19/09/2026
اسکر شِنڈلر ایک جرمن تاجر اور کارخانہ دار تھا۔ وہ دوسری جنگ عظیم شروع ہونے سے پہلے ایک عام کاروباری آدمی تھا جو پیسہ کمانا چاہتا تھا۔ وہ نازی پارٹی کا رکن بھی بن گیا تھا تاکہ کاروبار میں فائدہ اٹھا سکے۔
۱۹۳۹ء میں جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کر دیا۔ نازی حکومت یہودیوں کو انسان نہیں سمجھتی تھی۔ وہ انہیں گھروں سے نکال کر گیٹو (بند علاقوں) میں قید کر دیتی، پھر کنسنٹریشن کیمپوں میں بھیج دیتی جہاں لاکھوں یہودیوں کو قتل کیا گیا۔ اسے ہولوکاسٹ کہا جاتا ہے۔ کراکو (پولینڈ) میں بھی یہودیوں کے ساتھ بہت ظلم ہو رہا تھا۔
جنگ شروع ہونے کے بعد شِنڈلر پولینڈ آیا تاکہ سستے مزدوروں سے فیکٹری چلا کر پیسہ کمائے۔ اس نے ایک اینامل (برتن بنانے والی) فیکٹری لی اور یہودی مزدور رکھے۔ اس وقت یہودی مزدور بہت سستے ملتے تھے، اس لیے اس کا مقصد صرف منافع کمانا تھا۔
شروع میں وہ صرف پیسے کے لیے یہودیوں کو نوکری دے رہا تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ اس نے اپنی آنکھوں سے نازیوں کا ظلم دیکھا:
• یہودیوں کو مارنا پیٹنا .عورتوں اور بچوں کو الگ کرنا۔ گیٹو خالی کرتے وقت لوگوں کو گولی مار دینا۔ کیمپ کے کمانڈر آمون گوئٹھ کی بے رحمی
ان سب باتوں نے اس کے دل کو بدل دیا۔ اس کا اکاؤنٹنٹ اِتژاک سٹرن (جو خود یہودی تھا) بھی اس پر اثر انداز ہوا۔ شِنڈلر نے محسوس کیا کہ یہ لوگ بے گناہ ہیں اور وہ ان کی جان بچا سکتا ہے۔
اس کی مدد کی اصل وجہ یہ تھی: انسانیت کا جذبہ جاگ اٹھا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ صرف منافع نہیں، بلکہ لوگوں کی جان کا ذمہ دار ہے وہ چاہتا تھا کہ “اس کے مزدور” زندہ رہیں
اس نے نازی افسروں کو رشوتیں دیں تاکہ اس کے یہودی مزدوروں کو کیمپ نہ بھیجا جائے۔اس نے حکومت کو یہ باور کرایا کہ یہ مزدور جنگ کے لیے ضروری ہیں (پہلے برتن بناتے تھے، بعد میں گولہ بارود بنانے کا کام دکھایا)۔جب جنگ ختم ہونے والی تھی اور نازی سب یہودیوں کو آشوِٹز بھیجنے والے تھے، تو شِنڈلر نے ایک فہرست بنائی جسے “شِنڈلر لسٹ” کہا جاتا ہے۔ اس فہرست میں تقریباً ۱۲۰۰ یہودیوں کے نام تھے جنہیں وہ اپنے ساتھ چیکوسلوواکیہ کی ایک نئی فیکٹری میں لے گیا۔وہاں بھی اس نے اپنی ساری دولت لگا کر ان کے لیے کھانا، دوا اور حفاظت کا انتظام کیا۔
جنگ ختم ہونے تک شِنڈلر نے تقریباً ۱۲۰۰ یہودیوں کی جان بچا لی۔ جنگ کے بعد وہ خود غریب ہو گیا کیونکہ ساری دولت رشوتوں اور مدد میں لگا چکا تھا۔ بعد میں اسرائیل نے اسے “راست باز اقوام” (Righteous Among the Nations) کا اعزاز دیا۔