09/09/2026
مستجابُ الدعا ہونے کا راز۔۔۔۔
ہم بہت دعائیں مانگتے ہیں، مگر کبھی سوچا ہے کہ دعا صرف الفاظ کا نام نہیں؟
اللہ نے فرمایا،
ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ
مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔
مگر قرآن ہمیں دعا کا طریقہ بھی سکھاتا ہے،
ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً
اپنے رب کو عاجزی اور پوشیدگی کے ساتھ پکارو۔
دعا کی اصل طاقت بلند آواز میں نہیں، دل کی عاجزی میں ہے۔
زکریا علیہ السلام نے بھی اپنے رب کو پکارا تو۔۔۔
نَادَىٰ رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا
اپنے رب کو چپکے سے پکارا۔
اور یاد رکھیے ! دعا عمل کا بدل نہیں۔
جو شخص زمین میں فساد کرتا رہے اور پھر دعا سے نتائج بدلنے کی توقع کرے، وہ دعا کی روح کو نہیں سمجھتا۔
پاکیزہ دل، صالح عمل، مسلسل ذکر اور عاجزی، یہ وہ راستہ ہے جس پر دعا محض زبان کی آواز نہیں رہتی، بلکہ روح کی پکار بن جاتی ہے۔
فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ
تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔
شاید ہماری دعائیں کمزور نہیں۔۔۔۔
ہماری حالتِ دعا کمزور ہے۔
جب زبان خاموش ہو جائے اور دل اپنے رب کے سامنے جھک جائے، تب دعا لفظوں سے آگے بڑھ کر ندائے خفی بن جاتی ہے۔