Bint.e.Khanam Quran Academy

Bint.e.Khanam Quran Academy

Share

Bint e Khanam Quran academy for National and International students

21/06/2025

السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ
نماز نیند سے بہتر ہے ❤️

04/12/2024

السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ
کیسے ہیں سب فالورز
ہماری اکیڈمی کی پوسٹس کافی عرصہ سے مصروفیت کے باعث بند ہیں ، اس عرصہ میں کس کس نے مس کیا ہمارے پیج کو ہماری پوسٹس کو ؟؟
بتائیے پھر 🤨

26/10/2024

" آنسو بھی اللہ کی طرف سے ایک عظیم رحمت ہیں۔ جب دل پر بوجھ بڑھ جاتا ہے اور کوئی راستہ نظر نہیں آتا، تو اللہ ہی سکون اور اطمینان عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آنسو بھیج کر ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دنیا تمہیں جتنا بھی رسوا کرے، جتنی بھی مشکلات آئیں، بس مجھ پر بھروسہ رکھو؛ میں تمہارا مددگار اور محافظ ہوں۔ جب دل اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور خلوص دل سے دعا کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ہر آزمائش میں ہماری ڈھال بن جاتے ہیں۔

✨ دل کو اللہ کی رضا پر مطمئن رکھیں، کیونکہ وہی سب سے بہتر کارساز ہے۔ ✨

اللہ ہم سب کو اپنے بھروسے اور سکون کی دولت عطا فرمائے۔ آمین۔

24/10/2024

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،

اللہ کے پاک کلام کی تلاوت اور سمجھ ہمیشہ ہماری زندگیوں میں روشنی کا ذریعہ بنتی ہے۔ آئیں قرآن سے جڑیں، اس کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، اور دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کریں۔

”اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے، تو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا؟“
(سورۃ القمر: 17)

ہمارے قرآن اکیڈمی کے ساتھ جڑیں اور قرآن کو سیکھنے اور سمجھنے کا سفر شروع کریں۔

16/10/2024

تم اللہ کے لئیے وقت نکالو
اللہ تمہاری زندگی سے برا وقت نکال دے گا
ان شاء اللہ

16/10/2024

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ، ہماری قرآن اکیڈمی کی طرف سے ایک اہم اعلان!

تمام طلبہ و والدین کو اطلاع دی جاتی ہے کہ نئے سیشن کی کلاسز جلد شروع ہو رہی ہیں۔ الحمد للہ، ہم نے پچھلے تین سالوں میں آن لائن تعلیم کا ایک مضبوط نظام بنایا ہے جہاں قرآنِ کریم کی تعلیمات کو ناظرہ، حفظ اور تجوید کے ساتھ سکھایا جاتا ہے۔

ہماری اکیڈمی کی بنیاد اللہ کے فضل و کرم سے بہترین اساتذہ کی زیر نگرانی رکھی گئی ہے، جو نہ صرف علم رکھتے ہیں بلکہ اس میں بہتری کے لیے مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔ اساتذہ کا تجربہ تیس سال سے زائد ہے اور تدریس میں بہترین معیار کو ہمیشہ یقینی بنایا جاتا ہے۔

ہم ہر طالب علم کی قدر کرتے ہیں اور ان کے ساتھ انفرادی توجہ سے کام کرتے ہیں تاکہ وہ قرآن کو صحیح تلفظ اور تجوید کے ساتھ سیکھ سکیں۔ والدین کی بے جا مداخلت یا تعلیم کے بارے میں شکوہ شکایت کی اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ ہمارا معیار اللہ کی رضا اور طلبہ کی بہترین تعلیم پر مبنی ہے۔

الحمد للہ، ہمارے اساتذہ خود بھی قرآن کے ماہر ہیں اور اپنے طلبہ کو نیکی کے راستے پر چلنے کی تربیت دیتے ہیں۔ مزید براں، فیس کے معاملات میں کسی قسم کی رعایت یا عدم ادائیگی کی صورت میں بھی ہم اپنی تعلیم کے معیار پر کبھی سمجھوتا نہیں کرتے۔

اللہ تعالیٰ کی رضا ہی ہماری اولین ترجیح ہے، اور ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں اس خدمت کو مزید بہتر انداز میں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ان شاء اللہ۔

والسلام
انتظامیہ - قرآن اکیڈمی
Bint E Khanum

09/10/2024

دنیا کی دوڑ اور سکون کا اصل ذریعہ: اللہ سے قربت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

انسان کو پیسے کمانے کے چکر میں اتنی دوڑ نہیں لگانی چاہیے کہ وہ بس پیسے کمانے کی مشین ہی بن کے رہ جائے اور زندگی کا اصل مقصد ہی ختم ہو جائے۔ اپنے روزگار کے لیے محنت ضرور کرنی چاہیے، مگر اس سب میں اگر ہم نماز اور قرآن پڑھ رہے ہیں، تو وہ بھی جیسے حاضری لگانے کے چکر میں ہوتے ہیں۔

مجھے ایسا لگتا ہے مسلسل پیسے کی دوڑ، سوشل میڈیا پہ فوائد کے چکر میں دن رات کھپانے سے دل بوجھل سا ہو جاتا ہے۔ میرا مزاج نہیں ہے دن رات پوسٹیں لگانا اور پھر مختلف آئیڈیز سے جا کے ان پوسٹوں کو شیئر کر کے پیج اور پوسٹ کی گروتھ میں دن رات ایک کر دینا۔ جب جب میرا زیادہ وقت ایڈورٹائزنگ میں خرچ ہونے لگتا ہے، تب تب میں نے محسوس کیا ہے دل میں بے سکونی بڑھنے لگتی ہے۔

جب میں ایک پوسٹ کر کے مارکیٹنگ کر کے چھوڑ دیتی ہوں اور قرآن پڑھنے پڑھانے میں مشغول ہو جاتی ہوں، تو اللہ کی طرف سے ہی مجھے قلبی اور روحانی سکون محسوس ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ جب جب میں نے لوگوں کے پیچھے بھاگنا چاہا کہ مجھے ہیلپ کریں، سٹوڈنٹس کے لیے یا ہیئر گروتھ پروڈکٹ کی سیل کے لیے، تب تب مایوسی اور بے یقینی بڑھتی گئی۔

اور جب جب میں اپنے رب کے حضور سجدوں میں گر کے آنسو بہا کے مانگتی ہوں اللہ سے، تب تب اللہ نے بہت برکت ڈالی ہے میرے رزق میں، چاہے وہ قرآن اکیڈمی کے ذریعے ہو یا پھر دنیاوی کاروبار۔ بس مجھے سمجھ آ گئی ہے کہ دنیا کی دوڑ میں ہمیں اتنا اندھا دھند نہیں بھاگنا چاہیے کہ اس میں ہماری نمازیں، قرآن، ہمارے ذکر و اذکار میں کمی یا بے توجہی ہونے لگے۔

سکون کا راز:
بے شک سکون صرف اللہ کی قربت اور اللہ سے دوستی میں ہی ہے۔ جب آپ کو بے سکونی محسوس ہو، تو بس ایک بار تنہائی میں اللہ کے آگے یوں گڑگڑا کے رو لو کچھ اس طرح کہ آپ کے اور رب کے درمیان کوئی پردہ نہ رہے۔ یوں لگے جیسے وہ صرف آپ کا ہی تو رب ہے، اور اس سے جی بھر کے باتیں کرو، مشورے کرو، ہر چیز مانگو اپنی حیثیت دیکھ کے نہیں بلکہ اُس کی شان کو دیکھ کے مانگو۔ اللہ تو بے حساب دے سکتا ہے۔

جب آپ دین مانگو گے تو وہ اتنا بے نیاز ہے، آپ کو دین کے ساتھ دنیا کی بے تحاشا دولت سے بھی نواز دے گا۔ دنیا کے پیچھے ہی بھاگتے رہو گے، تو نہ صحت رہے گی نہ دین باقی رہے گا۔

دعا اور اللہ کی رضا:
چلتے پھرتے اللہ سے دعا مانگنی چاہیے:
"یا اللہ! مجھ سے، میرے گھر والوں سے راضی ہو جا"
اگر اللہ راضی ہو جائے تو نماز، قرآن نہ صرف پڑھنے کی بلکہ تبلیغ کی توفیق بھی اللہ دیتا ہے۔ اور میرے خیال میں یہی اصل دولت ہے جو دنیا سے قبر اور قبر سے حشر تک ہمارے ساتھ جائے گی، ان شاء اللہ۔

اللہ ہم سب سے راضی ہو، ہمیں دین پر چلنے، اسے سمجھنے، اور اس کی تبلیغ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
(ام ارسلان)

09/10/2024

بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

بچوں کی تربیت قرآن و حدیث کی روشنی میں اور موبائل کے منفی اثرات سے بچاؤ کیسے ممکن ھے ؟

آج کے دور میں والدین کے لئے بچوں کی اسلامی تربیت ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے، خاص طور پر جب موبائل فون اور جدید ٹیکنالوجی نے زندگی کے ہر پہلو پر اثر ڈال دیا ہے۔ اس مضمون میں ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں بچوں کی تربیت کے اصول اور انہیں موبائل کے منفی اثرات سے کیسے بچایا جا سکتا ہے، پر بات کریں گے۔

قرآن و حدیث کی روشنی میں تربیت کے اصول:

1. ایمان کی بنیاد ڈالنا: قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور اپنے اہل و عیال کو نماز کا حکم دیتے رہو اور خود بھی اس کے پابند رہو" (سورۃ طہٰ: 132)
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ بچوں کی تربیت کا پہلا قدم ایمان اور نماز کی پابندی کی تعلیم دینا ہے۔ والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کو توحید اور اللہ تعالیٰ کی محبت سکھائیں تاکہ وہ بچپن ہی سے دین کی بنیادوں کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔

2. اخلاقی تربیت: حدیث مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے" (بخاری)
بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی سچائی، انصاف، احترام، صبر اور عاجزی جیسے اعلیٰ اخلاقی اصول سکھانا ضروری ہے تاکہ وہ معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔

3. نرمی اور محبت کا مظاہرہ: رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ نرمی اور محبت کے ساتھ بچوں کی تربیت کی۔ حدیث میں آتا ہے:
"جس میں نرمی نہیں، وہ کسی خیر سے محروم ہے" (مسلم)
والدین کو چاہئے کہ وہ سختی کے بجائے محبت اور نرمی سے بچوں کی رہنمائی کریں تاکہ بچے والدین سے قریب رہیں اور اپنی باتوں کا اظہار کھل کر کر سکیں۔

موبائل سے دور کرنے کے عملی طریقے:

1. مثبت مصروفیات کا اہتمام: بچوں کو موبائل کے بجائے ایسی سرگرمیوں میں مصروف رکھیں جو ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما میں مددگار ثابت ہوں۔ مثلاً قرآن کی تلاوت، کھیل کود، کتابیں پڑھنا، اور اسلامی معلوماتی ویڈیوز دیکھنا۔

2. اچھا رول ماڈل بنیں: بچے اپنے والدین کی عادات کو اپناتے ہیں۔ اگر والدین خود موبائل کا ضرورت سے زیادہ استعمال کریں گے تو بچے بھی اس سے دور نہیں رہ سکیں گے۔ والدین کو چاہئے کہ وہ خود بھی موبائل کے استعمال کو محدود کریں اور بچوں کے لئے ایک مثبت رول ماڈل بنیں۔

3. موبائل کے استعمال کے لئے وقت مقرر کریں: بچوں کے لئے موبائل کے استعمال کا ایک مقررہ وقت بنائیں اور اس پر سختی سے عمل کریں۔ اس وقت کے دوران بچوں کو تعلیمی یا معلوماتی مواد تک محدود رکھیں تاکہ وہ موبائل کے منفی اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

4. خاندان کے ساتھ وقت گزارنا: گھر کے ماحول کو ایسا بنائیں کہ بچے والدین کے ساتھ وقت گزارنے میں خوشی محسوس کریں۔ فیملی ٹائم کو دلچسپ بنائیں تاکہ بچے موبائل کی طرف متوجہ نہ ہوں۔

نتیجہ: بچوں کی تربیت قرآن و سنت کے مطابق کرنا والدین کی ذمہ داری ہے، اور جدید دور میں موبائل جیسی ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے بچوں کو بچانے کے لئے ہمیں خود کو اور اپنے بچوں کو اسلامی اصولوں کے تحت ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ام ارسلان

08/10/2024

بسم اللہ الرحمن الرحیم
صراط مستقیم
(ہدایت کا راستہ)
الحمدللہ، رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علیٰ خاتم النبیین۔
آج ہم ایک نہایت اہم اور بنیادی موضوع پر بات کریں گے، جو کہ ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی کا ضامن ہے: "صراطِ مستقیم"۔

صراطِ مستقیم کا مطلب سیدھا اور درست راستہ ہے، جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور ہدایت کی جانب لے جاتا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس کی ہدایت کے لیے ہم روزانہ نماز میں دعا کرتے ہیں:

"اِھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ"
(سورہ الفاتحہ: 6-7)

یہ دعا ہمیں بتاتی ہے کہ صراطِ مستقیم وہ راستہ ہے جس پر اللہ نے اپنے انعام یافتہ بندوں کو چلایا، اور یہ راستہ ان لوگوں سے بچاتا ہے جن پر اللہ کا غضب ہوا اور جو گمراہ ہو گئے۔

صراطِ مستقیم کی خصوصیات:
1. اللہ کی وحدانیت کا راستہ:
یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، عبادت اور اس کے احکامات کی پیروی پر مبنی ہے۔

2. نبی کریم ﷺ کی سنت کی پیروی:
صراطِ مستقیم وہ ہے جس پر ہمارے نبی کریم ﷺ اور ان کے صحابہ کرام چلے۔ اس راستے پر چلنے کے لیے سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی ضروری ہے۔

3. عدل و انصاف کا راستہ:
صراطِ مستقیم عدل و انصاف کا راستہ ہے، جہاں انسان اپنے حقوق و فرائض کو پہچانتا ہے اور دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور محبت سے پیش آتا ہے۔

4. علم و بصیرت کا راستہ:
قرآن و حدیث کی تعلیمات کا علم حاصل کرنا اور ان پر عمل کرنا ہی اصل صراطِ مستقیم کی بنیاد ہے۔

صراطِ مستقیم سے بھٹکنے کے نتائج:

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر اس بات کی وضاحت کی ہے کہ جو لوگ صراطِ مستقیم سے ہٹ کر دیگر راستوں پر چلتے ہیں، وہ دنیا و آخرت میں نقصان اٹھاتے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی مثال شیطان کے پیروکار ہیں، جو انسانوں کو صراطِ مستقیم سے بھٹکانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

صراطِ مستقیم پر کیسے قائم رہیں؟
روزانہ نماز میں اللہ سے ہدایت کی دعا کریں۔
قرآن و سنت کا مطالعہ اور اس پر عمل کریں۔
اللہ کے نیک بندوں کی صحبت اختیار کریں۔
خود احتسابی کریں اور ہمیشہ اپنی نیتوں کو درست رکھیں۔
اللہ ہم سب کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جن پر اُس کا انعام ہوا۔
(آمین)

07/10/2024

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اکتوبر کا مہینہ ہمیں ایک اہم سبق دیتا ہے کہ جیسے موسموں میں تبدیلی آتی ہے، ویسے ہی ہماری زندگیوں میں بھی نشیب و فراز آتے ہیں۔ قرآن پاک ہمیں ان بدلتے حالات میں ثابت قدم رہنے اور اللہ کی رحمتوں پر بھروسہ کرنے کا درس دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سورۃ الحدید میں فرماتے ہیں:
"اعلموا أنما الحياة الدنيا لعب ولهو وزينة وتفاخر بينكم وتكاثر في الأموال والأولاد"
(الحدید: 20)
ترجمہ: "جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل، تماشا، زینت، آپس میں فخر کرنا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔"
اس آیت میں ہمیں یہ نصیحت کی گئی ہے کہ دنیاوی زندگی عارضی ہے، اور اصل کامیابی آخرت میں اللہ کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔ یہ مہینہ ہمارے لیے ایک موقع ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کا محاسبہ کریں اور قرآن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کے نور سے ہمارے دلوں کو منور فرمائے۔ آمین۔

Want your school to be the top-listed School/college in Gujranwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Gujranwala
Gujranwala