03/04/2026
Annual Prize distribution Ceremony GIHS Chopala
Dare to Dream, Learn to Achieve”
03/04/2026
Annual Prize distribution Ceremony GIHS Chopala
03/04/2026
Annual Prize distribution Ceremony GIHS Chopala
19/09/2025
اسمبلی
25/08/2025
*استاد کی تھکن – وہ دکھ جو نصاب میں نہیں لکھا جاتا 🌿*
کبھی آپ نے کلاس روم میں بیٹھ کر غور کیا ہے؟
سامنے بیٹھا استاد بول رہا ہوتا ہے…
آواز میں علم بانٹنے کی لگن، چہرے پر سنجیدگی، اور آنکھوں میں ایک خاموش تھکن — ایسی تھکن جو کسی کتاب میں درج نہیں، کسی رپورٹ میں لکھی نہیں جاتی۔
یہ تھکن صرف صبح سویرے اُٹھنے یا مسلسل لیکچرز دینے کی نہیں…
یہ اُس وقت جنم لیتی ہے جب:
• استاد دن بھر بچوں کو پڑھائے، اور آخر میں کوئی شکایت اس کے حصے میں آ جائے۔
• وہ اپنے ذاتی دکھ پسِ پشت ڈال کر دوسروں کے بچوں کے خواب سنوارنے نکلے۔
• کوئی شاگرد کامیاب ہو تو سب تالیاں بجائیں، مگر استاد کا ذکر تک نہ ہو۔
کبھی کبھی وہ خود کسی کرب میں ہوتا ہے — گھر کی پریشانی، بچوں کی فیس، والدین کی دوا، یا دل کا بوجھ — لیکن وہ سب چھپا کر مدرسے آتا ہے، مسکراتا ہے، اور پڑھانا شروع کر دیتا ہے… جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
کیا یہ سب صرف تنخواہ کے لیے ہوتا ہے؟
نہیں… یقین جانیے! استاد کا جذبہ کاغذی نوٹ سے کہیں آگے ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ اس کی کلاس کا ہر بچہ کامیابی کی چوٹی چھوئے، وہ بنے جو شاید خود استاد نہ بن سکا۔
کبھی آپ نے کسی استاد کو خاموش بیٹھے دیکھا ہے؟
ممکن ہے وہ تھک چکا ہو…
ممکن ہے اس کی محنت کو نظر انداز کیا گیا ہو…
ممکن ہے وہ نیا علم دینا چاہتا ہو، مگر نظام نے اسے باندھ دیا ہو۔
یہ تھکن جسم میں نہیں، دل میں اُترتی ہے…
پھر بھی استاد ہار نہیں مانتا۔
وہ روز نئے حوصلے سے کلاس میں آتا ہے — اس امید پر کہ شاید آج کا دن کسی بچے کی زندگی بدل دے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کا مستقبل روشن ہو،
تو ہمیں پہلے اُن ہاتھوں کا خیال رکھنا ہوگا جو انہیں روشنی تک پہنچاتے ہیں۔
استاد کو صرف “کام کرنے والا” نہ سمجھیں — وہ بھی انسان ہے، جذبات رکھتا ہے، کمزوریاں رکھتا ہے، اور سب سے بڑھ کر… ایک دل رکھتا ہے، جو چاہتا ہے کہ کوئی اس کی بات سنے، اس کی تھکن محسوس کرے، اور کبھی کبھار بس ایک شاباش دے دے۔
کیونکہ…
اگر استاد کا جذبہ بجھ گیا، تو کسی اور کا چراغ بھی روشن نہیں رہ سکے گا۔
یہ تحریر کسی کتاب یا مضمون کی نہیں…
یہ اُن سب خاموش، تھکے ہوئے مگر روشنی بانٹنے والے اساتذہ کے لیے ہے،
جنہیں ہم نے شاید کبھی سنا نہیں… محسوس نہیں کیا…
مگر جنہوں نے ہمیں زندگی میں کھڑا ہونا سکھایا۔
23/08/2025
GIHS Chopala
24/03/2025
پیارے بچوں
ہم سب علم حاصل کرنے کے لیے اسکول آتے ہیں، لیکن یاد رکھو کہ علم سے بھی بڑھ کر "ادب" ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے اسکول کے باہر گلیوں میں مقدس اوراق بکھرے ہوئے ہیں، جن پر اللہ عزوجل اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاک نام درج ہیں۔
یہ کتنی بڑی بے ادبی اور گناہ کی بات ہے! اگر یہی عمل کسی دوسرے ملک میں ہوتا تو شاید ہم سب احتجاج کرتے اور ریلیاں نکالتے، لیکن کیا ہم اپنے گھر، اپنی گلی اور اپنے اسکول کا احترام نہیں کریں گے؟
ہمیں چاہیے کہ:
1. اپنے رجسٹر، کاپیوں اور کتابوں کا ادب کریں۔
2. کبھی بھی اوراق پھاڑ کر سڑکوں یا نالیوں میں نہ پھینکیں۔
3. مقدس اوراق کو محفوظ رکھیں اور اگر ضائع ہو جائیں تو انہیں مناسب طریقے سے تلف کریں۔
4. اپنے اسکول اور گلی کو صاف رکھیں کیونکہ یہ ہمارا گھر ہے، اور گھر کو صاف رکھنا ہم سب پر فرض ہے۔
آؤ! ہم سب مل کر عہد کریں کہ اپنے علم اور ادب کی عزت کریں گے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کریں گے۔
یاد رکھو! علم تمہیں اونچا کرے گا اور ادب تمہیں اس مقام پر قائم رکھے گا