27/07/2026
اگر نہ ہو الجھن تجھے، کھول کر کہہ دوں:
وجودِ حضرتِ انساں نہ روح ہے، نہ بدن۔
اس شعر کا صوفیانہ مفہوم یہ ہے کہ انسان کی حقیقی حقیقت صرف جسم (بدن) یا صرف روح تک محدود نہیں۔ انسان کی اصل پہچان اس کے باطنی شعور، معرفتِ الٰہی اور اس راز میں ہے جسے اہلِ تصوف "حقیقتِ انسانیہ" کہتے ہیں۔
بدن ایک ظاہری لباس ہے، روح اللہ تعالیٰ کا امر ہے، مگر انسانِ کامل کی حقیقت ان دونوں سے بلند ایک ایسا مقام ہے جہاں بندہ معرفت، عشق اور قربِ الٰہی کے ذریعے اپنی اصل کو پہچانتا ہے۔ اس لیے اہلِ عرفان کہتے ہیں کہ انسان کی شناخت صرف جسم یا روح نہیں، بلکہ وہ ایک جامع حقیقت ہے جس میں ظاہری اور باطنی دونوں جہات جمع ہیں۔
یہ شعر انسان کو اپنی ظاہری شناخت سے آگے بڑھ کر اپنی باطنی حقیقت اور اللہ تعالیٰ کی معرفت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
قُریشی سادات
پیر حافظ قاری محمد عارف الحسینی نقشبندی