امیر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بڑا اضافہ %07
اور غریب پارلیمنٹرین کی تنخواہوں میں 600 % اضافہ
Govt Boys School Dabb
گورنمنٹ پرائمری سکول ڈب
ہر سرکاری ملازم لازمی پوسٹ کو شیئر کرے
1. چاروں ایڈہاک ضم کرکے سکیل روائز کیےجائیں
2. تنخواہوں میں بلاتفریق 100 فیصد اضافہ
28/05/2026
28 مئی 1998, جب پاکستان ناقابلِ تسخیر بنا۔۔ یوم تکبیر۔۔🇵🇰
یومِ تکبیر (28 مئی) پاکستان کی دفاعی طاقت اور خودمختاری کی علامت ہے، جب قوم نے اتحاد کے ساتھ ایٹمی قوت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ دن ہمیں قومی سلامتی، یکجہتی اور قربانی کے جذبے کی یاد دلاتا ہے۔
پاکستان زندہ باد 🇵🇰
ڈاکٹر عبد القدیر خان زندہ باد 🇵🇰
25/05/2026
نصیب پر ہیں وہ آج نازاں جنہیں شرف حج کا مل رہا ہے۔🤍🥀
20/05/2026
"تعلیم اور صحت کوئی کاروبار نہیں جس سے نفع ملے "
آج پیف کے سکول مالک نے بل بجلی کے ڈر معصوم بچیوں کے پنکھے بند کئے ہیں ۔یقین کریں اگر کل کو سرکاری سکول نہ رہے تو یہ لوگ معصوم بچوں کی سانسیں بند کر دیں گے ۔حکومت پنجاب کو چاہیے کسی تھرڈ پارٹی پر اندھا اعتماد کرنے کی بجائے تعلیم و صحت کے شعبوں کو اپنے پاس رکھے۔
18/05/2026
ایسا کیوں؟
16/05/2026
بیٹے کو پڑھانا فرد کو شعور دینا ہے اور بیٹی کو پڑھانا نسلوں میں شعور دینا ہے ..
14/05/2026
داخلہ مہم 2026 کے تحت پنجاب کے سرکاری اسکول بچوں کو معیاری تعلیم، بہتر ماحول اور خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ آج ہی اپنے بچے کو قریبی سرکاری اسکول میں داخل کروائیں اور اس کے روشن مستقبل کو محفوظ بنائیں۔
14/05/2026
*چمکتا بورڈ… بجھتے خواب!*
شہر کی ہر دوسری گلی میں آج ایک نیا پرائیویٹ سکول کھل جاتا ہے۔
رنگ برنگا بورڈ، انگریزی نام، گیٹ پر سکیورٹی گارڈ، دیواروں پر "اسمارٹ کلاسز"، "انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ"، "آکسفورڈ سسٹم" کے نعرے۔ اشتہار دیکھو تو لگے جیسے بچہ داخل ہوتے ہی ڈاکٹر، انجینئر بن جائے گا۔
سیدھے سادے والدین اپنے بچوں کے خواب آنکھوں میں سجائے اس چمک پر یقین کر لیتے ہیں۔
کوئی باپ اوور ٹائم لگاتا ہے، کوئی مزدور اپنی روٹی کم کر دیتا ہے—بس اس امید پر کہ بچہ "اچھے سکول" میں پڑھے گا۔
لیکن کیا یہ سکول اتنے ہی اچھے ہیں جتنے ان کے بورڈ چمکتے ہیں؟
ماہانہ فیس الگ، سالانہ فنڈ الگ، ایڈمیشن فیس الگ۔ یونیفارم، کتابیں، ٹرانسپورٹ سب انہی کی دکان سے۔ ہر مہینے کوئی نہ کوئی نیا چارج۔
اور شام ہوتے ہی وہی بچہ ٹیوشن جاتا ہے۔ یعنی ہزاروں روپے لینے کے بعد بھی تعلیم ادھوری رہتی ہے۔
کئی جگہ کلاس روم تنگ، بچے زیادہ، استاد کم تجربہ کار۔ زور صرف انگریزی بولنے کے ڈرامے پر ہے۔ بچہ "گڈ مارننگ" تو سیکھ لیتا ہے، مگر اخلاق، سوچ اور کردار پیچھے رہ جاتے ہیں۔
کالج بھی اب تعلیم کم، کاروبار زیادہ لگتے ہیں۔ لاکھوں کی فیس، ایئرکنڈیشنڈ بلڈنگز، شاندار یونیفارمز… مگر ڈگری کے بعد بھی نوجوان بے روزگار۔
عمارتیں بڑی ہو گئیں، تعلیم چھوٹی رہ گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ اب تعلیم نہیں، "تعلیمی برانڈ" بکتا ہے۔ والدین چمکتا بورڈ اور انگریزی نام دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ یہی کامیابی ہے۔
حالانکہ اچھی تعلیم کا تعلق عمارت سے نہیں، استاد اور سوچ پیدا کرنے سے ہوتا ہے۔
وقت ہے کہ ہم صرف بورڈ نہ دیکھیں، یہ پوچھیں: *میرا بچہ واقعی سیکھ کیا رہا ہے؟*
کیونکہ جب تعلیم کاروبار بن جائے تو سب سے زیادہ نقصان قوم کے مستقبل کا ہوتا ہے۔
آپ کے خیال میں آج زیادہ ضروری کیا ہے—تعلیم، یا تعلیم کے نام پر چلنے والا بزنس؟۔ سرکاری سکول معیاری سکول ۔۔۔۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Gujrat