Ain Ain Aalam Talks

Ain Ain Aalam Talks

Share

​Gnostic soul.👁️Patriarchal spirit.🏛️ Iconoclastic mind.🔨 Walking the path of the ancients while shattering the idols of today.

05/06/2026

جب تک اس سوچ سے اساتذہ باہر نہیں آئیں گے تب تک کوئی تبدیلی کی امید نہ رکھیں۔۔۔
یہ بات اب دعووں سے بڑھ کر عمل کی دنیا میں قدم رکھ چکی ہے۔۔۔
سرکاری ملازمین صرف اساتذہ نہیں ہیں بل کہ استعمال میں کام کرنے والے جملہ ملازمین بھی اس میں شامل ہیں۔
سب کو چاہیے کہ ایک بھرپورپاور شو دکھایا جائے۔۔۔

05/06/2026

📢 استاد دشمنی یا مذاق؟ 15 ہزار میں استاد اچھا کر رہا ہے تو سب کو 15 ہزار میں رکھ لیں!
​وزیرِ تعلیم کا یہ بیان انتہائی افسوسناک اور اساتذہ کی توہین کے مترادف ہے کہ "15 ہزار میں استاد اچھا کر رہا ہے!"۔ اگر ملک کے معماروں کی قابلیت اور ان کی محنت کا معیار ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر ناپا جائے گا، تو پھر یہ اصول سب پر لاگو ہونا چاہیے۔
​ہم یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں:
​جج، وزیر، اور مشیر: کیا یہ سب 15,000 روپے میں ملک کا نظام چلا سکتے ہیں؟
​بیوروکریٹ اور سیکرٹریز: کیا ان کی شاہانہ مراعات اور لاکھوں کی تنخواہیں ختم کر کے انہیں اس "سستے انصاف اور سستی گورننس" کے فارمولے پر لایا جا سکتا ہے؟
​اصل سوال: یہ انوکھا اصول صرف استاد کے لیے ہی کیوں؟ 🤨
​جب تک اس ملک میں تعلیم اور اساتذہ کو ان کا جائز مقام اور عزتِ نفس نہیں ملے گی، تب تک کوئی بھی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ استاد کو معاشی طور پر کمزور رکھ کر آپ ایک بہترین نسل تیار کرنے کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں؟
​حکمرانوں کو اپنے ان بیانات پر شرم آنی چاہیے اور اساتذہ کی تنخواہوں کو ان کی محنت اور مہنگائی کے تناسب سے عزت دارانہ بنانا چاہیے۔

05/06/2026

اتفاق میں برکت ہے"
تمام عمر بچوں کو بل کہ پورے معاشرے کو اس بات کا درس دینے والوں پر اب وقت اتحاد آن پہنچا ہے۔
اب ثابت کرنے کی گھڑی ہے کہ واقعتا اتحاد و اتفاق میں برکت تو ہے مگر کیا اس بات کا درس دینے والے عملی طور پر اسے ثابت کر پائیں گے؟
کیا اساتذہ اپنے حقوق کی جنگ جیت پائیں گے؟
یا پھر وہی اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر اپنے اپنے امام اور مقتدی چن کر الگ تھلگ ہو کر بیٹھ جائیں گے؟؟؟
آج نہیں تو کبھی نہیں۔۔۔
اب نہیں تو کب؟؟؟

04/06/2026

"معمارانِ قوم بمقابلہ حکومت"

گزشتہ سال سے موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد اساتذہ اکرام کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔ مگر حیرت اس بات پر ہے کہ جن لوگوں نے پڑھا، لکھا کر اعلی عہدوں پر اپنے شاگردوں کو متمکن کرنے میں دن رات ایک کردی انھی کے طلبہ و طالبات ان کی گردنوں پر پاؤں رکھ کر انھیں کچلنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ جب ان میں سے کسی شاگرد سے یہی استاد گزارش کرتا ہے یا کرتی ہے تو بدلے میں جواب آتا ہے "سر! ہم مجبور ہیں، کچھ نہیں کر سکتے۔۔۔"
اب استاد تو استاد ہوتا ہے؛ وہ اپنے بچوں کی مجبوری سمجھتے ہوئے اپنی قربانی پر قربانی دینے سے دریغ نہیں کرتا۔
مگر آخر کب تک؟
آخر کب تک وہ بھی قربانی دے؟
ایک استاد جس نے تعلیمی شعبے میں اپنی مکمل زندگی لگا دی؛ اسے آخر پر اس کے حق کی کل کمائی اگر پچاس لاکھ بن رہی تھی تو اسے صرف پندرہ لاکھ تھما کر الوداع کیا جاتا ہے۔
اس کے برعکس حکومت اپنے اعلی عہدوں پر متمکن افراد بل کہ افسران کو ایک ایک ماہ میں اتنی سیلریاں دے رہی ہے۔
یہ کیا ہو رہا ہے؟
انڈیا کا وزیر اعلی پنجاب بھگونت مان سنگھ آج کر بڑے چرچے میں ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے تقریبا گیارہ ارب روپے میں تھرمل پاور خرید کر 600 یونٹ فی گھر مفت فراہم کرنے شروع کر دیے ہیں۔
ادھر پاکستان کی وزیر اعلی پنجاب نے اتنے ہی روپے میں اپنے ذاتی استعمال کے لیے ایک جہاز لیا جس پر ماہانہ تقریبا پچاس لاکھ سے ایک کروڑ روپیہ خرچہ بھی آ رہا ہے۔
عوام کو ریلیف کے دعوے کرنے والے جب برسر اقتدار آئے تو عوام کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیا۔۔۔
سرکاری ملازمین اور عوام پر تاریخ ساز ٹیکسز لگائے گئے جس کی ایک چھوٹی سی مثال پٹرول کی لیوی کی مد میں گزشتہ دو ماہ کے عرصے میں موجودہ حکومت نے 2800 ارب روپیہ کمایا۔
یہ سارا روپیہ کدھر گیا؟
زمین کھا گئی یا آسمان؟
اگر ایک فرد واحد بلوچستان میں بیٹھ کر کہتا ہے کہ میں 200 روپے فی لٹر پٹرول پورے پاکستان کو فراہم کرتا ہوں تو کیوں حکومت وقت اسے اجازت نہیں دیتی؟؟؟
ایک سو ایک عوامی پیکجز متعارف کروائے گئے ہیں مگر ان کا عوام کو کیا فائیدہ ہاتھ آیا؟؟؟
شہر کے شہر بنے بنائے بگاڑ دیے گئے آخر کیوں؟
جب ملک دیوالیہ ہوا پڑا تو اتنے مہنگے جہاز لینے کی وجہ؟
سکیورٹی اداروں کے افراد کی سیلری میں فرق کیوں نہیں آتا؟
وفاقی ملازمین کیا کسی اور پلانٹ کا حصہ ہیں؟
آخر کیا وجہ ہے کہ واپڈا میں کام کرنے والے ایک سولھویں سکیل کے شخص کی سیلری ایجوکیشن میں کام کرنے والے اٹھارویں گریٹ سے بھی زیادہ ہے؟
کیوں استاد کو پروموشن سب سے آخر پر دی جاتی ہے؟
استاد کو ہر بار کہا جاتا ہے آپ استاد ہیں آپ کو قانون کی پاس داری ہر حال میں کرنی چاہیے بھائی کتنی کو پاس داری کی جائے؟
کبھی سکولوں میں اساتذہ کو سرپلس کر کے انھیں ذلیل و رسوا کیا جاتا ہے۔
کبھی لباس تبدیل کروا کر انھیں ذلیل کیا جاتا ہے۔
کبھی آپ کی پروفارمنس بہتر نہیں کہہ کر شرمندہ کیا جاتا ہے۔
سرکاری سکولوں کے حوالات سنوارنے کے بجائے نئے سکول اور کالجز پرائیویٹ انتظامیہ کو دینے کا مقصد کیا ہے؟
کیا سرکاری اداروں کو اب ختم کر کے ہی دم لینا ہے؟
بہانہ کیا ہے جی اچھی کارکردگی نہیں دے پا رہے۔
حیرت ہے!
اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے نوکریاں آپ نہیں نکال رہے۔
بل کہ جو تھیں ان میں سے بھی 19000 کو برطرف کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
آخر کیوں؟
کیوں ایک ہی ایچ ڈی بندے کے اوپر ایک بی اے بی ایس سی کیا بندہ حاکم بنا دیا گیا ہے؟
کیا اساتذہ کو پٹرول دیا جاتا ہے؟
کیا انھیں بجلی کے اور گیس میں یونٹس مفت فراہم کیے جا رہے ہیں؟
کیا ان کے وزٹ ہوتے ہیں؟
کیا انھیں غیر معمولی مراعات اور پروٹوکول میسر ہے؟
کیا کسی استاد کو بھی پھول لگائے گئے ہیں؟
جب بڑے عہدوں والوں کی کرپشن پکڑی جائے تو پورا سسٹم اسے بچانے میں لگ جاتا ہے۔
ادھر استاد سے ذرا سے بھول ہوئی نہیں کہ پورا سسٹم اس ادارے اور پوری ایجوکیشن کو برا بھلا کہنے لگتا ہے۔
آخر حکومت وقت آنے والی نسلوں کو کیا دینا چاہ رہی ہے؟
کیا وہ ایسا نہیں کہ آنے والی نسل کو سوچی سمجھیں سکیم کے تحت "زومبی" بنانے کی مکمل تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
مجھے تو ایسے ہی لگتا ہے کہ آج کی نسل چاہے حلال ہو یا حرام بس پیسہ چاہ رہی ہے بالکل زومبی کی طرح۔۔۔چاہے اچھا ہو یا کوئی برا۔۔۔انھیں بس خون پینا ہے۔۔
مگر یہ خون بھی آخر کب تک پئیں گے؟
کیوں بھول جاتے ہیں کہ جس عوام نے انھیں عزت دی، انھی کو ختم کر کے حکومت کس پر کریں گے؟
کیا لوگوں کی جان و مال سے آپ کو اپنی کرسی اور آنا عزیز ہے۔
اساتذہ کو یا تو وہ مقام دیں جو دنیا نے اپنے اساتذہ کو دیا ہوا ہے۔
اساتذہ کو وہ مراعات دیں جو کسی بھی آرمی آفیسر کو یا پولیس آفیسر کو میسر ہیں۔
اساتذہ کو وہ پروٹوکول دیں جو کسی سیاستدان کو دیا جاتا ہے۔
اگر یہ سب نہیں کر سکتے تو خدارا انھیں ان کا حق دیں جس کے لیے وہ گزشتہ سال سے سوال کر رہے ہیں۔
انھیں ان کا حق دیں۔۔۔

#استادـکوـآزادـکرو

04/06/2026

ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔۔۔۔

29/05/2026

ہمیں عزت چاہیے، ہمیں حق چاہیے!
​سرکاری ملازمین اتحاد پاکستان اور صوبائی اساتذہ تحریک نے اپنے جائز مطالبات کے لیے ایک بڑی تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ پنجاب کے سرکاری ملازمین کے ساتھ ہونے والا ناروا سلوک اب نا منظور ہے!

​ہمارے اہم مطالبات یہ ہیں:

​چاروں ایڈہاک ضم کریں اور سکیل ریوائز کریں۔
(مستقل ترقی کا راستہ)

​تنخواہوں میں بلا تفریق 100% اضافہ۔
(مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے)
​الاؤنسز کو 20,000 پر فکس کریں۔
(بنیادی ضروریات کے لیے)
​یہ وقت ہے کہ ہم اپنے حقوق کے لیے متحد ہو جائیں۔ یہ ایک آواز، ایک مقصد، اور ایک جدوجہد ہے!
​آئیں، اس تحریک میں شامل ہوں اور اپنے حق کے لیے لڑیں!










28/05/2026

پھولوں کے انگریزی اور اردو نام۔۔۔

27/05/2026

"پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ 'کرپشن' نہیں بل کہ 'شعور' ہے۔ جس دن اعلی عہدوں پر اہل شعور متمکن ہو گئے؛ اس ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔۔۔" ع ع عالم

27/05/2026

انقلاب دو طرح کا ہے؛ اک دم تبدیلی اور تدریجی تبدیلی۔ اسلام تدریجی انقلاب کا حامی ہے۔ انقلاب،انصاف کے بغیر محال ہے؛ انصاف، ایک لیڈر کے بغیر ناممکن ہے اور لیڈر کا ایک استاد ہونا ناگزیر ہے۔۔۔فی زمانہ اقبال موجود ہیں مگر مولوی میر حسن کمیاب ہے۔۔۔
ع ع عالم

Want your school to be the top-listed School/college in Hafizabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Hafizabad
52110