Gujjar sab

Gujjar sab

Share

گجر گروپ

20/03/2025

اسلامی تاریخ کی احیاء – ارطغرل، میڈیا کی طاقت اور ہماری ذمہ داری



جب ارطغرل غازی اور کورلش عثمان کی پہلی قسط نشر ہوئی، تو کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ یہ صرف ایک ڈرامہ نہیں بلکہ ایک انقلاب ہوگا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ترک میڈیا نے بسم اللہ کہہ کر تاریخ کے ہیروز کو زندہ کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ یہ محض تفریح نہیں تھی، بلکہ ایک فکری جنگ کا آغاز تھا—میڈیا وار!

مغرب نے صدیوں سے میڈیا کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ہالی وڈ اور بالی وڈ نے مسلمانوں کو دہشتگرد، ظالم اور پسماندہ قوم کے طور پر پیش کیا، اور ہم خاموش رہے۔ انہوں نے ہمیں ہماری ہی تاریخ سے کاٹ دیا، ہمارے بچوں کے ذہنوں میں ایسے کردار بٹھا دیے جو ہماری اقدار سے میل نہیں کھاتے۔ آج کا نوجوان اپنی تاریخ کے ہیروز سے زیادہ مغربی فلموں کے سپر ہیروز کو جانتا ہے، کیونکہ میڈیا نے یہی دکھایا ہے!

مگر ارطغرل غازی نے اس خاموشی کو توڑا!

یہ ڈرامہ نہ صرف ترکی بلکہ پوری مسلم دنیا میں ایک نئی فکری لہر لے کر آیا۔ اس نے ثابت کیا کہ اگر میڈیا طاقتور ہے، تو سچائی اس سے بھی زیادہ طاقت رکھتی ہے!

آج سے دس سال بعد...

جب ایک دس سال کا بچہ ٹی وی یا سوشل میڈیا کھولے گا، تو وہ صرف سپائیڈر مین یا آئرن مین نہیں دیکھے گا بلکہ اسے ارطغرل، عثمان، صلاح الدین ایوبی اور محمد الفاتح جیسے حقیقی اسلامی ہیروز ملیں گے۔ اس کی سوچ پر مغربی فحاشی یا غلط آئیڈیاز کا اثر نہیں ہوگا، بلکہ وہ اپنی تاریخ سے جُڑے گا، اپنے ہیروز کو پہچانے گا، اور ان سے سیکھے گا۔

یہی اصل جنگ ہے!

اگر کسی قوم کی سوچ بدلنی ہو تو اس کے میڈیا کو قابو کر لو۔ مغرب نے یہ کیا، اور آج ہر طرف اسلام کے خلاف نفرت بھری جا رہی ہے۔ لیکن ہم اس جنگ میں پیچھے نہیں رہ سکتے۔ ہمیں ارطغرل جیسے مزید ڈرامے بنانے ہوں گے، ہمیں اپنی نسلوں کو بتانا ہوگا کہ ان کے اصل ہیروز کون ہیں، تاکہ ان کی ذہنیت مغرب کے رنگ میں ڈھلنے کے بجائے اسلام کی روشنی میں پروان چڑھے۔

کیا ان ڈراموں میں خامیاں نہیں؟

یقیناً کوئی بھی انسان کا بنایا ہوا کام مکمل نہیں ہوتا! ان ڈراموں میں تاریخی غلطیاں، کچھ غیر ضروری مناظر یا دیگر کمی کوتاہیاں ہو سکتی ہیں، مگر پھر بھی یہ ہالی وڈ اور بالی وڈ کی گندگی سے ہزار گنا بہتر ہیں۔ یہ ہمیں اپنی پہچان دیتے ہیں، ہمارے اندر عزم، غیرت اور حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔

بوزداغ نے ایک قدم اٹھایا، ہمیں اس کا ساتھ دینا ہوگا!

یہ ڈرامے صرف تفریح نہیں، بلکہ امت کی فکری بیداری کا ذریعہ ہیں۔ ہمیں اس میڈیا جنگ کو سمجھنا ہوگا اور اسلامی تاریخ کے ایسے مزید شاہکار تخلیق کرنے ہوں گے جو ہماری نسلوں کو اپنی اصل پہچان دیں۔ اگر آج ہم نے یہ موقع کھو دیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی!

یہ وقت ہے بیداری کا، یہ وقت ہے تاریخ کو پھر سے زندہ کرنے کا!

16/09/2022
20/08/2021

ایک بار جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہوں جبرائیل نے عرض کی اے محبوب کل میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں
ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا
اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے
اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے
چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے
تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے
دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالیں گئ
یہ کہہ کر جبرائیل علیہ سلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم نے پوچھا
جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا
جبرائیل علیہ سلام نے عرض کیا
اے اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپکے امت کے گنہگاروں کو ڈالے گے
جب نبی کریم نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جاے گا تو آپ بے حد غمگین ہوے اور آپ نے اللہ کے حضور دعائیں کرنا شروع کی تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکہ اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے صحابہ حیران تھے کہ نبی کریم پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے مسجد سے حجرے جاتے ہیں
گھر بھی تشریف لیکر نہیں جا رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ آے دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا ۔ آپ روتے ہوے سیدنا عمر کے پاس آے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جاے آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر نے سلمان فارسی کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ تعالی سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنے اعظیم شحصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نھی جانا نھی چاھیئے
بلکہ مجھے انکی نور نظر بیٹی فاطمہ اندر بھیجنی چاھیئے۔ لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئی
" ابا جان اسلام وعلیکم"
بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائینات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا
ابا جان آپ پر کیا کیفیت ھے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرما ہے
نبی کریم نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جاے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنے امت کے
گنہگاروں کا غم کھاے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کررہا ہوں کہ اللہ انکو معا ف کر اور جہنم سے بری کر یہ کہہ کر آپ پھر سجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گناہگاروں پہ رحم کر انکو جہنم سے آزاد کر
کہ اتنے میں حکم آگیا "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى
اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے..
آپ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگوں اللہ نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کریں گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جاے
لکھتے ہوے آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ہمارا نبی اتنا شفیق اور غم محسوس کرنے والا ہے اور بدلے میں ہم نے انکو کیا دیا..؟؟
آپکا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا زریعہ ہے میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ لاحاصل اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیئر کرتے ہیں . آج اپنے نبی کی رحمت کا یہ پہلو کیوں نہ شیئر کریں. آئیں ایک ایک شیئر کرکہ اپنا حصہ ڈالیں . کیا پتہ کون گنہگار پڑه کہ راہ راست پہ آجائے

20/08/2021

اقبال پارک میں جو واقعہ ٹک ٹاکر لڑکی کے ساتھ ہوا اس پہ آج دن بھر ڈرامہ ہوا پاکستان ناٹ سیف فار ویمن کے ٹرینڈز چلے، ہم سب نے ہی اس ذیادتی جو ذیادتی سے ذیادہ ڈرامہ لگ رہا تھا اسے ذیادتی کہہ کر بلکہ مان کر اسکے خلاف سخت سے سخت کاروائی کا مطالبہ کیا.

تاہم اب ٹک ٹاکرز اور سنیکرز کو بھی پابند کیا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ پاکستان ہی نہیں دنیا کے جس بھی کونے میں کوئی خاتون پبلک مقامات کو باپ کا کوٹھا سمجھ کر ناچے گی اور 500 مردوں کے سامنے اپنی نمائش کرے گی تو شاید اس سے بھی بُرا ہوسکتا ہے جو کہ نہیں ہونا چاہیے جو ہوا اسکا کا دفاع نہیں کیا جاسکتا پہلی تحریر میں بھی لکھ گیا، لیکن اگر ایسا ہو رہا ہے تو اسکے پیچھے کی وجوہات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے.

برائے مہربانی ہر جگہ کو کوٹھا سمجھ کر ناچنے سے گریز کریں، کم از کم مذہبی و تاریخ مقامات کا تقدس تو برقرار رہنے دیں، کبھی مساجد میں، کبھی کے سامنے، کبھی یادگارِ شہداء پرَ، کبھی سرکاری دفاتر میں، کبھی درگاہوں پر، کبھی تعلیم اداروں میں، کبھی کھلے عام سڑکوں پر، کبھی، مینارِ پاکستان پر تو کبھی مزارِ قائد پر مجرہ ہوتا نظر آجاتا ہے، اپنے اپنے گھروں میں اپنے باعزت اور باغیرت والدین کے سامنے ناچیں تاکہ وہ بھی اپنے بچوں کا ٹیلنٹ دیکھ سکیں.

جن مقدس مقامات پر آپ جا کر مجرہ کرتے ہیں یہ جگہیں احترام کی ہوتی ہیں یہاں ہزاروں خواتین روز آتی ہیں کسی کے ساتھ کچھ ایسا نہیں ہوتا لیکن جب آپ لوگ کھل ڈل کے آئیں گے، لوگوں کو بلا کر انہیں نمائش کی دعوت دیں گی تو مسائل تو ہونگے پھر اس پہ یہ طعنہ زنی کرنا کہ یہ کیسا اسلامی جمہوریہِ پاکستان ہے، یہ کیسی مدینہ کی ریاست ہے تو کیا ایک اسلامی ملک میں کیا مدینہ کی ریاست میں بہنیں، بیٹیاں ایسی حرکات کرتی تھیں؟ کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے؟

جب تک اس واقعے میں لبرل بریگیڈ کا زور نہیں تھا تب تک یہ ذیادتی کا واقعہ لگ رہا تھا تاہم اب نئی نکل کر آنے والی ویڈیوز سے لگ رہا ہے کہ یہ چکر کچھ اور ہی، حکومت اور انٹلیجنس اداروں کو اس سارے واقعے کی تحقیقات کرکے تمام کرداروں کو سامنے لائے تاکہ معلوم ہوسکے کہ ذیادتی ہوئی ہے کہ پاکستان کے خلاف منظم انداز میں ایک کھیل کھیلا گیا. ویڈیو میں واقعے سے پہلے کے مناظر آپ دیکھ سکتے ہیں. اس سے بڑھ کر جب ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کے دن قریب اتے جاتے ہیں ایسے واقعات سامنے آجاتے ہیں. شئیر کریں اسے پلیز....

*گجرصاحب*

22/08/2020

Zara goar sy suny bht mazy ke bt ha

Photos from Gujjar sab's post 21/08/2020
Want your school to be the top-listed School/college in Gujrat?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Gujrat