سورۃ آلِ عمران (آیات 11 تا 20)
آیت 11
تحریر: فیاض احمد
كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ ۗ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ
اردو ترجمہ:
ان کا حال فرعون والوں اور ان سے پہلے لوگوں جیسا ہے، انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تو اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں پکڑ لیا، اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
آیت 12
قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ
اردو ترجمہ:
آپ کہہ دیجیے کہ کافروں! تم عنقریب مغلوب کر دیے جاؤ گے اور جہنم کی طرف جمع کیے جاؤ گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
آیت 13
قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا ۖ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌ...
اردو ترجمہ:
تمہارے لیے ان دو جماعتوں میں بڑی نشانی تھی جو آپس میں ٹکرائیں، ایک جماعت اللہ کی راہ میں لڑ رہی تھی اور دوسری کافر تھی۔
آیت 14
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ...
اردو ترجمہ:
لوگوں کے لیے خواہشات کی محبت مزین کر دی گئی ہے، عورتیں، اولاد، سونے چاندی کے خزانے، عمدہ گھوڑے، مویشی اور کھیتیاں، یہ سب دنیا کی زندگی کا سامان ہیں، اور بہترین ٹھکانا اللہ کے پاس ہے۔
آیت 15
قُلْ أَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِنْ ذَٰلِكُمْ ۚ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتٌ...
اردو ترجمہ:
کہہ دیجیے! کیا میں تمہیں ان چیزوں سے بہتر چیز کی خبر دوں؟ جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔
آیت 16
الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
اردو ترجمہ:
یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے ہیں، پس ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
آیت 17
الصَّابِرِينَ وَالصَّادِقِينَ وَالْقَانِتِينَ وَالْمُنْفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ
اردو ترجمہ:
جو صبر کرنے والے، سچے، فرمانبردار، خرچ کرنے والے اور سحری کے وقت استغفار کرنے والے ہیں۔
آیت 18
شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ...
اردو ترجمہ:
اللہ گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور فرشتے اور اہلِ علم بھی، وہ انصاف قائم رکھنے والا ہے۔
آیت 19
إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ...
اردو ترجمہ:
بے شک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے، اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی انہوں نے علم آنے کے بعد آپس کی ضد اور حسد کی وجہ سے اختلاف کیا۔
آیت 20
فَإِنْ حَاجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ...
اردو ترجمہ:
پھر اگر وہ آپ سے جھگڑا کریں تو کہہ دیجیے کہ میں نے اور میرے پیروکاروں نے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیا ہے۔
مضمون
سورۂ آلِ عمران کی آیات 11 تا 20 میں اللہ تعالیٰ انسان کو تاریخ، ایمان، دنیا کی حقیقت اور آخرت کی کامیابی کے بارے میں عظیم رہنمائی عطا فرماتا ہے۔ ان آیات میں فرعون اور سابقہ قوموں کا ذکر کرکے بتایا گیا ہے کہ جب لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں تو بالآخر انہیں اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے۔ یہ آیات انسان کو غرور، تکبر اور حق سے روگردانی کے انجام سے خبردار کرتی ہیں۔
ان آیات میں دنیا کی دلکشیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مال، اولاد، زمینیں اور دیگر نعمتیں انسان کے لیے کشش رکھتی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ واضح فرماتا ہے کہ یہ سب عارضی ہیں۔ حقیقی کامیابی اور دائمی نعمتیں جنت میں ہیں جو متقی لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان نیک بندوں کی صفات بھی بیان فرماتا ہے جو صبر کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، عبادت میں مشغول رہتے ہیں، اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور رات کے آخری حصے میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ یہ اوصاف ایک کامیاب مسلمان کی شخصیت کی بنیاد ہیں۔
آیات 18 تا 20 میں توحید کی عظمت بیان کی گئی ہے۔ اللہ، فرشتے اور اہلِ علم اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہی تمام انبیاء کی دعوت کا مرکزی پیغام رہا ہے۔ اسلام اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین ہے کیونکہ اس کا مطلب اللہ کے سامنے مکمل اطاعت اور فرمانبرداری اختیار کرنا ہے۔
یہ آیات ہمیں سکھاتی ہیں کہ دنیا کی وقتی چمک دمک سے دھوکا نہ کھائیں، بلکہ ایمان، تقویٰ، صبر، سچائی اور اللہ کی بندگی کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔ یہی راستہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔
kitabyaat and ilam o hikmat
Admin officer Dare Arqam school kunjah
سورۃ آلِ عمران (آیات 1 تا 10)
عربی متن
تحریر: فیاض احمد
1. الٓمّٓ
2. اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ
3. نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنزَلَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ
4. مِن قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَأَنزَلَ الْفُرْقَانَ ۗ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ
5. إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَىٰ عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ
6. هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ ۚ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
7. هُوَ الَّذِي أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ...
8. رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
9. رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ
10. إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَن تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ
اردو ترجمہ
1. الم۔
2. اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی ہمیشہ زندہ اور سب کو سنبھالنے والا ہے۔
3. اس نے آپ پر سچی کتاب نازل فرمائی جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، اور اس نے تورات اور انجیل بھی نازل فرمائی۔
4. اس سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لیے، اور اس نے حق و باطل میں فرق کرنے والی کتاب بھی نازل کی۔ بے شک جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے، اور اللہ زبردست بدلہ لینے والا ہے۔
5. یقیناً اللہ پر زمین اور آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔
6. وہی ہے جو تمہاری صورتیں ماں کے رحموں میں جیسے چاہتا ہے بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ غالب اور حکمت والا ہے۔
7. وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل کی، جس میں کچھ آیات واضح اور قطعی ہیں، وہی کتاب کی اصل بنیاد ہیں، اور کچھ دوسری متشابہ ہیں۔
8. اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ ہونے دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بہت عطا فرمانے والا ہے۔
9. اے ہمارے رب! یقیناً تو سب لوگوں کو ایک ایسے دن جمع کرنے والا ہے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ بے شک اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔
10. بے شک جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے مقابلے میں انہیں کچھ فائدہ نہ دے سکیں گے، اور یہی لوگ آگ کا ایندھن ہوں گے۔
مفصل مضمون
سورۃ آلِ عمران کی ابتدائی آیات توحید، وحی، ہدایت اور آخرت کے بنیادی عقائد کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتی ہیں۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ اپنی وحدانیت کا اعلان فرماتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہی پوری کائنات کو قائم رکھنے والا ہے۔ اس کے بعد قرآنِ مجید کی حقانیت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ کتاب سابقہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔
ان آیات میں یہ حقیقت بھی واضح کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ زمین و آسمان کی ہر شے اس کے علم میں ہے اور انسان کی تخلیق کے تمام مراحل بھی اس کی قدرت اور حکمت کا مظہر ہیں۔ رحمِ مادر میں بچے کی شکل و صورت، رنگ، خدوخال اور صلاحیتیں سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے وجود میں آتی ہیں۔
ساتویں آیت میں قرآن کے فہم کا ایک اہم اصول بیان کیا گیا ہے کہ اس میں محکم اور متشابہ آیات موجود ہیں۔ محکم آیات واضح احکام اور عقائد پر مشتمل ہیں، جبکہ متشابہ آیات میں غور و فکر اور تدبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اہلِ ایمان ان تمام آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور انہیں اللہ کی طرف سے نازل شدہ حق سمجھتے ہیں۔
آیات 8 اور 9 ایک نہایت خوبصورت دعا پر مشتمل ہیں۔ اس دعا میں بندہ اللہ تعالیٰ سے استقامت، رحمت اور قیامت کے دن کامیابی کی درخواست کرتا ہے۔ یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ ہدایت مل جانے کے بعد بھی انسان کو اللہ کی مدد اور رحمت کی ضرورت رہتی ہے۔
دسویں آیت میں یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ دنیاوی مال و دولت اور اولاد انسان کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتے۔ نجات کا حقیقی ذریعہ ایمان، تقویٰ اور نیک اعمال ہیں۔ یہ آیات انسان کو دنیا کی عارضی چمک دمک سے بے نیاز ہو کر اللہ کی رضا حاصل کرنے کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ مجید کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
سورۃ البقرہ آیات 281 تا 286
تحریر: فیاض احمد ✍️
آیت 281
وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ۖ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
اردو ترجمہ:
اور اس دن سے ڈرو جس دن تم سب اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔
آیت 282
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ...
اردو ترجمہ (خلاصہ):
اے ایمان والو! جب تم کسی مقررہ مدت تک قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اور انصاف کے ساتھ لکھنے والا اسے تحریر کرے۔ گواہ بھی مقرر کرو تاکہ معاملات میں جھگڑا پیدا نہ ہو۔
آیت 283
وَإِن كُنتُمْ عَلَىٰ سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَّقْبُوضَةٌ...
اردو ترجمہ:
اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے والا نہ ملے تو رہن (گروی) رکھ لیا کرو۔ اور اگر ایک دوسرے پر اعتماد ہو تو امانت دار اپنی امانت ادا کرے اور اللہ سے ڈرتا رہے۔
آیت 284
لِّلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَإِن تُبْدُوا مَا فِي أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ اللَّهُ...
اردو ترجمہ:
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ تم اپنے دل کی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تم سے اس کا حساب لے گا، پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
آیت 285
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ...
اردو ترجمہ:
رسول ایمان لائے اس چیز پر جو ان کے رب کی طرف سے ان پر نازل کی گئی، اور تمام مومن بھی ایمان لائے۔ سب اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ہم نے سنا اور اطاعت کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
آیت 286
لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ...
اردو ترجمہ:
اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ جو نیکی کرے گا اس کا فائدہ اسی کو ہوگا اور جو برائی کرے گا اس کا نقصان بھی اسی کو پہنچے گا۔ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر بیٹھیں تو ہمیں نہ پکڑنا۔ اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے رب! ہم پر وہ بار نہ رکھ جس کی طاقت ہم میں نہ ہو، اور ہمیں معاف فرما، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے، پس کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔
مفصل مضمون
سورۃ البقرہ کی آخری آیات اسلام کے نہایت اہم عقائد، اخلاقی تعلیمات اور معاشرتی اصولوں کو بیان کرتی ہیں۔ آیت 281 انسان کو آخرت کی یاد دلاتی ہے اور یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ ایک دن ہر شخص کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ یہ آیت انسان کو نیکی، انصاف اور تقویٰ اختیار کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
آیات 282 اور 283 میں مالی معاملات کے بارے میں تفصیلی ہدایات دی گئی ہیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، اس لیے قرض، تجارت اور امانت کے معاملات میں بھی انصاف اور شفافیت کا حکم دیتا ہے۔ قرض کو تحریری شکل میں محفوظ کرنا، گواہ مقرر کرنا اور امانت داری کا خیال رکھنا اسلامی معاشرے کی مضبوط بنیادیں ہیں۔
آیت 284 اللہ تعالیٰ کی کامل بادشاہت اور علم کو بیان کرتی ہے۔ اللہ نہ صرف ہمارے ظاہری اعمال بلکہ ہمارے دلوں کے ارادوں اور خیالات سے بھی پوری طرح واقف ہے۔ اس حقیقت کا شعور انسان کو اخلاص، تقویٰ اور اللہ کے خوف کی طرف لے جاتا ہے۔
آیت 285 ایمان کے بنیادی ارکان کو بیان کرتی ہے۔ ایک سچا مومن اللہ، اس کے فرشتوں، آسمانی کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان رکھتا ہے۔ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام کو سن کر اطاعت اختیار کرتا ہے اور ہمیشہ اللہ کی مغفرت کا طلبگار رہتا ہے۔
آیت 286 قرآنِ مجید کی عظیم ترین دعاؤں میں سے ایک ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بندوں پر آسانی کا ذکر ہے۔ اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتا۔ یہ آیت امید، صبر، توکل اور اللہ کی رحمت پر یقین پیدا کرتی ہے۔ اس میں معافی، بخشش، رحمت اور دشمنوں پر غلبے کی دعا سکھائی گئی ہے۔
ان آیات کا مجموعی پیغام یہ ہے کہ انسان اپنے معاملات میں انصاف، امانت داری اور تقویٰ اختیار کرے، اپنے عقیدے کو مضبوط رکھے، اللہ کی اطاعت کرے اور ہر حال میں اس کی رحمت اور مدد کا طلبگار رہے۔ یہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
سورۃ البقرہ آیات 272 تا 280
آیاتِ مبارکہ (عربی)
تحریر: فیاض احمد
آیت 272 لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ۗ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنفُسِكُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ
آیت 273 لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ ۖ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ ۖ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ۗ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ
آیت 274 الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
آیت 275 الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
آیت 276 يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ
آیت 277 إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
آیت 278 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
آیت 279 فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ
آیت 280 وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
اردو ترجمہ
آیت 272:
ان لوگوں کو ہدایت دینا آپ کے ذمہ نہیں، بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور تم جو بھی مال خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے فائدے کے لیے ہے، اور تمہیں اللہ کی رضا کے سوا خرچ نہیں کرنا چاہیے۔ اور جو کچھ تم بھلائی میں خرچ کرو گے اس کا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
آیت 273:
صدقات ان فقراء کے لیے ہیں جو اللہ کی راہ میں ایسے گھر گئے ہیں کہ زمین میں چل پھر کر روزی نہیں کما سکتے۔ ناواقف شخص ان کی خودداری کی وجہ سے انہیں مالدار سمجھتا ہے۔ تم ان کو ان کی علامات سے پہچان سکتے ہو۔ وہ لوگوں سے لپٹ لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔ اور تم جو بھی بھلائی خرچ کرو گے اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
آیت 274:
جو لوگ اپنے مال رات اور دن، پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے، اور نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
آیت 275:
جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن ایسے اٹھیں گے جیسے شیطان کے چھو لینے سے کوئی مخبوط الحواس ہو گیا ہو۔ یہ اس لیے کہ وہ کہتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔
آیت 276:
اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے، اور اللہ کسی ناشکرے گناہگار کو پسند نہیں کرتا۔
آیت 277:
بے شک جو لوگ ایمان لائے، نیک اعمال کیے، نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے، اور نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
آیت 278:
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم واقعی مومن ہو۔
آیت 279:
پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان سن لو۔ اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لیے تمہارا اصل سرمایہ ہے، نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔
آیت 280:
اور اگر قرض دار تنگ دست ہو تو اسے کشادگی تک مہلت دو، اور اگر تم قرض معاف کر دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
مفصل مضمون
سورۃ البقرہ کی آیات 272 تا 280 اسلام کے معاشی نظام، صدقہ و خیرات، فقراء کی مدد، سود کی حرمت اور قرض داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کے بارے میں عظیم ہدایات پر مشتمل ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ نیکی اور خیرات کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہونا چاہیے۔ انسان جس قدر اخلاص کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اس کا اجر کئی گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے۔
ان آیات میں خاص طور پر ایسے خوددار اور سفید پوش محتاج لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو اپنی عزتِ نفس کی وجہ سے لوگوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو ترغیب دی ہے کہ وہ ایسے ضرورت مند افراد کو تلاش کریں اور ان کی مدد کریں۔ یہ اسلامی معاشرے کی ایک خوبصورت خصوصیت ہے کہ اس میں کمزور اور محتاج افراد کا خیال رکھا جاتا ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سود (ربا) کی شدید مذمت فرمائی ہے۔ سود ایسا گناہ ہے جو معاشرے میں ظلم، استحصال اور معاشی نابرابری کو جنم دیتا ہے۔ اسلام تجارت اور محنت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو جائز قرار دیتا ہے لیکن سود کو حرام قرار دیتا ہے۔ قرآن کریم میں سود کے خلاف اتنی سخت وعید آئی ہے کہ اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ جنگ کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ سود بظاہر مال میں اضافہ دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں اس میں برکت نہیں رہتی، جبکہ صدقہ و خیرات سے مال اور زندگی میں برکت پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام سخاوت، ایثار اور باہمی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔
آیات کے آخر میں قرض داروں کے ساتھ رحم اور نرمی کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر کوئی شخص مالی تنگی میں مبتلا ہو تو اسے مہلت دینی چاہیے، اور اگر قرض معاف کر دیا جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا اجر رکھنے والا عمل ہے۔ اس تعلیم سے اسلام کا رحمت، عدل اور انسان دوستی پر مبنی نظام واضح ہوتا ہے۔
ان آیات کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ مسلمان اپنے مال کو اللہ کی امانت سمجھیں، محتاجوں کی مدد کریں، سود سے مکمل اجتناب کریں، اور معاشرے میں عدل، ہمدردی اور اخوت کو فروغ دیں۔ یہی وہ اصول ہیں جو ایک خوشحال، پُرامن اور بابرکت معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔
سورۃ البقرۃ (آیات 261 تا 271)
تحریر: فیاض احمد ✍️
آیت 261
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
ترجمہ:
جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال ایک دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اگیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔ اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے اور زیادہ بڑھا دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا، خوب جاننے والا ہے۔
آیات 262 تا 271 کا خلاصہ ترجمہ
262: جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور پھر احسان نہیں جتاتے اور نہ ایذا دیتے ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے۔
263: بھلی بات اور معاف کر دینا اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد دل آزاری ہو۔
264: اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور تکلیف دے کر ضائع نہ کرو۔
265: جو لوگ اللہ کی رضا اور دل کے یقین کے ساتھ مال خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال ایک سرسبز باغ کی سی ہے۔
266: کیا تم میں سے کوئی پسند کرے گا کہ اس کا پھلوں سے بھرا باغ ہو اور پھر بڑھاپے میں وہ جل جائے؟
267: اپنی پاکیزہ کمائی اور زمین کی پیداوار میں سے خرچ کرو، ناقص چیزیں صدقہ میں نہ دو۔
268: شیطان تمہیں تنگ دستی کا خوف دلاتا اور برائی کی ترغیب دیتا ہے، جبکہ اللہ مغفرت اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے۔
269: اللہ جسے چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے، اور جسے حکمت مل جائے اسے بہت بڑی بھلائی مل گئی۔
270: تم جو بھی خرچ کرتے ہو یا نذر مانتے ہو، اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
271: اگر تم صدقات ظاہر کرکے دو تو بھی اچھا ہے، لیکن اگر چھپا کر محتاجوں کو دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔
مفصل مضمون
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضیلت اور آداب
سورۃ البقرۃ کی آیات 261 تا 271 اسلام کے معاشی، اخلاقی اور روحانی نظام کا نہایت اہم حصہ ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انفاق فی سبیل اللہ، صدقہ، خیرات اور محتاجوں کی مدد کی عظمت کو بیان فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ سب سے پہلے یہ مثال دیتے ہیں کہ جو شخص خالص اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتا ہے، اس کا اجر ایک دانے کی طرح بڑھایا جاتا ہے جو سات بالیاں اگاتا ہے اور ہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں۔ اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
ان آیات میں یہ بھی تعلیم دی گئی ہے کہ صدقہ دینے کے بعد احسان نہیں جتلانا چاہیے اور نہ کسی کی دل آزاری کرنی چاہیے۔ اگر کسی غریب کی مدد کرکے اسے شرمندہ کیا جائے تو صدقے کی روح ختم ہو جاتی ہے۔ اسلام انسان کی عزتِ نفس کا مکمل خیال رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ پاکیزہ مال میں سے خرچ کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ ایسی چیزیں جو خود انسان لینا پسند نہ کرے، انہیں صدقہ کرنا پسندیدہ عمل نہیں۔ اللہ تعالیٰ بہترین اور خالص نیت کے ساتھ دیا گیا صدقہ قبول فرماتے ہیں۔
ان آیات میں شیطان کے ایک بڑے ہتھکنڈے کا بھی ذکر ہے۔ شیطان انسان کو یہ خوف دلاتا ہے کہ اگر تم خرچ کرو گے تو غریب ہو جاؤ گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ مغفرت اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا گیا مال ضائع نہیں ہوتا بلکہ دنیا و آخرت میں برکت کا سبب بنتا ہے۔
حکمت کی اہمیت بھی ان آیات میں بیان ہوئی ہے۔ حکمت انسان کو صحیح فیصلے کرنے، حق و باطل میں فرق کرنے اور اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دیتی ہے۔ جسے حکمت مل جائے وہ حقیقت میں بہت بڑی نعمت پا لیتا ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ پوشیدہ صدقہ کی فضیلت بیان فرماتے ہیں۔ اگرچہ اعلانیہ صدقہ بھی اچھا ہے، لیکن خاموشی سے محتاجوں کی مدد کرنا ریاکاری سے بچاتا اور اخلاص کو بڑھاتا ہے۔
ان آیات کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ مسلمان سخاوت، اخلاص، عاجزی اور محبتِ انسانیت کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔ ایسا انفاق نہ صرف معاشرے سے غربت کم کرتا ہے بلکہ انسان کے دل کو بھی پاکیزہ بناتا ہے اور اسے اللہ کے قریب لے جاتا ہے۔
سورۃ البقرہ آیات 250 تا 260
تحریر: فیاض احمد
آیت 250
عربی: رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
اردو ترجمہ: اے ہمارے رب! ہم پر صبر کا فیضان نازل فرما، ہمارے قدم جما دے اور کافر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔
آیت 251
عربی: فَهَزَمُوهُم بِإِذْنِ اللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ وَآتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا يَشَاءُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ
اردو ترجمہ: پھر انہوں نے اللہ کے حکم سے ان کو شکست دے دی اور داؤدؑ نے جالوت کو قتل کر دیا، اور اللہ نے انہیں بادشاہت اور حکمت عطا فرمائی اور جو چاہا سکھایا۔ اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے نہ روکتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا، لیکن اللہ تمام جہان والوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔
آیت 252
عربی: تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۚ وَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ
اردو ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو حق کے ساتھ سنا رہے ہیں، اور یقیناً آپ رسولوں میں سے ہیں۔
آیت 253
عربی: تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللَّهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ ۚ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ
اردو ترجمہ: یہ رسول ہیں، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ ان میں سے بعض سے اللہ نے کلام فرمایا اور بعض کے درجات بلند کیے، اور ہم نے عیسیٰ ابن مریمؑ کو کھلی نشانیاں عطا کیں اور روح القدس کے ذریعے ان کی مدد کی۔
آیت 254
عربی: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ ۗ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ
اردو ترجمہ: اے ایمان والو! جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو، اس دن کے آنے سے پہلے جس دن نہ خرید و فروخت ہوگی، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش، اور کافر ہی ظالم ہیں۔
آیت 255 (آیت الکرسی)
عربی: اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ...
اردو ترجمہ: اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ ہے، سب کو قائم رکھنے والا ہے۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔
آیت 256
عربی: لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ
اردو ترجمہ: دین میں کوئی جبر نہیں، ہدایت گمراہی سے واضح ہو چکی ہے۔
آیت 257
عربی: اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ
اردو ترجمہ: اللہ ایمان والوں کا دوست ہے، وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔
آیت 258
عربی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ
اردو ترجمہ: کیا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیمؑ سے ان کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا کیونکہ اللہ نے اسے بادشاہت دی تھی؟
آیت 259
عربی: أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا
اردو ترجمہ: یا اس شخص کی مثال جس کا گزر ایک ایسی بستی پر ہوا جو اپنی چھتوں سمیت ویران پڑی تھی۔
آیت 260
عربی: وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ
اردو ترجمہ: اور جب ابراہیمؑ نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے۔
مفصل مضمون
سورۃ البقرہ آیات 250 تا 260 کی تعلیمات
تحریر: فیاض احمد
سورۃ البقرہ کی آیات 250 تا 260 ایمان، صبر، اللہ تعالیٰ کی قدرت، انفاق فی سبیل اللہ، توحید اور آخرت کے عقائد کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتی ہیں۔ ان آیات میں حضرت طالوت اور جالوت کے معرکے کا ذکر ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی صرف ظاہری طاقت سے نہیں بلکہ ایمان، صبر اور اللہ پر کامل بھروسے سے حاصل ہوتی ہے۔ مومنوں نے جنگ سے پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان پر صبر نازل ہو، ان کے قدم مضبوط رہیں اور انہیں دشمنوں پر فتح عطا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انہیں کامیابی نصیب ہوئی۔
ان آیات میں حضرت داؤد علیہ السلام کا ذکر بھی آتا ہے جنہوں نے جالوت کو شکست دی۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے عزت، اقتدار اور حکمت عطا فرما دیتا ہے۔ زمین میں امن اور عدل قائم رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ مختلف قوتوں کو ایک دوسرے کے مقابل رکھتا ہے تاکہ فساد نہ پھیلے۔
آیت 253 میں انبیائے کرام علیہم السلام کے درجات اور فضائل کا بیان ہے۔ تمام انبیاء اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر خاص فضیلت عطا فرمائی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے براہِ راست کلام فرمایا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عظیم معجزات عطا کیے۔
آیت 254 میں اہل ایمان کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ قیامت کے آنے سے پہلے اپنی دولت کا ایک حصہ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرے، کیونکہ آخرت میں مال و دولت، دوستیاں اور سفارشات کسی کام نہیں آئیں گی۔
آیت 255 یعنی آیت الکرسی قرآن مجید کی عظیم ترین آیات میں شمار ہوتی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، عظمت، علم، قدرت اور بادشاہی کا بیان ہے۔ یہ آیت بندۂ مومن کے دل میں اللہ کی عظمت اور اس پر توکل کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔
آیت 256 اسلام کے ایک بنیادی اصول کو واضح کرتی ہے کہ دین کے معاملے میں جبر نہیں ہے۔ اسلام دلیل، حکمت اور اچھے اخلاق کے ذریعے لوگوں کو حق کی دعوت دیتا ہے۔
آیات 258 تا 260 میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مختلف مظاہر بیان کیے گئے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کے سامنے اللہ کی قدرت کا ثبوت پیش کیا۔ پھر ایک ویران بستی کے واقعے کے ذریعے مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت دکھائی گئی۔ آخر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چار پرندوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے عملاً دکھایا کہ وہ مردوں کو کس طرح دوبارہ زندہ فرماتا ہے۔
ان آیات کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ مومن کو ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے، صبر اختیار کرنا چاہیے، اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے اور اس کی قدرتِ کاملہ پر کامل یقین رکھنا چاہیے۔ یہی ایمان انسان کو دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔
اختتامیہ:
سورۃ البقرہ کی یہ آیات ایمان، یقین، صبر، قربانی اور توحید کا عظیم درس دیتی ہیں۔ اگر مسلمان ان تعلیمات پر عمل کریں تو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کامیابی، امن اور فلاح حاصل کر سکتے ہیں۔
سورۃ البقرہ آیات 241 تا 250
تحریر: Fayyaz Ahmed
آیت 241
وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِيْنَ۔
ترجمہ:
اور طلاق یافتہ عورتوں کے لیے دستور کے مطابق خرچ دینا لازم ہے، یہ پرہیزگاروں پر حق ہے۔
آیت 242
كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۔
ترجمہ:
اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو۔
آیت 243
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِۖ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا ثُمَّ اَحْيَاهُمْؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ۔
ترجمہ:
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو موت کے ڈر سے ہزاروں کی تعداد میں اپنے گھروں سے نکل گئے، پھر اللہ نے ان سے فرمایا: مر جاؤ، پھر انہیں زندہ کردیا۔ بے شک اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔
آیت 244
وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔
ترجمہ:
اور اللہ کی راہ میں لڑو اور جان لو کہ اللہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔
آیت 245
مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ اَضْعَافًا كَثِيْرَةًؕ وَاللّٰهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُطُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۔
ترجمہ:
کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا دے؟ اور اللہ ہی تنگی اور کشادگی دیتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
آیت 246
اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰىۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِيٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِۚ
ترجمہ:
کیا تم نے موسیٰؑ کے بعد بنی اسرائیل کی جماعت کو نہیں دیکھا جب انہوں نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کردیجیے تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔
آیت 247
وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًاؕ
ترجمہ:
اور ان کے نبی نے ان سے کہا: بے شک اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ مقرر کیا ہے۔
آیت 248
وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ اِنَّ اٰيَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ يَّأْتِيَكُمُ التَّابُوْتُ فِيْهِ سَكِيْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ۔
ترجمہ:
اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے سکون ہوگا۔
آیت 249
فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَهَرٍۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّيْۚ وَمَنْ لَّمْ يَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّيْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِيَدِهٖۚ
ترجمہ:
پھر جب طالوت لشکر لے کر روانہ ہوئے تو کہا: اللہ تمہیں ایک نہر کے ذریعے آزمائے گا، پس جو اس میں سے پانی پیے گا وہ میرا ساتھی نہیں، اور جو نہ پیے گا وہ میرا ساتھی ہے، مگر جو ایک چُلّو بھر لے لے۔
آیت 250
وَلَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۔
ترجمہ:
اور جب وہ جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابلے میں آئے تو انہوں نے دعا کی: اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے، ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔
مفصل مضمون
سورۃ البقرہ کی آیات 241 تا 250 اسلامی تعلیمات، اللہ کی قدرت، جہاد، صبر، قربانی اور ایمان کی مضبوطی پر مشتمل نہایت اہم مضامین بیان کرتی ہیں۔ ان آیات میں انسان کو دنیا و آخرت کی کامیابی کے بنیادی اصول سکھائے گئے ہیں۔
ابتدائی آیات میں طلاق یافتہ عورتوں کے حقوق بیان کیے گئے ہیں۔ اسلام نے عورت کو معاشرے میں عزت اور تحفظ عطا کیا۔ طلاق کے بعد بھی شوہر پر لازم کیا گیا کہ عورت کے ساتھ حسنِ سلوک کرے اور اس کی ضروریات کا خیال رکھے۔ یہ اسلامی معاشرت کی اعلیٰ مثال ہے جہاں کمزور طبقے کے حقوق کو مکمل اہمیت دی گئی ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم کا ذکر فرماتا ہے جو موت کے خوف سے اپنے گھروں سے نکل گئی تھی۔ اللہ نے انہیں موت دی پھر دوبارہ زندہ کردیا۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی اور موت صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ انسان خوف یا تدبیر سے اللہ کے فیصلے سے نہیں بچ سکتا۔ اس لیے مسلمان کو ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
آیت 244 میں اللہ کی راہ میں جہاد کا حکم دیا گیا۔ جہاد صرف جنگ کا نام نہیں بلکہ حق، انصاف اور دین کی سربلندی کے لیے ہر قسم کی جدوجہد جہاد ہے۔ ایک مسلمان کو ظلم، باطل اور ناانصافی کے خلاف ڈٹ جانا چاہیے۔
آیت 245 میں اللہ تعالیٰ بندوں کو صدقہ اور خیرات کی ترغیب دیتا ہے اور اسے “قرضِ حسنہ” قرار دیتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سخاوت اور ایثار اسلامی کردار کی اہم صفات ہیں۔
بعد کی آیات میں بنی اسرائیل، طالوت اور جالوت کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے بادشاہ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔ اللہ نے طالوت کو بادشاہ بنایا حالانکہ وہ ظاہری مال و دولت میں دوسروں سے کم تھے۔ اس سے سبق ملتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اصل فضیلت تقویٰ، علم اور صلاحیت کی ہے، نہ کہ دولت یا خاندانی غرور۔
طالوت نے اپنی فوج کو نہر کے ذریعے آزمایا۔ بہت سے لوگ صبر نہ کرسکے اور پانی پی لیا، مگر مخلص اور فرمانبردار لوگ ثابت قدم رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی انہی لوگوں کو ملتی ہے جو آزمائش میں صبر اور اطاعت اختیار کرتے ہیں۔
آخر میں جالوت کے مقابلے میں اہلِ ایمان کی دعا ذکر کی گئی۔ انہوں نے اللہ سے صبر، ثابت قدمی اور مدد مانگی۔ یہی ایک مومن کا اصل ہتھیار ہے۔ جب بندہ اللہ پر مکمل بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اسے بڑی سے بڑی مشکل میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔
یہ آیات ہمیں سکھاتی ہیں کہ:
اللہ کی اطاعت میں ہی کامیابی ہے۔
صبر اور قربانی ایمان کی علامت ہیں۔
دولت یا طاقت نہیں بلکہ تقویٰ اصل عزت ہے۔
اللہ کی راہ میں خرچ کرنا عظیم عبادت ہے۔
دعا اور اللہ پر بھروسہ انسان کی سب سے بڑی قوت ہے۔
اگر مسلمان ان تعلیمات پر عمل کریں تو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کامیابی، اتحاد اور اللہ کی مدد حاصل ہوسکتی ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Gujrat
50620