جامعہ غوثیہ طیبہ چوپالہ گجرات

جامعہ غوثیہ طیبہ چوپالہ گجرات

Share

حفظ کی کلاس کے داخلے شروع ہے آپ بھی اپنے بچوں کو دینی تع?

30/01/2025

🕋🌹اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ🌹وَّعَلٰی آلِهٖ🌹 وَصَحْبِهٖ🌹 وَبَارِكْ وَسَلِّم🌹
اچھے لوگوں کا تمہاری زندگی میں آنا تمہاری قسمت ہوتی ہے اور انہیں سنھبال کر رکھنا تمہارا ہنر ۔
د ل سے نکلنے والی دعا زبان تک پہنچنے سے پہلے اللہ تعالی کی بارگاہ تک پہنچ جاتی ہے اس لئے دعائیں دیں اور دعائیں لیں میر ی"دعا"ھےکہ الله تبارک وتعالی آپکو اور گھرکےتمام افرادکو زمین وآسمان کی تمام آفات سے محفوظ رکھے-تمام پریشانیوں اور بیماریوں کو اللہ پاک اپنے فضل کرم سےختم فرما دے دونوں جہانوں کی کامیابی عطا فرمائیں۔ 🌹تحریک منہاج القران چوپالہ گجرات*🌴🌴

28/01/2025

جوانی میں انسان باپ کو شک کی نگاہ سے دیکھتا رہتا ہے۔ جیسے باپ کو ہمارے مسائل، تکلیفوں یا ضرورتوں کا احساس ہی نہیں، یہ نئے دور کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا۔
کبھی کبھی ہم اپنے باپ کا موازنہ بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ "اتنی محنت ہمارے باپ نے کی ہوتی، بچت کی ہوتی، کچھ بنایا ہوتا تو آج ہم بھی، فلاں کی طرح عالیشان گھر، گاڑی میں گھوم رہے ہوتے"۔
"کہاں ہو؟ کب آؤ گے؟ زیادہ دیر نہ کرنا،" جیسے سوالات انتہائی فضول اور فالتو سے لگتے ہیں۔
"سویٹر تو پہنا ہے، کچھ اور بھی پہن لو سردی بہت ہے"۔ انسان سوچتا ہے کہ اولڈ فیشن کی وجہ سے والد کو باہر کی دنیا کا اندازہ نہیں۔
اکثر اولادیں اپنے باپ کو ایک ہی معیار پر پرکھتی ہیں۔ گھر، گاڑی، پلاٹ، بینک بیلنس ، کاروبار اور اپنی ناکامیوں کو باپ کے کھاتے میں ڈال کر خود سرخرو ہو جاتے ہیں۔
"ہمارے پاس بھی کچھ ہوتا تو اچھے اسکول میں پڑھتے، کاروبار کرتے"۔
اس میں شَک نہیں کہ اولاد کے لئے آئیڈیل بھی ان کا باپ ہی ہوتا ہے۔ لیکن کچھ باتیں جوانی میں سمجھ نہیں آتیں یا ہم سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس لئے کہ ہمارے سامنے وقت کی ضرورت ہوتی ہے، دنیا سے مقابلے کا بھوت سوار ہوتا ہے، جلد سے جلد سب کچھ پانے کی جستجو میں ہم کچھ کھو بھی رہے ہوتے ہیں، جس کا احساس بہت دیر سے ہوتا ہے۔
بہت سی اولادیں، وقتی محرومیوں کا پہلا ذمہ دار اپنے باپ کو قرار دے کر ، ہر چیز سے بری الزمہ ہو جاتی ہیں۔
وقت گزر جاتا ہے، اچھا بھی اور بُرا بھی اور اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ انسان پلک جھپکتے ماضی کی کہانیوں کو اپنے اِردگِرد منڈلاتے دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ جوانی، پڑھائی، نوکری شادی، اولاد اور پھر وہی اسٹیج وہی کردار۔۔۔ جو نبھاتے ہوئے ہر لمحہ، اپنے باپ کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آ آ کر باپ کی ہر سوچ، احساس، فکر، پریشانی، شرمندگی اور اذیت کو ہم پر کھول کے رکھ دیتا ہے۔
باپ کی کبھی کبھی بلاءوجہ خاموشی، کبھی پرانے دوستوں میں بے وجہ قہقہے، اچھے کپڑوں کو ناپسند کر کے، پرانوں کو فخر سے پہننا، کھانوں میں اپنی سادگی پر فخر، کبھی کبھی سر جُھکائے اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں میں مَگن ہونے کی وجہ، کبھی بغیر وجہ تھکاوٹ کے بہانے سر شام بتی بُجھا کر لیٹ جانا، نظریں جُھکائے، انتہائی محویت سے ڈوب کر قرآن کی تلاوت کرنا، سمجھ تو آنا شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن بہت دیر بعد جب ہم خود راتوں کو جاگ جاگ کر دوسرے شہروں میں گئے بچوں پر آیت الکرسی کے دائرے پھونکتے ہیں، جب ہم سردی میں وضو کرتے ہوئے اچانک سوچتے ہیں، پوچھ ہی لیں۔۔۔ "بیٹا آپ کے ہاں گرم پانی آتا ہے؟"
جب قہر کی گرمی میں روم کولر کی خنک ہوا بدن کو چٗھوتی ہے تو پہلا احساس جو دل و دماغ میں ہلچل سی مچاتا ہے، وہ "کہیں اولاد گرمی میں تو نہیں بیٹھی"۔
جوان اولاد کے مستقبل، شادیوں کی فکر، ہزار تانے بانے جوڑتا باپ، تھک ہار کر اللّٰه اور اس کی پاک کلام میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔۔۔ تب یاد آتا ہے کہ ہمارا باپ بھی ایک ایک حرف، ایک ایک آیت پر رُک رُک کر بچوں کی سلامتی، خوشی، بہتر مستقبل کی دعائیں ہی کرتا ہو گا۔
ہر نماز کے بعد اُٹھے کپکپاتے ہاتھ، اپنی دعاؤں کو بھول جاتے ہوں گے۔ ہماری طرح ہمارا باپ بھی ایک ایک بچے کو، نمناک آنکھوں سے اللّٰه کی پناہ میں دیتا ہو گا۔
سر شام کبھی کبھی کمرے کی بتی بجھا کر، اس فکر کی آگ میں جلتا ہوگا کہ میں نے اپنی اولاد کے لئے بہت کم کیا؟
اولاد کو باپ بہت دیر سے یاد آتا ہے۔ اتنی دیر سے کہ ہم اسے چھونے، محسوس کرنے، اس کی ہر تلخی، اذیت، فکر کا ازالہ کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک عجیب احساس ہے، جو وقت کے بعد اپنی اصل شکل میں ہمیں بےچین ضرور کرتا ہے۔ لیکن یہ حقیقتیں جن پر وقت پر عیاں ہو جائیں، وہی خوش قسمت اولادیں ہیں۔
اولاد ہوتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں۔ باپ کا چھونا و پیار کرنا، دل سے لگانا، یہ تو بچپن کی باتیں ہیں۔ باپ بن کر آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ پتہ نہیں باپ نے کتنی دفعہ دل ہی دل میں ہمیں چھاتی سے لگانے کو بازو کھولے ہوں گے؟
پیار کے لئے اس کے ہونٹ تڑپے ہوں گے اور ہماری بے باک جوانیوں نے اسے یہ موقع نہیں دیا ہو گا۔
ہم جیسے درمیانے طبقے کے سفید پوش لوگوں کی ہر خواہش، ہر دعا، ہر تمناء، اولاد سے شروع ہو کر اولاد پر ختم ہو جاتی ہے۔
لیکن کم ہی باپ ہوں گے، جو یہ احساس اپنی اولاد کو اپنی زندگی میں دلا سکے ہوں۔ یہ ایک چُھپا، میٹھا میٹھا درد ہے۔۔۔ جو باپ اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ اولاد کے لئے بہت کچھ کر کے بھی کچھ نہ کر سکنے کی ایک خلش، آخری وقت تک ایک باپ کو بے چین رکھتی ہے۔ اور یہ سب بہت شدت سے محسوس ہوتا ہے، جب ہم باپ بنتے ہیں۔ بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو باپ کے دل کا حال جیسے قدرت ہمارے دلوں میں منتقل کر دیتی ہے۔
اولاد اگر باپ کے دل میں اپنے لئے محبت کو کُھلی آنکھوں سے وقت پر دیکھ لے تو شاید اسے یقین ہو جائے کہ دنیا میں باپ سے زیادہ اولاد کا کوئی دوست نہیں ہے۔♥️

17/01/2025

🪔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ🌹وَّعَلٰی آلِهٖ🌹 وَصَحْبِهٖ🌹 وَبَارِكْ وَسَلِّم🌹🕯️
ہماری اس دنیا میں کچھ لوگ رستے میں رکھے شمع کی مانند ہوتے ہیں۔ جواپنا آپ جلا کر دوسروں کے لیے روشنی مہیا کرتے ہیں۔ قدر کیجیے ایسے انسانوں کی اس لیے کہ یہی وہ مخلص لوگ ہیں جن کے دم سے اندھیرے چَھٹتے ہیں اور اُجالے پھیلتے ہیں۔
یا رب ! ہم ہر خیر، برکت اور سلامتی کے لئے تیرا بےحساب شکر کرتے ہیں جو کہ تو نے ہماری زندگی میں نازل کی۔ اور مزید کے طلبگار ہیں، ہماری تمام غلطیاں گناہ معاف کر دے ہمیں اور ہمارے والدین ،اساتذہ، بہن بھائیوں اور تمام دوستوں پر اپنا کرم فرما اور اس دنیا سے رخصت ہونے والے تمام افراد کو بخش دے۔ ہمارے والدین پر اپنا خاص کرم فرما۔
🌹🌹تحریک منہاج القران چوپالہ گجرات*🌴🌴

12/01/2025

🤲🏼🌹اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ🌹وَّعَلٰی آلِهٖ🌹 وَصَحْبِهٖ🌹 وَبَارِكْ وَسَلِّم🌹
ضروریات ان کو کہتے ہیں جن کو پورا کیے بغیر جینا مشکل ہوتا ہے اور خواہشات وہ ہوتی ہیں جن کو پورا کرنے کے چکر میں جینا مشکل ہو جاتا ہے۔
اے اللہ قبر کے عذاب سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں، اور دجال کے فتنہ سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور زندگی کے اور موت کے فتنوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں. اور اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہوں سے اور قرض سے۔ یا اللّہ میں اپنے والدین اور عزیزواقارب کی مغفرت کا طلبگار ہوں ۔🌹
🌹تحریک منہاج القران چوپالہ گجرات*🌴🌴

26/12/2024
23/09/2024

🤲🏻🕋اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ🌹وَّعَلٰی آلِهٖ🌹 وَصَحْبِهٖ🌹 وَبَارِكْ وَسَلِّم🌹
عاجزی انسان کے اندر دوسروں کی بات سننے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے جب کہ تکبر میں بندہ ایک بات کہنے کے بعد دوسری سوچنا شروع کر دیتا ہے، نتیجتاً وه اپنی بات ہی کہتے چلا جاتا ہے اور معلوم ہی نہیں ہوتا کہ دوسرے کی بات کب اور کتنی دفعہ کاٹ چکا ہے
اللہ کریم اپنے محبوب کریمﷺ کا صدقہ ہمیں تکبر اور انا سے بچائے اور ہمیں ہر معاملے میں عاجزی اور وسیع القلبی عطا فرمائے
🌹🌹تحریک منہاج القران چوپالہ گجرات🌴🌴

Want your school to be the top-listed School/college in Gujrat?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

ڈاکخانہ خاص چوپالہ۔تحصیل و ضلع گجرات
Gujrat