Sade Kyaal

Website

Sade Kyaal "Discover engaging content, fresh perspectives, and a community that inspires – follow us and be part of something exciting!"


Follow Please �

21/06/2026

So sad
📌
قیامت کی نشانی یا انسانیت کا زوال A Sign of the End Times or the Fall of Humanity? 😢💔

والدین پر ہاتھ اٹھانا نہ صرف ایک اخلاقی گراوٹ ہے بلکہ انسانیت کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ اختلافِ رائے اور غصہ ہر گھر میں ہو سکتا ہے، لیکن ماں باپ کی عزت و احترام ہر حال میں لازم ہے۔ ایک وقت تھا جب اولاد والدین کے قدموں میں جنت تلاش کرتی تھی، اور آج ایسے مناظر دل کو رلا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین کی خدمت، عزت اور فرمانبرداری کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین








19/06/2026

ایسا پرفیوم کا نام بتائیں جب لگاؤ تو لوگ روک کر پوچھیں کونسا پرفیوم لگایا ہے.
🙏

حضرت قاسم بن حسن علیہ السلام کی شہادتاہلِ بیتِ نبوت کے شہید افراد میں سے ایک حضرت قاسم بن حسن علیہ السلام بھی ہیں۔ آپ حض...
19/06/2026

حضرت قاسم بن حسن علیہ السلام کی شہادت
اہلِ بیتِ نبوت کے شہید افراد میں سے ایک حضرت قاسم بن حسن علیہ السلام بھی ہیں۔ آپ حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے بیٹے، حضرت امام حسین علیہ السلام کے بھتیجے اور ہونے والے داماد تھے۔ آپ کے ساتھ حضرت امام حسین علیہ السلام کی لختِ جگر حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا کا مستقبل وابستہ تھا۔ جب اہلِ بیتِ نبوت کے افراد یکے بعد دیگرے شہید ہونا شروع ہو گئے تو حضرت قاسم بن حسن علیہ السلام نے بھی میدانِ جنگ میں جانے کے لیے اپنے چچا حضرت امام حسین علیہ السلام سے اجازت طلب کی اور عرض کیا کہ "چچا جان! مجھے بھی اجازت مرحمت ہو۔ میں بھی راہِ حق میں سر کٹانے کے لیے بے تاب ہوں۔" حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: "بیٹے! میں تمہیں کس دل سے اجازت دوں؟ تم تو میرے بھائی حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی نشانی اور یادگار ہو۔" مگر حضرت قاسم علیہ السلام نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ "چچا جان! خدا کے لیے مجھے ان دشمنوں سے لڑنے کی اجازت دیجیے اور اپنے اوپر نثار ہونے کی سعادت سے محروم نہ کیجیے۔" چنانچہ امامِ عالی مقام علیہ السلام نے اپنی اشکبار آنکھوں سے اپنے بھتیجے کو سینے سے لگا کر رخصت کر دیا۔
حضرت قاسم علیہ السلام نے میدانِ جنگ میں خوب شجاعتِ حیدری کا مظاہرہ کیا اور بے شمار یزیدیوں کو واصلِ جہنم کیا۔ حمید بن مسلم، جو کہ ابنِ سعد کی فوج میں تھا، حضرت قاسم علیہ السلام کے میدانِ جنگ میں آنے کی منظر کشی یوں کرتا ہے کہ: "اچانک میدانِ جنگ میں ایک ایسا خوبصورت لڑکا نکلا کہ اس کا چہرہ چاند کا ٹکڑا معلوم ہوتا تھا۔ یہ لڑکا قمیص، ازار اور جوتے پہنے اور ہاتھ میں تلوار لیے ہوئے تھا، اس کے ایک جوتے (غالباً بائیں) کا تسمہ ٹوٹا ہوا تھا۔ یہ لڑکا شیر کی مانند بھرا ہوا آیا اور دشمن پر ٹوٹ پڑا۔ عمر بن سعد ازدی نے اس کے سر پر تلوار مار دی۔ وہ نوجوان چلایا: 'یا عماہ' (ہائے چچا جان!) اور زمین پر گر پڑا۔ آواز سنتے ہی حضرت امام حسین علیہ السلام بپھرے ہوئے شیر کی طرح عمر بن سعد ازدی پر جھپٹے اور تلوار سے وار کیا۔ عمر بن سعد نے وار کو بازو پر روکا تو اس کا بازو کہنی سے کٹ کر گر پڑا۔ اس پر وہ چیختا چلاتا فرار ہوا۔ اہلِ کوفہ کے رسالے کے جوان اسے بچانے کے لیے دوڑے لیکن عمر بن سعد گھوڑوں کی زد میں آ گیا اور سموں تلے روندا گیا۔" راوی کا بیان ہے کہ: "جب غبار چھٹ گیا تو میں نے دیکھا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام لڑکے کے سرہانے کھڑے ہیں اور لڑکا ایڑیاں رگڑ رہا ہے۔" حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ: "جس قوم نے تجھے قتل کیا ہے اس کے لیے اللہ کی رحمت سے دوری ہے۔ قیامت کے دن وہ تیرے جدِ امجد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تیرے قتل کا کیا جواب دیں گے؟ تیرے چچا کے لیے یہ تکلیف دہ امر ہے کہ تو پکارے اور وہ جواب نہ دے، یا وہ جواب دے تو اس سے تجھے کوئی فائدہ نہ ہو۔ خدا کی قسم! تیرے چچا کے مخالف زیادہ ہو گئے ہیں اور معاون کم۔"
اس کے بعد حضرت امام حسین علیہ السلام نے سینے سے سینہ لگا کر اس شہید نوجوان کو اٹھا لیا اور اپنے بیٹے حضرت علی اکبر علیہ السلام اور دوسرے شہدائے کرام (علیہم السلام) کے پاس لے جا کر لٹا دیا۔
راوی کا بیان ہے کہ: "جب امامِ عالی مقام علیہ السلام حضرت قاسم علیہ السلام کو اٹھا کر لے جا رہے تھے تو ان کے پاؤں زمین سے رگڑ رہے تھے اور مجھے اب بھی ان کے پاؤں زمین پر گھسٹتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ میں نے اس لڑکے کے بارے میں پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ یہ قاسم بن حسن بن علی بن ابی طالب (علیہم السلام) ہیں۔"

اللہ اکبر کربلا کے جانثاروں کو سلام ❣️😢

(البدایہ والنہایہ، ۱۸۶:۸)

Address

Chak No 165/M
Hasilpur
63000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sade Kyaal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share