Ahle Bait Media

Ahle Bait Media

Share

Jamia Ahl-e-Bait Taleem-ul-Quran – Dedicated To Quranic Education & Islamic Learning

19/08/2026

توکل علی اللہ اور حسنِ ظن: مایوسی کفر کی علامت کیوں ہے؟
تعارف
انسان کی دنیاوی زندگی امیدوں اور آسروں کے گرد گھومتی ہے۔ خوشی ہو یا غمی، کامیابی ہو یا ناکامی، ہر موڑ پر انسان کو کسی نہ کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ایک مومن کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ اس کا توکل اور یقینِ محکم ہوتا ہے۔ جب بندے کا تعلق اپنے خالق کے ساتھ مضبوط ہو جاتا ہے، تو دنیا کے تمام مصائب و آلام اس کے لیے ہیچ بن جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، اگر کوئی بندہ اپنے رب کی ذات سے ناامید ہو جائے، تو یہ اس کی کم علمی اور کم ظرفی کی دلیل ہے۔
"انسان کو زیب نہیں دیتا کہ جب اس کا رب کمال کا مہربان اور خبر گیر ہو، پھر بھی بندہ بے آس اور بے یقین ہو!"
اس خوبصورت اور دل کو چھو لینے والے قول میں زندگی کی ایک بہت بڑی حقیقت پوشیدہ ہے:
* رب کی کمالِ مہربانی: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ وہ ہماری ضرورتوں کو ہم سے بہتر جانتا ہے، ہماری مشکلات سے آگاہ ہے اور ہر لمحہ ہماری خبر گیری کرتا ہے۔
* بندے کی بے یقینی: اس کے برعکس، انسان کمزور اور جلد باز واقع ہوا ہے۔ ذرا سی مشکل یا آزمائش آنے پر وہ گھبرا جاتا ہے، مایوس ہو جاتا ہے اور یوں عمل کرتا ہے گویا اس کا کوئی پروردگار ہی نہیں۔
* عدمِ مناسبت: یہ بات عقل اور شریعت دونوں کے خلاف ہے کہ جس کا رب اتنا رحیم، کریم اور غفور ہو، وہ بندہ مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب جائے۔
توکل اور امیدِ ربانی کی اہمیت
* قنوطیت سے گریز: قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اللہ کی رحمت سے صرف کافر مایوس ہوتے ہیں۔ مایوسی اور ناامیدی مومن کا شیوہ نہیں ہے۔
* آزمائش میں صبر: زندگی میں بیماریاں، تنگدستی اور پریشانیاں آتی رہتی ہیں، لیکن ایک سچا مومن جانتا ہے کہ یہ سب آزمائشیں ہیں اور ان کے بعد آسانی کا وعدہ ہے۔
* قلبی سکون: جب انسان اپنے تمام معاملات اللہ کے سپرد کر دیتا ہے، تو اس کا دل دنیا کی بے چینیوں اور وسوسوں سے پاک ہو جاتا ہے اور اسے حقیقی اطمینان نصیب ہوتا ہے۔
نتیجہ
یہ قول ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ہمیں ہر حال میں اپنے پروردگار پر پورا بھروسہ رکھنا چاہیے۔ حالات کتنے ہی تاریک کیوں نہ ہوں، اللہ کی رحمت سے کبھی ناامید نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اندھیری رات کے بعد ہی صبحِ روشن کا ظہور ہوتا ہے۔ اپنے دلوں کو توکل، امید اور یقینِ محکم سے منور کریں تاکہ زندگی کا سفر پرسکون انداز میں گزر سکے۔

19/08/2026

ولایت اور اولیاءِ کرام: معرفتِ الٰہی کی خوشبو
تعارف
تصوف اور تصوف کی روشنی میں اولیاءِ کرام کا مقام ہمیشہ سے قلوب کو منور کرنے والا موضوع رہا ہے۔ اولیاءِ کرام اس کائناتِ فانی میں حق تعالیٰ کی محبت، قرب اور معرفت کا عملی نمونہ ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ بندگیِ رب اور اتباعِ سنت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ، جنہیں غوثِ اعظم کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، ولایت کے بلند ترین مقام پر فائز ہیں اور ان کے ارشادات سالکینِ راہِ حق کے لیے مینارۂ نور ہیں۔
"ولی اللہ زمین میں اللہ تعالیٰ کی خوشبو ہے"
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی معروف کتاب سر الاسرار (صفحہ 73) میں ارشاد فرماتے ہیں:
> "ولی اللہ زمین میں اللہ تعالیٰ کی خوشبو ہے جسے صرف صدیق سونگھ سکتے ہیں، یہ خوشبو صدیقوں کے دلوں تک پہنچتی ہے اسی لیے وہ اپنے مولیٰ کی طرف مشتاق رہتے ہیں۔"
>
اس مبارک قول میں تصوف کی ایک گہری حقیقت پوشیدہ ہے:
* روحانی خوشبو: جس طرح دنیا میں پھول کی خوشبو ہوا میں پھیلتی ہے اور حسِ شامہ رکھنے والے اسے محسوس کرتے ہیں، اسی طرح کامل ولیِ خدا کے اندر توحید، اخلاص اور عشقِ الٰہی کی پاکیزہ مہک ہوتی ہے۔
* صدیقوں کا مقام: عام انسان ظاہری آنکھوں اور کانوں کی حد تک محدود ہوتے ہیں، لیکن جن کے دلوں میں صدیقین والا اخلاص، صدق اور باطنی بیداری ہوتی ہے، وہ اس روحانی خوشبو کو محسوس کر لیتے ہیں۔
* اشتیاقِ مولیٰ: جب یہ روحانی خوشبو کسی سچے دل تک پہنچتی ہے، تو وہ دنیا کی آلائشوں سے آزاد ہو کر اپنے خالق و مالک (مولیٰ) کے وصال اور قرب کی تڑپ محسوس کرنے لگتا ہے، اور اس کا دل ہمہ وقت اسی کی طرف متوجہ رہتا ہے۔
اولیاء اللہ کی پہچان اور ان کا کردار
* اتباعِ شریعت: ولیِ کامل کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت پر سختی سے کاربند ہوتا ہے۔ اس کا ظاہر اور باطن شریعت کے احکام کے تابع ہوتا ہے۔
* عشقِ حقیقی: اولیاء کرام کی پوری زندگی اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے گرد گھومتی ہے۔ وہ لوگوں کے دلوں میں خوفِ خدا اور حبِ رسول کی شمع روشن کرتے ہیں۔
* اخلاقِ حسنہ: وہ عاجزی، انکساری، تواضع اور مخلوقِ خدا کی خیرخواہی کا پیکر ہوتے ہیں۔ ان کی صحبت انسان کو دنیا کی محبت سے ہٹا کر آخرت کی طرف راغب کرتی ہے۔
نتیجہ
اولیاءِ کرام کی صحبت اور ان کے ارشادات پر غور کرنے سے انسان کے دل میں دنیا کی بے وقطعی اور آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فرمان ہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے کہ ہم اپنے باطنی احوال کو درست کریں، اپنے قلوب کو ذکرِ الٰہی سے زندہ رکھیں اور سچے مخلصین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی کی رضا اور قرب کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

18/08/2026
18/08/2026

خالص نیت اور اخلاقی اقدار:
ایک اصلاحی جائزہ
انسانی زندگی کی خوبصورتی اور معاشرتی سکون کا دارومدار اخلاقِ حسنہ پر ہے۔ جب رشتے اور تعلقات مخلصانہ بنیادوں پر قائم ہوں تو معاشرہ امن کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جب غرض، دکھاوا اور غرور رشتوں میں در آئیں تو معاشرتی بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ زندگی کو حقیقی معنوں میں پرسکون اور باسودا بنانے کے لیے چند بنیادی اصولوں کو اپنانا ناگزیر ہے:
۱۔ مدد کرنا سیکھیں، فائدے کے بغیر
مدد وہ انسانی صفت ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے۔ اگر ہم کسی کی مدد صرف اس غرض سے کریں کہ ہمیں بدلے میں کوئی مالی فائدہ، شہرت یا ذاتی مفاد ملے گا، تو یہ احسان نہیں بلکہ ایک سودے بازی بن جاتی ہے۔ حقیقی نیکی وہی ہے جو محض اللہ کی رضا اور انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت بلا کسی غرض کے کی جائے۔
۲۔ ملنا جلنا سیکھیں، مطلب کے بغیر
معاشرتی میل جول اور رشتہ داروں یا دوستوں سے ملاقاتیں محبت کو بڑھاتی ہیں۔ لیکن افسوس کہ آج کے دور میں ملاقاتیں بھی مفادات کے تابع ہو چکی ہیں۔ لوگ صرف اسی وقت رابطہ کرتے ہیں جب انہیں کسی کام یا مطلب کی ضرورت ہو۔ ضرورت پوری ہوتے ہی رشتے سرد پڑ جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلقات بے لوث ہوں اور سلام دعا یا ملاقات بلا کسی غرض کے صرف قلبی تعلق کے لیے ہو۔
۳۔ عاجزی سے چلنا سیکھیں، غرور کے بغیر
عاجزی انسان کا سب سے بڑا زیور ہے، جبکہ غرور اور تکبر وہ زہر ہے جو انسان کی تمام اچھائیوں کو مٹا دیتا ہے۔ دولت، عہدہ، علم یا طاقت انسان کو غرور میں مبتلا کر سکتی ہے، مگر یاد رکھیے کہ اصل عظمت عاجزی میں ہے۔ عاجز انسان نہ صرف معاشرے میں محبوب بنتا ہے بلکہ بلندی بھی اسی کا مقدر بنتی ہے۔
۴۔ زندگی جینا سیکھیں، دکھاوے کے بغیر
آج کی زندگی کا بڑا المیہ 'نمود و نمائش' اور 'دکھاوا' بن چکا ہے۔ لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر دکھانے کے لیے جیتے ہیں تاکہ معاشرے میں ان کا رعب قائم رہے۔ اس ظاہری دوڑ میں انسان ذہنی سکون اور اندرونی سکون کھو بیٹھتا ہے۔ سچی خوشی اور قلبی سکون سادگی اور حقیقت پسندی میں ہے، نہ کہ مصنوعی دکھاوے میں۔
نتیجہ:
اگر ہم اپنی زندگی کو پرسکون اور آخرت کو سنوارنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان چار بنیادی اصولوں — بے لوث مدد، بے غرض تعلق، عاجزی اور سادگی — کو اپنی زندگی کا شعار بنانا ہوگا۔ یہی وہ راستے ہیں جو ایک بہتر انسان اور ایک پرامن معاشرے کی ضمانت دیتے ہیں۔

17/08/2026

کھلابٹ ٹاؤن شپ میں بچوں کے اغوا کی افواہوں پر مدارس کے مہتممین و علماء کرام کا ہنگامی اجلاس
کھلابٹ ٹاؤن شپ ہری پور ہزارہ میں بچوں کے اغوا سے متعلق دن بھر سے جاری افواہوں کے حوالے سے مدارس دینیہ کے مہتممین و علماء کرام کا ہنگامی اجلاس ہری پور ہزارہ کی قدیم دینی درسگاہ جامعہ اہل بیت تعلیم القرآن کھلابٹ ٹاؤن شپ میں منعقد ہوا۔
اجلاس کی میزبانی جامعہ اہل بیت تعلیم القرآن کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد صہیب اشرف نے کی، جبکہ اجلاس کی صدارت استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی محمد عمر صاحب، مدیر مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم نے فرمائی۔
اجلاس میں کھلابٹ ٹاؤن شپ ہری پور ہزارہ کے تمام مدارس کے مہتممین، ذمہ داران اور ائمہ کرام نے شرکت کی، جن میں بالخصوص مولانا جمیل اختر، مدیر مدرسہ عمر بن الخطاب، مولانا طاہر، الیاسی مسجد، مولانا ظفر، مدرسہ عشرہ مبشرہ، قاری مدثر تاج، جامعہ عربیہ اسلامیہ، قاری محمد جمیل، مدرسہ تحسین القرآن، مولانا بصیراللہ حقانی، مولانا ابراہیم نادر، مولانا فرمان اللہ، قاری سلیم عفان، قاری عاقب. شاہ فہد ہاشمی چھوہر شریف اور دیگر ائمہ کرام و ذمہ داران شامل تھے۔
اجلاس میں دن بھر سے گردش کرنے والی بچوں کے اغوا سے متعلق افواہوں اور مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے سیکورٹی اداروں کی جانب سے صورتحال کی نگرانی اور تحقیقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ علماء کرام کے علم میں آنے والی تحقیقات کے مطابق ایسے واقعات سے متعلق افواہیں زیادہ ہیں، جبکہ تاحال ان افواہوں کی تصدیق کے لیے کوئی واضح اور قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا۔
اجلاس میں واضح کیا گیا کہ مدارس میں دیگر تعلیمی اداروں کی طرح سیکورٹی کیمرے موجود ہیں اور طلبہ مدرسہ انتظامیہ کی نگرانی میں اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم طلبہ کی آمد و رفت کے راستوں پر والدین، اہلِ علاقہ اور سیکورٹی اداروں کو موجودہ حالات کے پیش نظر مزید توجہ دینے اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
علماء کرام نے مجموعی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ والدین، اہلِ علاقہ، مدارس و دیگر تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور سیکورٹی ادارے باہمی رابطے اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے بچوں کی حفاظت کے انتظامات کو مزید مؤثر بنائیں۔
اس موقع پر تمام معزز مہمانوں نے جامعہ اہل بیت تعلیم القرآن کھلابٹ ٹاؤن شپ ہری پور ہزارہ کے بانی پیر سید عالمزیب شاہ صاحب اور مدیر جامعہ مولانا سید ابراہیم شاہ صاحب کی دینی، تعلیمی اور ادارہ جاتی خدمات کو سراہا اور جامعہ کی مزید ترقی، استحکام اور کامیابی کے لیے دعائیہ کلمات ادا کیے۔
اجلاس میں چند روز قبل پٹھان کالونی ہری پور سے لاپتہ ہونے والی معصوم بچی آیت نور کے واقعے پر گہرے رنج و غم، دکھ اور تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔ علماء کرام نے امید ظاہر کی کہ سیکورٹی ادارے بچی کی بازیابی کے لیے بھرپور توانائیاں صرف کرتے ہوئے جلد اس کا سراغ لگائیں گے اور متاثرہ خاندان کو انصاف اور داد رسی فراہم ہوگی۔
علماء کرام نے عوام سے اپیل کی کہ غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں کو پھیلانے سے گریز کیا جائے اور کسی بھی مشتبہ صورتحال کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ سیکورٹی اداروں کو اطلاع دی جائے۔

17/08/2026

ہری پور میں مبینہ اغواء کی کوشش، انتظامیہ فوری نوٹس لے
مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم، کھلابٹ ٹاؤن شپ ہری پور کے ایک طالب علم کو مبینہ طور پر اغواء کرنے کی کوشش کی اطلاع انتہائی تشویش ناک ہے۔ والدِ طالب علم کے مطابق یہ کوشش سیداں چوک، کھلابٹ ٹاؤن شپ میں موٹر سائیکل گرنے کے باعث ناکام ہوئی۔
واقعے کی خبر تیزی سے مختلف گروپس میں پھیل رہی ہے، جس سے عوام میں تشویش پیدا ہونا فطری امر ہے۔ ہم ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ سکیورٹی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ واقعے کی فوری، شفاف اور مکمل تحقیقات کرکے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور اگر کوئی عناصر ملوث ہیں تو انہیں قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے۔
عوامِ ہری پور سے بھی اپیل ہے کہ اپنے گلی محلوں میں مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں، اجنبی افراد کو بلاوجہ پناہ یا رہائش فراہم نہ کریں اور کرایہ دار رکھنے کی صورت میں تمام قانونی تقاضے مکمل کریں۔ کسی بھی مشکوک شخص کے خلاف کارروائی قانون ہاتھ میں لے کر نہیں بلکہ متعلقہ اداروں کو بروقت اطلاع دے کر کی جائے۔
پرامن ہری پور کا امن ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سکیورٹی اداروں کے ساتھ عوامی تعاون ہی ایسے عناصر کا راستہ روکنے میں مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔
محمد صہیب اشرف

17/08/2026

📌 دعوت نامہ / اہم اعلان
​بسم اللہ الرحمن الرحیم
نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ
​ہنگامی اجلاس — تمام مدارسِ دینیہ کے ذمہ داران کے لیے اہم اعلان
​موجودہ ملکی و سماجی حالات کے پیشِ نظر طلبہ کی حفاظت، ناگوار واقعات کی روک تھام اور مدارسِ دینیہ کے لیے ایک مؤثر و مربوط حفاظتی حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
​تمام معزز علماءِ کرام، مدارسِ دینیہ کے ذمہ داران اور اہم ذمہ داریوں پر فائز اساتذہ کرام سے دست بستہ گزارش ہے کہ وہ اپنی مصروفیات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے اس اہم اجلاس میں لازماً اور بروقت شرکت فرمائیں۔
​📋 اجلاس کی تفصیلات:
​تاریخ و دن: 17 اگست، بروز سوموار
​وقت: نمازِ عشاء کے فوراً بعد
​مقام: جامعہ اہل بیت تعلیم القرآن، کھلابٹ ٹاؤن شپ، ہری پور ہزارہ
​خصوصی التماس:
یہ اجلاس انتہائی حساس نوعیت اور وقت کی اہم ضرورت ہے؛ لہٰذا تمام ذمہ داران سے شرکت کی پُرخلوص اپیل کی جاتی ہے۔
​دعوت کنندہ / نشر کردہ:
محمد صہیب اشرف
اہل بیت میڈیا

Want your school to be the top-listed School/college in Haripur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Main Chowk KTS Sec No 2
Haripur
22800