08/04/2026
جب دنیا تباہی کے دہانے پر تھی — پاکستان امن کی آواز بن کر ابھرا
دنیا کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قوموں کی عظمت صرف دولت، ہتھیاروں یا بڑی معیشتوں سے نہیں ناپی جاتی۔ اصل عظمت اس کردار سے ظاہر ہوتی ہے جو کوئی قوم مشکل ترین لمحات میں ادا کرتی ہے۔ جب دنیا جنگ کے دہانے پر کھڑی ہو، خوف اور بے یقینی ہر طرف پھیل رہی ہو اور انسانیت ایک بڑے بحران کے خطرے سے دوچار ہو، تب وہی قوم عظیم کہلاتی ہے جو آگ بجھانے کے لیے آگے بڑھتی ہے۔
گزشتہ دنوں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ حملوں اور جوابی حملوں کے بعد یہ خدشہ پیدا ہو چکا تھا کہ یہ تنازع ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عالمی معیشت، تیل کی ترسیل اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن کو خطرہ لاحق تھا۔ ایسے نازک حالات میں دنیا کو کسی ایسی آواز کی ضرورت تھی جو جنگ نہیں بلکہ امن کی بات کرے۔
اسی پس منظر میں پاکستان نے ایک ذمہ دار اور متوازن کردار ادا کیا۔ پاکستان کی قیادت نے مسلسل سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی۔ بالآخر انہی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا، جس میں اسرائیل کی طرف سے بھی کارروائیاں روکنے کا اعلان سامنے آیا۔
یہ جنگ بندی محض ایک سیاسی معاہدہ نہیں بلکہ ایک ایسے لمحے کی علامت ہے جب حکمت اور تدبر نے جنگ اور تباہی پر برتری حاصل کی۔ اطلاعات کے مطابق اس پیش رفت میں پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں اور رابطوں نے اہم کردار ادا کیا۔
یہ واقعہ اس حقیقت کو بھی واضح کرتا ہے کہ دنیا میں صرف طاقت کا مظاہرہ ہی اثر نہیں ڈالتا، بلکہ سنجیدہ اور مخلص سفارت کاری بھی بڑے بحرانوں کو ٹال سکتی ہے۔ پاکستان نے نہ صرف کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی بلکہ آئندہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو ایک ممکنہ مقام کے طور پر پیش کر کے امن کے دروازے کھولنے کی کوشش بھی کی۔
یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب قوموں کا اصل قد سامنے آتا ہے۔ پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ صرف ایک جغرافیائی ریاست نہیں بلکہ امن، وحدت اور انسانیت کی آواز بھی بن سکتا ہے۔ جب کچھ طاقتیں جنگ کے راستے پر چل رہی تھیں، پاکستان نے صبر، حکمت اور مکالمے کا راستہ اپنایا۔
ہر پاکستانی کے لیے یہ لمحہ فخر کا باعث ہونا چاہیے۔ اس لیے نہیں کہ ہمارے پاس بڑی طاقت ہے، بلکہ اس لیے کہ ہمارا ملک نفرت کے بجائے امن کی بات کرتا ہے۔ تاریخ میں وہی قومیں سرخرو ہوتی ہیں جو انسانیت کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اگر پاکستان اسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو وہ صرف اپنے خطے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے امید اور امن کی علامت بن سکتا ہے۔ کیونکہ آخرکار دنیا کو جنگیں نہیں بلکہ وہ قومیں یاد رہتی ہیں جو دلوں کو جوڑنے کا ہنر رکھتی ہیں۔
محمود چودھری