Noor e Haram Online Quran Academy

Noor e Haram Online Quran Academy Learn Quran Online with Hafiz Kashif Hazarvi. This Includes Qaida, Nazra, Hifz, Quran Translation etc

09/09/2026

مستجابُ الدعا ہونے کا راز۔۔۔۔

ہم بہت دعائیں مانگتے ہیں، مگر کبھی سوچا ہے کہ دعا صرف الفاظ کا نام نہیں؟

اللہ نے فرمایا،
ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ
مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔

مگر قرآن ہمیں دعا کا طریقہ بھی سکھاتا ہے،

ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً
اپنے رب کو عاجزی اور پوشیدگی کے ساتھ پکارو۔

دعا کی اصل طاقت بلند آواز میں نہیں، دل کی عاجزی میں ہے۔

زکریا علیہ السلام نے بھی اپنے رب کو پکارا تو۔۔۔

نَادَىٰ رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا
اپنے رب کو چپکے سے پکارا۔

اور یاد رکھیے ! دعا عمل کا بدل نہیں۔
جو شخص زمین میں فساد کرتا رہے اور پھر دعا سے نتائج بدلنے کی توقع کرے، وہ دعا کی روح کو نہیں سمجھتا۔

پاکیزہ دل، صالح عمل، مسلسل ذکر اور عاجزی، یہ وہ راستہ ہے جس پر دعا محض زبان کی آواز نہیں رہتی، بلکہ روح کی پکار بن جاتی ہے۔

فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ
تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔

شاید ہماری دعائیں کمزور نہیں۔۔۔۔
ہماری حالتِ دعا کمزور ہے۔

جب زبان خاموش ہو جائے اور دل اپنے رب کے سامنے جھک جائے، تب دعا لفظوں سے آگے بڑھ کر ندائے خفی بن جاتی ہے۔

15/08/2026

" گھروں میں برکت کے اسباب "

برکت: یہ ایک ایسا لفظ ہے جسے ہم اکثر سنتے ہیں، لیکن افسوس کہ ہم نے اسے اپنے گھروں سے کھو دیا ہے۔ نہ وقت میں برکت رہی ہے اور نہ ہی رزق میں۔

یہاں برکت کی آٹھ چابیاں پیشِ خدمت ہیں، جو تمام کی تمام قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں:

1... قرآن کریم کی تلاوت
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَهٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ﴾

"اور یہ (قرآن) ایک بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے۔"

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں برکت رکھی ہے، بشرطیکہ اس میں تدبر کیا جائے اور زندگی کے تمام معاملات میں اس کی تعلیمات پر عمل کیا جائے۔ اسی لیے ہمارے نبی کریم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے اس گھر کے بارے میں جس میں قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے فرمایا:

"اس میں فرشتے سکونت اختیار کرتے ہیں، شیاطین اسے چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں، یہ اپنے رہنے والوں کے لیے کشادہ ہو جاتا ہے اور اس میں خیر و برکت بڑھ جاتی ہے۔"

2... بسم اللہ پڑھنا
رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے فرمایا:

"جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لیتا ہے (بسم اللہ پڑھتا ہے)، تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے: (اس گھر میں) تمہارے لیے نہ رہنے کی جگہ ہے اور نہ رات کا کھانا۔"

3... صدقہ و خیرات
گھروں میں برکت کے اسباب میں سے ایک صدقہ دینا بھی ہے، بالخصوص پوشیدہ صدقہ (صدقۂ سر)؛ کیونکہ یہ رب کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے، بلاؤں اور بری موت کو ٹالتا ہے اور برکت میں اضافہ کرتا ہے۔

4... صلہ رحمی (رشتے داروں سے اچھا سلوک)
ہمیں ہمارے نبی کریم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے خبر دی ہے کہ:

صلہ رحمی، حسنِ اخلاق اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ رزق میں اضافے اور عمر میں درازی کا باعث بنتے ہیں۔

5.... رزق کی تلاش میں صبح جلدی اٹھنا
حدیث شریف میں آیا ہے:

"بُورِكَ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا"

"میری امت کے لیے صبح کے وقت (جلدی کام شروع کرنے) میں برکت رکھی گئی ہے۔" یعنی رزق کی تلاش کے لیے صبح سویرے نکلنا۔

6... نماز قائم کرنا (اپنے وقت پر)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۖ لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكَ ۗ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى﴾

"اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیجیے اور خود بھی اس پر قائم رہیے۔ ہم آپ سے کوئی روزی نہیں مانگتے، روزی تو ہم آپ کو دیتے ہیں، اور بہترین انجام تقویٰ ہی کا ہے۔"

7... اللہ پر سچا توکل (بھروسا)
حدیث مبارکہ میں وارد ہوا ہے:

"اگر تم اللہ پر ایسا توکل کرو جیسا توکل کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، جو صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔"

8... مسلسل استغفار کرنا
استغفار بذاتِ خود رزق کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ جیسا کہ ہمارے نبیِ اعظم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم (ان پر، ان کی آل و اصحاب اور تمام انبیاء و مرسلین پر لاتعداد درود و سلام ہو) نے فرمایا:

"جو شخص استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، ہر غم سے نجات عطا فرماتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔"

اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو برکت، رضا، صحت، سلامتی، اطمینان اور سکونِ قلب سے مالامال فرمائے۔ آمین!

10/08/2026

سورۃ البقرہ آیات 8 تا 10

وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ

وَمِنَ النَّاسِ = اور لوگوں میں سے
مَن = کچھ ایسے ہیں جو
يَقُولُ = کہتے ہیں
آمَنَّا = ہم ایمان لائے
بِاللَّهِ = اللہ پر
وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ = اور آخرت کے دن پر
وَمَا هُم = حالانکہ وہ نہیں ہیں
بِمُؤْمِنِينَ = ایمان والے

اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے، حالانکہ وہ حقیقت میں ایمان والے نہیں ہیں۔

قرآن اب ایک تیسری قسم کے انسان کو ہمارے سامنے لاتا ہے۔ پہلی قسم وہ تھی جو ایمان لے آئی، دوسری وہ جو کھلے طور پر انکار کرتی تھی، اور اب تیسری قسم وہ ہے جو زبان سے ایمان کا دعویٰ کرتی ہے مگر دل سے اسے قبول نہیں کرتی۔
یہ نفاق کی ابتدا ہے، زبان کچھ کہے اور دل کچھ اور چھپائے۔
منافق کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بھی دھوکا دیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ چند الفاظ بول دینے سے حقیقت بدل جائے گی، حالانکہ اللہ کے ہاں انسان کی اصل حیثیت اس کے دعوے سے نہیں بلکہ اس کے دل کے یقین سے متعین ہوتی ہے۔
یہ آیت صرف منافقینِ مدینہ کا تاریخی تذکرہ نہیں، بلکہ ہمارے لیے بھی ایک آئینہ ہے۔ انسان کو کبھی کبھی دوسروں سے زیادہ اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے، کیا میرا ایمان صرف زبان پر ہے، یا میرے فیصلوں، کردار اور ترجیحات میں بھی نظر آتا ہے؟

يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

يُخَادِعُونَ = وہ دھوکا دینا چاہتے ہیں
اللَّهَ = اللہ کو
وَالَّذِينَ آمَنُوا = اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے
وَمَا يَخْدَعُونَ = اور وہ دھوکا نہیں دیتے
إِلَّا أَنفُسَهُمْ = مگر اپنے آپ ہی کو
وَمَا يَشْعُرُونَ = اور انہیں شعور نہیں

وہ اللہ اور ایمان والوں کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو دھوکا نہیں دیتے، مگر انہیں اس کا شعور نہیں۔

منافق سمجھتا ہے کہ اس نے اپنی حقیقت چھپا لی ہے۔ وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتا ہے، مگر اندر سے حق کا مخالف ہوتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اس نے سب کو دھوکا دے دیا، لیکن قرآن کہتا ہے، تم نے کسی اور کو نہیں، اپنے آپ کو دھوکا دیا ہے۔
اللہ کو دھوکا دینا ممکن ہی نہیں۔ وہ زبان کے الفاظ سے آگے دلوں کے راز جانتا ہے۔ انسان دوسروں کے سامنے ایک چہرہ بنا سکتا ہے، لیکن اللہ کے سامنے کوئی پردہ نہیں۔
یہ آیت انسانی زندگی کی ایک بڑی حقیقت بیان کرتی ہے، جھوٹ سب سے پہلے انسان کی اپنی شخصیت کو کھوکھلا کرتا ہے۔ جب انسان مسلسل اپنے ظاہر اور باطن میں فرق رکھتا ہے تو آہستہ آہستہ اسے خود بھی معلوم نہیں رہتا کہ اس کی اصل حقیقت کیا ہے۔
ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کا ظاہر اور باطن ایک دوسرے کے قریب ہوں۔ جو بات زبان پر ہو، دل بھی اسے مانتا ہو، اور عمل بھی اسی کی گواہی دیتا ہو۔

فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ

فِي قُلُوبِهِم = ان کے دلوں میں
مَّرَضٌ = ایک بیماری ہے
فَزَادَهُمُ = تو زیادہ کر دی
اللَّهُ = اللہ نے
مَرَضًا = بیماری
وَلَهُمْ = اور ان کے لیے
عَذَابٌ أَلِيمٌ = دردناک عذاب ہے
بِمَا = اس وجہ سے کہ
كَانُوا = وہ تھے
يَكْذِبُونَ = جھوٹ بولتے

ان کے دلوں میں بیماری ہے، تو اللہ نے ان کی بیماری کو اور بڑھا دیا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے، اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔

قرآن نے نفاق کو دل کی بیماری کہا ہے۔ یہ جسم کی بیماری نہیں بلکہ روح کی بیماری ہے، شک، حسد، تکبر، حق سے نفرت، دنیا کی محبت اور دوغلا پن اس بیماری کی شکلیں ہیں۔
اور دل کی بیماری کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ انسان اکثر اسے بیماری سمجھتا ہی نہیں۔ جسم بیمار ہو تو انسان علاج ڈھونڈتا ہے، لیکن جب دل بیمار ہو تو وہ اپنی حالت کو ہی درست سمجھنے لگتا ہے۔
''فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا'' کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان جان بوجھ کر بیماری کو اختیار کرتا اور حق سے مسلسل منہ موڑتا ہے تو اس کی بیماری بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اللہ کی طرف سے یہ اضافہ دراصل اس کے مسلسل اختیار اور سرکشی کے انجام کے طور پر سامنے آتا ہے۔
اسی لیے دل کی اصلاح کو مؤخر نہیں کرنا چاہیے۔ گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ، غلطی ہو تو فوراً رجوع، اور حق واضح ہو جائے تو فوراً اسے قبول کرنا چاہیے۔ کیونکہ دل اگر آج نرم ہے تو کل سخت بھی ہو سکتا ہے۔

جسم کی بیماری انسان کو بستر تک محدود کرتی ہے، مگر دل کی بیماری انسان کو اللہ سے دور کر دیتی ہے۔ اس لیے سب سے زیادہ خوف اس بات کا ہونا چاہیے کہ کہیں ہمارا ظاہر نیک اور ہمارا باطن اللہ سے دور نہ ہو جائے۔

01/08/2026

"گناہوں کو مٹانے والے 10 اعمال"


1۔ ۔۔۔ تسبيح سے گناہوں کو مٹايا جائے:

قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ»

(صحيح مسلم)

اردو ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے دن میں سو (100) مرتبہ ’سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ‘ (اللہ اپنی تعریف کے ساتھ پاک ہے) کہا، اس کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔"

2۔ استغفار سے گناہوں کو مٹايا جائے

قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، غُفِرَ لَهُ وَإِنْ كَانَ فَرَّ مِنَ الزَّحْفِ»

(سنن أبي داود/الترمذي)

اردو ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے یہ کہا: ’أَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ‘ (میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو زندہ اور قائم رہنے والا ہے، اور میں اسی کی طرف توبہ کرتا ہوں)، تو اس کی بخشش کر دی جاتی ہے چاہے وہ میدانِ جنگ سے ہی کیوں نہ بھاگا ہو۔"

3۔ اس ذکر سے گناہوں کو مٹايا جائے :

قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا عَلَى الأَرْضِ أَحَدٌ يَقُولُ: لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللهِ، إِلاَّ كُفِّرَتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ، وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ البَحْرِ»

(سنن الترمذي)

اردو ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "زمین پر کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو ’لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللهِ‘ کہے، مگر اس کے تمام گناہ مٹا دیے جاتے ہیں، خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔"

4۔ کھانا کھانے کے بعد گناہوں کو مٹايا جائے

قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَكَلَ طَعَامًا ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»

(سنن أبي داود/الترمذي)

اردو ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے کھانا کھایا اور پھر کہا: ’الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ‘ (تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور میری کسی تدبیر اور طاقت کے بغیر یہ مجھے روزی دی)، تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"

5۔ لباس پہننے کے بعد گناہوں کو مٹايا جائے

قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَنْ لَبِسَ ثَوْبًا فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»

(سنن أبي داود)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اور جس نے کوئی کپڑا پہنا اور کہا: ’الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ‘ (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ لباس پہنایا اور میری کسی تدبیر اور طاقت کے بغیر مجھے یہ عطا فرمایا)، تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"

6۔ اذان کے وقت گناہوں کو مٹايا جائے

قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ»

(صحيح مسلم)

اردو ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے مؤذن کی آواز سن کر کہا: ’أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا‘ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، محمد کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوا)، تو اس کا گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔"

7۔ وضو کے وقت گناہوں کو مٹايا جائے

قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ، حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ»

(صحيح مسلم)

اردو ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے وضو کیا اور بہترین انداز سے وضو کیا، اس کے گناہ اس کے جسم سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں۔"

8۔ نماز کے بعد گناہوں کو مٹايا جائے

قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَبَّحَ اللهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَحَمِدَ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبَّرَ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَتِلْكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، وَقَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ؛ غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ»

(صحيح مسلم)

اردو ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے ہر نماز کے بعد 33 بار ’سُبْحَانَ اللهِ‘، 33 بار ’الْحَمْدُ لِلَّهِ‘، اور 33 بار ’اللهُ أَكْبَرُ‘ کہا — یہ کل 99 ہوئے — اور سو (100) کا عدد پورا کرنے کے لیے کہا: ’لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‘، تو اس کی خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں چاہے وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔"

9۔ سونے سے پہلے گناہوں کو مٹايا جائے

قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ حِينَ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ؛ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ أَوْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ»

(صحيح ابن حبان / عمل اليوم والليلة)

اردو ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے اپنے بستر پر جاتے وقت یہ کہا: ’لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ‘، تو اس کے گناہ یا خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں، خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔"

10۔ رات کو آنکھ کھلنے پر گناہوں کو مٹايا جائے (مکمل حدیث)

قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، الْحَمْدُ لِلَّهِ، وَسُبْحَانَ اللهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، أَوْ دَعَا، اسْتُجِيبَ لَهُ، فَإِنْ تَوَضَّأَ وَصَلَّى قُبِلَتْ صَلَاتُهُ»

(صحيح البخاري)

اردو ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس کی رات کو آنکھ کھلے اور وہ کہے: ’لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، الْحَمْدُ لِلَّهِ، وَسُبْحَانَ اللهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ‘، پھر کہے: ’اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي‘ (اے اللہ! مجھے معاف فرما دے) یا کوئی اور دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے، اور اگر وہ وضو کرے اور نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول کی جاتی ہے۔"

اے ہمارے غفور الرحیم پروردگار! ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما، خواہ وہ ظاہر ہوں یا باطن میں، چھپے ہوں یا علانیہ۔ اے کریم رب! ہمیں آئندہ ہر قسم کی معصیت اور گناہ سے اپنی حفاظتِ کاملہ میں رکھ اور تقویٰ کی خوبصورت زندگی عطا فرما۔

21/07/2026

سورۂ عبس آیات 24 تا 32

فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ إِلَىٰ طَعَامِهِ،
پس انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے کی طرف غور سے دیکھے۔

روٹی صرف بھوک مٹانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ اللہ کی ربوبیت کی ایک کھلی نشانی ہے۔ جس دسترخوان پر ہم روز بیٹھتے ہیں، وہ اللہ کی بے شمار نعمتوں کی داستان سناتا ہے۔

أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا،
ہم نے آسمان سے خوب پانی برسایا۔

ایک قطرہ بارش بھی انسان کے اختیار میں نہیں۔ جس پانی کو ہم معمولی سمجھتے ہیں، وہی پوری زندگی کی بنیاد ہے۔ اللہ کی رحمت پہلے آسمان سے اترتی ہے، پھر زمین پر زندگی بن کر نمودار ہوتی ہے۔

ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا،
پھر ہم نے زمین کو خوب پھاڑا۔

مردہ زمین کا سینہ چیر کر ننھا سا بیج سرسبز پودا بن جاتا ہے۔ ہر فصل انسان کو یاد دلاتی ہے کہ مردہ زمین کو زندہ کرنے والا، مردہ انسانوں کو بھی دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔

فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا ، وَعِنَبًا وَقَضْبًا ، وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا ، وَحَدَائِقَ غُلْبًا ، وَفَاكِهَةً وَأَبًّا،
پھر ہم نے اس میں اناج، انگور، ترکاریاں، زیتون، کھجوریں، گھنے باغات، طرح طرح کے پھل اور مویشیوں کے لیے چارہ اُگایا۔

یہ سب انسان کی محنت کا نہیں، اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہے۔ ایک ہی پانی سے بے شمار ذائقے، رنگ اور خوشبوئیں پیدا کرنا صرف اسی رب کی قدرت ہے جس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے۔

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ،
تاکہ تم بھی فائدہ اٹھاؤ اور تمہارے مویشی بھی۔

اللہ کی نعمتیں صرف انسان کے لیے نہیں، بلکہ پوری مخلوق کے لیے ہیں۔ جو رب پرندوں، جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کا رزق نہیں بھولتا، وہ اپنے بندوں کو بھی فراموش نہیں کرتا۔

21/07/2026

عَنْ عُلْبَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: حَثَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا أَتَصَدَّقُ بِهِ، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَصَدَّقُ بِعِرْضِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: أَيْنَ الْمُتَصَدِّقُ بِعِرْضِهِ الْبَارِحَةَ؟ فَقَامَ عُلْبَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ: أَبْشِرْ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ كُتِبَتْ فِي الزَّكَاةِ الْمُتَقَبَّلَةِ.
ترجمہ: حضرت علبہ بن زیدؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے صدقے کی ترغیب دی، لیکن میرے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہ تھا۔ میں نے عرض کیا: "اے اللہ! میں اپنی عزت اس شخص پر صدقہ کرتا ہوں جس نے مجھ پر ظلم کیا۔" اگلے دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کل رات اپنی عزت کا صدقہ کرنے والا کہاں ہے؟" حضرت علبہ بن زیدؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: "میں حاضر ہوں، یا رسول اللہ!" آپ ﷺ نے فرمایا: "خوش ہو جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تمہارا یہ صدقہ قبول شدہ زکاۃ میں لکھ دیا گیا ہے۔"
حوالہ:
مسند البزار (البحر الزخار)
مجمع الزوائد، امام ہیثمی، 3/117، باب: فيمن تصدق بعرضه۔

21/07/2026

تشریح:

رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرامؓ کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی۔ حضرت علبہ بن زیدؓ انتہائی تنگ دست تھے، ان کے پاس کوئی مال نہ تھا جسے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے۔ مگر وہ اس خیر سے محروم بھی نہیں رہنا چاہتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا:

«"اے اللہ! میں اپنی عزت (اپنا حق) اس شخص کے لیے صدقہ کرتا ہوں جس نے مجھ پر ظلم کیا ہے۔"»

یعنی اگر کسی نے میری غیبت کی، مجھے برا بھلا کہا، یا مجھ پر ظلم کیا، تو میں قیامت کے دن اس سے اپنا حق وصول نہیں کروں گا بلکہ اسے اللہ کی رضا کے لیے معاف کرتا ہوں۔

اگلے دن رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے دریافت فرمایا کہ رات اپنی عزت کا صدقہ کرنے والا کون ہے؟ حضرت علبہ بن زیدؓ کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے انہیں خوشخبری سنائی:

«"خوش ہو جاؤ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تمہارا یہ عمل قبول شدہ زکاۃ میں لکھ دیا گیا ہے۔"»

اس حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق:

1. معاف کرنا بھی ایک عظیم صدقہ ہے۔
2. صدقہ صرف مال سے نہیں ہوتا، بلکہ اخلاق، معافی، حسنِ سلوک اور نیک اعمال بھی صدقہ ہیں۔
3. اخلاص کے ساتھ کیا گیا چھوٹا عمل بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا اجر رکھتا ہے۔
4. ذاتی حقوق کو اللہ کی رضا کے لیے معاف کرنا اعلیٰ اخلاق اور تقویٰ کی علامت ہے۔
5. اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی نیت اور اخلاص کو قبول فرماتا ہے اور اس پر بہترین اجر عطا کرتا ہے۔

24/06/2026

والضُّحَىٰ ،
قسم ہے چاشت کے روشن وقت کی۔

وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ ،
اور رات کی، جب وہ سکون اور خاموشی کے ساتھ چھا جائے۔

روشنی اور تاریکی، دن اور رات، آسانی اور آزمائش، یہ سب زندگی کے لازمی مرحلے ہیں۔ جس طرح رات ہمیشہ نہیں رہتی، اسی طرح مشکلات بھی دائمی نہیں ہوتیں۔

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ ،
اے نبی ﷺ ! آپ کے رب نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ سے ناراض ہوا ہے۔

وحی کے چند دن رک جانے پر مخالفین نے کہا کہ اللہ نے اپنے نبی کو چھوڑ دیا ہے۔ اللہ نے فرمایا، نہیں! خاموشی جدائی نہیں ہوتی، اور تاخیر ناراضی کی دلیل نہیں ہوتی۔

وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَىٰ ،
اور یقیناً آپ کے لیے آنے والا ہر مرحلہ پہلے سے بہتر ہے۔

یہ صرف رسول اللہ ﷺ کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس شخص کے لیے امید کا پیغام ہے جو اللہ کے ساتھ جڑا رہے۔

وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ ،
اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا عطا کرے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔

اللہ دینے میں دیر کر سکتا ہے، مگر محروم نہیں کرتا۔

أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ ،
کیا اس نے آپ کو یتیم نہ پایا، پھر ٹھکانہ دیا؟

وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ ،
اور آپ کو راستے کا طالب پایا، پھر ہدایت عطا فرمائی؟

وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰ ،
اور آپ کو محتاج پایا، پھر غنی کر دیا؟

اللہ اپنے بندے کو اس کے ماضی کی نعمتیں یاد دلاتا ہے، تاکہ وہ حال کی آزمائشوں میں ناامید نہ ہو۔

پھر اللہ تین عملی ہدایات دیتا ہے،

فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ ،
پس یتیم پر سختی نہ کرو۔

کیونکہ تم خود یتیمی کا درد جانتے ہو۔

وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ ،
اور سوال کرنے والے کو جھڑکو نہیں۔

کیونکہ ضرورت مند کی عزت بھی اس کی ضرورت جتنی اہم ہے۔

وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ ،
اور اپنے رب کی نعمتوں کا ذکر کرتے رہو۔

نعمتوں کا تذکرہ تکبر نہیں، اگر اس سے مقصود شکر ہو۔

سورۃ الضحیٰ ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی میں کبھی ایسے لمحے آتے ہیں جب آسمان خاموش محسوس ہوتا ہے، دعائیں مؤخر ہوتی نظر آتی ہیں اور راستے دھندلا جاتے ہیں۔ مگر مومن جانتا ہے کہ اللہ کی خاموشی اس کی بے توجہی نہیں۔

جب رات گہری ہو جائے تو الضحیٰ کو یاد رکھو، کیونکہ اللہ کے نظام میں ہر رات کے بعد ایک صبح ضرور آتی ہے۔

23/06/2026

الَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ
کیا ہم نے آپ کا سینہ کھول نہیں دیا؟

وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ
اور ہم نے آپ سے آپ کا بوجھ اتار دیا۔

الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ
وہ بوجھ جس نے آپ کی پیٹھ کو جھکا دیا تھا۔

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
اور ہم نے آپ کے لیے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔

یہ سورت رسول اللہ ﷺ کے دل کو تسلی دینے کے لیے نازل ہوئی، لیکن اس کا پیغام ہر اس انسان کے لیے ہے جو زندگی کی مشکلات، ذمہ داریوں اور آزمائشوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہو۔

اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو یاد دلاتا ہے کہ جس رب نے دل کو وسعت دی، راستہ دکھایا، بوجھ ہلکا کیا اور عزت عطا کی، وہی رب آئندہ بھی کافی ہے۔

انسان اکثر اپنے مسائل کو دیکھتا ہے، مگر اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے۔ کیونکہ جو رب ماضی میں سہارا بن چکا ہو، وہ مستقبل میں بھی تنہا نہیں چھوڑتا۔

فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
پس یقیناً تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔

إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔

یہ قرآن کے سب سے امید افزا جملوں میں سے ایک ہے۔

اللہ یہ نہیں فرماتا کہ مشکل کے بعد آسانی آئے گی، بلکہ فرماتا ہے کہ مشکل کے ساتھ آسانی موجود ہے۔

گویا ہر رات کے ساتھ صبح بھی پیدا ہو رہی ہوتی ہے، ہر آزمائش کے ساتھ کوئی حکمت بھی چل رہی ہوتی ہے، اور ہر بند دروازے کے قریب کوئی کھڑکی بھی کھل رہی ہوتی ہے۔

اسی لیے مؤمن مایوس نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ کی تقدیر میں اندھیرا مستقل نہیں ہوتا۔

فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ
پس جب آپ فارغ ہوں تو محنت میں لگ جائیں۔

وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَبْ
اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت رکھیں۔

یہ سورت کا آخری سبق ہے۔

زندگی کا مقصد آرام طلبی نہیں بلکہ بامقصد جدوجہد ہے۔

ایک ذمہ داری مکمل ہو تو دوسری کے لیے تیار ہو جاؤ، ایک کامیابی مل جائے تو غرور میں نہ کھو جاؤ، اور ایک مشکل ختم ہو جائے تو اللہ کو نہ بھولو۔

قرآن انسان کو سکھاتا ہے کہ اس کی محنت کا مرکز دنیا ہو سکتی ہے، لیکن اس کے دل کی منزل صرف اللہ ہونی چاہیے۔

سورۂ الشرح ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دل کی کشادگی اللہ کی نعمت ہے، مشکلات ہمیشہ عارضی ہیں، آسانیاں اللہ کی سنت ہیں، اور کامیاب انسان وہ ہے جو جدوجہد بھی کرتا ہے اور امید کا دامن بھی نہیں چھوڑتا۔

أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ۔۔۔۔۔ وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَبْ

یہی سورۂ الشرح کا پیغام ہے۔

دل کشادہ رکھو، مشکلات میں امید قائم رکھو، محنت جاری رکھو، اور اپنے رب ہی کی طرف متوجہ رہو۔

22/06/2026

وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ
انجیر کی قسم، اور زیتون کی قسم۔

وَطُورِ سِينِينَ
اور طورِ سینا کی قسم۔

وَهَذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ
اور اس امن والے شہر ( مکہ ) کی قسم۔

اللہ تعالیٰ اس سورت کا آغاز چند عظیم نشانیوں کی قسم سے کرتا ہے۔ انجیر اور زیتون ان سرزمینوں کی یاد دلاتے ہیں جہاں انبیاء علیہم السلام نے انسانیت کو ہدایت کا پیغام دیا۔ طورِ سینا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وحی کا مرکز ہے اور مکہ مکرمہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور خاتم النبیین ﷺ کی دعوت کا مرکز۔

گویا سورت کے آغاز ہی میں انسان کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ اللہ نے تاریخ کے ہر دور میں ہدایت کا چراغ روشن کیا، تاکہ انسان اپنی منزل نہ بھولے۔

لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ
بے شک ہم نے انسان کو بہترین ساخت اور متوازن فطرت پر پیدا کیا۔

یہ قرآن کا انسان کے بارے میں سب سے عظیم اعلانات میں سے ایک ہے۔

انسان محض گوشت، ہڈیوں اور اعصاب کا مجموعہ نہیں۔ اسے عقل دی گئی، شعور دیا گیا، اخلاقی حس دی گئی، خیر و شر میں فرق کرنے کی صلاحیت دی گئی اور کائنات میں ذمہ داری کا مقام عطا کیا گیا۔

انسان کی اصل عظمت اس کی شکل میں نہیں، بلکہ اس شعور میں ہے جو اسے اپنے خالق کو پہچاننے کے قابل بناتا ہے۔

ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ
پھر ہم نے اسے سب سے نچلی پستی میں لوٹا دیا۔

یہ زوال جسم کا نہیں، کردار کا ہے۔

جب انسان اپنی فطرت سے بغاوت کرتا ہے، حق کو چھوڑ دیتا ہے، خواہشات کا غلام بن جاتا ہے اور اپنی اخلاقی ذمہ داری سے فرار اختیار کرتا ہے تو وہ اسی بلندی سے گرتا ہے جس پر اسے پیدا کیا گیا تھا۔

جو مخلوق ''أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ'' پر پیدا ہوئی تھی، وہی ''أَسْفَلَ سَافِلِينَ'' تک پہنچ سکتی ہے۔

إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔

قرآن انسان کے لیے امید کا دروازہ کھلا رکھتا ہے۔

ایمان انسان کو مقصد دیتا ہے اور نیک عمل اس مقصد کو زندگی میں حقیقت بناتے ہیں۔

انسان کی قدر اس کے دعووں سے نہیں، اس کے کردار سے متعین ہوتی ہے۔

فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
پس ان کے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

دنیا کے انعامات محدود ہیں، مگر اللہ کا اجر لامحدود ہے۔

لوگ احسان کر کے بھول جاتے ہیں، ادارے خدمات کا صلہ ختم کر دیتے ہیں، حکومتیں مراعات واپس لے لیتی ہیں، مگر اللہ کا دیا ہوا اجر نہ ختم ہوتا ہے اور نہ منقطع ہوتا ہے۔

فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّينِ
پھر اس کے بعد کون سی چیز تمہیں جزا و سزا کے دن کو جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے؟

جب انسان کی تخلیق ایک مقصد کے تحت ہوئی، اس کے اندر اخلاقی شعور رکھا گیا، اس کے سامنے خیر و شر واضح کر دیے گئے، تو پھر حساب کے دن کا انکار کس بنیاد پر کیا جا سکتا ہے؟

اگر ظلم اور انصاف برابر نہیں، اگر نیکی اور بدی ایک جیسی نہیں، تو پھر ایک ایسا دن ضرور ہونا چاہیے جہاں ہر عمل کا پورا حساب ہو۔

أَلَيْسَ اللّٰهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ
کیا اللہ سب سے بڑا اور بہترین فیصلہ کرنے والا نہیں ہے؟

یہ سورت کا آخری سوال ہے، مگر درحقیقت پورے قرآن کے بنیادی سوالات میں سے ایک ہے۔

اگر اللہ سب سے بڑا منصف ہے تو انصاف کا تقاضا ہے کہ ایک دن ایسا آئے جب ہر مظلوم کو اس کا حق ملے، ہر ظالم اپنے انجام کو پہنچے اور ہر عمل اپنے حقیقی وزن کے ساتھ سامنے آئے۔

سورۂ التین ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کی ابتدا عظمت سے ہوئی ہے، مگر اس کی منزل اس کے اپنے انتخاب سے طے ہوگی۔

وہ ''أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ'' سے ''أَسْفَلَ سَافِلِينَ'' تک بھی جا سکتا ہے، اور ایمان و عملِ صالح کے ذریعے ابدی کامیابی بھی حاصل کر سکتا ہے۔

لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ۔۔۔۔ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ

یہی سورۂ التین کا پیغام ہے۔

اپنی عظمت کو پہچانو، اپنے کردار کو سنوارو، اور اس دن کی تیاری کرو جب سب سے بڑا فیصلہ سب سے بڑے منصف کے سامنے ہونا ہے۔

Address

Haripur
22620

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Noor e Haram Online Quran Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share