نبی پاک کا نام "محمد" ﷺ کیوں رکھا گیا؟ | دادا عبدالمطلب کا خواب
:کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ کی پیدائش پر ان کے دادا حضرت عبدالمطلب نے کیا خواب دیکھا تھا؟ اور قریش کے روایتی ناموں کو چھوڑ کر آپ کا نام "محمد" ہی کیوں چنا؟ ایمان افروز معلومات کے لیے یہ شارٹ ویڈیو آخر تک دیکھیں اور کمنٹ میں 'صلی اللہ علیہ وسلم' لکھیں!
:
Sarfraz khan tareen
Hafiz sarfraz khan is a Pakistani educationist, freelance columnist, blogger, youtuber and teacher.
آیت نور کی تلاش جاری، ہری پور پولیس کی گرینڈ سرچ آپریشن پر اہم پریس کانفرنس
چار سالہ آیت نور کی گمشدگی کے معاملے پر ہری پور پولیس کی اہم پیش رفت سامنے آگئی۔
پولیس کے مطابق 10 اگست کو آیت نور کے لاپتہ ہونے کے بعد بچی کی بحفاظت بازیابی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ تلاش کے سلسلے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز، جیو فینسنگ اور جدید ٹیکنیکل ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیجز میں نظر آنے والے افراد کو ٹریس کرلیا گیا ہے جبکہ دیگر مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے۔
آیت نور کی تلاش کے لیے ٹی آئی پی اور ملحقہ علاقوں میں گرینڈ سرچ آپریشن بھی کیا گیا، جس میں پولیس افسران و جوانوں، لیڈیز پولیس اور ایلیٹ فورس نے حصہ لیا۔ گلی محلوں، گھروں، خالی مقامات اور دیگر مشتبہ جگہوں کی سرچنگ کی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ آیت نور کی بحفاظت بازیابی کے لیے سرچ آپریشن کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
آیت نور کی بحفاظت واپسی کے لیے دعا بھی کریں اور اگر کسی کے پاس بچی کے حوالے سے کوئی مستند معلومات ہوں تو متعلقہ پولیس کو فوری اطلاع دیں۔
#ہریپور
17/08/2026
گمشدہ بچوں کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ہماری اجتماعی ذمہ داری (تحریر ۔حافظ سرفرازترین)
ضلع ہری پور کی کمسن بچی آیت نور کا ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود تاحال کوئی سراغ نہ ملنا ایک انتہائی افسوسناک اور تشویش ناک واقعہ ہے۔ پولیس اپنی سطح پر کوششیں کر رہی ہے اور سول سوسائٹی بھی متحرک ہے، لیکن اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے بطور والدین، اساتذہ، اسکول انتظامیہ اور معاشرے کے افراد کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بچوں کے گم ہونے یا انھیں اغواکرنے کی کوششوں کی شکایات سننے میں آرہی ہیں۔اس سلسلے میں چند گذارشات پیش کرناچاہتاہوں۔
بچوں کا تحفظ صرف ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آج کے دور میں احتیاط، تربیت، نگرانی اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ، یہ سب مل کر بچوں کو محفوظ بنانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
والدین کا کردار
والدین بچوں کی حفاظت کی پہلی دیوار ہوتے ہیں۔ چند ضروری احتیاطی تدابیر یہ ہیں:
بچوں کو اجنبی افراد سے بات کرنے یا ان کے ساتھ جانے سے منع کریں۔
بچوں کو اپنا نام، گھر کا پتہ اور والدین کا فون نمبر یاد کروائیں۔
چھوٹے بچوں کو تنہا بازار، پارک یا دور دراز جگہوں پر نہ بھیجیں۔
موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال پر نظر رکھیں۔
بچوں کے دوستوں اور روزمرہ سرگرمیوں سے باخبر رہیں۔
گھر سے نکلتے وقت بچوں کو دعائیں سکھائیں اور ان کی پابندی کروائیں۔
اسکولوں کےسربراہان کا کردار
اسکول بچوں کی تربیت کا اہم مرکز ہیں۔ اسکول سربراہان اور اساتذہ درج ذیل اقدامات کر سکتے ہیں:
بچوں کی حاضری پر سخت نگرانی کی جائے۔
چھٹی کے وقت بچوں کو صرف والدین یا مجاز افراد کے حوالے کیا جائے۔
اسکول میں حفاظتی اقدامات، سی سی ٹی وی کیمرے اور چوکیداری کا نظام بہتر بنایا جائے۔
بچوں کو "ذاتی حفاظت" (Personal Safety) کے اصول سکھائے جائیں۔
والدین کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے۔
پولیس اور ریاستی اداروں کا کردار
پولیس اور دیگر اداروں کی ذمہ داری ہے کہ:
گمشدہ بچوں کے کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔
فوری سرچ آپریشن اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔
عوام کو آگاہی فراہم کی جائے۔
بچوں کی اسمگلنگ اور جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
بچوں کی حفاظت کے لیے مسنون دعا
رسول اللہ ﷺ نے گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھنے کی تعلیم دی:
بِسْمِ اللّٰهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ
ترجمہ:
"میں اللہ کے نام سے نکلتا ہوں، اللہ ہی پر بھروسہ کرتا ہوں، اور گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے۔"
حدیث نبوی کا مفہوم ہے کہ جو شخص یہ دعا پڑھ کر گھر سے نکلتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے:
"تمہاری رہنمائی کر دی گئی، تمہاری شیطان سے حفاظت کر دی گئی اور تمہاری کفایت کی گئی ۔"
اس دعا کے فوائد
اللہ تعالیٰ کی حفاظت نصیب ہوتی ہے۔
شیطان کے شر سے بچاؤ ہوتا ہے۔
سفر اور راستوں میں امن و سلامتی ملتی ہے۔
دل میں اطمینان اور اللہ پر توکل پیدا ہوتا ہے۔
بچوں کو چھوٹی عمر سے یہ دعا سکھانا ان کی روحانی تربیت کا بہترین ذریعہ ہے۔
ہماری اجتماعی ذمہ داری
بچوں کے گم ہونے کے واقعات صرف خبروں کا حصہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک تنبیہ ہیں۔ والدین، اساتذہ، پولیس، میڈیا اور عوام سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ احتیاط، تربیت، نگرانی اور دعا — یہی چار چیزیں بچوں کے تحفظ کی مضبوط بنیاد بن سکتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام گمشدہ بچوں کو ان کے والدین سے جلد ملا دے، آیت نور سمیت ہر لاپتہ بچے کو محفوظ واپس لائے، اور ہمارے بچوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔
آمین یا رب العالمین۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Haripur