24/08/2024
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
Urdu and English Handwriting Trainer
24/08/2024
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
یہ کہانی ایک ایسے استاد کی ہے جس نے دنیا کی ترقی میں تاخیر پیدا کی...
ایک دن، استاد نے ایک بچے سے پوچھا، "تمہارا نام کیا ہے؟"
بچے نے جواب دیا، "میرا نام مائیکل فیرادی ہے۔" لیکن وہ حرف "ر" کو صحیح طریقے سے ادا نہیں کر سکتا تھا، اور دیگر حروف بھی غلط بولتا تھا۔
استاد نے اسے ڈانٹا اور کہا، "تم سب سے بیوقوف بچے ہو جسے میں نے اپنی زندگی میں دیکھا ہے۔ تم اپنا نام بھی صحیح سے نہیں بول سکتے، تو کیسے سیکھو گے، احمق؟"
باقی طلبہ اس پر ہنسنے لگے اور اس کا بھائی بھی اسی کلاس میں تھا۔ مائیکل جلدی سے کلاس سے نکلا اور اپنی ماں کے پاس گیا اور کہا، "ماں، استاد کلاس میں مجھ پر ہنس رہی ہے۔" وہ بہت شدت سے رو رہا تھا۔
اس کی ماں آئی اور اسے وہاں سے لے گئی اور کہا، "میں کسی کو بھی اپنے بچے کا مذاق اڑانے کی اجازت نہیں دوں گی۔ وہ اسکول چھوڑ دے گا اور گھر میں تعلیم حاصل کرے گا۔"
یہی مائیکل فارادے تھے، جو برقیات کی دنیا کے عبقری، موجد اور عظیم سائنسدان بنے۔ اگر ان کی کوششیں نہ ہوتیں تو آج کوئی برقی موٹر، واشنگ مشین، فریج یا برقی کار نہ ہوتی، کیونکہ ان کی تحقیقات نے بجلی اور مقناطیسیت کے درمیان ربط کو واضح کیا اور برقی موٹر کا ابتدائی نمونہ ایجاد کیا۔
تصور کریں اگر انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کی ہوتی تو وہ کہاں تک پہنچ سکتے تھے۔ خاص طور پر جب کہ وہ قوانین لکھنے اور ریاضی کے مسائل کے ساتھ مشکل کا سامنا کرتے تھے کیونکہ وہ اپنی تعلیم مکمل نہیں کر سکے تھے۔
اس بدترین استاد نے پوری دنیا کو نقصان پہنچایا، ایک فرد نے صدیوں تک سائنس، ٹیکنالوجی اور ترقی پر اثر ڈالا۔
مائیکل فارادے کے نام پر ایک قانون ہے اور ان کے نام پر ایک پیمائش کی اکائی بھی ہے۔
ایسے اساتذہ ہیں جو تعمیر کرتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو کسی بھی عبقری یا ذہانت کو برباد کر دیتے ہیں جو دنیا کو واقعی تبدیل کر سکتی ہے۔
تصور کریں کہ کتنے احمق اساتذہ نے دنیا سے ایسی مواقع چھین لیے ہوں گے جو ہمیں کسی اور مقام پر لے جا سکتی تھیں، اور کتنی عبقری صلاحیتیں ان کے بچپن میں ہی ختم کر دی گئیں۔
اسکولوں میں اساتذہ کا انتخاب خاص طور پر ابتدائی تعلیم کے مراحل میں اس طرح کیا جانا چاہیے کہ وہ نئے نسل کو تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور کامیاب بنانے کے قابل ہوں، تاکہ بچوں کو اپنی صلاحیتیں اور مہارتیں دریافت کرنے کا موقع ملے۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوتا۔
بزرگوں سے سنا ہے کہ بیت الخلا خبیث اور شرارتی جنوں کے رہنے کی جگہ ہے کیونکہ وہ گندی جگہوں پر رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں. اسی لیے پہلے زمانوں میں لوگ گھروں میں بیت الخلا نہیں بنایا کرتے تھے بلکہ قضائے حاجت کے لیے گھروں اور آبادی سے دور ویرانوں میں جایا کرتے تھے. پھر وقت کے ساتھ ساتھ لوگ بدلتے گئے اور سہولیات کے عادی ہوگئے چنانچہ پہلے گھروں کے ساتھ بیت الخلا بنانے کا رواج ہوتا پھر یہ گھر کے اندر آگئے. اور اب تو یہ حال ہے کہ ہر کمرے کے ساتھ "اٹیچ باتھ روم" ہر گھر کی ضرورت بن گیا ہے. یہ اٹیچ باتھ روم سہولت کے ساتھ ساتھ ان خبیث جنوں کو بھی گھروں میں لے آئے ہیں جن کی یہ پسندیدہ جگہ ہے. اسی وجہ سے گھروں میں بیماریوں، پریشانیوں اور لڑائی جھگڑوں میں اضافہ ہوا ہے. اب چونکہ باتھ روم کو تو گھر سے باہر منتقل کرنا ممکن نہیں اس لیے مسنون دعاؤں کے اہتمام سے ان خبیث جنوں سے بچا جاسکتا ہے.
ایک تو گھر میں داخل ہوتے وقت السلام علیکم کہنا اپنی عادت بنائیں اور دوسرا یہ کہ گھر کا ہر فرد چاہے بچہ ہو یا بڑا اسے بیت الخلا میں داخل ہونے اور نکلنے کی دعا سکھا دیں اور اہتمام کی عادت ڈالیں. جو لوگ اپنے گھروں میں بیماریوں، پریشانیوں اور لڑائی جھگڑوں سے پریشان ہیں وہ اس عمل کی پابندی کرلیں چند دن میں ہی حیرت انگیز نتائج حاصل ہونگے.
بیت الخلاء میں داخل ہونے اور اس سے نکلنے کی سنتیں
-------------------------------------------------------------------------
٭۔داخل ہوتے وقت پہلے بایاں اور پھر دایاں پاؤں اندر رکھے اور نکلتے وقت پہلے دایاں پھر بایاں پاؤں باہر رکھے۔
٭۔داخل ہونے کی دعا پڑھنا:
’’ اَللّٰہُمَّ إنِّیْ أعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ ‘‘
’’ اے اللہ ! میں مذکر شیطانوں اور مؤنث شیطانوں سےتیری پناہ میں آتا ہوں ۔‘‘ (بخاری،مسلم )
نبی کریم ﷺ نے شیطانوں کے شر سے اللہ تعالی کی پناہ اس لئے طلب فرمائی کہ عام طور پر شیطان بیت الخلاء میں ہی رہتے ہیں ۔
٭۔نکلنے کی دعا پڑھنا:
’’ غُفْرَانَکَ ‘‘ ( ترمذی ، أبو داؤد ،ابن ماجہ )
’’ اے اللہ ! میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں ۔‘‘
نوٹ :
انسان کو دن اور رات میں کئی مرتبہ بیت الخلاء میں جانا پڑتا ہے ، تو ہر مرتبہ اسے ان چارسنتوں پر عمل کرنا چاہیے ، دو داخل ہونے کی اور دو نکلنے کی
05/08/2024
بدلیں خود کو تو بدلے گا پاکستان ❤
ایک استاد نے اپنی کلاس میں فیل ہونے والے طالب علم سے فیل ہونے کی وجہ پوچھی تو اُس نے کچھ اِس طرح جواب دیا۔۔۔۔!
"استاد جی! سال کے 365 دِن ہوتے ہیں، روزانہ 8 گھنٹے سونے کے نکالو تو 122 دِن بنتے ہیں، سو (365-122) باقی بچے 243 دِن۔
گرمیوں، سردیوں کی چھٹیاں ملاؤ تو تقریباً 90 دِن بنتی ہیں، تو (243-90) باقی بچے 153 دِن۔
پورے سال میں 52 اتواریں (Sunday) ہوتی ہیں تو (153-52) باقی بچے 101 دِن۔
کبھی پاکستان ڈے، کبھی اقبال ڈے، کبھی قائد ڈے اور اِسی طرح عید، محرم وغیرہ کی چھٹیاں شامل کی جائیں تو تقریباً 20 چھٹیاں وہ بنتی ہیں، تو (101-20) باقی بچے 81 دِن۔
کھانے پینے، نہانے، کھیلنے کے اگر 5 گھنٹے بھی لگاؤ تو سال کے حساب سے 76 دِن بنتے ہیں، تو (81-76) باقی بچے 5 دِن۔
کبھی سکول کا ٹرپ چلا جاتا ہے، کبھی ہم بیمار ہو جاتے ہیں تو اگر اِن سب کے 4 دِن بھی لگاؤ تو (5-4) باقی بچا 1 دِن۔
اور استاد جی سال میں 1 دِن تو اپنی برتھ ڈے کا بھی آتا ہے، اب آپ ہی بتاؤ، بھلا اپنی برتھ ڈے والے دِن بھی کوئی پڑھتا ہے کیا۔۔؟
03/08/2024
16/07/2024
میں نہیں مانتا کاغذ پہ لکھا شجرہ نسب
بات کرنے سے قبیلے کا پتہ چلتا ہے۔
کسی زمانے میں ایک بادشاہ نے ایک قیدی کو کسی وجہ سے پھانسی کا حکم دیا اور جب قید خانے میں سے قیدی کو لایا گیا تو اس سے مرنے سے پہلے آخری خواہش پوچھی گئی قیدی نے کہا میں کیونکہ ایک اچھے گھرانے سے ہوں لہذا مجھے اعلی نسلی گھوڑوں سے پھانسی لگایا جائے
(اس زمانے میں پھانسی کے تخت پر چڑھا کر گھوڑوں سے بندھ کر گھوڑوں کو دوڑیا جاتا تھا اس طرح پھانسی کی سزا ہوتی تھی)خیر گھوڑوں کو لایا گیا تو قیدی بول اٹھا ان میں ایک تو نسلی ہے پر ایک نسلی نہیں ہے لہذا میری آخری خواہش مکمل نہیں ہوئی
بادشاہ نے گھوڑوں کے مالک کو بلوایا اور پوچھا کیا یہ بات سچ ہے گھوڑوں کے مالک نے جواب دیا بلکل ایک بلکل اصلی نسل کا لیکن دوسرا میں گدھے کا ملاپ شامل ہے بادشاہ نے حیران ہو کر قیدی سے پوچھا تمہیں کیسے یہ بات پتہ چلی کہ ایک گھوڑا نسلی ہے اور ایک نسلی نہیں
قیدی نے کہا جو نسلی ہے وہ بڑے آرام سے کھڑا تھا جبکہ جو ملاپ گدھے کا ہے وہ گدھے کی طرح کبھی ادھر ٹانگ مار کبھی منہ پھیر کبھی اچھل کر کبھی بیٹھ جا جس سے مجھے علم ہوا بادشاہ قیدی کی دانائی اور سوچ سے بڑا متاثر ہوا اور قیدی کی پھانسی منسوخ کر کے اپنے وزیر سے کہا اس کی ایک روٹی میں اضافہ کر دیا جائے
کچھ دن بعد بادشاہ کے دربار میں ایک سنار دو ہیرے لے کر حاضر ہوا اور بادشاہ کو کہا اگر آپ کی رعایا میں سے کوئی یہ بتا دے کہ ان میں کون سا ہیرا اصلی اور کون سا نقلی اور اس اصلی اور نقلی میں فرق بتا دے تو میں آپ کو دونوں ہیرے انعام میں دے دوں گا
بہت سے لوگوں سے پوچھا مگر کوئی مکمل جانچ نہ کر سکا بادشاہ کے دماغ میں قیدی کا خیال آیا بادشاہ نے اس کو دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا سپاہی قید خانے میں سے قیدی کو لے کر حاضر ہوئے اور قیدی کو ہیرے جانچ پڑتال کے لیے دئیے گئے قیدی نے کچھ ہی لمحوں میں بتا دیا کہ ایک اصلی اور دوسرا نقلی ہے بادشاہ نے پوچھا تمہیں کیسے پتہ چلا ؟
قیدی نے کہا کہ اصلی ہیرا رگڑنے سے کبھی گرم نہیں ہوتا جبکہ نقلی ہیرا رگڑنے سے گرم ہو جاتا ہے سنار نے وہ دونوں ہیرے بادشاہ کو انعام میں دے دئیے اور چلتا بنا
بادشاہ قیدی کی دانائی اور سوچ پر بہت زیادہ خوش ہوا اور سپاہیوں سے ایک اور روٹی بڑھانے کا حکم دیا دوپہر کو جب سپاہی قیدی کو ایک اور روٹی اضافے کے ساتھ دینے آئے تو قیدی نے کہا بادشاہ بھی کسی لانگڑی کا بیٹا ہے سپاہیوں نے قیدی کی یہ بات بادشاہ تک پہنچا دی بادشاہ کو غصہ آیا اور سپاہیوں سے قیدی کو دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا
اور قیدی سے اس بات کی وضاحت مانگی گئی قیدی نے بادشاہ کو کہا اپنے خاندان کے بارے میں کسی سے پتہ کروا لو
بادشاہ کی سلطنت میں سب سے ادھیڑ عمر شخص کو ڈھونڈا گیا اور اس سے بادشاہ کے آباوواجداد کے بارے میں پوچھا گیا ادھیڑ عمر شخص نے بتایا کہ یہاں اس بادشاہ سے پہلے اس کا باپ بادشاہ تھا لیکن وہ بادشاہ بننے سے پہلے لانگڑی تھا کیونکہ اس بادشاہ سے پہلے ایک بادشاہ تھا اس کا اپنا کوئی بیٹا نہ تھا اس بادشاہ نے اعلان کیا تھا کوئی ایسا شخص جو میری رعایا کو بھوکا نہ مرنے دے تو آپ کا باپ لانگڑی تھا اس دربار کا اس نے حامی بھری کہ میں رعایا کو بھوک سے نہیں مرنے دوں گا اس طرح بادشاہ سلامت آپ کے باپ کو سلطنت دی گئی تھی
بادشاہ نے قیدی سے پوچھا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں لانگڑی کا بیٹا ہوں
قیدی نے کہا کہ میں نے جتنے حکمت اور دانائی کی باتیں تمہیں بتاتا تم بجائے مجھے آزادی دینے یا ہیرے جواہرات دینے کی بجائے میری روٹی میں اضافہ کر دیتے تھے اگر تمہاری جگہ پر کوئی خاندانی شخص ہوتا وہ مجھے ضرور کوئی ہیرے جواہرات دیتا اور مجھے قید خانے سے رہا کرتا لیکن تیری حرکتیں تیری نسل کا پتا بتاتی ہیں
: انسان اپنی شہرت پیسے شکل سے نہیں بلکہ اپنی حرکتوں سے اپنی نسل کا پتا بتادیتا ہے۔،
*ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت*
*کچھ خواتین کسی فوتگی والے گھر بھی جائیں تو واپس آ کر اس طرح تبصرہ کر رہی ہوتی* *ہیں کہ بیٹی نے تو نیا سوٹ ڈالا تھا اسے تو دکھ ہی نہیں تھا۔*
*بہو تو ایسے ہنس ہنس کہ بات کر رہی تھی جیسے اس کی دیرینہ خواہش پوری ہو گئی* ہو.،
*کوئی زیادہ رو رہا ہو تو اعتراض،*
*کوئی صبر کر کے بیٹھا ہو تو مسئلہ،*
*گھر صاف تو تبصرہ، صاف نا ہو تو تنقید...*
*تمہیں کس نے حق دیا ہے دوسروں کو جج کرنے کا؟؟*
*کسی کا جوتا پہن کر جب تک خود نا چلو، تب تک اس کے چلنے پر اعتراض نا کرو.*
*خود تو 4 پلیٹ بریانی تناول کر کے ڈکار بھی نا ماریں اور دوسروں پر تابڑ توڑ حملے..*
*خدارا رحم کریں..*
*کم از کم سوگ میں شامل نہیں ہو سکتی تو بلا وجہ ان کی عزت بھی نا اچھالیں،،*
*یہ وقت سب پر، ہر گھر میں آنا ہے اور آتا ہے..*
*ہمارے مرد حضرات بھی کچھ کم نہیں، دو لفظ تعزیت کے تو ٹھیک طرح سے بولنے آتے نہیں*
*اور سیاسی تھیٹر ایسے سجا کہ بیٹھ جا تے ہیں کہ فوتگی پر نہیں الیکشن کمپین پر آئے ہوں،،*
*جس کے سر سے باپ کا سایہ اٹھا ہے کوئی اس کی بھی تو دلجوئی کرے،*
اس کے غم کا مداوا بھی تو کوئی کرے،
*لیکن ہمیں کسی کے غم سے کیا؟ ہم تو "رسم دکھاوا" کے لیے گئے ہیں،*
ہماری بلا سے کوئی مرتا ہے تو مرے،
*ہم تو پوچھیں گے کہ بھائی جی کھانے کا انتظام ہو گیا نا؟؟ کتنی دیگیں بنوانی ہیں؟؟ 6 دیگیں تو* *کم ہیں، برادری بھی ہے محلے داری بھی ہے.*
*وہ بیچارہ باپ کے سوگ کو بھول کر اس پریشانی میں لگ جاتا ہے کہ کہاں سے قرض پکڑوں،*
*کیونکہ کھانا صحیح نا بنایا تو باتیں ہوں گی ساری زندگی باپ کا کھایا مرنے پر روٹی بھی صحیح نا دے سکا؟؟*
ہمیں سوچنا ہو گا کون لوگ ہیں ہم؟؟ کیا یہ کام مسلمان کی شان کے لاٸق ہیں.؟؟؟
جانوروں کا بھی کوئی مر جائے تو وہ ایسے دعوتیں نہیں اڑاتے اور اشرف المخلوقات کا تاج پہن کر حیوانیت کی ساری حدیں عبور کر جانا..کہاں کی انسانیت ہے
میں نے میت کے گھر میں ایسی آوازیں بھی سنی ہیں جو دیگ پر بانٹنے میں لگا ہوتا ہے اسے کہا جاتا ہے "ذرا پلیٹ میں 4 بوٹیاں زیادہ ڈال دینا وہ داماد بھی آیا ہے تو اسے کھانا دینا ہے"
وہ بیٹی جو ماں یا باپ کی میت پر رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی جیسے ہی جنازہ اٹھتا ہے تو وہ سارا غم پس پشت ڈال کر کھانا تقسیم کرنے میں لگ جاتی ہے کہ سسرال والے بھی آئے ہیں، انہیں کھانا نا ملا تو ساری زندگی باتیں سننے کو ملیں گی کہ تیرے باپ کی میت پر تو ہمیں کھانا بھی نہیں پوچھا کسی نے...
میں نے اس بات پر بھی تبصرے سنے ہیں کہ سالن میں تو "تری" (گھی) ہی
نہیں تھا، ہماری پلیٹ میں تو بس شوربا ہی آیا،..
**ہم بحیثیت معاشرہ ظالم بن گئے ہیں، خوشیاں تو کجا ہم نے مَرگوں کو بھی اپنے "شریکے"* *پورے کرنے کے لیے ایک ایونٹ بنا لیا ہے..*
*جب میں کہتا ہوں الٰہی میرا حال دیکھ*
*حکم ہوتا ہے بندے ذرا اپنا نامہ اعمال دیکھ*
"اے اللّٰـــہ میری وفات سے پہلے میری اصلاح کر دینا اور میرا بہترین اختتام کرنا اور مجھے موت دینا اس حال میں کہ تو مجھ سے بے انتہا راضی ہو اور میرے جانے کے بعد کسی کو مسخر کر دینا جو میرے لیئے دعا گو رہے"
آمیـــــــــــــــــن ياربی۔
آمین یارب العالمین
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا 💞
ٹرینڈ چلاو🎤
اللّٰہ کے گھر(مسجد) کو فری بجلی دی جائے 🥲☝️
محرم الحرام کا آغاز ھو گیا ھے کسی کی دل آزاری نہ کریں مقدس ھستیوں کو خراج تحسین پیش کریں متنازعہ مسائل پہ بحث سے گریز کریں اور پاکستان سمیت عالم اسلام کی خیر خواھی کو اپنے رویوں سے اجاگر کریں شکریہ
04/07/2024
*جاپانی ھوٹل کے سوئمنگ پول میں پیشاب🤔*
*لبنانی شخص اپنی کہانی سناتا ھے کہ میں جاپان کے ایک فائیو سٹار ھوٹل میں ٹھہرا ھوا تھا۔۔۔*
*میں ھوٹل کے سوئمنگ پول میں اترا، تب میرے علاوہ وھاں کوئی نہیں تھا، نہاتے نہاتے میں نے سوئمنگ پول میں پیشاب کر دیا۔۔۔*
*کسی کیمیکل کی وجہ سے چند لمحوں میں پورے سوئمنگ پول کے پانی کا رنگ تبدیل ھو گیا۔۔۔*
*سکیورٹی پر معمور افراد فوری پہنچ گئے اور مجھے سوئمنگ پول سے نکالا، میری نظروں کے سامنے عملہ آیا اور سوئمنگ پول کے پانی کو فوراً تبدیل کر دیا۔۔۔*
*مجھے ھوٹل کے ریسیپشن میں بلایا گیا، میرا پاسپورٹ اور سامان مجھے پکڑا دیا گیا اور ھوٹل سے مجھے باھر کر دیا۔۔۔*
*اب میں شہر کے جس بھی ھوٹل کا رُخ کرتا، ریسیپشن پر بیٹھا عملہ میرا پاسپورٹ دیکھ کر کہتا تم ھی ھو نا جس نے سوئمنگ پول میں پیشاب کیا تھا۔۔۔*
*مجھے کسی فائیو سٹار ھوٹل میں روم نہیں ملا، میں نے اپنے سفارت خانے کا رُخ کیا اور انہیں ساری کہانی سنا دی، سفارت خانے سے یہ راھنمائی ملی کہ ایسا ھوٹل تلاش کریں جہاں سوئمنگ پول نہ ھو۔۔۔*
*میں جب جاپان چھوڑنے کے لئے ائیرپورٹ امیگریشن پہنچا تھا۔۔۔*
*میرے پاسپورٹ پر مہر لگاتے ھوئے وھاں کے ایک آفیسر نے کہہ دیا امید ھے آپ کو اچھا سبق ملا ھو گا۔۔۔*
*وہ لبنانی شخص کہتے ھیں، تین دنوں میں پورا جاپان جان چکا تھا کہ میں ھی تھا جس نے سوئمنگ پول میں پیشاب کیا تھا، اس واقعے کو عرصہ بیت گیا۔۔۔*
*آج بھی کوئی جاپانی مجھے نظر آتا ھے تو مجھے لگتا ھے اسے بھی پتہ ھو گا...*
*دوسری طرف ھمارے ملک میں اربوں ڈالر ملک کے لوٹ لئے گئے،*
*خزانہ خالی کر دیا گیا،*
*لیکن*
*کسی کو پتہ ھی نہیں ھے،*
*کہ*
*کون لوٹ گیا؟*
*کون کھا گیا؟*
*کس نے ھاتھ صاف کیا۔۔۔؟*
*ھمارے اداروں نے ھمیں معلوم ھی نہیں ھونے دیا کہ کون کون، قومی خزانے میں کتنا پیشاب کر گیا ھے۔۔۔؟؟؟*
😅😂😅😂😅
*اللہ تعالی ان سب کو غارت کرے، مسلمانوں کی ان سے جان چھڑائے۔*
😭😥😭😥😭
Dr hafiz Saqib Rasool handwriting trainer
03221430786
03136242143
04/07/2024
یہ ہے مشکل فیصلہ۔۔