Gps Akkanwala

Gps Akkanwala activity based learning
moral values of students

teaching method

04/10/2026

I always teach poems with actions because children learn faster through active participation. It not only makes learning fun but also strengthens their memory, comprehension, confidence, and communication skills.
Memona Choudhry
Gps Akkanwala DEA Hafizabad

17/09/2026

اللہ تعالیٰ ہم تمام اساتذہ کو اپنے فرائض محنت، دیانت داری اور خلوصِ نیت کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے علم اور محنت کو ہمارے طلبہ کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے اور ہمیں ہمیشہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھانے کی ہمت دے۔ آمین۔

آج ماضی پھر سے لوٹ آیا…آج میں نے اپنی بیٹی مریم بلال کا داخلہ اپنے ہی اسکول میں کروایا تو دل میں ایک عجیب سی خوشی، اپنائ...
15/09/2026

آج ماضی پھر سے لوٹ آیا…

آج میں نے اپنی بیٹی مریم بلال کا داخلہ اپنے ہی اسکول میں کروایا تو دل میں ایک عجیب سی خوشی، اپنائیت اور تشکر کا احساس جاگ اٹھا۔

شاید ہر اُس استاد کے دل میں یہ خواہش کہیں نہ کہیں ضرور جنم لیتی ہے جو اپنے ادارے کے بچوں کو دل و جان سے پڑھاتا اور ان کی تربیت کرتا ہے کہ کاش اس کا اپنا بچہ بھی اسی درسگاہ میں پڑھے، جہاں وہ اتنی محنت اور خلوص سے دوسروں کے بچوں کا مستقبل سنوار رہا ہے۔

آج جب مریم پہلی بار میری کلاس میں میرے سامنے بیٹھی تو یوں لگا جیسے وقت نے ایک خوبصورت دائرہ مکمل کر لیا ہو۔

اچانک برسوں پرانی یاد تازہ ہو گئی…

میں بھی تو کبھی اپنی ماں کے ساتھ اُن کے اسکول میں پڑھا کرتی تھی۔ اُن کے قریب رہ کر، اُن کی نگرانی میں، اسی مقدس پیشے کی فضا میں تعلیم حاصل کرنا میرے بچپن کی خوبصورت یادوں میں شامل ہے۔

آج وہی منظر ایک نئے روپ میں میرے سامنے تھا۔
فرق صرف اتنا تھا کہ اُس وقت میں اپنی ماں کی طالبہ تھی، اور آج میری بیٹی میرے سامنے بیٹھی تھی۔

میری ماں، جنہیں اللہ تعالیٰ صحت، تندرستی اور لمبی زندگی عطا فرمائے، آج بھی اسی مقدس پیشے سے وابستہ ہیں۔ شاید استاد ہونا میرے لیے صرف ایک پیشہ نہیں، بلکہ ایک ایسی خوبصورت میراث ہے جو مجھے اپنی ماں سے ملی ہے۔

آج ایک لمحے کو یوں محسوس ہوا جیسے میری ماں کی محبت، ان کی دعائیں اور درس و تدریس سے وابستگی ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہو رہی ہو۔

آج مریم صرف میرے اسکول میں داخل نہیں ہوئی،
بلکہ وہ اپنے ساتھ میری ایک بہت پیاری اور پرانی یاد بھی واپس لے آئی۔

ایک طرف میری ماں کی یاد تھی، دوسری طرف میری بیٹی…
اور درمیان میں میں—
ایک بیٹی، ایک ماں اور ایک استاد،
تین خوبصورت رشتوں کو ایک ہی لمحے میں محسوس کرتی ہوئی۔

اللہ تعالیٰ میری ماں کا سایہ ہمیشہ سلامت رکھے، انہیں صحت و تندرستی کے ساتھ لمبی اور بابرکت زندگی عطا فرمائے، اور میری بیٹی کو علم، ادب، کردار اور کامیابی کی راہوں پر چلائے۔ آمین۔ 🤲

از قلم: میمونہ چوہدری

03/09/2026

خاموش ذمہ داری

کسی بھی ادارے کا سربراہ صرف ایک عہدہ نہیں ہوتا، وہ پورے ادارے کی دھڑکنوں کو اپنے اندر محسوس کرنے والا شخص ہوتا ہے۔ کچھ ذمہ داریاں ایسی ہوتی ہیں جو سب کو دکھائی دیتی ہیں، مگر کچھ ذمہ داریاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو خاموشی سے نبھائی جاتی ہیں، جن کا نہ کوئی اعلان ہوتا ہے، نہ کوئی داد۔

پرنسپل وہ واحد شخص ہوتا ہے جس کا ذہن شاید ہی کبھی مکمل طور پر خالی ہوتا ہو۔ کبھی میٹنگ، کبھی کلاس روم کا جائزہ، کبھی والدین سے ملاقات، کبھی نئے داخلوں کی فکر، کبھی بچوں کی گرومنگ، کبھی اساتذہ کے مسائل، کبھی کسی بچے کی پریشانی، کبھی اچانک درپیش کسی مسئلے کا فیصلہ۔ اسکول کی عمارت سے لے کر بچوں کی حفاظت تک، ٹرانسپورٹ سے لے کر اس بات تک کہ اسکول سے نکلنے والا ہر بچہ بحفاظت اپنے گھر پہنچے—ہر چھوٹی بڑی ذمہ داری کہیں نہ کہیں اسی ایک شخص کی سوچ میں سانس لے رہی ہوتی ہے۔

ہر استاد کے مسئلے کا آخری دروازہ، ہر بچے کی مشکل کی آخری امید اور ہر والدین کی تشویش کا آخری جواب اکثر پرنسپل آفس ہی ہوتا ہے۔ جب کسی مسئلے کا حل کہیں دکھائی نہ دے تو نظریں اسی دروازے کی طرف اٹھتی ہیں۔

مگر کبھی کبھی دل میں ایک سوال خاموشی سے جنم لیتا ہے…

اس دفتر میں بیٹھے اُس تنہا شخص کو آخر کون پوچھتا ہے؟

کبھی کسی نے رک کر کہا ہے،
"میڈم، کیا آپ کو بھی کوئی پریشانی ہے؟"
"کیا آپ کے ذہن پر بھی کوئی بوجھ ہے؟"
"کیا ہم آپ کی کوئی فکر کم کر سکتے ہیں؟"

شاید نہیں۔

کیونکہ عہدے اکثر انسان کے گرد ایک ایسا حصار بنا دیتے ہیں جہاں سب کو اس کی ذمہ داریاں دکھائی دیتی ہیں، مگر اس کی تھکن نہیں۔ سب اس سے حل چاہتے ہیں، مگر بہت کم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ حل دینے والے انسان کے اندر کتنے سوال بے جواب رہ جاتے ہیں۔

پرنسپل بھی انسان ہوتا ہے۔
وہ بھی تھکتا ہے، کبھی الجھتا ہے، کبھی خاموش ہوتا ہے، کبھی کسی فیصلے کے بوجھ تلے دیر تک بیٹھا رہتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اسے اپنی تھکن کے باوجود دوسروں کے لیے مضبوط دکھائی دینا ہوتا ہے۔

شاید قیادت کی سب سے بڑی آزمائش یہی ہے کہ
جو شخص سب کے لیے سہارا بنا کھڑا ہو، اسے سہارا دینے والا کوئی نظر نہیں آتا۔

اور یوں ادارے کے شور، بچوں کی آوازوں، فائلوں، میٹنگز اور فیصلوں کے درمیان…
ایک شخص خاموشی سے اپنی ذمہ داریاں اٹھائے بیٹھا رہتا ہے۔

سب کی فکر میں…
اکثر خود سے بے خبر۔

از قلم: میمونہ چوہدری

احتساب ضرور ہو، مگر انصاف کے ساتھ تحریرـ  میمونہ چوہدری احتساب کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہے، مگر انصاف کا تقاضا یہ ہے...
28/06/2026

احتساب ضرور ہو، مگر انصاف کے ساتھ
تحریرـ میمونہ چوہدری

احتساب کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہے، مگر انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ احتساب سب کا ہو، صرف استاد کا نہیں۔ اگر ترازو کے ایک پلڑے میں صرف معلم کو رکھا جائے اور باقی سب کو نظر انداز کر دیا جائے تو یہ انصاف نہیں، محض امتیاز ہے۔

استاد وہ چراغ ہے جو خود دھوپ، گرمی، تنگ دستی اور بے شمار محرومیوں میں جلتا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے راستے روشن رہیں۔ ہمارے دیہات کے بے شمار سکول آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ایسے بچے بھی تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں جن کے پاؤں میں جوتے نہیں ہوتے، بستہ نہیں ہوتا، کبھی ایک پنسل بھی میسر نہیں ہوتی۔ مگر استاد پھر بھی ہار نہیں مانتا۔ وہ اپنی ذات کی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر علم کی شمع روشن رکھتا ہے۔

ایک طرف معمولی تنخواہ، دوسری طرف اپنے گھر اور خاندان کی ذمہ داریاں، پھر بھی یہی سفید پوش طبقہ کبھی عزتِ نفس کا دامن نہیں چھوڑتا۔ گرمیوں کی تعطیلات بھی اس کے لیے حقیقی آرام نہیں ہوتیں؛ کبھی اجلاس، کبھی سکول کی صفائی، کبھی پودوں کی دیکھ بھال، کبھی نئے تعلیمی سال کی تیاری۔ وہ ہر حال میں اپنے فرض کو عبادت سمجھ کر نبھاتا ہے۔

یقیناً ہر شعبے میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ کسی ایک فرد کی غلطی کو پورے طبقے کا جرم بنا دینا نہ عقل مندی ہے، نہ انصاف۔ اگر احتساب ہونا ہے تو ہر اس شخص کا ہو جس کے ہاتھ میں اختیار ہے، کیونکہ قانون کی نظر میں سب برابر ہونے چاہییں۔

استاد کو نئی نسل کے سامنے مجرم بنا کر کھڑا کرنا دراصل اسی نسل کے مستقبل کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے مترادف ہے۔ یاد رکھیے، قومیں اپنے معلمین کی عزت سے بنتی ہیں، ان کی تذلیل سے نہیں۔ جس معاشرے میں استاد کی توقیر کم ہو جائے، وہاں علم کی روشنی بھی مدھم پڑنے لگتی ہے۔

احتساب ضرور ہو، مگر ایسا جو انصاف کی خوشبو لیے ہو، امتیاز کی دھول نہیں۔ اور اگر احتساب کی بات ہے تو پھر کسی ایک طبقے کا نہیں، ہر اس شخص کا ہو جو اپنی ذمہ داری سے غفلت برتتا ہے۔ کیونکہ استاد صرف ایک ملازم نہیں، بلکہ قوم کے مستقبل کا معمار ہے۔

21/05/2026

Address

Hafizabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gps Akkanwala posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category