب سا جواب دیا ''میں نے لوگوں کو ہنسانا چھوڑ دیا ہے۔
میں اچھل پڑا ''یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اُس نے لمبا سانس لیا اور بیزاری سے بولا ''لوگ اب ہنسنا چھوڑ چکے ہیں۔ میں نے ایک زوردار قہقہہ لگایا ''یہ تمہاری غلط فہمی ہے.. دنیا آج بھی ہنستی ہے، مزاحیہ تحریریں پڑھتی ہے‘ مزاحیہ ڈرامے دیکھتی ہے، جگتیں پسند کرتی ہے۔ اُس نے اپنی مندری نکال کر دوسری انگلی میں پہنی. ‏اور اپنی بڑھی ہوئی شیو پر خارش کرتے ہوئے بولا ''دنیا ہنستی نہیں دوسروں کی ذلت پر خوش ہوتی ہے‘‘
میں نے پھر قہقہہ لگایا وہ کیسے؟ اُس نے قمیض کی سائیڈ والی جیب سے سستے والے سگریٹ کی مسلی ہوئی ڈبی نکالی اور میری طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھا‘ میں نے ایش ٹرے اُس کے سامنے رکھ دی.
‏اُس نے شکریہ کہا اور سگریٹ سلگا کر گہرا کش لیا۔ میں اُس کےجواب کا منتظر تھا۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی پھر اُس کی آواز آئی ''آپ کا منہ فلسطین کے لومڑ جیسا ہے"۔
مجھے گویا ایک کرنٹ سا لگا اور میں کرسی سے پھسل گیا۔ میری رگ رگ میں طوفان بھر گیا۔ وہ میرے دفتر میں بیٹھ کر‏ مجھے ہی لومڑ کہہ رہا تھا‘ بات تو سچ تھی مگر بات تھی رسوائی کی۔ میرا چہرہ سرخ ہو گیا‘ اس سے پہلے کہ میں اُس پر چائے کا گرم گرم کپ انڈیل دیتا‘ وہ جلدی سے بولا ''آپ کا ایک جگری دوست شہزاد ہے ناں؟‘‘
میں پوری قوت سے چلایا ''ہاں ہے...پھر؟ وہ فوراً بولا ''اُس کی شکل بینکاک کے جمعدار جیسی ہے"۔ میں نے بوکھلا کر اُس کا یہ جملہ سنا ... کچھ دیر غور کیا اور پھر بے اختیار میری ہنسی چھوٹ گئی... میں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا۔
تین چار منٹ تک آفس میں میرے قہقہے گونجتے رہے بڑی مشکل سے میں نے خود پر قابو پایا اور ‏دانت نکالتے ہوئے کہا ''شرم کرو... وہ میرا دوست ہے۔
میری بات سنتے ہی مراثی نے پوری سنجیدگی سے کہا ''ایسی ہنسی آپ کو اپنے اوپر لگنے والی جگت پر کیوں نہیں آئی؟ میں یکدم چونک اٹھا‘ ساری بات میری سمجھ میں آ گئی تھی...
ہمارے معاشرے میں واقعی وہ چیز زیادہ ہنسی کا باعث بنتی ہے جس میں کسی دوسرے کی ذلت کا سامان ہو‘ یہی وجہ ہے کہ سٹیج ڈراموں اور عام زندگی میں جب ہم کسی دوسرے کو ذلیل ہوتے دیکھتے ہیں تو ہمارے دل و دماغ فریش ہو جاتے ہیں۔
کوئی بندہ چلتے ہوئے گر جائے، کسی کی گاڑی خراب ہو جائے‏ کسی کے پیچھے کتا دوڑ لگا دے، کسی کی بس نکل جائے اور وہ آوازیں لگاتا رہ جائے تو ہماری ہنسی نہیں رکتی۔ یہی عمل اگر ہمارے ساتھ ہو اور دوسرے ہنسیں تو ہم غصے سے بھر جاتے ہیں۔
گویا ہنسنے کے لیے کسی کا ذلیل ہونا لازمی امر قرار پا چکا ہے۔ ‏یہی رویہ ہماری زندگی کے ہر پہلو میں در آیا ہے. ہمیں اپنے سکھ سے اتنی راحت نہیں ملتی جتنے کسی کے دکھ ہمیں سکون دیتے ہیں۔

03/06/2020

سکول نہ کھلنے کی وجہ #کرونا کا خوف نہیں ہے بلکہ گورنمنٹ کا سرکاری سکولز میں SOP's پر عمل نہ کروا سکنے کا ڈر ہے.
جب آرمی پبلک اسکول کا افسوس ناک واقعہ ہوا تھا تب تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو سیکیورٹی کیمرے لگانے، سیکیورٹی گارڈ رکھنے، 8 فٹ دیواریں اونچی کرانے اور ان پر خاردار تار لگانے کا حکم جاری کیا گیا تھا لیکن یہ حکم نامہ صرف پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے لئے تھا گورمنٹ اسکولوں کے لئے نہیں تھا، اس وقت کسی نے بھی سوال نہیں اٹھایا کہ کیا وجہ ہے کہ گورنمنٹ اسکولوں میں کیوں یہ انتظامات نہیں کئے گئے،
اور اب بھی ایسا ہی ہوگا جب اسکول کھلیں گے تو پرائیویٹ اسکولوں کو کہا جائے گا کہ اسکول سینیٹائزر گیٹ لگائیں، بچوں کو ماسک دیں، دستانے دیں، ان کو سینیٹائزر لکوڈ دیں، ڈیٹول کا پوچھہ لگوائیں اسکول میں اسپرے کروائیں، وغیرہ وغیرہ
پرائیویٹ ادارے تو جیسے تیسے یہ سب کچھ کر بھی لیں گے لیکن سرکاری اسکولوں میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا،
معزرت کے ساتھ حکومت اور کورٹ کے تمام حکم نامے صرف پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے لئے ہوتے ہیں۔

بورڈ والے طلبہ کے لئے
21/05/2020

بورڈ والے طلبہ کے لئے

20/05/2020
06/04/2020

کیا حکومت یہ فیصلے کر سکتی ہے؟
1. اشیائے خورونوش کی قیمت 20 فیصد کم وصول کی جائیگی
2. ہسپتال اپنی فیس 20 فیصد کم وصول کریں گے
3. تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 20 فیصد کمی کی جائیگی.
4. پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں 20 فیصد کمی کی جائیگی.
5. تمام بلڈنگز اور مارکیٹس کے کرایوں میں 20 فیصد کمی کی جائے گی.
جب حکومت ان سب کی قیمتوں میں 20 فیصد کمی کا اعلان کردےاور اس کا نوٹیفیکیشن جاری کر دے اس پر عمل کو یقینی بنائے تو پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو بھی اپنی فیس میں 20 فیصد مستقل کمی کا اعلان کر دینا چاہیئے.
اگر حکومت یہ سب نہیں کر سکتی تو غوروفکر کرے اور تعلیمی اداروں کیلئے چار ماہ کی سبسڈی کا اعلان کرے تاکہ سب اساتذہ اور ورکرز کو تنخواہیں بروقت ادا کی جا سکیں اور اس مشکل گھڑی میں والدین کا بوجھ بھی بانٹا جا سکے.
منقول

31/03/2020

*پرائیویٹ سکولز اونرز اور اساتذہ کون ہیں ؟؟؟؟*
*معزز والدین !*

پرائیویٹ سکولز اونرز اور استاذہ جنہیں ہمیشہ میڈیا اور کچھ ارباب اختیار نے ایک مافیا بنا کر پیش کیا کون ہیں ؟؟ آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں
پرائیویٹ سکولز کے اونرز وہ لوگ ہیں ۔۔۔۔
جنہوں نے آپ کے بچوں کو ہمیشہ مقدم رکھا ۔۔۔۔۔۔ بہترین فرنیچر، کلاس رومز، سہولیات، فیکلٹی، سکیورٹی اور سب سے بڑھ کر تعلیمی ماحول دیا ۔۔۔۔۔۔
آپ کو ضرورت پڑی تو آپ کا ساتھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 4،4 ماہ کی فیسیں ادھار کیں ۔۔۔۔۔۔ بیسیوں دفعہ والدین نے اس ادھار کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور سکول معہ ادھار چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔ پھر بھی انہوں نے ایسے والدین پر کیس کیا نہ راستہ روکا ۔۔۔۔۔۔۔
نئے سال کا کورس کمزور مالی پوزیشن رکھنے والے والدین کو ادھار دیا ۔۔۔۔۔۔ تاکہ ان کے بچوں کا حرج نہ ہوسکے ۔۔۔۔۔
ہمیشہ بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔۔
پرائیویٹ سکولز اساتذہ بلاشبہ بہت کم مراعات کے باوجود دن رات آپ کے بچوں کے لیے کام کرنے کے لئے تیار ۔۔۔۔۔
ڈیلی پراگریس رپورٹس، ویکلی رپورٹس، منتھلی رپورٹس، سالانہ رپورٹس، ٹیسٹ میکنگ اور چیکنگ، پلانرز، کاپیز اور بہت کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اس کے باوجود انتھک اور بے لوث لگن ۔۔۔۔۔
سب سے بڑھکر یہ گروپ یعنی اونرز اور ٹیچرز ہمہ وقت آپ کے بچوں کے روشن مسقبل کے لئے مصروف عمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کے بچوں کو لکھنا، پڑھنا، کھانا، پینا، بولنا اور آگے بڑھنا سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ سر اٹھا کے جینا سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آج یہ سب سر جھکا کے کھڑے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ انہیں ستائش ملنی چاہیئے تھی، تنقید کی گئی، حوصلہ ملنا چاہیئے تھا، حوصلہ شکنی کی گئی، تعاون ملنا چاہیئے تھا ، رکاوٹیں ڈالی گئیں مگر پھر بھی انہوں نے آپ کو بچوں کو پڑھایا ۔۔۔۔۔۔۔ سر اٹھا کے جینا سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔
معزز والدین ۔۔۔۔۔
اب موجودہ حالات میں آپ کا فرض ہے کہ آپ ان کا سر نہ جھکنے دیں ۔۔۔۔۔ بہت سے لوگوں کی بلڈنگز کرائے کی ہیں، ہر ماہ کی دس تاریخ کو مالک بلڈنگ کرایہ لینے آجاتا یے ۔۔۔۔۔۔ یہ اساتذہ انہیں مجبوری سنائیں تو وہ بھی انہیں مافیا سمجھتا ہے ۔۔۔۔۔۔ بلڈنگز سے بے دخل کرنے کا کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ ہر ماہ کے آغاز پر سکول اساتذہ انہی لوگوں کے ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ بجلی، گیس، پٹرول، سکیورٹی گاردز اور نجانے کون کون سی پیمنٹس ان کی منتظر ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔ ایسے میں یہ فرمان آتا ہے ۔۔۔۔ آپ فیسیں نہ لیں ۔۔۔۔ والدین سمجھتے ہیں کہ بچے سکول نہیں گئے تو ان کا کون سا خرچہ ہوا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ خرچے میں ایک روپے کی کمی نہیں ہوئی ۔۔۔۔ الٹا جن والدین ادھار بکس لیں تھیں، 4،4 ماہ کی فیس دینی تھی وہ فون سننے کے روادار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاد رکھئے انہی لوگوں نے آپ کے بچوں کو سر اٹھا کے چلنا اور جینا سکھایا ہے اور سکھانا ہے ۔۔۔۔۔۔ آگے بڑھیں اور آج ان کا سر جھکنے سے بچائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت پر اپنی فیسیں ادا کرکے اپنے بچوں کے اداروں کو بند ہونے بچائیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ انہوں نے جو کچھ پڑھایا اور سکھایا ہے وہ اپنی تاثیر کھودے ۔۔۔۔۔!!!۔۔۔۔
منقول

3 bumper offers
29/02/2020

3 bumper offers

06/01/2020

پنجاب حکومت کی طرف سے سردی میں اضافہ کے بعد چھٹیوں میں اضافہ 12جنوری تک سکول بند رہیں گے۔

20/12/2019

محترم والدین 20 دسمبر سے سے 5 جنوری تک سکول کی چھٹیاں ہیں۔6 جنوری بروز پیر سکول دوبارہ کھلے گا۔ان شاءاللہ

29/11/2019

کل بروز ہفتہ چھٹی ہوگی۔پیر کے دن سے نئے اوقات کار مندرجہ ذیل ہونگے۔
8:00 تا 2:00
جمعہ
11:30

16/10/2019

School Timing:
8:00 to 1:30
Friday: 8:00 to 11:30

Address

Village Formuli, Tehsil Hazro
Hazro
43540

Opening Hours

Monday 08:00 - 13:30
Tuesday 08:00 - 13:30
Wednesday 08:00 - 13:30
Thursday 08:00 - 13:30
Friday 08:00 - 13:30
Saturday 08:00 - 13:30

Telephone

+923035330968

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mashal Public School Formuli posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Mashal Public School Formuli:

Shortcuts

Share

Category