Shahzad Educational TV

Shahzad Educational TV

Share

It is an educational page. It will help the students at matriculation level.

08/05/2024

عورتوں کے بارے میں وہ پانچ باتیں جو مردوں کو اکثر یاد ہوتی ہیں!!!

"إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ"
عورتوں کی چال بہت خطرناک ہوتی ہے؛

"مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ"
دو دو، تین تین، چار چار عورتوں سے نکاح کرو؛

نَاقِصَاتُ عَقلٍ وَ دِينٍ"
عورتیں عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ہوتی ہیں؛

“الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ"
مرد عورتوں پر سربراہ ہیں؛

"لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ"
(وراثت میں) مرد کے لیے دو عورتوں کے برابر حصہ ہے؛

عورتوں کے بارے میں وہ پانچ باتیں جو مردوں کو اکثر یاد نہیں رہتیں!!!

"وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ"
عورتوں کے ساتھ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارو؛

“اِستَوصُوا بِالنِسَاءِ خَيرًا"
عورتوں کے بارے میں میری وصیت کا خیال رکھنا؛

"رِفقًا بِالقَوَارِيرِ"
(عورتیں شیشے کی طرح ہیں) ان شیشوں کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ؛

"خَيرُكُم خَيرُكُم لِأَهلِهٰ وَأَنَا خَيرُكُم لِأهلِي"
تم میں بہترین وہ شخص ہے، جو اپنے اہل خانہ کیلئے بہترین ہو؛ اور میں تم میں اپنے گھر والوں کیلئے سب سے بہتر ہوں؛

"مَا أَكرَمَهُنَّ إِلَّا كَرِيم وَمَا أَهَانَهُنَّ إِلَّا لَئِيم"
عورتوں کی عزت وہی کرے گا، جو خود عزت دار ہوگا؛ اور ان کی اہانت اور بے عزتی وہی کرے گا، جو خود بے عزت ہوگا!"

Copied

30/04/2024

*میرا نام محمد بشیر ھے عمر 62 سال میں گوجرانوالہ گھنٹہ گھر کے پاس چاول کی ریڑھی لگایا کرتا تھا سن 1970 سے.*
*وقت گزرتا گیا. شادی ہوئی. ﷲ نے دو بیٹیاں عطا کیں. اپنی حثیت کے مطابق ان کی پرورش کی. دونوں بچیاں جوان تھیں۔ لیکن میرے حالات ایسے نہیں تھے کہ ان کی شادی کر سکتا ۔گھنٹہ گھر کے پاس ھی ایک مغل صاحب کی کپڑے کی دوکان تھی۔ سن 2008 کی بات ھے۔ وہ میرے پاس آئے اور کہا بشیر صاحب! مجھے اپنے دونوں بیٹوں کے لیے آپ کی بیٹیوں کا رشتہ چاہیئے۔ میرے لیے حیرت کی بات تھی مجھ غریب پر یہ کرم کیسے؟ خیر! گھر جا کر بیوی سے مشورہ کر کے ہم نے ہاں کر دی۔*

*سال گزر گیا۔ وہ شادی کا تقاضہ کرنے لگے اور میرے پاس 10,000 روپے بھی نہیں تھے کہ میں بچیوں کو رخصت کر سکتا۔ بیوی کہنے لگی۔ آپ ﷲ پر بھروسہ رکھیں۔ شادی کا دن طے کر دیں۔ ہم نے تاریخ طے کر دی۔ 25 نومبر 2009۔ شادی کو 7 دن رہ گئے تھے۔ میں پریشان، اب کیا ہوگا؟ شادی کیسے ہوگی؟ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں۔*
*مغرب کا وقت تھا۔ انہیں سوچوں میں غرق صحن میں بیٹھا تھا کہ دروازے پر کسی نے دستک دی۔ میں اٹھ کر باہر گیا۔ دروازہ کھولا۔ سامنے ایک باریش نوجوان کھڑا تھا، جسےآج سے پہلے میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔*
*میں نے پوچھا آپ کون۔؟*
*نوجوان بولا۔ کیا بشیر صاحب کا گھر یہی ھے جو چاول کی ریڑھی لگاتے ہیں؟*
*جی! میں ھی بشیر ہوں۔ میں نے جواب دیا۔ کیا ہم اندر بیٹھ کر تھوڑی دیر بات کر سکتے ہیں؟*
*میں اسے گھر کے صحن میں لے آیا۔*
*سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ بولا، میں کراچی سے آیا ہوں۔ دو دن سے آپ کو تلاش کر رہا ہوں۔ مجھے بتائیں، آپ ایسا کیا عمل کرتے ہیں کہ مجھے وہاں 'مدینہ' سے حکم ملتا ھے۔ گوجرانوالہ جاؤ۔ ہمارے غلام کی مدد کرو۔ اس کی بیٹیوں کی شادی ھے۔ یہ سن کر میری دھاڑ نکل گئی۔ میں دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔*
*عرض کی۔ بیٹا! میں تو بہت گنہگار ہوں۔ ہاں! پچھلے 45 سال سے بلا ناغہ سرکار ﷺ کی بارگاہ میں درود و سلام پڑھا کرتا ہوں اور تو کچھ نہیں۔*
*وہ نوجوان رونے لگا۔ بولا، جن پر آپ درود پڑھتے ہیں، انہوں نے ہی مجھے بھیجھا ھے۔ اس کے ہاتھ میں بریف کیس تھا۔ وہ مجھے دیا۔ مجھے گلے سے لگایا۔ بنا اپنا نام پتہ بتائے مجھے مل کر رخصت ہوگیا۔ میں نہیں جانتا، وہ کون تھا؟ کہاں سے آیا تھا؟بعد میں بریف کیس کھول کر دیکھا۔ اس میں تیس 30 لاکھ روپے تھے اور ایک خط کہ آپ بچیوں کی شادی کریں۔ یہ مدد وہاں سے ھے۔*

*میں نے بچیوں کی شادیاں بھی کیں۔ پھر حج بھی کیا۔ مدینہ حاضری بھی ہوئی اور آج میرا کاروبار بھی بہت اچھا ھے..*

*اللّٰه تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں سورۃ احزاب میں ارشاد فرمایا ھے:*

*﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلـٰئِكَتَهُ يُصَلّونَ عَلَى النَّبِىِّ ۚ يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا صَلّوا عَلَيهِ وَسَلِّموا تَسليمًا ﴿٥٦﴾*...
*(سورة الاحزاب)*

*''بے شک اللّٰه اور اس کے فرشتے نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی آپؐ پر درود و سلام بھیجو۔*''

*اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ*
*اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍكَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ...*.

*اللّٰه پاک ہم سب کو اپنے نبیﷺ پر کثرت سے درود بھیجنےوالا بنائے (آمین)*

*اسے مزید آگے شئیر کرتے جائیے ...*
*اس طرح کتنے ھی لوگ آپ کی وجہ سے نبی ﷺ پر درود بھیجیں گے...!
*copy

25/04/2024

*حضرت عزرائیل علیہ السلام شیطان کی روح کیسے قبض کریں گے؟

احنف بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لئے ایک مرتبہ مدینہ منورہ جانا ہوا ۔ ایک مجمع میں حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ کو تقریر کرتے ہوئے دیکھا تو میں بھی بیٹھ گیا وہ فرمارہے تھے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے وفات کے وقت اللہ تعالیٰ سے عرض کیا یا اللہ میری موت سے میرا ازلی دشمن ( ابلیس) بہت خوش ہوگا، اس کو تو قیامت تک زندہ رہنا ہے ، جواب ملا آدم تم انتقال کے بعد جنت میں چلے جاؤگے اور وہ ملعون قیامت تک دنیا ہی میں رہے گا ،آخر میں اس کو موت آئے گی تاکہ ساری دنیا کے لوگوں کے برابر موت کی تکلیف اٹھائے۔ آدم علیہ السلام نے ملک الموت سے فرمایا: ابلیس کی موت کا منظر مجھے بھی کچھ بتاؤ ۔ فرشتہ نے سنانا شروع کیا تو وہ اتنا دردناک تھا کہ آدم علیہ السلام سن نہ سکے۔

فرمایا بس کرو اب نہیں سنا جاتا، اتنا فرماکر حضرت کعب رضی اللہ عنہ خاموش ہوگئے ۔ لوگوں نے کہا حضرت کچھ ہمارے سامنے بھی اس کی موت کا منظر بیان فرمائیں ۔ پہلے تو انکار کیا مگر لوگوں کے بیحد اصرار پر فرمایا:
جب قیامت قریب آئے گی لوگ حسبِ عادت بازاروں میں مشغول ہوں گے۔ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوگا جس سے بہت سے لوگ بے ہوش ہوجائیں گے ۔اللہ تعالیٰ ملک الموت سے فرمائیں گے، میں نے سب سے زیادہ تمہارے مدد گار ومعاون بنائے اور تم کو ان سب کے برابر قوت دی ۔ میرے غصہ اور غضب کا لباس پہن کر جاؤ اور ابلیس ملعون کی روح قبض کرو اور اس کے ساتھ تمام انسانوں اور جنوں سے زیادہ سختی کرنا اور مالک ( داروغہ جہنم ) سے کہو کہ جہنم کے دروازے کھول دے۔

ملک الموت غیض وغضب میں بھرے بہت سے فرشتوں کے ساتھ دنیا میں اسی طرح آئیں گے کہ آسمان و زمین والے دیکھ لیں تو خوف کے مارے پگھل جائیں ۔ ابلیس کے پاس پہنچ کر بہت زور سے ڈانٹ پلائیں گے جس سے ابلیس بری طرح دھاڑیں مار مار کر چیخے گا ، اگر دنیا والے اس کی آواز سن لیں تو بے ہوش ہوجائیں۔

ملک الموت ابلیس سے کہیں گے خبیث تونے بہت طویل عمر پائی اور بے شمار انسانوں کو گمراہ کیا جو تیرے ساتھ جہنم میں جائیں گے ۔آج ان سب کے برابر تجھے موت کا مزہ چکھاؤں گا ۔ تیری مہلت اور ڈھیل کا وقت ختم ہوچکا اب تو موت سے بھاگ نہیں سکتا ۔

ابلیس گھبرا کر مشرق کی جانب بھاگے گا تو کبھی مغرب کی جانب لیکن ہر طرف اپنے سامنے ملک الموت کو پائے گا ، سمندر میں گھسنے کی کوشش کرے گا تو سمندر نکال پھیکے گا ۔آدم علیہ السلام کے قبر کے پاس کھڑا ہوکر کہے گا ۔اے آدم! تمہاری وجہ سے میں ملعون ومردود بنا، کاش کہ تم پیدا ہی نہ ہوتے ۔ پھر ملک الموت سے کہے گا کتنی سختی اور تکلیف کے ساتھ میری جان نکالو گے ؟ فرمائیں گے جتنے لوگ جہنم میں ہیں ان سب کی موت سے کہیں زیادہ تکلیف اور سختی کے ساتھ ۔ یہ سن کر تڑپنے لگے گا اور چیختا چلاتا اِدھر اُدھر بھاگے گا اور جہاں موت آنی ہے وہاں گر جائےگا وہ جگہ آگ کے انگارے کی طرح سرخ ہوگی اور وہاں جہنم کی کانٹوں والی کنڈیاں لگی ہوں گی ،ان کنڈیوں سے تڑپا تڑپا کر اس کی جان نکالی جائے گی ۔آدم علیہ السلام وحوا علیہ السلام سے کہا جائے گا ذرا اپنے دشمن کو دیکھو کس طرح ذلت کے ساتھ مر رہا ہے وہ دیکھ کر خوش ہوں گے اور کہیں گے “ربنا قد اتممت علینا النعمۃ“ یا اللہ تونے ہم پر اپنی نعمت مکمل فر مادی۔
تنبیہ الغافلین از ابو لیث ثمرقندی

Copied

20/04/2024

‏ایک سبق آموز واقعہ ۔۔۔

ایک شکاری نے کنڈی میں گوشت کی بوٹی لگا کر دریا میں پھینکی ۔ ایک مچھلی اسے کھانے دوڑی ۔ وہیں ایک بڑی مچھلی نے اسے روکا کہ اسے منہ نہ لگانا ، اس کے اندر ایک چھپا ہوا کانٹا ھے جو تجھے نظر نہیں آرہا۔ بوٹی کھاتے ہی وہ کانٹا تیرے حلق میں چبھ جائے گا ، جو ہزار کوششوں کے بعد بھی نہیں نکلے گا ۔ تیرے تڑپنے سے باہر بیٹھے شکاری کو اس باریک ڈوری سے خبر ہوجائےگی۔ تو تڑپے گی وہ خوش ہوگا، اس باریک ڈور کے زریعے تجھے باہر نکالے گا، چھری سے تیرے ٹکڑے کریگا، مرچ مسالحہ لگا کر آگ پر ابلتے تیل میں تجھے پکائے گا، 10 ، 10 انگلیوں والے انسان 32 ، 32 دانتوں سے چبا چبا کر تجھے کھائیں گے۔ یہ تیرا انجام ہوگا۔
بڑی مچھلی یہ کہہ کر چلی گئی۔ چھوٹی مچھلی نے دریا میں ریسرچ شروع کردی ، نہ شکاری ، نہ آگ ، نہ کھولتا تیل ، نہ مرچ مسالحہ ، نہ دس دس انگلیوں اور بتیس بتیس دانتوں والے انسان ، کچھ بھی نہیں تھا ۔ چھوٹی مچھلی کہنے لگی یہ بڑی مچھلی انپڑھ جاہل ، پتھر کے زمانے کی باتیں کرنیوالی ، کوئی حقیقت نہیں اسکی باتوں میں ۔ میں نے خود ریسرچ کی ھے ، اسکی بتائی ہوئی کسی بات میں بھی سچائی نہیں ، میرا ذاتی مشاہدہ ھے ، وہ ایسے ہی سنی سنائی نام نہاد غیب کی باتوں پر یقین کیئے بیٹھی ھے ، اس ماڈرن سائنسی دور میں بھی پرانے فرسودہ نظریات لیئے ہوئے ھے۔
چنانچہ اس نے اپنے ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر بوٹی کو منہ ڈالا ، کانٹا چبھا ، مچھلی تڑپی ، شکاری نے ڈور کھینچ کر باہر نکالا ، آگے بڑی مچھلی کے بتائے ہوئے سارے حالات سامنے آگئے۔
انبیاء علیھم السلام نے انسانوں کو موت کا کانٹا چبھنے کے بعد پیش آنے والے غیب کے سارے حالات و واقعات تفصیل سے بتا دیئے ہیں ۔ بڑی مچھلی کیطرح کے عقلمند انسانوں نے انبیاء کی باتوں کو مان کر زندگی گزارنی شروع کردی۔ چھوٹی مچھلی والے نظریات رکھنے والے انبیاء کا رستہ چھوڑ کر اپنی ظاہری ریسرچ کے رستہ پر چل رہے۔
موت کا کانٹا چبھنے کے بعد سارے حالات سامنے آجائیں گے۔
مچھلی پانی سے نکلی واپس نہ گئی
انسان دنیا سے گیا واپس نہ آیا
بس یہی وقت ہے اگر سمجھ گئے تو ............

Copied

06/03/2024

‏ابوجہل کے بیٹے کلمہ پڑھنے آ رہے ہیں میرے کریم رسول ﷺ نے سارے صحابہ کرامؓ کو بٹھایا اور فرمانے لگے مجھے خبر ملی ہے کہ عکرمہ کلمہ پڑھنے آ رہا ہے میری بات سنو، صحابہ کرامؓ کہنے لگے حضور ﷺ حکم کریں تو محبوب ﷺ نے فرمایا کوئی اس کے سامنے اس کے باپ کو گالی نہ دے کوئی اس کے باپ کو اس کے سامنے برا کہہ کر نہ پکارے ابوجہل جو پکا بےایمان کافر تھا جس کے بارے میں نبیﷺ نے فرمایا تھا میری امت کا فرعون ابوجہل ہے جس نے اسلام کو مٹانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا حضرت ابوبکر صدیقؓ فرماتے ہیں میں اس دن اتنا رویا کہ میری داڑھی انسوں سے بھر گئی نبی کریم ﷺ فرمانے لگے اس کے بیٹے کو تکلیف ہوگی کوئی اس کے باپ کا کفر نہ گنوائے کوئی اس کی زیادتیوں کا ذکر نہ کرے کوئی اس کے باپ کے بارے میں کوئی آیت نہ پڑھے کوئی میرا قول نہ دہرائے حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ فرماتے ہیں میں رونے لگا تو مجھ سے حضرت ابو دردہؓ کہنے لگے آپ کیوں رو رہے ہیں تو میں نے کہا میں رو رہا ہوں محبوب کی رحمت اللعالمینی پر کہ محبوب یہ کس کے استقبال کی تیاریاں کرا رہے ہو جس نے ساری زندگی تکلیف دی ۔
میرے نبیﷺ اتنے کریم تھے اورہم لوگوں کی کوئی نہ کوئی کوتاہی تلاش کرتے رہتے ہے ہمارا وطیرہ بن گیا ہے کسی کی ننانوے خوبیاں ہیں لوگوں کی وہ چھپ جاتی ہیں پر ایک خامی ساری دنیا دیکھ لیتی ہے یہ ہمارے اندر کی وہ کمزوری ہے جس نے ہمارے علماء مشائخ اور بزرگوں تک کو معاشرے کے اندر بدنام کر دیا ہے۔اللہ ہم سب کو نبیﷺ کے طریقے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین

31/01/2024

شراب_خانے_کا_مالک

بغداد کے مشہور شراب خانے کے دروازے پر دستک ہوئی,
شراب خانے کے مالک نے نشے میں دُھت ننگے پاؤں لڑکھڑاتے ہوئے دروازہ کھولا تو اُس کے سامنے سادہ لباس میں ایک پر وقار شخص کھڑا تھا مالک نے اُکتائے لہجہ میں کہا

" معذرت چاہتا ہوں سب ملازم جا چکے ہیں یہ شراب خانہ بند کرنے کا وقت ہے آپ کل آئیے گا "

اس سے پہلے کہ مالک واپس پلٹتا, اجنبی نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا
" مجھے بشر بن حارث سے ملنا ہے اُس کے نام بہت اہم پیغام ہے "

شراب خانے کے مالک نے چونک کر کہا
بولیے ! میرا نام ہی بشر بن حارث ہے.

اجنبی نے بڑی حیرت سے سر سے لے کر پاؤں تک سامنے لڑکھڑاتے ہوئے شخص کو دیکھا اور بولا
کیا آپ ہی بشر بن حارث ہیں ؟؟
مالک نے اُکتائے ہوئے لہجے میں کہا
کیوں کوئ شک ؟؟

اجنبی نے آگے بڑھ کر اُس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور بولا
سُنو بشر بن حارث !
خالقِ ارضِ وسما نے مجھے کہا ہے کہ
میرے دوست بشر بن حارث کو میرا سلام عرض کرنا اور کہنا جو عزت تم نے میرے نام کو دی تھی وہی عزت رہتی دنیا تک تمہارے نام کو ملے گی "

اتنا سُننا تھا کہ بشر بن حارث کی نگاہوں میں وہ منظر گھوم گیا جب اک دن حسبِ معمول وہ نشے میں دُھت چلا جا رہا تھا کہ اُس کی نظر گندگی کے ڈھیر پر پڑے اک کاغذ پر پڑی جس پر اسم " اللہ " لکھا تھا, بشر نے کاغذ کو بڑے احترام سے چوما صاف کر کے خوشبو لگائی اور پاک جگہ رکھ دیا اور کہا
" اے مالکِ عرش العظیم یہ جگہ تو بشر کا مقام ہے تمہارا نہیں "

بس یہی ادا بشر بن حارث کو " بشر حافی رحمت اللہ علیہ" بنا گئی۔ جس وقت آپ کو یہ پیغام ملا آپ اس وقت ننگے پاؤں تھے اور پھر آپ نے ساری زندگی ننگے پاؤں گزار دی آپ جن گلیوں سے گزرتےتھے ان گلیوں میں چوپائے بھی پیشاب نہیں کر تے تھے کہ آپ کے پاؤں گندے نہ ہو ں۔

وہی بشر حافی رحمت اللہ علیہ جس کے متعلق اپنے وقت کے امام احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے
" لوگوں
جس اللہ کو احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ مانتا ہے
بشر حافی رحمت اللہ علیہ اُسے پہچانتا ہے۔"

کوشش کریں کہ کہیں اخبار یا کاغذ کے کسی ٹکڑے پر اللہ پاک یا نبی پاک صلی اللہ علیہ و الہ و سلم یا مقدس ہستیوں کا نام نظر آئے تو اسے کسی پاک جگہ پر رکھ دیا کریں۔
_حوالہ کتب ( طبقات صُوفیہ, کشف المعجوب)

29/01/2024

بنی اسرائیل کا ایک قصاب اپنے پڑوسی کی کنیز پر عاشق ہوگیا۔ اتفاق سے ایک دن کنیز کو اس کے مالک نے دوسرے گاؤں کسی کام سے بھیجا۔ قصاب کو موقع مل گیا اور وہ بھی اس کنیز کے پیچھے ہولیا۔ جب وہ جنگل سے گزری تو اچانک قصاب نے سامنے آکر اسے پکڑ لیا اور اسے گناہ پر آمادہ کرنے لگا۔ جب اس کنیز نے دیکھا کہ اس قصاب کی نیت خراب ہے تو اس نے کہا:
''اے نوجوان تُو اس گناہ میں نہ پڑ حقیقت یہ ہے کہ جتنا تُو مجھ سے محبت کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ میں تیری محبت میں گرفتار ہوں لیکن مجھے اپنے مالک حقیقی عزوجل کا خوف اس گناہ کے اِرتکاب سے روک رہا ہے' اس نیک سیرت اور خوفِ خدا عزوجل رکھنے والی کنیز کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ تاثیر کا تیر بن کر اس قصاب کے دل میں پیوست ہوگئے اور اس نے کہا:
'' جب تُو اللّٰہ عزوجل سے اِس قدر ڈر رہی ہے تو مَیں اپنے پاک پروردگار عزوجل سے کیوں نہ ڈروں ؟ مَیں بھی تو اسی مالک عزوجل کا بندہ ہوں ، جا....تو بے خوف ہو کر چلی جا۔''
اتنا کہنے کے بعد اس قصاب نے اپنے گناہوں سے سچی توبہ کی اور واپس پلٹ گیا ۔
راستے میں اسے شدید پیاس محسوس ہوئی لیکن اس ویران جنگل میں کہیں پانی کا دور دور تک کوئی نام ونشان نہ تھا۔ قریب تھا کہ گرمی اور پیاس کی شدت سے اس کا دم نکل جائے۔ اتنے میں اسے اس زمانے کے نبی کا ایک قاصد ملا۔ جب اس نے قصاب کی یہ حالت دیکھی تو پوچھا:
''تجھے کیا پریشانی ہے؟
قصاب نے کہا:'' مجھے سخت پیاس لگی ہے
یہ سن کر قاصدنے کہا: ہم دونوں مل کر دعا کرتے ہیں کہ اللّٰہ عزوجل ہم پر اپنی رحمت کے بادل بھیجے اور ہمیں سیراب کرے یہاں تک کہ ہم اپنی بستی میں داخل ہوجائیں۔
'قصاب نے جب یہ سنا تو کہنے لگا:
''میرے پاس تو کوئی ایسا نیک عمل نہیں جس کا وسیلہ دے کر دعا کروں، آپ نیک شخص ہیں آپ ہی دعا فرمائیں ۔
اس قاصد نے کہا:
’ٹھیک ھے مَیں دعا کرتا ہوں، تم آمین کہنا
پھر قاصد نے دعا کرنا شروع کی اور وہ قصاب آمین کہتا رہا،تھوڑی ہی دیر میں بادل کے ایک ٹکڑے نے ان دونوں کو ڈھانپ لیا اور وہ بادل کا ٹکڑا ان پر سایہ فگن ہوکر ان کے ساتھ ساتھ چلتا رہا
جب وہ دونوں بستی میں پہنچے تو قصاب اپنے گھر کی جانب روانہ ہوا اور وہ قاصد اپنی منزل کی طرف جانے لگا۔
بادل بھی قصاب کے ساتھ ساتھ رہا جب اس قاصد نے یہ ماجرا دیکھا توقصاب کو بلایا اور کہنے لگا:
تم نے تو کہا تھا کہ میرے پاس کوئی نیکی نہیں اور تم نے دعا کرنے سے اِنکار کردیا تھا۔ پھر میں نے دعا کی اورتم آمین کہتے رہے ،لیکن اب حال یہ ہے کہ بادل تمہارے ساتھ ہو لیا ہے اور تمہارے سر پر سایہ فگن ہے، سچ سچ بتاؤ تم نے ایسی کون سی عظیم نیکی کی ہے جس کی وجہ سے تم پر یہ خاص کرم ہوا؟
یہ سن کر قصاب نے اپنا سارا واقعہ سنایا۔اس پر اس قاصد نے کہا:
'اللّٰہ عزوجل کی بارگاہ میں گناہوں سے توبہ کرنے والوں کا جو مقام و مرتبہ ہے وہ دوسرے لوگوں کا نہیں
بے شک گناہ سرزد ہونا انسان ہونے کی دلیل ہے مگر ان پر توبہ کر لینا مومن ہونے کی نشانی ہے-
(حکایتِ سعدی رحمتہ اللّہ علیہ)

17/01/2024

واہ کیا شان ہے ہمارے آقا صلی علیہ وسلم کی۔
ایک غریب دیہاتی، بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں، انگوروں سے بھری ایک رکابی کا تحفہ پیش کرنے کیلئے حاضر ہوا۔

کملی والے آقا نے رکابی لی، اور انگور کھانے شروع کیئے۔

پہلا دانہ تناول فرمایا اور مُسکرائے۔

اُس کے بعد دوسرا دانہ کھایا اور پھر مُسکرائے۔

اور وہ بیچارہ غریب دیہاتی،،،، آپ کو مسکراتا دیکھ دیکھ کر خوشی سے نہال۔۔۔

صحابہ سارے منتظر، خلاف عادت کام جو ہو رہا ہے کہ ہدیہ آیا ہے اور انہیں حصہ نہیں مل رہا۔۔۔

سرکار علیہ السلام، انگوروں کا ایک ایک دانہ کر کے کھا رہے ہیں اور مسکراتے جا رہے ہیں۔

میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔۔۔۔ آپ نے انگوروں سے بھری پوری رکابی ختم کر دی۔۔

اور آج صحابہ سارے متعجب!!!!

غریب دیہاتی کی تو عید ہو گئی تھی۔۔۔۔
خوشی سے دیوانہ۔۔۔ خالی رکابی لیئے واپس چلا گیا۔

صحابہ نہ رہ سکے۔۔۔۔ ایک نے پوچھ ہی لیا،
یا رسول اللہ؛ آج تو آپ نے ہمیں شامل ہی نہیں کیا؟

سرکار صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا؛
تم لوگوں نے دیکھی تھی اُس غریب کی خوشی؟

میں نے جب انگور چکھے ۔۔۔۔ تو پتہ چلا کہ کھٹے ہیں۔
مجھے لگا کہ اگر تمہارے ساتھ یہ تقسیم کرتا ہوں تو
ہو سکتا ہے تم میں سے کسی سے کچھ ایسی بات یا علامت ظاہر ہو جائے، جو اس غریب کی خوشی کو خراب کر کے رکھ دے۔

دوسروں کے کھانے یا تحاٸف میں نقص مت نکالا کرو اسکے چہرے کی خوشی دیکھ کر کڑوی چیز بھی زبان پہ رکھ لیا کرو یہ میرے اور آپکے کریم رسولﷺ کی پسندیدہ سنت ہے

اور بیشک آپ اخلاق کے بلند ترین درجہ پر ہیں
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم

09/01/2024

حضرت بلالؓ جناب عمرؓ سے ملنے آئے جب بلالؓ دروازے سے داخل ہوئے تو فاروق اعظمؓ نے کرسی چھوڑدی ہاتھ باندھ کے کونے میں کھڑے ہوگئے
کالا رنگ
نام لکھنا نہیں جانتے
قیصر و کسری کو خاطر میں نا لانے والا عمرؓ بلالؓ کے سامنے کھڑے ہوگئے
لوگ کہنےلگے عمر کون آ رہا ہے جس کے لیے آپکا یہ استقبال ہے حضرت بلالؓ آئے کہنےلگے امیرالمومنین کیا کر رہے ہو ؟
عمرؓ نے بازو پکڑا اوراپنی کرسی پر بٹھایا حضرت بلال کہنے لگے
حضور میں غلام ہو مجھے تو طریقے بھی نہیں آتے ان کرسیوں پر بیٹھنے کے میں غریب ماں کابیٹا غلام باپ کی اولاد ہوں
حضرت عمرؓ کہنے لگے بلالؓ تو غلام تھا لیکن جب سے تُو مصطفیﷺ کا غلام بنا ہے تُو ہمارا امام بن گیا ہے اب تُو امام ہے رسول اللہ کی امت کا
فرمایا مجھے وہ دن یاد ہے جب مکہ فتح ھوا تھا بت ٹوٹ گئے تھے بڑے بڑےسردار تھے اور میرے نبیﷺ نے فرمایا بلالؓ سے کہو کہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کے اذان دے لوگوں نے کہا حضورکسی اور کی ڈیوٹی۔ لگادیں تو آپﷺ نے فرمایا چپ کرو
بدرمیں مار کھا کے اذان پڑھے تو بلال
احد میں پتھر برسے اذان پڑھے تو بلال
تپتے صحراؤں میں پتھر کھا اذان پڑھے تو بلال کو بلاؤ
اور آج اگر اللہ نے عزت دی ہے تو میں لوگوں کودیکھ کے بلالؓ کو عزت نا دوں_؟
فرمایا کوئی اوپر نہیں چڑھے گا.ابو بکرؓ بھی نیچے
عمرؓ بھی نیچے
عثمان و علیؓ طلحہ اور زیبرؓ بھی نیچے
آج یہ حبشی غلام کعبہ کی چھت پر چھڑے گا اور میں دنیا کو بتاؤں گا کہ عزت اسی کےپاس ہوتی ہے جو رسول اللہﷺ کا غلام بنتا ہے۔
اللہ اکبر۔

05/01/2024

اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کردو

سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ ایک انصاری صحابی تھے۔ نہ مالدار تھے نہ کسی معروف خاندان سے تعلق تھا۔ صاحب منصب بھی نہ تھے۔ رشتہ داروں کی تعداد بھی زیادہ نہ تھی۔ رنگ بھی سانولا تھا۔ لیکن اللہ کے رسولﷺکی محبت سے سرشار تھے۔ بھوک کی حالت میں پھٹے پرانے کپڑے پہنے اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہوتے، علم سیکھتے اورصحبت سے فیض یاب ہوتے۔
ایک دن اللہ کے رسول نے شفقت کی نظر سے دیکھا اور ارشاد فرمایا:
’یَا جُلَیْبِیبُ! أَلَا تَتَزَوَّجُ؟‘
’’جُلیبیب تم شادی نہیں کرو گے؟‘‘
جُلیبیب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ جیسے آدمی سے بھلا کون شادی کرے گا؟
اللہ کے رسولﷺنے پھر فرمایا: ’’جُلیبیب تم شادی نہیں کرو گے؟‘‘ اوروہ جواباً عرض گزار ہوئے کہ اللہ کے رسول! بھلا مجھ سے شادی کون کرے گا؟ نہ مال نہ جاہ و جلال!!
اللہ کے رسولﷺنے تیسری مرتبہ بھی ارشاد فرمایا: ’’جُلیبیب تم شادی نہیں کرو گے؟ جواب میں انہوں نے پھر وہی کہا: اللہ کے رسول! مجھ سے شادی کون کرے گا؟ کوئی منصب نہیں میری شکل بھی اچھی نہیں نہ میرا خاندان بڑا ہے اورنہ مال و دولت رکھتا ہوں۔
اللہ کے رسولﷺنے ارشاد فرمایا:
’اِذْھَبْ إِلَی ذَاکَ الْبَیْتِ مِنَ الأَْنْصَارِ وَقُل لَّھُم: رَسُولُ اللّٰہِﷺ یُبْلِّغُکُمُ السَّلَامَ وَیَقُولُ: زوِّجُونِي ابْنَتَکُمْ۔‘
’’فلاں انصاری کے گھرجاؤ اوران سے کہو کہ اللہ کے رسول تمھیں سلام کہہ رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ اپنی بیٹی سے میری شادی کردو۔‘‘
جُلیبیب خوشی خوشی اس انصاری کے گھر گئے اور اور دروازے پر دستک دی گھر والوں نے پوچھا کون؟
کہا: جُلیبیب۔
گھرکا مالک باہر نکلا جُلییب کھڑے تھے
پوچھا: کیا چاہتے ہو، کدھر سے آئے ہو؟
کہا: اللہ کے رسول نے تمھیں سلام بھجوایا ہے۔
یہ سننے کی دیر تھی کہ گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اللہ کے رسول نے ہمیں سلام کا پیغام بھجوایا ہے۔ ارے! یہ تو بہت ہی خوش بختی کا مقام ہے کہ ہمیں اللہ کے رسول نے سلام کہلا بھیجا ہے۔
جُلیبیب کہنے لگے: آگے بھی سنو! اللہ کے رسولﷺنے تمہیں حکم دیا ہے کہ اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کردو۔
صاحب خانہ نے کہا: ذرا انتظار کرو، میں لڑکی کی ماں سے مشورہ کرلوں۔اندرجاکر لڑکی کی ماں کو پیغام پہنچایا اور مشورہ پوچھا؟ وہ کہنے لگی: نا 'نا، نا 'نا… قسم اللہ کی! میں اپنی بیٹی کی شادی ایسے شخص سے نہیں کروں گی، نہ خاندان، نہ شہرت، نہ مال و دولت، ان کی نیک سیرت بیٹی بھی گھر میں ہونے والی گفتگو سن رہی تھی اور جان گئی تھی کہ حکم کس کا ہے؟ کس نے مشورہ دیا ہے؟ سوچنے لگی اگر اللہ کے رسول اس رشتہ داری پرراضی ہیں تو اس میں یقینا میرے لیے بھلائی اور فائدہ ہے۔
اس نے والدین کی طرف دیکھا اور مخاطب ہوئی:
’أَتَرُدُّونَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِﷺ أَمْرَہٗ؟ ادْفَعُونِی إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ’ﷺ فَإِنَّہُ لَنْ یُضَیِّعَنِی‘۔
’’کیا آپ لوگ اللہ کے رسول کا حکم ٹالنے کی کوشش میں ہیں؟ مجھے اللہ کے رسول کے سپرد کردیں(وہ اپنی مرضی کے مطابق جہاں چاہیں میری شادی کردیں) کیونکہ وہ ہر گزمجھے ضائع نہیں ہونے دیں گے۔‘‘
پھر لڑکی نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تلاوت کی:
اور دیکھو! کسی مومن مرد وعورت کو اللہ اوراس کے رسول کے فیصلے کے بعد اپنے امور میں کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔‘‘(الأحزاب33: 36)
لڑکی کا والد اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کی: اللہ کے رسول! آپ کا حکم سر آنکھوں پر آپ کا مشورہ، آپ کے حکم قبول، میں شادی کے لیے راضی ہوں۔ جب رسول اکرم کو اس لڑکی کے پاکیزہ
جواب کی خبر ہوئی تو آپ نے اس کے حق میں یہ دعا فرمائی:
’اللَّھُمَّ صُبَّ الخَیْرَ عَلَیْھَا صُبًّا وَلَا تَجْعَلْ عَیْشَھَا کَدًّا۔‘
’’اے اللہ! اس بچی پر خیر اور بھلائی کے دروازے کھول دے اوراس کی زندگی کو مشقت و پریشانی سے دور رکھ۔‘‘(موارد الظمآن: 2269، و مسند أحمد: 425/4، ومجمع الزوائد: 370/9وغیرہ)
پھر جُلیبیب کے ساتھ اس کی شادی ہوگئی۔ مدینہ منورہ میں ایک اور گھرانہ آباد ہو گیا جس کی بنیاد تقویٰ اور پرہیز گاری پر تھی، جس کی چھت مسکنت اور محتاجی تھی، جس کی آرائش و زیبائش تکبیر و تہلیل اور تسبیح و تحمید تھی۔ اس مبارک جوڑے کی راحت نماز اور دل کا اطمینان تپتی دوپہروں کے نفلی روزوں میں تھا
رسول اکرم کی دعا کی برکت سے یہ شادی خانہ آبادی بڑی ہی برکت والی ثابت ہوئی۔ تھوڑے ہی عرصے میں ان کے مالی حالات اس قدر اچھے ہوگئے کہ راوی کا بیان ہے:
’فَکَانَتْ مِنْ أَکْثَرِ الأَْنْصَارِ نَفَقَۃً وَّمَالًا‘
’’انصاری گھرانوں کی عورتوں میں سب سے خرچیلا گھرانہ اسی لڑکی کا تھا۔‘‘
ایک جنگ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی۔ رسول اکرم نے اپنے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا: ’ھَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟‘
’’دیکھو! تمھارا کوئی ساتھی بچھڑ تو نہیں گیا؟‘‘
مطلب یہ تھا کہ کون کون شہید ہو گیا ہے؟
صحابہ نے عرض کیا: ہاں، فلاں فلاں حضرات موجود نہیں ہیں۔
پھر ارشاد ہوا:
’ھَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟‘
’’کیا تم کسی اور کو گم پاتے ہو؟‘‘
صحابہ نے عرض کیا: نہیں۔
آپ نے فرمایا:
’لٰکِنِّي أَفْقِدُ جُلَیْبِیبًا فَاطْلُبُوہُ‘
’’لیکن مجھے جُلیبیب نظر نہیں آرہا، اس کو تلاش کرو۔‘‘
چنانچہ ان کو میدان جنگ میں تلاش کیا گیا۔
وہ منظر بڑا عجیب تھا۔ میدان جنگ میں ان کے ارد گرد سات کافروں کی لاشیں تھیں گویا وہ ان ساتوں سے لڑتے رہے اور پھر ساتوں کو جہنم رسید کرکے شہید ہوئے اللہ کے رسول کو خبر دی گئی۔ رؤف و رحیم پیغمبر
تشریف لائے۔ اپنے پیارے ساتھی کی لاش کے پاس کھڑے ہوئے۔ منظر کو دیکھا۔ پھر فرمایا
’قَتَلَ سَبْعَۃً ثُمَّ قَتَلُوہُ، ھَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْہُ، ھَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْہُ۔‘
’’اس نے سات کافروں کو قتل کیا، پھر دشمنوں نے اسے قتل کردیا۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ۔‘‘
’فَوَضَعَہُ عَلَی سَاعِدَیْہِ لَیْسَ لَہُ إِلَّا سَاعِدَا النَّبِيَّ ﷺ‘۔
’’پھر آپ نے اپنے پیارے ساتھی کو اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور شان یہ تھی کہ اکیلے ہی اس کو اٹھایا ہوا تھا۔ صرف آپ کو دونوں بازوؤں کا سہارا میسر تھا۔‘‘
جُلیبیب رضی اللہ عنہ کے لیے قبر کھودی گئی، پھر نبیﷺنے اپنے دست مبارک سے انھیں قبر میں رکھا۔

صل اللہ علیہ والہ وسلم
صحیح مسلم: 2472 ، صور من حیاۃ الصحابۃ

04/01/2024

حضرت حبیب بن زید کا تڑپا دینے والا واقعہ جسے پڑھ کر آنکھوں میں آنسوں جاری ہوگئے آپ بھی ایک دفعہ لازمی پڑھیں ۔۔

مسیلمہ کزاب نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا:- " میرے ساتھ ایک معاہدہ کر لیں ، جب تک آپ حیات ظاہری میں ہیں ، آپ نبی ہیں جب اپکا وصال ہوجاٸے تو میں نبی یا یہ معاہدہ کر لیں کہ آدھے عرب کے آپ نبی آدھے عرب کا میں نبی" - - - معاذاللہ اسکے خط پر نبی ﷺ نے جواب میں لکھا :- "میں تو اللہ کا رسول ہوں جب کہ تو کذاب ہے - - جھوٹا ہے"- جب نبی پاک نے خط میں کذاب لکھا تو فرمانے لگے : کون لے کے جاٸے گا یہ خط اس کزاب کے دربار میں۔ اب اسکے دربار میں جانا ہے حالات بڑے خطرناک ہیں اس کے آگے بھی بندے اور پیچھے بھی بندے ہیں جان کا خطرہ بھی ہے - -
ایک صحابی تھے چابڑی فروش، سر پر ٹوکرا رکھ کے مدینے کی گلیوں میں کجھوریں بیچتے تھے - گیارہ بارہ بچوں کے باپ تھے جسمانی طور پر بھی کمزور تھے، کجھور کھا رہے تھے فٹافٹ اٹھے ہاتھ کھڑا کر کے کہا حضور کسی اور کی ڈیوٹی نا لگائیے گا میں جاونگا جب یہ الفاظ جلد بازی میں کہے تو ان کے منہ سے کجھور کے ٹکڑے مجلس میں بیٹھے صحابہ کے چہروں پر گرے ، ایک صحابی کہنے لگے:- " اللہ کے بندے پہلے کھجور تو کھا لے بڑی جلدی ہے تجھے بولنے کی مسکرا کے کہنے لگے :"اگر کھاتے کھاتے ڈیوٹی کسی اور کی لگ گٸی تو کیا کرونگا مجھے جلدی ہے" ۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ اکبر) حضورﷺ نے اپنا نیزہ دیا, گھوڑا دیا ,اور فرمایا:-
" ذرا ڈٹ کے جانا اس کذاب کے گھر" - - وہ صحابی عقیدت سے نظریں جھکا کرکہنے لگے:- " محبوب خدا آپ فکر ہی نا کریں صحابہ کہتے ہے وہ اس طرح نکلا جیسے کوٸی جرنیل نکلتا ہے,اسکا انداز ہی بدل گیا اس کے طور طریقے بدل گٸے وہ یوں نکلے جیسے کوٸی بڑا دلیر آدمی جاتا ہے - - وہ صحابی مسیلمہ کذاب کے دربار میں گٸے، وہاں ایک شحض جو بعد میں مسلمان ہوا وہ بتلاتا ہے:- وہ صحابی جن کا نام" حضرت حبیب بن زید " تھا جب وہاں دربار میں پہنچے تو اپنا نیزہ زور سے دربار میں گاڑ دیا مسلمہ ٹھٹک کے کہتا ہے:- " کون ہو "؟ - - - آپ نے غراتے ہوئے فرمانے لگے تجھے چہرہ دیکھ کے پتہ نہیں چلا کہ میں رسول اللہﷺ کا نوکر ہو، ہمارے تو چہرے بتاتے ہے کہ نبیﷺ والے ہے تجھے پتہ نہیں چلا میں کون ہوں مسلمہ کہنے لگا: کیسے آٸے ہو" ؟ - - - بے نیازی سے فرمایا :- " یہ تیرے خط کا جواب لے کے آیا ہوں" ۔ بادشاہوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ خط خود نہیں پڑھتے تھے، ساتھ ایک بندہ کھڑا ہوتا تھا وہ خط پڑھتا تھا تو مسیلمہ نے خط اس کو دیا کہ - -
" پڑھو جب اس نے خط پڑھا تو اسمیں یہ بھی لکھا تھا تو کذاب ہے" یہ جملہ وہاں موجود سب نے سن لیا اکیلے میں ہوتا تو بات اور تھی۔ وہ آگ بگولہ ہوگیا انکھیں سرخ ہوگٸیں سامنے حضرت حبیبؓ بن زید تنے کھڑے تھے، غصے سے تلوار لے کے اٹھا اور کہنے لگا:- " تیرے نبی نےمجھے" کذاب " کہا ہے تیرا کیا خیال ہے" حبیب بن زید مسکرا کے فرمانے لگے: خیال والی بات ہی کوٸی نہیں، جسے میرا نبی کذاب کہے وہ ہوتا ہی کذاب ہے - - - تو سات سمندروں کا پانی بھی بہا دے تو بھی تیرا جھوٹ نہیں دھل سکتا" - - - مسلمہ غصے کی شدت سے کانپتے ہوئے کہنے لگا :-
" تو پیچھے پلٹ کے دیکھ سارے میرے سپاہی میرے پہرےدار، تلواریں , نیزے , خنجر , تیر سب تیرے پیچھے کھڑے میرے ماننے والے ہیں" حضرت حبیب بن زید رض فرمانے لگے:- " میرے بارہ بچے ہیں ان میں سے کچھ ایسے ہے جو دودھ پیتے ہیں کچھ ایسے ہیں جنہوں نے ابھی چلنا نہیں سیکھا۔ میں جب رسول اللہﷺ کا پیغام لے کے نکلا تھا تو میں نے پلٹ کے بچے نہیں دیکھے تو تیرے پہرہ دار کیسے دیکھ لوں ,جو جی میں آتا ہے کر غلام محمدﷺ جان دینے سے نہیں ڈرتے " - - مسیلمہ نے زور سے تلوار ماری بازو کٹ کے گر گیا کہنے لگا :- " اب بول اب تیرا کیا خیال ہے"؟؟؟ آپ فرمانے لگے تو بڑا بیوقوف ہے ہمیں آزماتا ہے، ہمیں بدر سے لے کر احد تک سب آزما چکے ہیں ، تو ابھی بھی خیال پوچھتا ہے، میرا خیال وہی ہے جو میرے نبی نے فرمایا" مسلمہ نےپھر تلوار ماری دوسرا ہاتھ کٹ گیاکہنے لگا:- " میں تجھے قتل کر دونگا باز آجا آپ فرمانے لگے:- " تو بڑا نادان ہے ان کو ڈراتا ہےجو فجر کی نماز پڑھ کے پہلی دعا ہی شہادت کی مانگتے ہیں ، جو کرنا ہے کر لے" - - مسلمہ کزاب نے تلوار گردن پر رکھی کہنے لگا:- " میں تیری گردن کاٹ دونگا " - - حبیب بن زید فرمانے لگے:- " کاٹتا کیوں نہیں" - - روایت کرنے والا فرماتا ہے مسیلمہ کے ہاتھ کانپے تھے - تلوار چلاٸی گردن کٹ گٸی ، ادھر مدینے میں حضورﷺ کی انکھوں میں آنسو آٸے ، صحابہ کرام رض نے پوچھا :- " یا رسول اللہ کیا ہوا " - - - فرمایا :- "میرا حبیب شہید ہو گیا ہے - اور رب کریم نے اس کے لٸے جنت کے سارے دروازے کھول دٸے ہیں" (أسد الغابہ ابن الاثیر)
سبحان اللّہ کیا جرات اور ہمت تھی میرے جان سے پیارے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے اصحاب علیہم الرضوان کی۔ ❣️ اللہ پاک ہمیں ظلم اور جھوٹ کے خلاف کھڑا ہونے کی ایسی ہی طاقت عطا فرمائیں ، آمین

04/01/2024

بچے کو ٹیوشن پر چھوڑ کر واپس گھر جا رہے تھے تو بیگم نے ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور پر رکنے کو کہا۔۔ میرے دل کی دھڑکنوں کے ساتھ ساتھ جیب کی غربت بھی ہچکولے لینے لگی۔۔ وجہ پوچھنے پر بیگم نے بتایا کہ آلو خریدنے ہیں۔۔۔
میں نے شکوک و شبہات کے بیچوں بیچ بائیک پارکنگ میں کھڑی کی اور بیگم کو لے کر سٹور میں داخل ہو گیا۔۔۔
بیگم سیدھی کاسمیٹک اور جیولری والی سائیڈ کی طرف لپکی۔۔ کافی دیر تک جیولری اور دوسری اشیاء دیکھتی رہی۔۔۔ وہاں سے کراکری والے پورشن میں چل دی۔۔۔ میں بھی پیچھے ہو لیا۔۔۔ کچھ دیر شیشے اور پلاسٹک کی کراکری اٹھا اٹھا کر دیکھتی رہی۔۔۔
بیگم کی حسرت بھری نگاہوں اور والہانہ انداز سے مجھے لگا کہ آج لمبا خرچہ ہونے والا ہے۔۔۔میں نے دل ہی دل میں پارکنگ میں کھڑی اپنی پرانی بائیک کی قیمت لگائی تو بیس بائیس ہزار سے زیادہ ملتے نظر نہ آئے۔۔۔ رکشے کا کرایہ جیب میں رکھ کر بھی خریداری کرنے پر وہ سب کچھ نہیں ملنے والا تھا جو بیگم دیکھ رہی تھی۔۔۔
میرے اندر درد کی ایک لہر ابھری اور سوچ آئی کہ لوئر مڈل کلاس کی خواتین کتنی حسرتیں دل میں دبا کر زندگی جھیلتی ہیں۔۔ لیکن غریب اور مجبور خاوند تو صرف دعائیں ہی کر سکتا ہے، چنانچہ میں نے اب دعاؤں پر زور دیا۔۔ اور بیگم کے دل کے نرم ہونے کی دعائیں کرنے لگا۔۔ شاید قبولیت کی گھڑی تھی، بیگم وہاں سے واپس پلٹی اور سبزی والے علاقے کی طرف چل دی، جاتے جاتے ہینڈ بیگز، پرفیومز اور دیگر چیزوں کے قریب رک رک کر دیکھتی رہی۔۔۔
میں بدستور پیچھے پیچھے ہی پھرتا رہا ۔۔۔ آخر کار اس نے ایک کلو آلو خرید ہی لئے تو میں نے سکون کا سانس لیا۔۔۔ میں نے کاؤنٹر پر پیسے ادا کئے اور ہم باہر آ گئے ۔۔۔
بائیک پر بیٹھتے ہوئے میں نے پوچھا۔۔۔ "بیگم، لینے تو تم نے صرف ایک کلو آلو تھے، اور دیکھ پورا سٹور آئی ہو"...
اگرچہ میرا سوال کئی قسم کے خطرات کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔۔لیکن بیگم نے کمال سادگی سے جواب دیا ۔۔۔۔ کہنے لگی "راشد علی، بات یہ ہے کہ جب قسمت میں آلو لکھے ہوں تو بندہ لگژری آئٹمز دیکھ کر ہی خوش ہو لیتا ہے"۔۔۔
بات تو بیگم کی سچ ہی تھی لیکن میں بھی کیا کر سکتا تھا، چنانچہ خود کو آلو آلو سا سمجھتے ہوئے بائیک کو کک لگائی اور گھر کو چل دیئے۔۔۔
راستے میں ایک بڑا شادی ہال پڑتا ہے۔۔وہاں پہنچے تو سڑک پر کافی رش تھا، شاید ابھی ابھی بارات پہنچی تھی اور گاڑیوں میں سے گویا سجی سنوری پریاں نکل نکل کر شادی ہال کے اندر جا رہی تھیں۔۔۔
میں نے بائیک ایک طرف روک دی۔۔اور اللہ کی بنائی ہوئی حسین جمیل مخلوق کو انہماک سے دیکھنے لگا۔۔۔
بیگم نے کچھ دیر تو صبر کیا، پھر بولی ۔۔ "اب چلیں گے بھی یا دلہن کو وداع کر کے ہی جانے کا ارادہ ہے"...
میں نے جواب دیا۔۔۔"بیگم، اصل میں تمہاری بات یاد آ گئی تھی۔۔۔تم نے بالکل ٹھیک کہا تھا"۔۔۔
کہنے لگی۔۔۔ "کون سی بات یاد آ گئی اب"..؟
میں نے جواب دیا۔۔۔"وہی، جو تم نے کہا کہ جب قسمت میں آلو لکھے ہوں تو بندہ لگژری آئٹمز دیکھ کر ہی خوش ہو لیتا ہے"۔۔۔
میری بات سنتے ہی بیگم کا ضبط جواب دے گیا اور گھر پہنچنے تک آلو کی بھجیا تقریباً تیار ہو چکی تھی۔۔۔
copied

Want your school to be the top-listed School/college in Gujrat?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Gujrat
50700