جامعہ اہل بیت تعلیم القرآن کھلابٹ ٹاؤن شپ
Sarfraz khan tareen
Hafiz sarfraz khan is a freelance Pakistani educationist, columnist, blogger, youtuber and teacher.
مکتب تعلیم القرآن سسٹم میں حفظ قرآن کے ساتھ مڈل تک تعلیم اوراس کے بعد سائنس سبجیکٹس کے ساتھ میٹرک کروائی جاتی ہے مکتب تعلیم القرآن دونالی سٹاپ ہری پورکے مہتمم مولانا محمد صدیق کا حافظ سرفرازخان کے ساتھ خصوصی انٹرویو
04/01/2026
ہری پور کے معروف گاؤں چنگی بانڈی کا قاضی خاندان عہدِ حاضر میں بالخصوص محکمۂ تعلیم سے وابستگی کے باعث جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ اس خانوادے سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد سیکرٹری بورڈ، پرنسپل، ہیڈ ماسٹر، سبجیکٹ اسپیشلسٹ اور دیگر تدریسی مناصب پر خدمات انجام دیتے چلے آ رہے ہیں، جس کے باعث یہ خاندان علمی و تعلیمی حوالے سے ایک معتبر شناخت رکھتا ہے۔ تاہم بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ اس خاندان کے جدِ امجد قاضی محمد عالم دارالعلوم دیوبند جیسی عظیم دینی درسگاہ کے فاضل تھے اور طویل عرصے تک اپنے علاقے میں منصبِ قضا پر فائز رہ کر دینی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اسی علمی و روحانی روایت کی ایک درخشاں کڑی مولانا عبدالرؤوف ہزاروی ہیں جو شیخ الحدیث مولانا انور شاہ کشمیری کے رشید شاگرد تھے اور جنہیں بخاری شریف کی شرح لکھنے کا اعزاز حاصل ہوا۔
یہ خاندان ایک طویل عرصے تک عصری علوم کے فروغ میں مصروف رہا اور تعلیمی میدان میں نمایاں خدمات انجام دیتا رہا، تاہم یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ اب اس خانوادے نے علومِ دینیہ کے حصول میں بھی امتیازی مقام حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔ گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول نمبر دو ہری پور کے پرنسپل قاضی سعیدالرحمان کے بھائی مولانا فیصل ندیم نے دینی تعلیم حاصل کر کے علمِ دین کی خدمت کا راستہ اختیار کیا، اور اب ان کے بیٹے اور بھتیجے بھی اسی مقدس سفر پر گامزن ہیں۔
اسی علمی خانوادے سے تعلق رکھنے والے ہمارے نہایت عزیز دوست قاضی زاہد خلیل خود بھی گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول سرائے صالح میں سینئر سی ٹی کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کی اہلیہ بھی ایس ایس ٹی سائنس کے منصب پر فائز ہیں، جبکہ ان کے والد محترم قاضی خلیل الرحمان ایک فرض شناس ہیڈ ماسٹر کے طور پر اپنی خدمات مکمل کر کے سبکدوش ہو چکے ہیں۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ تعلیم اس خاندان کی رگوں میں رواں ہے اور علم اس کی پہچان بن چکا ہے۔
اللہ کریم نے اس خاندان پر خصوصی فضل و کرم فرمایا کہ قاضی زاہد خلیل کے دو صاحبزادوں احمد خلیل قاضی اور قاضی عبداللہ عبدالرّافع نے نہایت قلیل مدت، یعنی ایک سال اور چار ماہ میں مکتب تعلیم القرآن دونالی پل اسٹاپ جی ٹی روڈ چنگی بانڈی سے حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی۔ اس مبارک موقع پر4جنوری 2026 بروزاتوار مکتب تعلیم القرآن میں ایک پروقار اور روح پرور تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں علماء کرام، اساتذہ، دوست احباب اور عزیز و اقارب نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور حافظِ قرآن بننے والے بچوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی۔مجھے بھی اپنے بہت ہی پیارے دوست اور بھائی حاجی ذوالفقاراحمد صاحب کی معیت میں اس بابرکت محفل میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ۔
قاضی زاہد خلیل کا اپنے بچوں کو عالمِ دین بنانے کا عزم اس بات کی روشن دلیل ہے کہ یہ خاندان نہ صرف عصری علوم بلکہ علومِ دینیہ کے فروغ کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ میں اپنی جانب سے ان ننھے حفاظ، ان کے والدین، ان کے اساتذہ اور بالخصوص اس ادارے کے مہتمم مولانا محمد صدیق مدظلہ کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس علمی و دینی سفر کو مزید برکتوں سے نوازے اور اس خاندان کو علم و عمل کی روشنی پھیلانے کا ذریعہ بنائے۔ (حافظ سرفرازخان ترین)
03/01/2026
یہ خبر محض ایک واردات کی تفصیل نہیں بلکہ انسان کے دل کو چیر دینے والا ایسا سانحہ ہے جس میں رشتوں کی حرمت راکھ ہو گئی اور ممتا جیسا مقدس جذبہ سوال بن کر رہ گیا۔ وسطی پنجاب کے ضلع گجرات سے اٹھنے والی یہ کہانی تین معصوم چہروں فجر حرم اور ننھے محمد ذکریا کے گرد گھومتی ہے جن کی مسکراہٹیں ایک اندھی خواہش کی بھینٹ چڑھ گئیں۔
رضوان اقبال کے لیے وہ شام آج بھی قیامت سے کم نہیں جب وہ روزمرہ کی محنت کے بعد گھر لوٹے اور معلوم ہوا کہ بیوی بچوں کو ساتھ لے کر بازار جانے کی بات کہہ کر نکلی ہے۔ وقت گزرتا گیا دروازہ کھلا رہا امید جاگتی رہی مگر لوٹ کر آنے والے قدموں کی آہٹ سنائی نہ دی۔ موبائل فون خاموش تھے دل بے چین تھا اور آنکھیں ہر آتے جاتے کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھیں۔ وہ دو دن پاگلوں کی طرح گلیوں بازاروں اور راستوں میں اپنے بچوں کے نام پکارتا رہا مگر جواب میں صرف خاموشی ملی۔
پھر وہ لمحہ آیا جب پولیس کی دہلیز پر فریاد رکھی گئی۔ تفتیش کا دائرہ پھیلا موبائل فون کی آخری لوکیشن نے ایک ویران سمت کی طرف اشارہ کیا اور یوں ماں کے ہاتھوں اجڑنے والی ایک دنیا کا پردہ آہستہ آہستہ اٹھنے لگا۔ پولیس کے مطابق بچوں کی والدہ سدرہ بشیر اور اس کے ساتھی بابر حسین کو حراست میں لیا گیا۔ اعترافات کی کہانی لرزہ خیز تھی کہ کیسے معصوم بچوں کو نیند کی گولیوں سے بے خبر کیا گیا اور پھر زندگی کی ڈور ہمیشہ کے لیے توڑ دی گئی۔ اس کے بعد لاشوں کو جلانا اور ایک ویران پہاڑی مقام پر دفن کرنا اس المیے کو مزید سفاک بنا گیا۔
جب ملزمان کی نشاندہی پر بچوں کی جلی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں تو صرف ایک خاندان نہیں بلکہ پورا معاشرہ سوگ میں ڈوب گیا۔ وہ باپ جس نے دروازہ اس امید پر کھلا رکھا تھا کہ شاید بچے لوٹ آئیں اب قبرستان میں اپنی دنیا دفن کر رہا تھا۔ پولیس کے مطابق اس اندوہناک فیصلے کی وجہ ایک ایسی شادی تھی جس کی راہ میں یہ معصوم زندگیاں رکاوٹ سمجھی گئیں۔
یہ واقعہ صرف قانون کے لیے ایک مقدمہ نہیں بلکہ سماج کے ضمیر پر ایک گہرا زخم ہے۔ یہ سوال چھوڑ جاتا ہے کہ خواہشات جب انسانیت پر غالب آ جائیں تو ماں بھی قاتل بن سکتی ہے اور بچے بھی بوجھ۔ فجر حرم اور محمد ذکریا کی خاموش قبریں آج بھی یہ پوچھ رہی ہیں کہ آخر ان کا قصور کیا تھا۔(حافظ سرفرازخان ترین)
25/12/2025
یہ کالم میرے لیے محض ایک تحریر نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے جو وقت کے فاصلے مٹا کر آج بھی وہی چہرہ دکھا رہا ہے جو سولہ برس پہلے نظر آیا تھا۔ 25مئی 2009 کو روزنامہ آج میں شائع ہونے والا میرا کالم قائد اعظم کا پاکستان دراصل ایک نو تعینات کلرک کی کہانی کے پردے میں ہمارے پورے نظام کی کہانی تھا جہاں سفارش کے بغیر سانس لینا بھی دشوار ہے۔ ایک ایسا کلرک جس سے کسی ایسے شخص کی سفارش مانگی جاتی ہے جسے وہ خود بھی جانتا ہو اور سامنے والا بھی۔ وہ بیچارہ در بدر ہوتا ہے ہر دروازہ کھٹکھٹاتا ہے ہر چہرے میں جان پہچان تلاش کرتا ہے مگر ناکام رہتا ہے۔ آخر کار ایک شخص اس کی پریشانی بھانپ لیتا ہے اور اسے یہ تلخ حقیقت سمجھاتا ہے کہ اس سے کسی زندہ انسان کی نہیں بلکہ قائد اعظم کی تصویر والے کرنسی نوٹوں کی سفارش مانگی جا رہی ہے۔
آج جب میں نے اسی دن کے حوالے سے کچھ لکھنے کا ارادہ کیا اور سولہ برس پرانی تحریر کو دوبارہ پڑھا تو یوں محسوس ہوا جیسے وقت وہیں ٹھہر گیا ہو۔ حالات بدلے نہیں صرف تاریخیں بدل گئی ہیں۔ سرکاری دفاتر میں رشوت اور کمیشن کو آج بھی بڑے فخر سے قائد اعظم کی سفارش کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ محض بدعنوانی نہیں بلکہ قائد کی سوچ اور کردار کی کھلی بے توقیری ہے۔ وہ قائد جس نے دیانت کو ریاست کی بنیاد قرار دیا تھا اسی کے نام کو لوٹ مار کا استعارہ بنا دیا گیا ہے۔
اس سے بھی زیادہ دل خراش منظر وہ ہے جہاں ناچ گانے کی محفلوں میں قائد اعظم کی تصویر والے کرنسی نوٹ بے دردی سے اچھالے جاتے ہیں اور کنجروں اور کم ظرفوں کے پاؤں تلے روندے جاتے ہیں۔ یہ صرف نوٹوں کی بے حرمتی نہیں بلکہ اس نظریے کی تذلیل ہے جس پر یہ ملک قائم ہوا تھا۔ ہم نے قائد کو دیواروں پر لگے فریموں تک محدود کر دیا ہے اور ان کے افکار کو فائلوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔
میں آج اپنا سولہ سال پرانا کالم دوبارہ شیئر کر رہا ہوں اس امید کے ساتھ نہیں کہ کوئی چونک جائے گا بلکہ اس اعتراف کے ساتھ کہ ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔ کرپشن اور رشوت خوری مختلف سرکاری محکموں میں آج بھی اسی وقار کے ساتھ زندہ ہے جس طرح برسوں پہلے تھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ چہرے بدل گئے ہیں ہتھکنڈے بدل گئے ہیں مگر روح وہی سیاہ ہے۔
قائد اعظم ہم واقعی شرمندہ ہیں اس لیے نہیں کہ ہم نے آپ کے نام کے نعرے کم لگائے بلکہ اس لیے کہ ہم نے آپ کے اصولوں کو سب سے زیادہ پامال کیا۔
(سرفرازترین)
21/12/2025
دارالعلوم اسکندریہ محلہ ٹینکی شاہ محمد جی ٹی روڈ ہری پور میں منعقد ہونے والی سالانہ تقریب دستاربندی ایک ایسی روحانی و علمی محفل ثابت ہوئی جس نے دلوں کو سرور اور آنکھوں کو طمانیت عطا کی۔ اس بابرکت اجتماع میں شرکت کی سعادت مہتمم ادارہ مولانا ساجد قیوم اور ناظمِ تعلیمات مولانا امجد خان کی پرخلوص دعوت پر حاصل ہوئی۔ اگرچہ بعض وجوہات کے باعث حاضری میں قدرے تاخیر ہوئی مگر اس وقت تک محفل اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی اور دستاربندی کا پُرنور سلسلہ جاری تھا
محفل کے روح پرور مناظر اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ یہ صرف ایک تقریب نہیں بلکہ قرآن سے جڑے دلوں کی فتح کا اعلان ہے۔ مہمانِ خصوصی پیر احسان الحق نقشبندی اور دیگر جید علماء کرام ان خوش نصیب بچوں کی دستاربندی فرما رہے تھے جنہیں اللہ کریم نے حفظِ قرآن کی عظیم دولت سے سرفراز فرمایا۔ یہ وہ لمحے تھے جب معصوم چہروں پر مسرت جھلک رہی تھی اور فضا تکبیر و دعاؤں سے معمور تھی
دستاربندی کے بعد پیر احسان الحق نقشبندی کا خطاب ہوا جو علم و معرفت ایمان و اصلاح اور شریعت و طریقت کا حسین امتزاج تھا۔ ان کے الفاظ میں اخلاص کی گرمی تھی اور نصیحت میں درد مندی۔ انہوں نے قرآن سے وابستگی کی اہمیت اصلاحِ باطن کی ضرورت اور دینی اداروں کے کردار پر مدلل اور مؤثر انداز میں روشنی ڈالی۔ حاضرین ہمہ تن گوش تھے اور محفل پر سکوت و وقار کی کیفیت طاری تھی
اس موقع پر یہ حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آئی کہ مفتی ساجد قیوم اپنے رفقائے کار کے ساتھ مل کر علومِ دینیہ کی ترویج و اشاعت کا جو عظیم فریضہ انجام دے رہے ہیں وہ محض قابلِ ستائش نہیں بلکہ قابلِ تقلید بھی ہے۔ دارالعلوم اسکندریہ علم دین کے چراغ روشن کرنے کے ساتھ ساتھ کردار سازی اور اصلاحِ معاشرہ کا مضبوط مرکز بنتا جا رہا ہے جو یقیناً آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا
اسی روحانی فضا کے تسلسل میں ذکر کی محفل بھی ہوئی امید ہے کہ یہ تقریب اورذکرکی محفل ردلوں کو زندگی بخشنے روحوں کو بیدار کرنے اور قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی کو سنوارنے کا ذریعہ بنے گی۔ اس اجتماع میں پیر طریقت مولانا احسان احمد نقشبندی اور مبلغ اسلام مولانا محمد طیب شیخوپوری کی شرکت نے اس پروگرام کی معنویت کو دوچند کر دیا
سالانہ تقریب دستاربندی دراصل اس بات کا اعلان تھی کہ دینی مدارس آج بھی ایمان کی حرارت علم کی روشنی اور اخلاق کی خوشبو سے معاشرے کو منور کر رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دارالعلوم اسکندریہ کے اس سفر کو مزید برکتیں عطا فرمائے مہتمم ادارہ مفتی ساجد قیوم اور ان کے تمام معاونین کی کاوشوں کو شرفِ قبولیت بخشے اور اس ادارے کو علم و عمل کا مینار بنائے آمین
(حافظ سرفرازخان ترین)
08/12/2025
مولانا محمد فاروق مرحوم رحمۃ اللہ علیہ ایک روشن چراغ
تحریر: حافظ سرفرازخان ترین
ہزارہ کے علمی و روحانی افق پر کچھ نام ایسے بھی جگمگائے ہیں جن کی زندگی علم و عمل، تقویٰ و اخلاص اور بے لوث خدمت سے عبارت ہے۔ مولانا محمد فاروق مرحوم بھی انہی صاحب کردار شخصیات میں سے تھے جنہوں نے نہ صرف محراب و منبر کو چراغ بنایا بلکہ درسگاہ و کلاس روم میں بھی کردار سازی کے چراغ روشن کیے۔ نرم گفتار، استقامتِ دین کے علمبردار اور عوام سے والہانہ محبت رکھنے والے مولانا کی زندگی جہدِ مسلسل اور خدمتِ خلق کا آئینہ تھی۔
ان کا تعلق ایسے خانوادے سے تھا جو نسباً حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد حضرت محمد بن حنفیہ سے ملتا ہے۔ کہتے ہیں کہ خون میں اگر سرفروشی اور دین کی حمیت شامل ہو تو نسلوں تک منتقل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خاندان صدیوں سے چھوہر شریف کے دینی ورثے کا امین ہے۔ان کے خاندانی ذرائع کے مطابق چھوہر شریف کی آبادکاری دو مرتبہ ہوئی۔ پہلی دفعہ یہ گائوں چھوہر علی زئی خاندان نے آباد کیا جبکہ دوسری بار میاں محمد نعیم کے اجداد نے یہاں مستقل سکونت اختیار کی۔ قدیم رجسٹروں کی روشنی میں یہ دوسری آبادکاری 1760 عیسوی کے قریب قحطِ ہزارہ سے پہلے واقع ہوئی۔ ایک اور حوالہ بتاتا ہے کہ گاؤں کی بنیاد پانچ خاندانوں نے رکھی اور آج بھی انہی خاندانوں کی شاخیں یہاں آباد ہیں۔
میاں محمد نعیم ولد حافظ عبد الستار وہ بزرگ تھے جو چھوہر شریف کی دوبارہ آبادکاری کے اہم کردار سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے دو بیٹے تھے۔
میاں بشر الٰہی اور میاں محمد جی۔
میاں محمد جی کی نسل سے حافظ حسین احمد و برادران ہوئے جبکہ میاں بشر الٰہی کے بیٹے میاں محمد نور، پھر ان کے بیٹے میاں احمد دین اور ان کے صاحبزادے مولوی عبدالرحیم ہوئے۔ مولوی عبدالرحیم کے گھر علم و فن کے چار چراغ روشن ہوئے جن میں مولوی محمد طیب، مولوی عبیدالرحمان، مولانا محمد فاروق اور شاعرِ اسلام مطیع الرحمان اطہر شامل ہیں۔ یہی وہ خانوادہ ہے جس نے علاقے میں دینی و ادبی خدمات کا سلسلہ جاری رکھاہواہے۔
مولانا محمد فاروق کی پیدائش غالباً 1947 کے آس پاس چھوہر شریف میں ہوئی۔ والدہ محترمہ ایک نہایت خدا رسیدہ اور قرآن کی معلمہ تھیں۔ پورے گاؤں کے بچے ان کے ہاتھوں ناظرہ اور ابتدائی دینی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اسی تربیت نے مولانا کے دل میں قرآن کے نور اور دین کی محبت کے چراغ روشن کیے۔ ابتدائی عصری تعلیم مدرسہ رحمانیہ سے حاصل کی۔ والد ماجد کے انتقال کے بعد نانا کے بھائی مولانا اُمت رسولؒ جنہیں حضرت تھانویؒ کی نسبت حاصل تھی، کے مشورے سے جہلم کا سفر اختیار کیا اور یوں علمِ دین کے راستے ہمیشہ کیلئے کھل گئے۔
مدرسہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم میں رہ کر مولانا قاضی عبداللطیف جہلمیؒ سے فیض پایا جو حضرت احمد علی لاہوریؒ و مولانا حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد رشید تھے۔ مزید علمی اسفار میاںوالی، تونسہ شریف، خانپور کٹورا اور دیگر مراکزِ علم کی صورت جاری رہے جہاں مولانا عبدالرحمنؒ اٹک، مولانا عبد الستار تونسویؒ، مولانا عبداللہ درخواستیؒ اور دیگر اکابر سے علمی استفادہ کیا۔ دورہ حدیث مولانا سید حامد میاںؒ سے کیا اور آخری درسِ حدیث حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلویؒ کے ہاتھوں سے لیا، جنہوں نے آپ کے سر پر دستارِ فضیلت بھی باندھی۔
یہ سفر آسان نہ تھا۔ رات کو فیکٹری میں پہرہ اور دن بھر درسگاہ میں مشق علم، غربت، بھوک، سفر اور تھکن سے عبارت زندگی مگر ہمت نہ گری، ارادہ نہ جھکا۔ مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور مفتی محمودؒ کے ساتھ بطور رفیق و محافظ سفر بھی کیے۔ انہی ایام کے کچھ واقعات آج بھی خاندان میں غیرت، خود داری اور ایثار کی مثال کے طور پر بیان کیے جاتے ہیں۔
فراغت کے بعد 1970 کے قریب کھلابٹ میں ایک چھوٹی دکان کھولی، لیکن جلد ہی اساتذہ نے دین کی خدمت کیلئے کمر بستہ ہونے کی ترغیب دی اور کفالت کی ذمہ داری بھی خود اٹھائی۔ پھر وہ لمحہ آیا جب منبر و محراب نے انہیں اپنا لیا۔ میرپور، جہلم، پنڈی بھٹیاں، ہری پور اور دیگر علاقوں کی مساجد میں خطابت کی۔ ان کا لہجہ پراثر، بیان سادہ اور انداز بے باک تھا۔ جو بات حق سمجھتے بلند آواز سے کہتے، مداہنت اور خوشامد سے ہمیشہ دور رہے۔ کئی بار حالات کے سبب تبلیغ پر پابندیاں بھی لگیں مگر قدم نہ رکے، جذبہ کم نہ ہوا۔
بعد ازاں محکمہ تعلیم میں معلم اسلامیات مقرر ہوئے اور ہائی سکول سلم کھنڈ سرائے سالح۔گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول نمبر 1ہری پور اورگورنمنٹ ہائی سکول سورج گلی میں تدریسی خدمات سرانجام دیں۔ شاگرد آج بھی ان کے اخلاص، صاف گوئی اور کردار کا برملا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے درس میں وضاحت، دلیل اور اختصار کی چاشنی ہوتی۔ عمل صالح، وقت کی پابندی، ذمہ داری کی ادائیگی اور نفس کی اصلاح پر وہ خاص زور دیتے۔ انہوں نے 29 مرتبہ قرآن کی تفسیر کا درس دیا، ریاض الصالحین اور مشکٰوۃ کی تعلیم دی، فقہی مسائل میں لوگ ان کے دروازے پر حاضر ہوتے رہے۔
گھر میں بھی درس جاری رہا۔ سینکڑوں بچوں کو قرآن صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھایا، بہت سی بچیوں کو ترجمہ و تفسیر پڑھائی۔ ان کی اولاد علم و فضل کا تسلسل ہے۔ چار بیٹے اور تین بیٹیاں جن میں سے سب سے بڑے صاحب زادے شاہ فہد ہاشمی بی ایس سی ہیں پیشہ کے اعتبار سے معلم ہیں وحدت اساتذہ کے پلیٹ فارم سے فعال کردار ادا کررہے ہیں دوسرے صاحبزادے ڈاکٹر محسن بلال سعودیہ میں کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں، تیسرے صاحبزادے حافظ محمد علی ہاشمی ایم بی اے کیساتھ تدریس پر مامور جبکہ چوتھے صاحبزادے مفتی محمدعمرہاشمی دارالعلوم کراچی کے فاضل، عربی کے معلم اور پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ بیٹیاں بھی دینی و عصری تعلیم میں نمایاں اور تدریس کے شعبے سے منسلک ہیں۔ آپ کے داماد اور بھتیجے مفتی محمود احمد قریشی بھی شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اورآل ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سے اساتذہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہیں
مولانا کی زندگی میں اخلاص، غیرتِ ایمانی، مالی احتیاط اور حقوق کی ادائیگی نمایاں ترین اوصاف تھے۔ معمولاتِ سنت سے ہٹ کر کوئی عمل دیکھتے تو برملا روک دیتے مگر دل میں کسی کیلئے کدورت نہ رکھتے۔ قرض سے بچتے، لینا پڑتا تو وقت سے پہلے ادا کرتے۔ یہی اخلاق ان کی اصل میراث تھی۔
آج جب مولانا محمد فاروق مرحوم نہیں رہے تو ان کا نام صرف ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک عہد، ایک درس، ایک روشنی کی علامت ہے۔ ان کے تربیت یافتہ شاگرد، ان کے فیض یافتہ بیٹے، اور ان سے قرآن پڑھنے والے بچے آج بھی ان کے لیے صدقہ جاریہ ہیں۔ انسان مر جاتا ہے، کردار نہیں۔ مولانا کی زندگی اس سچ کی جیتی جاگتی دلیل ہے۔
08/12/2025
It was an engaging and graceful afternoon hosted with warmth and generosity by Mr. Riasat Khan and Haji Zulfiqar Ahmad, who arranged a refined sitting filled with meaningful conversation and hospitality. I had the pleasure of joining the gathering, while Mr. Zafar Arbab Abbasi, Principal of Centennial Model Higher Secondary School Haripur and former District Education Officer Kohistan, honoured the occasion with his special presence. The session proved intellectually stimulating, followed by a courteous luncheon where ideas were exchanged, memories revisited, and shared thoughts on education and community development enriched the atmosphere. Special appreciation goes to the hosts, Mr. Riasat Khan and Haji Zulfiqar Ahmad, whose sincere efforts and gracious hospitality made the meeting truly memorable.
29/10/2025
متاز ماہر تعلیم ڈاکٹر طارق محمود خان سابق ڈائریکٹرڈیپارٹمنٹ آف پروفیشنل ڈویلپمنٹ خیبرپختونخواسے حافظ سرفراز خان کاخصوصی انٹرویو
آج میں اپنے قارئین کی ملاقات ایک ایسی شخصیت سے کرواتاہوں جنھوں نے بطور ٹیچر، سربراہ ادارہ، ڈی ای او، اسسٹنٹ پروفیسر ہریپور یونیورسٹی، سیکرٹری و چیئرمین مالاکنڈ بورڈ، ممبرٹیکسٹ بک بورڈ،بطورپرنسپل رائٹ اورڈائریکٹرڈیپارٹمنٹ آف پروفیشنل ڈویلپمنٹ خیبرپختونخوااپنی تدریسی، پیشہ وارانہ اور انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوایا صوبائی حکومت سے بہترین پرنسپل کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں مسلسل سات سال تک ضلعی ٹورنامنٹ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے کھیلوں کے فروغ کے لیے اپنی خدمات سرانجام دیں تعلیم کے شعبے میں پی ایچ ڈی کے حامل ہیں میر ی مراد ڈاکٹر طارق محمود خان ہیں ان سے تعلیمی سفر، سروس کیریئرکے علاوہ شعبہ تعلیم کی موجودہ صورت حال اور اس کی بہتری کے لیے تجاویز،ان کے دورطالبعلمی اور دورملازمت کے دلچسپ واقعات کے حوالے سے گفتگوکی جو کہ سوالاًجواباًقارئین کی خدمت میں پیش کرتاہوں
س: آپ کب اور کہاں پیداہوئے؟
ج: میرا تعلق تربیلہ کے ایک گاؤں ”جٹو“ سے ہے اور میں نومبر 1961ء میں پیدا ہوا۔ یہ گاؤں تربیلہ ڈیم بننے کے بعد زیر آب آچکا ہے۔
س: اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں۔
ج: تربیلہ میں آباد قبائل کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ افغانستان سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے تھے۔ جن میں سے ایک قبیلہ یوسفزئی ہے، جس سے میرا تعلق ہے۔میرے خاندان میں میرے علاوہ کو ئی فرد ملازمت میں نہیں ہے۔
س: آپ نے تعلیم کہاں تک اور کن اداروں سے حاصل کی؟تفصیل کے ساتھ بتائیں۔
ج: ”تعلیم“ میں پی ایچ ڈی 2011ء میں پریسٹن یونیورسٹی، اسلام آباد سے مکمل کی، ایم فل ”تعلیم“ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے2006ء میں، ایم ایڈ (آئی۔ای۔ آر)جامعہ پنجاب1991ء، بی ایڈ گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن لاہور 1989ء، ایم اے مطالعہ پاکستان1994ء، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان، ایم اے اردو 1990ء پنجاب یونیورسٹی، بی اے1986ء پشاور یونیورسٹی، ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجنیئرنگ(ایلیکٹریکل)1981ء، اور میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول تربیلہ ٹاؤن شپ 1978ء میں کی۔
س: کن اساتذہ سے ذیادہ متاثر ہوئے اور متاثر ہونے کی وجہ کیاتھی؟
ج: یہ کہنا ذرا مشکل محسوس ہوتا ہے کہ انسان اپنے طویل تعلیمی کیریئر سے کسی اپنے استاد کا نام لے سکے جس سے وہ زیادہ متاثر (Inspire)ہوا ہو۔تاہم سیکنڈری سکول کی سطح تک جن اساتذہ کے طریقہ تعلیم، کرداراوررویووں نے متاثر کیا ان میں سے محمد یامین صاحب، محمد الیاس صاحب، محمد ادریس صاحب، عبدالحمید صاحب، شیر احمد صاحب اور ملک دوست محمدصاحب ہیڈماسٹر شامل ہیں۔جبکہ بعدازاں کالج آف ایجوکیشن لاہورمیں پروفیسر اخترا لحسن بھٹی صاحب، غلام مصطفٰی خان صاحب اساتذہ میں قابل ذکر ہیں۔ جامعہ پنجاب میں ڈاکٹر محمد اشرف صاحب، ڈاکٹر شہباز خان صاحب، ڈاکٹرابراہیم خالدصاحب اور ڈاکٹر مشتاق الرحمٰن صدیقی صاحب شامل ہیں۔ایم فل اور پی ایچ ڈی میں پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم اصغرصاحب، ڈاکٹر معراج الدین بھٹی صاحب اور پروفیسر ڈاکٹرمحمد رشیدصاحب کی خصوصی راہنمائی سے یہ مدارج طے کرنے میں کامیابی ملی۔
س: دور طالب علمی کا کوئی یادگار واقعہ ہوتو؟
ج: سال1977ء کو قائداعظم سکاؤٹ جمہوری منعقدہ لاہورمیں ہمارے سکول نے بھی شرکت کی۔میں بھی گورنمنٹ ہائی سکول تربیلہ ٹاؤن شپ کے سکاؤٹ دستے میں شامل تھا۔ اور سکول کے ٹیچر عبدالحمید صاحب اور ہیڈماسٹر ملک دوست محمد صاحب ہمراہ تھے۔ سفر بذریعہ ریل تھا۔ روانگی کے وقت ہیڈماسٹر صاحب نے اپنا سامان سے بھر ا صندوق میرے حوالے کیا اور ہدایت کی کہ اس کا خیال رکھنا ہے۔ بچگانہ خیال سے صندوق کو کسی جگہ چھوڑ کر ہم اپنی موج مستی میں لگ گئے۔ کچھ وقت کے بعد جب ہیڈسٹر صاحب نے مجھے صندوق لا نے کو کہا تو مجھے نہیں مل رہا تھا۔بڑی مشکل سے جب مل گیا تو ہیڈماسٹر صاحب نے بہت غصہ کیا اور کہا کہ”اب اس صندوق کو تم اپنے سرپر رکھ کر لاہور تک جاؤ گے یہ تمہاری سزا ہے۔“ یہ لمحا ت میرے لئے بہت زیادہ پریشان کُن تھے۔ تاہم کچھ دیر بعد ہیڈماسٹر صاحب نے کہا کہ اب صندوق سر سے نیچے اتار دو اور اب کی بار خیال رکھنا۔
س: اپنے اساتذہ اور آج کل کے اساتذہ میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟
ج: ہمار ے وقت اور آج کے اساتذہ کا بنظر غور جائزہ لیا جائے تو بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔ مثلاََ اس وقت کے اساتذہ کی تعداد کم ہوتی تھی، تعلیم کی بڑی بڑی ڈگریاں بھی آج کی طرح نہیں ہوتی تھیں اور نہ ہی ان کے پاس آج کی طرح بہتر پے سکیل تھے لیکن اس کے باوجود وہ اساتذہ اپنی ذمہ داریاں بحیثیت مدرس پوری لگن، شوق اور دیانتداری سے بجا لاتے تھے۔ اپنے کردار کے لحاظ سے بلند ہوا کرتے تھے اور اپنے مضمون کو پوری تیاری اور مہارت سے بچوں کو پڑھاتے تھے۔ڈیوٹی کی بجا آوری میں کوتاہی اور تساہل سے کام نہیں لیتے تھے۔
س: محکمہ تعلیم میں ہی ملازمت کیوں اختیار کی؟ حادثہ۔۔ضرورت یا شوق؟
ج: محکمہ تعلیم میں ملازمت میں نے اپنے”شوق“کو مد نظر رکھتے ہوئے اختیار کی۔یہا ں یہ بات میں بتاتا چلوں کہ جب مجھے کالج سے چھٹیاں ملتی تھیں تو اس دوران میں اپنے کھلابٹ ٹاؤن شپ سیکٹرنمبر ۱کے پرائمری سکول جہاں فقیر محمدصاحب ہیڈ ٹیچر ہوا کرتے تھے وہاں جماعت پنجم کو اعزازی طور پر پڑھانے چلا جایا کرتا تھا۔اور اس سے مجھے بڑی خوشی محسوس ہوتی تھی۔
س: کس حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا اور کن کن پوسٹوں پر کن کن سکولوں اور اداروں میں کام کیا؟تفصیل سے بتائیں۔
ج: ملازمت کا آغاز میں نے بحیثیت AWI(اے، ڈبلیو،آئی)گریڈ 09-سے ڈی۔اے۔ای کی بنیاد پرجون 1986ء میں گورنمنٹ ہائی سکول سیکٹر نمبر 4-کھلابٹ ٹاؤن شپ سے کیا۔اسی پوسٹ پر مجھے گورنمنٹ ہائی سکول غازی، نگری ٹوٹیال اور بگڑہ میں رہنے کا اتفاق ہوا۔مئی 1995ء کو SETکی پوسٹ پر تعیناتی گورنمنٹ ہائی سکول باغ پور ڈھیری میں ہوئی اور جلد ہی میرا تبادلہ گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول تربیلہ ٹاؤن شپ میں ہو گیا جہاں سے میری ترقی /تعیناتیفروری1999ء میں بذریعہ پبلک سروس کمیشن بحیثیت ہیڈماسٹر(BS-17) گورنمنٹ ہائی سکول بیل ہری پور ہوئی، اس سکول سیتبادلہ گورنمنٹ ہائی سکول سیکٹر نمبر3کھلابٹ ٹاؤن شپ ہری پورمیں ہوا۔جہاں سے اکتوبر2000ء میں بذریعہ پبلک سروس کمیشن تقرری بحیثیت پرنسپل(BS-18)گورنمنٹ ہائی سکول چمہڈضلع ایبٹ آباد ہوئی۔اس سٹیشن سے تقریباََ سواسال بعدمیرا تبادلہ اپنے ضلع کے گورنمنٹ ہائی سکول کاہل میں ہوا۔
کاہل سکول سے میری تعیناتی 2002ء میں بحیثیت ڈسٹرکٹ آفیسر پرائمری ہری پور ہوئی۔کچھ ہی عرصہ بعد یہ پوسٹ جینڈروائز (Gender-wise) ہونے کے وجہ سے یہاں پر ایک خاتون آفیسر کا تقرر ہونے پر میری دوبارہ تعیناتی گورنمنٹ ہائی سکول کاہل میں ہو گئی۔فروری2004ء میں بحیثیت ڈسٹرکٹ آفیسر(مردانہ) ہری پورتعیناتی ہوئی۔ جہاں پر میں 10جولائی 2006ء تک فرائض انجا م دیتا رہا۔اور BS-19میں ترقی پانے پراپنے مادر علمی گورنمنٹ ہائی سکول تربیلہ ٹاؤ ن شپ(کھلابٹ ٹاؤن شپ) میں تعیناتی ہوئی۔ اپریل 2010ء میں سیکریٹری تعلیم کی خصوصی سفارشات پر بنوولینٹ پبلک سکول اینڈ کالج پشاورمیں ڈیپوٹییشن پر تعینات کیا گیا۔ایک سال کا عرصہ گزارنے کے بعد 2011ء دوبارہ تعیناتی گورنمنٹ سیٹینیئل ماڈل ہائی سکول تربیلہ ٹاؤ ن شپ میں ہوئی۔ایک بار پھر 2012ء میں یہاں سے یونیورسٹی آ ف ہری پور میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر (ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن)میں ایک سال کے لئے ڈیپوٹییشن پر تعیناتی ہوئی۔ازاں بعد ایک بار پھر تعیناتی گورنمنٹ سیٹینیئل ماڈل ہائی سکول تربیلہ ٹاؤ ن شپ میں ہوئی۔جون 2014ء میں سیکرٹری بورڈ انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مالاکنڈ میں ڈیپوٹییشن پر تین سال کے لئے تقرری کی گئی۔جہاں سے 2017ء میں بحیثیت ممبر کے پی ٹیکسٹ بک بورڈ پشاور میں ڈیپوٹییشن پر تعینات کیا گیا۔اور6 نومبر2018کو گریڈ20میں ترقی ملنے پر ریجنل انسٹیٹیوٹ آف ٹیچر ایجوکیشن (مردانہ) ہری پور میں تعینات کیا گیا۔19نومبر2021کومدت ملازمت کی تکمیل پر ڈائریکٹر ڈائریکٹوریٹ آف پروفیشنل ڈویلپمنٹ کی پوسٹ سےریٹائر ہوگیا۔
س: بطورڈائریکٹرڈی پی ڈی اپنی کاوشوں اور کامیابیوں کےبارے میں کچھ تفصیل بتائیں۔
ج:پروفیشنل ڈویلپمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے قیام اور استحکام کے سفر میں سب سے نمایاں کامیابی پائیٹ (PITE) کا درجہ بڑھا کر اسے ڈائریکٹوریٹ کے مقام تک پہنچانا ہے۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا سے منسلک ایک تربیتی ادارے کی حیثیت سے پائیٹ کا کردار ابتدا میں محدود تھا، کیونکہ اساتذہ کی تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی کی بنیادی ذمہ داری ڈائریکٹوریٹ برائے نصاب و تربیت اساتذہ (DCTE) ایبٹ آباد کے پاس تھی، اور دونوں اداروں کے درمیان ذمہ داریوں کی کوئی واضح تقسیم موجود نہیں تھی۔ چنانچہ یہ احساس شدت سے پیدا ہوا کہ تربیت کو معیاری تعلیم کا مستقل جزو بنانے کے لیے پائیٹ کو ایک خودمختار اور پیشہ ورانہ ڈائریکٹوریٹ کا درجہ دیا جائے۔ اس اہم مقصد کے حصول کے لیے ایک سال کی مسلسل جدوجہد درکار تھی، جس کے نتیجے میں یہ خواب حقیقت کا روپ دھار سکا۔ اس کام کا سہرا میرے سر بندھنا میرے لیے ایک اعزاز ہے۔
بطور ڈائریکٹر DPD میری ترجیح یہ رہی کہ اس ادارے اور اس سے منسلک ریجنل ٹیچر ڈویلپمنٹ سینٹرز (RTDCs) کی افرادی قوت کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافہ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مختلف مالیاتی تعاون فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ متعدد اجلاس منعقد کیے گئے، جن کے نتیجے میں تدریس و تعلم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے گئے۔ ان اقدامات میں ECCE پروگرام کے تحت تربیت کاروں اور اساتذہ کے مواد کی از سر نو ترتیب، قدرتی آفات کے نقصانات کم کرنے سے متعلق تربیت کی فراہمی، اردو تدریس کے معیار کی بہتری، اور لیڈرشپ و تربیتی ماڈیولز کو جدید خطوط پر استوار کرنا شامل تھا
اسی طرح صوبے بھر، بالخصوص نئے ضم شدہ اضلاع کے پرائمری اسکولوں میں تدریس و تعلم کے ماحول کو مزید بہتر بنانے کے لیے CPD پروگرام کو مضبوط اور مؤثر بنایا گیا۔ نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کے لیے انڈکشن پروگرام فیز 2 کے تحت طریقۂ تدریس اور نصابِ تعلیم میں تربیت کا اہتمام کیا گیا۔ علاوہ ازیں، Alternative Learning Pathways (ALP) پروگرام کے تحت یونیسف کے تعاون سے اساتذہ اور فیلڈ اسٹاف کے لیے تربیتی پروگرام ترتیب دیے گئے، جنہیں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا: ALP پرائمری اور اے ایل ایلیمینٹری۔
ان تربیتی سرگرمیوں کو مؤثر بنانے کے لیے KESP-TA کی معاونت سے متعدد تربیتی ماڈیولز اور اسباق تیار کیے گئے یا بہتر بنائے گئے۔ تمام مواد کے حتمی جائزے کے بعد اسے گورنمنٹ پرنٹنگ پریس خیبر پختونخوا سے باقاعدہ شائع کروایا گیا۔ ان تمام پروگراموں، تربیتی سرگرمیوں، اور منصوبوں کی تفصیلی رپورٹس سہ ماہی اور سالانہ بنیادوں پر تیار کی جاتیں اور انہیں سیکریٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم اور صوبائی وزیر تعلیم خیبر پختونخوا کو باقاعدگی سے پیش کیا جاتا تھا۔
میرے دورِ قیادت کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ ادارے میں ایک پیشہ ورانہ طرزِ فکر کو فروغ دیا گیا۔ میں نے ہمیشہ اس امر پر زور دیا کہ ہر افسر اور اہلکار اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ادارے کے مقاصد کے حصول کے لیے بھرپور کردار ادا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں ادارے کے تمام متعلقہ افراد مالی فوائد یا وقت کی قید سے بالاتر ہو کر ہمہ وقت اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے تیار رہتے تھے۔ اس جذبے اور عزم نے نہ صرف ادارے کے نظم و ضبط کو مضبوط کیا بلکہ پروفیشنل ڈویلپمنٹ کے میدان میں خیبر پختونخوا کو نمایاں مقام دلانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
س:مختلف انتظامی پوسٹوں پر کام کرنے کاتجربہ کیسارہا؟
ج: انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے دوران ملازمت انتظامی پوسٹوں پر کام کرنے کا موقع ملے۔ الحمداللّہ مجھے دوبار بحیثیت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کام کرنے کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ بورڈ انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مالاکنڈ میں بحیثیت سیکرٹری اور ایک سال تک بحیثیت چیئر مین ذمہ داریاں انجام دیں۔ ازاں بعد بحیثیت ممبر ٹیکسٹ بک بورڈ بھی کام کرنے کا موقع ملا۔جہاں جہاں انتظامی پوسٹوں پر تعینات رہا کوشش کی ہے کہ اپنی ذمہ داریاں کما حقہ انجام دے سکوں۔ وہاں پر کام کرنے والوں کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ وہ اپنا کام شوق اور لگن سے کرنے کے قابل ہوں۔یہ بات بڑی اہم ہے کہ انسان کو مختلف پوسٹوں پرتعینات رہنے سے سیکھنے کاموقع ملتا ہے۔میری خوش قسمتی ہے کہ جہاں مجھے محکمہ تعلیم کے اچھے اور ماہرافسران کے ساتھ کام کرنے اوران سے سیکھنے کے بھرپور مواقع ملے وہاں دوسر ے سول سروس آفیسرز کے ساتھ بھی بہت اچھا تجربہ رہا۔ ان سے وہ کچھ سیکھنے کو ملا جو محکمہ تعلیم میں شاید مشکل سے دستیاب ہوتا۔دوران سروس مختلف قسم کے ٹریننگز(تربیت) نیپا اکیڈمی پشاور، پائیٹ پشاور، اکیڈمی آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈمینجمنٹ اسلام آباد، ڈیفڈ اور جی آئی زی وغیرہ میں مواقع میسر بھی آئے۔جس سے تدریسی و انتظامی امور میں پیشہ وارانہ مہارتیں حاصل ہوئیں۔
س: آپ کے خیال میں کسی استاد یا سکول کے سربراہ کو کن صفات سے متصف ہونا چاہیے؟۔
ج: ہمارے پیارے نبی ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ:
”اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمَا“۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے شک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے۔
آپ ﷺنے معلم بننا اعزاز قرار دیا ہے۔ لہٰذا ایک مدرس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان صفات کو پہلے سمجھنے کی کوشش کرے اور ازاں بعد ان صفات کو اپنی شخصیت کاحصہ بنائے۔ایک مدرس کی بنیادی خصوصیات میں سے اس کا اچھے اخلاق و کردار کا مالک ہونا،اس میں تعلیم دینے کی لگن اور شوق کا ہونا،نفسِ مضمون پر عبور ہونا اور ہر دن تیاری (Lesson Planning) کے ساتھ کمرہ جماعت میں جاناجدید طریقہ ہائے تدریس سے واقفیت کا بھی ہونا،ہر مضمون کو اس کی ضرورت کے تحت طریقِ تدریس کا اپنا نااور طلباء کو تدریس کا حصہ بنانا شامل ہے۔ان اوصاف سے متصف مدرس ہی بہتر نتائج دے سکتاہے۔
اب سوال کے دوسرے حصے کی طرف آتے ہیں جس کا تعلق سربراہ ادارہ یا منتظم سے ہے۔ چونکہ سربراہ ادارہ یا صدر معلم کوایک تعلیمی ادارے کی جملہ ذمہ داریاں انجام دینا ہوتی ہیں۔ اس لئے صدر معلم کو جاذب نظر اور پرکشش ہونے کے ساتھ ساتھ مذکورہ بالا صفات سے متصف ہوناچاہیے یعنی جوخوبیاں ایک معلم میں ہونا چائیں سربراہ ادارہ ان سے متصف ہو اور اس کے علاوہ چونکہ یہ پوسٹ انتظامی بھی ہوتی ہے اس لئے روز مرہ کی خط و کتابت (Official Correspondence)سے واقفیت ہونا،محکمانہ قواعد وضوابط سے آگاہی کاہونا، ادارے کے لئے سازگارتعلیمی ماحول قائم کرنا، ادارے کے مقاصد کے حصول کے لئے ادارے کے افراد (Employees)کو ایک ٹیم بنا کر چلنا، بروقت اور درست فیصلے کرنا(Decision Making)، مالی امور میں شفافیت قائم رکھنا، اخلاق و کردار میں دیگر لوگوں کے لئے مثال ہونا، اپنی ٹیم کے ارکان کی رائے کا احترام کرنا اورادارے کے مفاد میں فیصلے اتفاق رائے سے کرنے کی کوشش کرنا۔اس ضمن میں جمہوری طرز عمل (Democratic Administrive Style)سربراہ ادارہ کو بہتر نتائج دے سکتا ہے۔
س: محکمہ تعلیم میں اساتذہ کو براہ راست بغیر پیشہ وارانہ تعلیم کے بھرتی کیا جارہا ہے آپ کی اس پالیسی کے بارے کیارائے ہے؟
ج: محکمہ تعلیم میں بغیر پیشہ وارانہ تعلیم کے اساتذہ بھرتی کرنا بالکل ایسے ہے جیسے میدان جنگ میں کسی اناڑی کوکوئی بغیر اسلحہ کی تربیت اور بغیر فن حرب کے اتارنا۔ یعنی یا تو وہ اپنے آپ کو نقصان دے گا یا اپنی فوج یا کسی ساتھی سپاہی کو۔یہ مثال کہیں پر دستیاب نہیں ہے کہ ٹیچرز کو قبل از ملازمت تربیت(Pre-service Training) کے بغیر بھرتی کی جائے۔اس وقت جاری Induction Programme کے تحت دوران سروس ایک ماہ میں صرف دو یا تین دن کی تربیت پر اکتفا کیا جاتا ہے جو کہ نہ صرف ناکافی ہے بلکہ اس سکولوں میں موجود زیرِتعلیم طلباء کا وقت بھی ضائع ہوتا ہے اور ان کو تربیت دینے والے اساتذہ کی اپنی کلاسز کا حرج بھی ہوتا ہے۔
س: موجودہ تعلیمی انحطاط کا ذمہ دار کون ہے؟معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت محسوس کرتے ہیں؟
ج: تعلیمی پالیسیوں میں مسلسل تبدیلیاں، معیار تعلیم پر مثبت کی بجائے منفی اثرات کا باعث ہیں۔ طلبا ء کو علوم سکھانے سے زیادہ زور انگلش زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے پر دیا گیاجس کا نتیجہ یہ ہوا کہ طلباء مختلف مضامین کی بنیادی معلومات تک سے محروم رہ گئے، کم ازکم پرائمری تعلیم ہمارے ملک میں مادری زبانوں میں اور اردو میں ہونی چاہیے تھی، تمام تر توجہ تعلیمی مہارتوں پر ہونی چاہیے۔ انگریزیی زبان کو بطور،مضمون پڑھایا جائے۔ نہ کہ ذریعہ تعلیم بنایا جائے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Haripur