Govt Boys School Dabb

Govt Boys School Dabb گورنمنٹ پرائمری سکول ڈب

06/08/2026

Goodbye, Dabb School! ❤️

I spent 9 wonderful years here, and this school will always have a special place in my heart. Thank you to all my colleagues, friends, and everyone who made these years full of learning, memories, and happiness. I will always cherish the time I spent here.

Goodbye, Dabb School. You will always be remembered!

ضلع گجرات کے سب سے خوبصورت ترین پرائمری سکول،گورنمنٹ پرائمری سکول ڈب کو صرف ٹیچرز کی کمی کی وجہ سے پرائیویٹ کر دیا گیا😭ی...
04/08/2026

ضلع گجرات کے سب سے خوبصورت ترین پرائمری سکول،گورنمنٹ پرائمری سکول ڈب کو صرف ٹیچرز کی کمی کی وجہ سے پرائیویٹ کر دیا گیا😭

یہ صرف ایک سکول کی کہانی نہیں، یہ محنت کرنے والے اساتذہ کے دل کا درد ہے!

مرکز ٹانڈہ ون میل نوجوان اور باصلاحیت قائدانہ صلاحیتوں کے مالک اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر جبران خلیل صاحب کی زیرِ قیادت نہ صرف بہترین تعلیمی خدمات کے حوالے سے ضلع بھر میں صفِ اول میں موجود ہے بلکہ اس مرکز کے سکول اپنی خوبصورتی، صفائی اور تعلیمی ماحول کے حوالے سے بھی اپنی مثال آپ ہیں۔

ہیڈ ٹیچر کاشف زرکی صاحب کی زیرِ قیادت راجہ محمد سلیمان صاحب ، احمد سبحانی صاحب,وقار عنایت صاحب ،ارشد صاحب اورشاہ نواز صاحب کی انتھک محنت اور بہترین کاوشوں کے نتیجے میں نہ صرف سکول کی تعلیمی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی بلکہ اس کی ظاہری شکل و صورت بھی بدل گئی۔ کمیونٹی کے تعاون سے ایک نیا کمرہ تعمیر ہوا، طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا، کیاریاں بنیں، پھول اور پودے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے سکول ایک خوبصورت اور دلکش تعلیمی مرکز کا منظر پیش کرنے لگا۔

پھر وقت نے کروٹ لی۔

کاشف زرکی صاحب کی پروموشن ہوئی،وقار عنایت صاحب کی پرموشن اور محمد ارشد صاحب کا تبادلہ ہو گیا۔

گزشتہ ایک سال سے صرف دو اساتذہ 180 طلبہ کو تعلیم دے رہے تھے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ان کا قصور کیا تھا؟

کیا ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے دن رات محنت کی؟
کیا ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے اپنے سکول کو اپنے خون پسینے سے سینچا؟
کیا ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے سکول کی خوبصورتی میں اضافہ کیا؟
کیا ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے طلبہ کی تعداد بڑھائی اور تعلیمی معیار بہتر کیا؟
کیا ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے "ایک اور دو گیارہ" کا عملی مظاہرہ پیش کر دیا؟

جب ہم اس سکول کی پوری کہانی، اساتذہ کی محنت اور ان کی جدوجہد کو سامنے رکھتے ہیں تو دل واقعی خون کے آنسو روتا ہے۔

مگر ہمارے حوصلے بلند ہیں۔

ہماری منزل واضح ہے: اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دینا۔

جہاں اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوگی، وہاں جائیں گے۔
جس میدان میں موقع ملے گا، وہاں اپنی پوری قوت سے کام کریں گے۔
اور جہاں بھی جائیں گے، وہی جذبہ، وہی ولولہ، وہی ہمت اور وہی اخلاص ساتھ لے کر جائیں گے۔

ہم اپنے عمل سے یہ ثابت کرتے رہیں گے کہ اگر استاد کو اعتماد، وسائل اور مناسب ماحول دیا جائے تو وہ صرف سکول نہیں بناتا،
وہ نسلیں بناتا ہے۔

یہ ہماری کہانی ہے۔
یہ ہماری محنت ہے۔
یہ ہمارے اساتذہ کا جذبہ ہے۔
اور یہ ہمارے بچوں کے روشن مستقبل کا عزم ہے۔

ہم رکیں گے نہیں۔
ہم جھکیں گے نہیں۔
ہم تھکیں گے نہیں۔

کیونکہ ہم استاد ہیں۔۔۔
اور ہم قوم کے معمار ہیں!

04/08/2026

ضلع گجرات کے سب سے خوبصورت ترین پرائمری سکول،گورنمنٹ پرائمری سکول ڈب کو صرف ٹیچرز کی کمی کی وجہ سے پرائیویٹ کر دیا گیا😭

04/08/2026

گورنمنٹ پرائمری سکول ڈب کو پرائیوِٹائز کر دیا گیا😭

02/07/2026

کاہنہ کی ٹیوشن ٹیچر حمیدہ بی بی پہلی سے پانچویں جماعت تک کے غریب بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھیں۔ والدین کے مطابق وہ زیادہ تر بچوں سے صرف 300 سے 400 روپے ماہانہ فیس لیتی تھیں، جبکہ ایک ہی گھر کے دو بچوں سے مجموعی طور پر 500 روپے وصول کیے جاتے تھے۔ کئی ایسے بچے بھی تھے جنہیں وہ بغیر کسی فیس کے پڑھاتی تھیں۔
اس علاقے کے بیشتر والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکول میں داخل کرانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ان کے لیے شام کے یہ چند گھنٹے تعلیم کی واحد امید تھے، جبکہ حمیدہ بی بی کے لیے یہی ٹیوشن گھر کا خرچ چلانے کا سہارا تھی۔ مہینے بھر کی محنت کے بدلے بمشکل 9 سے 10 ہزار روپے ملتے تھے، جو آج کے مہنگائی کے دور میں شاید ایک ہفتے کا راشن بھی پورا نہ کر سکیں۔
ان کے شوہر محلے میں پھل کی ریڑھی لگاتے ہیں تاکہ گھر کا چولہا جل سکے۔ یہ ایک محنت کش خاندان تھا جو محدود وسائل کے باوجود باعزت طریقے سے زندگی گزارنے کی کوشش کر رہا تھا۔
حادثے کے وقت چھت گرنے سے حمیدہ بی بی خود بھی ملبے تلے دب گئیں۔ ان کی بیٹی شدید زخمی ہوئی اور بعد ازاں انتقال کر گئی۔ ان کے دیور کی چار سالہ بیٹی ثانیہ بھی اس سانحے میں جان کی بازی ہار گئی۔ حمیدہ بی بی ٹوٹی ہوئی ٹانگ اور بازو کے ساتھ ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جبکہ ان کے شوہر اور دیور پولیس کی حراست میں ہیں۔
اس سانحے کی قانونی ذمہ داری کا تعین قانون کرے گا، مگر ایک سوال ہم سب کے لیے بھی ہے۔ جب ایسے والدین چند سو روپے ماہانہ سے زیادہ ادا نہیں کر سکتے، تو کیا ریاست نے ان کے بچوں کی محفوظ اور معیاری تعلیم کے لیے کوئی قابلِ عمل متبادل فراہم کیا ہے؟
یا پھر سکولز کو آوٹ سورس کرنے ہیں

12/06/2026

امیر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بڑا اضافہ %07
اور غریب پارلیمنٹرین کی تنخواہوں میں 600 % اضافہ

30/05/2026

ہر سرکاری ملازم لازمی پوسٹ کو شیئر کرے
1. چاروں ایڈہاک ضم کرکے سکیل روائز کیےجائیں
2. تنخواہوں میں بلاتفریق 100 فیصد اضافہ

28 مئی 1998, جب پاکستان ناقابلِ تسخیر بنا۔۔ یوم تکبیر۔۔🇵🇰یومِ تکبیر (28 مئی) پاکستان کی دفاعی طاقت اور خودمختاری کی علام...
28/05/2026

28 مئی 1998, جب پاکستان ناقابلِ تسخیر بنا۔۔ یوم تکبیر۔۔🇵🇰
یومِ تکبیر (28 مئی) پاکستان کی دفاعی طاقت اور خودمختاری کی علامت ہے، جب قوم نے اتحاد کے ساتھ ایٹمی قوت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ دن ہمیں قومی سلامتی، یکجہتی اور قربانی کے جذبے کی یاد دلاتا ہے۔

پاکستان زندہ باد 🇵🇰
ڈاکٹر عبد القدیر خان زندہ باد 🇵🇰

نصیب پر ہیں وہ آج نازاں جنہیں شرف حج کا مل رہا ہے۔🤍🥀
25/05/2026

نصیب پر ہیں وہ آج نازاں جنہیں شرف حج کا مل رہا ہے۔🤍🥀

"تعلیم اور صحت کوئی کاروبار نہیں جس سے نفع ملے "آج پیف کے سکول مالک نے بل بجلی کے ڈر معصوم بچیوں کے پنکھے بند کئے ہیں ۔ی...
20/05/2026

"تعلیم اور صحت کوئی کاروبار نہیں جس سے نفع ملے "
آج پیف کے سکول مالک نے بل بجلی کے ڈر معصوم بچیوں کے پنکھے بند کئے ہیں ۔یقین کریں اگر کل کو سرکاری سکول نہ رہے تو یہ لوگ معصوم بچوں کی سانسیں بند کر دیں گے ۔حکومت پنجاب کو چاہیے کسی تھرڈ پارٹی پر اندھا اعتماد کرنے کی بجائے تعلیم و صحت کے شعبوں کو اپنے پاس رکھے۔

Address

Village Dabb
Gujrat

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Govt Boys School Dabb posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category