08/04/2026
جب دنیا تباہی کے دہانے پر تھی — پاکستان امن کی آواز بن کر ابھرا
دنیا کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قوموں کی عظمت صرف دولت، ہتھیاروں یا بڑی معیشتوں سے نہیں ناپی جاتی۔ اصل عظمت اس کردار سے ظاہر ہوتی ہے جو کوئی قوم مشکل ترین لمحات میں ادا کرتی ہے۔ جب دنیا جنگ کے دہانے پر کھڑی ہو، خوف اور بے یقینی ہر طرف پھیل رہی ہو اور انسانیت ایک بڑے بحران کے خطرے سے دوچار ہو، تب وہی قوم عظیم کہلاتی ہے جو آگ بجھانے کے لیے آگے بڑھتی ہے۔
گزشتہ دنوں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ حملوں اور جوابی حملوں کے بعد یہ خدشہ پیدا ہو چکا تھا کہ یہ تنازع ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عالمی معیشت، تیل کی ترسیل اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن کو خطرہ لاحق تھا۔ ایسے نازک حالات میں دنیا کو کسی ایسی آواز کی ضرورت تھی جو جنگ نہیں بلکہ امن کی بات کرے۔
اسی پس منظر میں پاکستان نے ایک ذمہ دار اور متوازن کردار ادا کیا۔ پاکستان کی قیادت نے مسلسل سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی۔ بالآخر انہی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا، جس میں اسرائیل کی طرف سے بھی کارروائیاں روکنے کا اعلان سامنے آیا۔
یہ جنگ بندی محض ایک سیاسی معاہدہ نہیں بلکہ ایک ایسے لمحے کی علامت ہے جب حکمت اور تدبر نے جنگ اور تباہی پر برتری حاصل کی۔ اطلاعات کے مطابق اس پیش رفت میں پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں اور رابطوں نے اہم کردار ادا کیا۔
یہ واقعہ اس حقیقت کو بھی واضح کرتا ہے کہ دنیا میں صرف طاقت کا مظاہرہ ہی اثر نہیں ڈالتا، بلکہ سنجیدہ اور مخلص سفارت کاری بھی بڑے بحرانوں کو ٹال سکتی ہے۔ پاکستان نے نہ صرف کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی بلکہ آئندہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو ایک ممکنہ مقام کے طور پر پیش کر کے امن کے دروازے کھولنے کی کوشش بھی کی۔
یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب قوموں کا اصل قد سامنے آتا ہے۔ پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ صرف ایک جغرافیائی ریاست نہیں بلکہ امن، وحدت اور انسانیت کی آواز بھی بن سکتا ہے۔ جب کچھ طاقتیں جنگ کے راستے پر چل رہی تھیں، پاکستان نے صبر، حکمت اور مکالمے کا راستہ اپنایا۔
ہر پاکستانی کے لیے یہ لمحہ فخر کا باعث ہونا چاہیے۔ اس لیے نہیں کہ ہمارے پاس بڑی طاقت ہے، بلکہ اس لیے کہ ہمارا ملک نفرت کے بجائے امن کی بات کرتا ہے۔ تاریخ میں وہی قومیں سرخرو ہوتی ہیں جو انسانیت کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اگر پاکستان اسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو وہ صرف اپنے خطے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے امید اور امن کی علامت بن سکتا ہے۔ کیونکہ آخرکار دنیا کو جنگیں نہیں بلکہ وہ قومیں یاد رہتی ہیں جو دلوں کو جوڑنے کا ہنر رکھتی ہیں۔
محمود چودھری
07/04/2026
ایک مضبوط ماں ہی ایک مضبوط معاشرہ بناتی ہے
کسی بھی معاشرے کی ترقی اور مضبوطی صرف بڑی عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی یا معاشی ترقی سے نہیں ہوتی بلکہ اس کی اصل بنیاد انسان کی تربیت پر ہوتی ہے۔ جب افراد اچھے کردار، مضبوط اقدار اور مثبت سوچ کے حامل ہوں تو معاشرہ بھی مضبوط اور مستحکم بن جاتا ہے۔ اس مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھنے میں سب سے اہم کردار ماں کا ہوتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ایک مضبوط ماں ہی ایک مضبوط معاشرہ بناتی ہے۔
ماں انسان کی زندگی کی پہلی استاد ہوتی ہے۔ بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو وہ سب سے پہلے اپنی ماں سے ہی سیکھتا ہے۔ بولنا، چلنا، محبت کرنا، احترام کرنا اور دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا—یہ سب چیزیں بچے اپنی ماں سے سیکھتے ہیں۔ ماں کی گود ہی وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں بچے کی شخصیت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔
اگر ماں باکردار، صابر، بااعتماد اور باشعور ہو تو وہ اپنے بچوں کی بہترین تربیت کر سکتی ہے۔ ایسی ماں اپنے بچوں کو صرف تعلیم ہی نہیں دیتی بلکہ انہیں اچھے اخلاق، ایمانداری، محنت اور دوسروں کے حقوق کا احترام بھی سکھاتی ہے۔ یہی بچے آگے چل کر معاشرے کے مفید شہری بنتے ہیں، جو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں اور معاشرے کی بہتری کے لیے کردار ادا کرتے ہیں۔
تاریخ میں ہمیں بے شمار مثالیں ملتی ہیں کہ عظیم شخصیات کے پیچھے ایک عظیم ماں کا کردار ہوتا ہے۔ بہت سے بڑے لیڈر، سائنسدان اور مفکرین ایسے گزرے ہیں جن کی کامیابی کے پیچھے ان کی ماں کی تربیت اور رہنمائی کا بڑا ہاتھ تھا۔ ایک سمجھدار اور باحوصلہ ماں اپنے بچوں کو مشکلات کا سامنا کرنے اور زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
ایک مضبوط ماں صرف اپنے بچوں کی پرورش ہی نہیں کرتی بلکہ وہ گھر کے ماحول کو بھی مثبت اور خوشگوار بناتی ہے۔ جب گھر میں محبت، احترام اور برداشت کا ماحول ہو تو بچے بھی انہی اقدار کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں۔ اس طرح گھر ایک ایسی جگہ بن جاتا ہے جہاں سے ایک صحت مند اور مثبت سوچ رکھنے والی نسل تیار ہوتی ہے۔
آج کے دور میں ماں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ بچے جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور مختلف سماجی اثرات سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ماں کو چاہیے کہ وہ بچوں کی رہنمائی کرے، انہیں صحیح اور غلط میں فرق سکھائے اور ان کی شخصیت کو مضبوط بنائے۔ ایک باشعور ماں اپنے بچوں کو نہ صرف علم دیتی ہے بلکہ انہیں زندگی کے اصول بھی سکھاتی ہے۔
آخر میں یہ بات واضح ہے کہ معاشرے کی اصل تعمیر گھر سے شروع ہوتی ہے اور گھر کی بنیاد ماں ہوتی ہے۔ اگر مائیں مضبوط، تعلیم یافتہ اور باشعور ہوں تو وہ ایسی نسل تیار کر سکتی ہیں جو نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرے۔
لہٰذا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ایک مضبوط ماں ہی ایک مضبوط معاشرہ بناتی ہے۔
07/04/2026
Health is our greatest wealth, yet we often ignore it until something goes wrong. Taking care of your health means making small but consistent choices every day—eating balanced meals, regular exercise, staying active, getting enough sleep, and managing stress. A healthy body supports a healthy mind, allowing you to live life fully and achieve your goals. Remember, prevention is always better than cure. Prioritize your well-being today for a stronger, happier tomorrow.
06/04/2026
بچوں کو اسکول سے پہلے کون سی سکلز اور عادات سکھانی چاہئیں؟
بچوں کی تعلیم اور تربیت کا آغاز صرف اسکول سے نہیں ہوتا بلکہ اس کی بنیاد گھر سے ہی پڑ جاتی ہے۔ جب بچہ پہلی بار اسکول جاتا ہے تو وہ صرف کتابیں پڑھنے کے لیے نہیں جاتا بلکہ وہاں اسے نئے ماحول، نئے لوگوں اور نئی ذمہ داریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر بچہ اسکول جانے سے پہلے کچھ بنیادی سکلز اور اچھی عادات سیکھ چکا ہو تو اس کے لیے اسکول کا ماحول سمجھنا اور اس میں ایڈجسٹ ہونا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ اس لیے والدین، خاص طور پر ماں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ بچے کو اسکول سے پہلے کچھ ضروری سکلز اور عادات سکھائیں۔
1. بنیادی سماجی عادات (Social Skills)
سب سے پہلے بچے کو بنیادی سماجی عادات سکھانا بہت ضروری ہے۔ بچے کو سلام کرنا، شکریہ ادا کرنا، معذرت کرنا اور دوسروں کے ساتھ احترام سے بات کرنا سکھایا جائے۔ اسی طرح بچے کو یہ بھی سکھایا جائے کہ وہ دوسروں کی بات غور سے سنے اور اپنی باری کا انتظار کرے۔ یہ عادات بچے کو اسکول میں دوست بنانے اور اساتذہ کے ساتھ اچھا تعلق قائم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
2. خود مختاری کی عادت (Self-Independence)
اسکول جانے سے پہلے بچے میں کچھ حد تک خود مختاری پیدا کرنا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر بچہ خود کپڑے پہن سکے، جوتے پہن سکے، اپنے کھلونے سمیٹ سکے اور کھانا کھاتے وقت بنیادی آداب کا خیال رکھ سکے۔ جب بچہ یہ چھوٹے چھوٹے کام خود کرنے لگتا ہے تو اس میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور وہ اسکول میں بھی خود کو زیادہ پراعتماد محسوس کرتا ہے۔
3. زبان اور گفتگو کی مہارت (Communication Skills)
بچے کو اپنی بات واضح انداز میں بیان کرنا بھی سکھایا جانا چاہیے۔ اس کے لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کے ساتھ زیادہ گفتگو کریں، اسے کہانیاں سنائیں اور اس کی باتوں کو غور سے سنیں۔ جب بچہ سوال پوچھتا ہے تو اس کے سوالات کو نظر انداز کرنے کے بجائے اسے سادہ انداز میں جواب دیا جائے۔ اس سے بچے کی زبان اور سمجھ بوجھ میں بہتری آتی ہے۔
4. سننے اور توجہ دینے کی صلاحیت
اسکول میں سیکھنے کے لیے بچے کا توجہ سے سننا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے گھر میں ہی بچے کو یہ عادت ڈالنی چاہیے کہ وہ چند منٹ تک کسی بات کو غور سے سنے۔ مثال کے طور پر کہانی سننا، ہدایات پر عمل کرنا یا کسی سرگرمی پر توجہ دینا۔ اس طرح بچہ آہستہ آہستہ اپنی توجہ کو بہتر طریقے سے مرکوز کرنا سیکھ لیتا ہے۔
5. نظم و ضبط اور روٹین
بچوں کے لیے ایک سادہ روزانہ روٹین بنانا بھی بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔ جیسے وقت پر سونا، وقت پر اٹھنا، کھانے کا وقت اور کھیلنے کا وقت۔ جب بچے کو ایک ترتیب اور نظم و ضبط کی عادت پڑ جاتی ہے تو اسکول کا شیڈول اپنانا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔
6. بنیادی تعلیمی مہارتیں
اسکول سے پہلے بچوں کو پڑھنا لکھنا مکمل طور پر سکھانا ضروری نہیں ہوتا، لیکن کچھ بنیادی چیزیں سکھانا مفید ہوتا ہے۔ جیسے رنگوں کی پہچان، اشکال (Shapes) کی شناخت، گنتی کے ابتدائی نمبرز، اور تصویروں کے ذریعے سادہ الفاظ کو سمجھنا۔ یہ چیزیں بچے کے ذہن کو سیکھنے کے لیے تیار کرتی ہیں۔
7. اچھے اخلاق اور رویہ
سب سے اہم چیز بچے کا اخلاق اور رویہ ہے۔ بچے کو سچ بولنا، دوسروں کے ساتھ محبت سے پیش آنا، شیئر کرنا اور مدد کرنا سکھانا چاہیے۔ جب بچے میں اچھے اخلاق پیدا ہوتے ہیں تو وہ نہ صرف اسکول میں بلکہ پوری زندگی میں کامیاب ہوتا ہے۔
نتیجہ
اسکول سے پہلے بچوں کو سکھائی جانے والی سکلز اور عادات ان کی پوری تعلیمی زندگی کی بنیاد بن جاتی ہیں۔ اگر والدین بچپن کے ابتدائی سالوں میں بچوں کی شخصیت پر توجہ دیں تو بچے نہ صرف اسکول میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں بلکہ ایک متوازن اور بااعتماد انسان بھی بنتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ایک مضبوط بنیاد ہی ایک مضبوط عمارت کو قائم رکھتی ہے، اور بچوں کی اچھی تربیت اسی مضبوط بنیاد کی مانند ہے۔
04/04/2026
ماں کی گود : بچے کا پہلا اسکول
دنیا میں ہر انسان کی زندگی کا پہلا اسکول کون سا ہوتا ہے؟
نہ کوئی عمارت، نہ کوئی کلاس روم اور نہ کوئی باقاعدہ ادارہ۔
انسان کی زندگی کا پہلا اور سب سے اہم اسکول ماں کی گود ہوتا ہے۔ اور اس اسکول کی پہلی اور سب سے اہم استاد ماں ہوتی ہے۔
بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو وہ بالکل خالی ذہن کے ساتھ آتا ہے۔ وہ بولنا نہیں جانتا، چلنا نہیں جانتا اور نہ ہی اسے کسی چیز کی سمجھ ہوتی ہے۔ اس کی زندگی کے ابتدائی سالوں میں سب سے زیادہ وقت وہ اپنی ماں کے ساتھ گزارتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچہ سب سے پہلے اپنی ماں سے سیکھتا ہے۔
بچہ اپنی ماں سے بولنا سیکھتا ہے، چلنا سیکھتا ہے، کھانا سیکھتا ہے اور آہستہ آہستہ زندگی کے دوسرے بنیادی ہنر بھی اسی سے سیکھتا ہے۔ لیکن ان تمام چیزوں سے زیادہ اہم وہ چیز ہے جو ماں غیر محسوس طریقے سے اپنے بچے کو سکھاتی ہے، اور وہ ہے رویّہ اور اخلاق۔
بچہ صرف وہ نہیں سیکھتا جو اسے سکھایا جاتا ہے بلکہ وہ وہ سب کچھ سیکھتا ہے جو وہ دیکھتا ہے۔ اگر ماں نرم مزاج ہے، صبر والی ہے، محبت کرنے والی ہے اور دوسروں کے ساتھ احترام سے پیش آتی ہے تو بچہ بھی انہی خوبیوں کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیتا ہے۔ ماں کی گفتگو، اس کا لہجہ، اس کا صبر اور اس کی محبت بچے کی شخصیت کو آہستہ آہستہ شکل دیتے ہیں۔
اس کے برعکس اگر ماں ہر وقت غصے میں رہتی ہے، چیخ کر بات کرتی ہے یا دوسروں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرتی ہے تو بچہ بھی یہی انداز سیکھ لیتا ہے۔ کیونکہ بچے کی فطرت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھ کر اس کی نقل کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ اس کے گھر میں ہو رہا ہے وہی درست طرزِ عمل ہے۔
اسی لیے ماں کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ اپنے بچے کو کھانا دے، کپڑے پہنائے یا اسکول بھیجے، بلکہ اس کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے کردار اور اپنے رویے کے ذریعے بچے کے لیے ایک مثال بنے۔
ہمیں اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں۔ کیا ہم انہیں صبر، محبت، احترام اور سچائی سکھا رہے ہیں؟ یا ہم غیر ارادی طور پر انہیں غصہ، بے صبری اور بدتمیزی سکھا رہے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ بچوں کی تربیت صرف نصیحتوں سے نہیں ہوتی۔ بچے وہ نہیں بنتے جو ہم انہیں کہتے ہیں بلکہ وہ وہی بنتے ہیں جو وہ ہمیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
لہٰذا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے بااخلاق، بااعتماد اور اچھے انسان بنیں تو ہمیں خود بھی اپنے کردار کو بہتر بنانا ہوگا۔ کیونکہ ایک ماں کا کردار اور اس کی شخصیت ہی وہ بنیاد ہوتی ہے جس پر بچے کی پوری زندگی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
یاد رکھیں، ایک اچھی ماں نہ صرف ایک اچھے بچے کی بلکہ ایک بہتر معاشرے کی بھی بنیاد رکھتی ہے۔
03/04/2026
بچے کی تربیت کب شروع ہوتی ہے؟
اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بچے کی تربیت اس وقت شروع ہوتی ہے جب بچہ بولنے یا سمجھنے لگتا ہے، یا جب وہ اسکول جانے لگتا ہے۔ لیکن اسلام ہمیں ایک بہت گہری اور اہم حقیقت سکھاتا ہے کہ بچے کی تربیت دراصل اس کی پیدائش سے بھی پہلے شروع ہو جاتی ہے۔
اسلام میں انسان کی شخصیت کو بنانے کے لیے صرف ظاہری تعلیم کو اہمیت نہیں دی گئی بلکہ اس کی روحانی، اخلاقی اور ماحول کی بنیاد کو بھی بہت اہم سمجھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام والدین کو اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ وہ بچے کی پیدائش سے پہلے ہی اپنی زندگی کو درست کریں اور ایک پاکیزہ ماحول پیدا کریں۔
حلال رزق کی اہمیت
بچے کی تربیت میں سب سے پہلی اور بنیادی چیز حلال رزق ہے۔ اسلام میں حلال اور حرام کی بہت واضح تعلیمات دی گئی ہیں۔ جو رزق انسان کھاتا ہے وہ اس کے جسم اور اس کی روح دونوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اگر والدین اپنی زندگی میں حلال کمائی کو اختیار کریں تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف ان کی اپنی زندگی پر بلکہ ان کی اولاد پر بھی پڑتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب انسان حلال رزق کھاتا ہے تو اس کی دعائیں قبول ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور اس کی زندگی میں برکت پیدا ہوتی ہے۔
اسی لیے علما کہتے ہیں کہ بچے کی تربیت کا آغاز اس وقت ہو جاتا ہے جب والدین اپنی زندگی میں حلال کمائی اور پاکیزہ طرزِ زندگی اختیار کرتے ہیں۔
ماں کی روحانی حالت
اسلام میں ماں کے مقام کو بہت بلند رکھا گیا ہے۔ ماں صرف بچے کو جنم نہیں دیتی بلکہ وہ اس کی شخصیت کی بنیاد بھی رکھتی ہے۔
جب ایک عورت حاملہ ہوتی ہے تو اس کی روحانی کیفیت، اس کے خیالات اور اس کی عبادات کا اثر بچے پر پڑتا ہے۔ اگر ماں قرآن کی تلاوت کرتی ہے، دعا کرتی ہے اور اللہ سے تعلق مضبوط رکھتی ہے تو یہ روحانی ماحول بچے تک بھی منتقل ہوتا ہے۔
اسی لیے ہمارے معاشرے میں بزرگ ہمیشہ یہ نصیحت کرتے ہیں کہ حاملہ عورت کو زیادہ سے زیادہ ذکر، دعا اور قرآن کی تلاوت کرنی چاہیے تاکہ بچہ بھی ایک پاکیزہ اور نیک ماحول میں پروان چڑھے۔
گھر کا ماحول
بچے کی شخصیت بنانے میں گھر کا ماحول بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر گھر میں محبت، سکون، احترام اور دین داری ہو تو بچہ بھی انہی اقدار کے ساتھ بڑا ہوتا ہے۔
لیکن اگر گھر میں ہر وقت جھگڑا، غصہ اور منفی گفتگو ہو تو اس کا اثر بچے کی شخصیت پر بھی پڑتا ہے۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے اردگرد دیکھتے ہیں۔
اسی لیے اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ گھر کو ایک ایسا ماحول بنایا جائے جہاں اخلاق، محبت اور دین کی تعلیمات موجود ہوں۔
نتیجہ
اسلام کے مطابق بچے کی تربیت صرف اسکول یا کتابوں سے نہیں ہوتی بلکہ اس کی بنیاد اس سے کہیں پہلے رکھ دی جاتی ہے۔
جب والدین حلال رزق کماتے ہیں، ماں اپنی روحانیت کو مضبوط رکھتی ہے اور گھر کا ماحول پاکیزہ اور مثبت ہوتا ہے تو بچہ بھی انہی خوبیوں کے ساتھ پروان چڑھتا ہے۔
لہٰذا اگر ہم ایک اچھی نسل چاہتے ہیں تو ہمیں بچے کی پیدائش کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کی تربیت کی تیاری اس کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی شروع کر دینی چاہیے۔
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ
ایک اچھی تربیت یافتہ نسل ہی ایک بہتر معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔
02/04/2026
اکثر جب شادی ہوتی ہے تو ہر گھر میں ایک ہی خواہش ہوتی ہے…
اللہ ہمیں اولاد عطا کرے۔
لیکن ایک اہم سوال ہے۔
کیا ہم صرف اولاد چاہتے ہیں؟
یا ہم نیک اولاد چاہتے ہیں؟
قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کے نبیوں نے صرف اولاد نہیں مانگی بلکہ نیک اور صالح اولاد کی دعا مانگی۔
حضرت ابراہیمؑ نے دعا کی:
رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ
ترجمہ:
اے میرے رب! مجھے نیک لوگوں میں سے اولاد عطا فرما۔
(سورۃ الصافات 100)
اسی طرح حضرت زکریاؑ نے دعا کی:
رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً
ترجمہ:
اے میرے رب! مجھے اپنی طرف سے پاکیزہ اور نیک اولاد عطا فرما۔
(سورۃ آل عمران 38)
اور قرآن ہمیں یہ دعا بھی سکھاتا ہے:
رَبَّنَا ہَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعۡیُنٍ وَّ اجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِیۡنَ اِمَامًا
ترجمہ:
اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا ۔
(سورۃ الفرقان 74)
آج ایک اور اہم بات بھی سمجھ لیں۔
اکثر لوگ اولاد کی خواہش تو کرتے ہیں…
لیکن بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اولاد کی تربیت کے لیے پہلے سے علم حاصل کرتے ہیں۔
حالانکہ ایک بچہ صرف پیدا نہیں ہوتا…
اسے تربیت دی جاتی ہے۔
اسی لیے Mothers Forum کا مقصد یہی ہے کہ مائیں صرف اولاد کی خواہش نہ کریں بلکہ نیک، باکردار اور باصلاحیت نسل کی تربیت کے لیے تیار ہوں۔
کیونکہ…
اچھی مائیں ہی ایک اچھی نسل بناتی ہیں۔
✨ Empowering Mothers, Shaping Futures
25/03/2026
کیا آپ اپنا بزنس شروع کرنا چاہتے ہیں؟
یا AI کی مدد سے آن لائن کمائی کے طریقے سیکھنا چاہتے ہیں؟
یہ 3 روزہ خصوصی ورکشاپ آپ کو سکھائے گی:
• بزنس شروع کرنے کے بنیادی اصول
• کم سرمائے سے بزنس آئیڈیاز
۔AI ٹولز کا استعمال
• آن لائن کمائی اور فری لانسنگ
👩🎓 خاص طور پر: Students • Youth • Housewives
📅 30 March – 1 April 2026
⏰ 3:00 PM – 5:00 PM
📍 Physical Classes:
113-D Satellite Town, Gujranwala
💻 Online Classes also available
💰 Workshop Fee: Rs. 2000
📞 Registration / Information:
0321 35 34 600
⚠️ Limited Seats – Register Now!