Wasif Jahan e Fikar

Wasif Jahan e Fikar

Share

Works at Fikr e Wasif Ali Wasif r.a

Photos from Wasif Jahan e Fikar's post 06/08/2026

*اللہ کو بھول جانے والے لوگ اللہ کو تو یاد ہیں ۔ وہ جنہوں نے اللہ کو نظر انداز کر دیا ، اللہ انہیں نظر انداز نہیں کرتا ۔ وہ جنہوں نے اللہ کو چھوڑ دیا ، اللہ انہیں نہیں چھوڑتا ۔ اللہ نے پیغمبر بھیجے کہ ان ناسمجھ لوگوں کو ہدایت عطا فرمائی جائے ۔ ان لوگوں کا استحقاق نہیں ، لیکن ان پر رحمت کرنا رحمتوں والے کی شان ہے ۔ وہ اتنی بڑی رات کے اندر روشنی کا چراغ جلاتا ہے ۔ وہ کفر کے اندھیروں میں ایمان کے نور کا جلوہ دکھاتا ہے
رحمتِ حق اس شخص کی تلاش میں رہتی ہے جس کی آنکھ پُرنم رہتی ہے ۔ آنسوٶں کے قریب رہنے والے رحمتِ حق کے قریب ہیں ۔

(حرف حرف حقیقت)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

Photos from Wasif Jahan e Fikar's post 01/08/2026

غلام رسول صاحب
السلام علیکم
*آپ کا خط پڑھ کر خوشی ہوئی ۔ انسان ، انسان کی خدمت کے لئے ہی تو بنا ہے ۔ عبادت خدا کی ، محبت محبوب خدا ؐ کی ، خدمت انسان کی اور عاقبت اپنی ۔ یہی نسخہ کیمیا ہے ۔ انسان زندگی میں جو کچھ حاصل کرتا ہے جو نوادرات جمع کرتا ہے ۔ جو مال سمیٹتا ہے ، دراصل اس میں کسی نہ کسی انسان کا حصہ ہوتا ہے ۔ حاصل کرنا بڑی بات نہیں ، لیکن حق ، حق دار کو نہ پہنچانا بہت غلطی کی بات ہے ۔ اپنی جمع کی ہوئی دولت ضرور اپنا نصیب تھا ، لیکن اس نصیب کو خوش نصیبی بنانے کے لیے اس میں محروم لوگوں کو شامل کرنا بہت ضروری ہے اور اگر کسی کو شامل نہ کیا جائے تو یہ اپنی انا کا نذرانہ بن جاتا ہے اور یوں یہ نصیب بد نصیبی بن کے رہ جاتا ہے ۔ ہم اپنی اولاد سے زیادہ حد تک وابستہ ہوتے ہیں ۔ ہم جانتے نہیں کہ یہ سارا کرم اولاد دینے والے کا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر اولاد میں یا اس کے کردار میں یا اطاعت میں کمی بیشی ہے ، ہمیں جان لینا چاہیے کہ ہم سے ہی کوئی خطا ہو گئ ہے کہ ہم ان کو مناسب ادب شناس نہ بنا سکے ۔ ہم انگریزی سکولوں میں پڑھتے ہیں ۔ نتیجہ وہی ہوتا ہے جو ہونا چاہیے ۔ لیکن الله کا فضل جو پہلے کام آیا ، ہر دَور میں کام آیا ، ہر مشکل میں کام آیا ، پھر کام آئے گا
حضرت یوسف علیہ السلام ایک دفعہ قید خانے میں گھبرانے ۔ سوچ رہے تھے کہ یہاں سے کیسے نکلیں گے تو کہنے والے کہتے ہیں کہ انہیں ایک آواز آئی، یہاں سے تمہیں وہی نکالے گا ، جس نے کنوئیں سے نکالا تھا ، آپ سجدے میں گر گئے ۔ سلام ہو حضرت یوسف علیہ السلام پر ، انبیائے کرام علیہم السلام پر اور ہدیہ درود سلام ہو حضورؐ کی بارگاہ میں ۔ بس! یہی ہمارا حاصل ہے اور اسی کی ہمیں ضرورت ہے جو چیز یہاں رہ جائے گی ، اس کو اب چھوڑ ہی دیا جائے تو بہتر ہے ۔ اس سے پہلے کہ ہم سے سب کچھ چھن جائے ، ہم خود ہی اسے چھوڑ دیتے ہیں اور جو کچھ ساتھ جانا ہے ، اسے ہم ابھی سے ساتھ لے لیں تو یہی بہتر ہے
میں آپ کے خط سے نکل کر نہ جانے کس خیال میں کہاں چلا گیا ۔ اللہ آپ کو دولت سکون عطا فرمائے اور آپ سے جلد ملاقات ہو گی ۔ رو برو بات ہو گی اور انسان ، انسان کے کام آنے کے لیے جو کچھ ہو سکا، کرے گا ۔ سب لوگ ، لوگوں پر Depend کرتے ہیں ۔ سب کو سب کی ضرورت ہے بلکہ ہر انسان سب انسان ہیں ۔ مَیں ، مَیں نہیں رہتا اگر میرا گردو پیش نہ رہے ۔ مَیں اپنے ماحول کو مَیں کہتا ہوں ۔ یہی میرا ”مَیں“ ہے ۔ میرا ماضی ، جو گزر گیا میرا ”مَیں“ ہے ۔ وہ مستقبل جو ابھی آیا نہیں ، وہ بھی ”مَیں“ ہے ۔ میری حسرتیں ، میری آرزوئیں بلکہ میری عبادتیں اور میرے کردہ اور ناکردہ اور ناکردہ گناہ میں ہی ہے ۔ یہ مَیں افلاک چیر جاتا ہے اور کبھی خاک نشین ہو جاتا ہے مَیں جو جلوے دیکھتا ہوں ، وہ میرے لئے ہیں ۔ میرا خدا سب کا خدا ، لیکن میرا خدا ہے ۔ ہر طرف میں ہی ہوں اور سچ پوچھو تو میں کہیں نہیں ۔ مَیں پھر کہوں گا کہ مَیں کہ مَیں آپ کے خط سے باہر نکل چکا ہوں ۔ لہٰذا اس بات کو یہیں Abruptly روک دینا ہی بہتر ہے کہ آگے خاموش رہنے کا حکم ہے ۔ صرف آپ کو یہ بتانا ہے کہ آپ ذرا حوصلہ رکھیں ، اس کی مزید رحمتیں حاصل کرنے کے لئے ۔ آپ ایک مناسب انسان ہیں ۔ اپنے پر غرور نہ کرو ۔ عاجزی کرو لیکن اپنی تحقیر بھی نہ کرو ۔ خدا آپ کو، بس! سلامت رکھے

والسلام
واصف علی واصف

(کتاب:- گمنام ادیب ۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 11 ، 12)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

Photos from Wasif Jahan e Fikar's post 29/07/2026

فرمودات : حضرت واصف علی واصف رح

18/07/2026

بابر صاحب

السلام علیکم

*آپ کا ارجنٹ خط ملا ۔ ابھی تھوڑا توقف کرو ۔ آپ کے ساتھ کوئی وعدہ نہیں کیا جا سکتا ۔ آپ بھی ذرا احتیاط سے کام لو اور بقول اقبال ؒ

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی
اپنے پہلو میں اسے اور ذرا تھام ابھی

عزیز من! آپ کی طلب آپ کو مبارک ہے ۔ آپ کا انداز سعادت مندی ہے ۔ آپ کے لئے کوئی فوری نسخہ تجویز کرنا اس لئے کسی کے بس میں نہیں کہ آپ ڈائرکٹ کیس ہو ۔ آپ مرکز کے ایمرجنسی وارڈ میں ہو ۔ بس یاد رکھو کہ آپ کا جو حال ہے ، یہی عطا ہے اور اس حال کے ذریعے کچھ اور مانگنا اس لئے بھی زیب نہیں دیتا کہ دینے والے یقیناً جاننے والے ہوتے ہیں ۔ جس نے فریاد دی ہے ، اسی نے تو جلوہ دکھانا ہے ۔ فریاد مل گئی ، بس جلوے کے انتظار میں خاموش ہو جاؤ اور دیکھو کہ کیا ہوتا ہے ۔ مجھ سے رابطہ رکھو کیونکہ یہ میرے لئے بھی ایک بہت بڑی بات ہے ۔ اتنی چھوٹی عمر میں اتنا بڑا اعزاز ۔ شکر کرو اور صبر کرو ۔ درود شریف پڑھو اور کثرت سے پڑھو ۔ آپ کے ساتھ کبھی رابطہ ہوا ، ٹیلی فون وغیرہ کا تو آپ سے کچھ بات ہو گی ۔ آپ کسی ایک انسان سے وابستہ ہو جائیں تو بہتر ہے ۔ آپ کو نقصان نہیں ہو گا ۔ بے تعلق خدمت اور بے تعلق تحقیق سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ آپ تحقیق نہ کرو ، آپ تعلق پیدا کرو ، کسی ایک انسان کے ساتھ تا کہ آپ اس کی اطاعت کر سکو اور تحقیق اور تنقید کے اذیت ناک کام سے بچ سکو ۔ راز چھپا کے رکھا جاتا ہے ۔ ظاہری عمل قابلِ تنقید ہو سکتا ہے لیکن آپ کو گوہر مراد سے غرض ہے یعنی اس کا عمل وہ جانے ، ہم اپنا فرض پورا کریں گے اگر مشکل ہو تو استخارہ کرو اور سوال کرو کہ اے اللہ! اے جاننے والے اللہ! ہر شے کا علم رکھنے والے اللہ! مجھے کسی روحانی پیشوا سے ظاہری رابطہ عنایت فرما ، تا کہ میں ادب آداب کے تقاضے جان سکوں ، مجھ پر رحم فرما ۔ آپ عشاء کے بعد دعا کیا کرو اور سو جاؤ ، اپنی زبان میں ، استخارہ کے مقرر شدہ الفاظ میں بھی ۔ انشاءاللہ تعالٰی کرم ہو جائے گا ۔ گھبرانا نہیں ۔ ایک زندگی تو کیا چیز ہے ، ہزار زندگیاں بھی انتظار کرنا پڑے تو اس منزل کے لئے بہت قلیل انتظار ہے ۔ خدا تمہیں اپنے ذوق و شوق کے ساتھ سلامت رکھے ۔

والسلام
واصف علی واصف

(گمنام ادیب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 51 ، 52)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

04/07/2026

سوال:-

اس سال کا محرم آیا ہے تو شہادتِ امام حسین ؑ کے بارے میں کچھ فرمائیں۔

جواب:-

*پہلی بات تو یہ ہے کہ اس سال کا جو محرم ہے ، شہادت اس میں نہیں ہوئی بلکہ شہادت کا واقعہ پہلے کا ہے ۔ جن لوگوں کو امام عالی مقام ؑ کے غم سے تعارف ہے ان کو تو ہمیشہ کے لئے غم ہے ، وہ تو ہمیشہ کے لئے محرم میں داخل ہو گئے ۔ غم والے انسان کے لئے ہر موسم ہی غم کا موسم ہے ۔ اگر کسی پر کوئی غم گزرے ، کوئی عزیز رشتہ دار فوت ہو جائے اور اگر اسے کہو کہ یہ جو غم آج گزرا ہے ، تم اگلے سال اس کی یاد منا لینا تو کیا وہ مانے گا ۔ Suffering والے کے لئے Every season is a of suffering غم والوں کے لئے ہر دن ہی غم کا ہے ۔ امام ؑ والوں کے لئے ہر ہفتہ ہی امام ؑ کا ہے ۔ وہ جو موسمی بخار ہوتا ہے ، اس سے میرا تعلق کوئی نہیں ہے ۔ کسی کی یاد میں دن منانا صرف جمیعتِ اسلام کے لئے ہے تا کہ مسلمانوں کو اپنی تاریخ یاد رہے ، اس کا غم سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ غم والوں کے لئے غم ابدی ہے ، غم لازوال ہے ، غم ان کے لئے عرفان کا باعث ہے ، غم ہی ان کا راستہ ہے ۔

اے دل بگیر دامنِ سلطانِ اولیاء
یعنی حسینؑ ابنِ علیؑ جانِ اولیاء

جن کے لئے یہ واقعہ عرفان کا راستہ ہے ، یہ راستہ اگلے سال کیسے کُھلے گا ۔ اگر آپ صاحبِ عرفان ہیں تو یہ راستہ آج سے ہی کُھلے گا ۔ عرس پر اپنے مرشد کا نام صرف متولی یا مجاور مناتے ہیں اور جو محبوب ہوتے ہیں ان کا مرشد کے ساتھ روز ہی یومِ وصال ہوتا ہے ۔ اس لئے اگر امام پاک ؑ آپ کو محبوب نہ ہوں تو ان کی یاد نہ منایا کرو ۔ اگر کوئی محبوب ہو تو یاد کا تعلق دل کے ساتھ ہے ۔ اگر دل میں غم آ گیا ہے تو غم کو Season کے حساب سے مت منایا کرو ۔ اب آپ دیکھو کہ مسلمان پانچ وقت نماز پڑھتا ہے لیکن مومن نماز پڑھتا ہے ہمہ وقت ۔ مومن مسجد سے باہر ہو تو مسجد میں آنے کی تمنا رکھتا ہے اور کچھ مسلمان ایسے ہوتے ہیں کہ اگر مسجد میں ہوں تو مسجد سے باہر جانے کی تمنا رکھتے ہیں ۔ تمنا سے ہی پتہ چلتا ہے کہ کوئی مسلمان ہے یا مومن ہے ۔ مومن کا دل کرتا ہے کہ ہر وقت مسجد میں بیٹھا رہے لیکن اللہ کا حکم سمجھ کے بچوں کے لئے رزق کمانے باہر جاتا ہے ۔ عام بندے کے لئے حکم ہے کہ مسجد جا کے نماز پڑھو اور دوسرے کے لئے حکم ہے کہ مسجد سے جاوء اور رزق کماوء ۔ اگر تمہیں یہ فرق سمجھ آ گیا تو امام عالی مقام ؑ کی بات سمجھ آ جائے گی۔
دوسری بات یہ ہے کہ امام عالی مقام ؑ کی یاد کو اس انداز سے منانا کہ ان کے ساتھ ظلم ہوا ہے تو پھر ایک ظالم کو بھی ماننا پڑتا ہے ۔ لیکن جو فقراء ہیں وہ کسی کو ظالم نہیں مانتے ، وہ سبب کے قائل ہی نہیں ہیں ، وہ مسبب کے قائل ہیں ۔ اگر کسی کو پتھر لگے تو وہ کہتے ہیں کہ پتھر کو چھوڑو ، بھیجنے والے کا نام بتاوء ، وہ دراصل تقدیر ہے ۔ تو یہاں وہ رک جاتے ہیں ، نہ پتھر سے جھگڑا اور نہ پتھر مارنے والے کے نام سے جھگڑا ۔ وہ کہتا ہے کہ یہ مالک کی طرف سے ہوا ہے ، اگر وہ خود ہے تو بسم اللہ ۔
تیسری بات یہ ہے کہ امام عالی مقام ؑ کا درجہ آپ لوگوں کے شعور میں نہیں ہے ۔ آپ کہتے ہیں کہ ان کا درجہ صبر کی وجہ سے ہے اور آپ بے صبرے ہوئے جا رہے ہو ۔ خود بے صبر ہو اور جس کی یاد منا رہے ہو ان کا مقام صبر کی وجہ سے ہے ۔ تم کہتے ہو کہ امام عالی مقام ؑ ایک عظیم ہستی تھے ۔ He was a great man اور اگر مقامِ صبر کو مقامِ وحشت بنا لو تو تم پر امام ؑ کی یاد منانا فرض نہیں ہے ۔ جو لوگ تسلیم و رضا کے قائل نہیں ہیں وہ لوگ کسی امام ؑ کی یاد نہیں منا سکتے ۔ اور جو لوگ تسلیم و رضا کے قائل ہیں وہ امام ؑ کی عظمت کے قائل ہیں ۔ امام ؑ کی عظمت یہ ہے کہ بندے اور خدا کا کھیل ہے ، اس میں درمیان میں کوئی اور چیز نہیں ہے ۔ یہ صرف بندے اور مالک کے درمیان بات ہو رہی ہے کہ اے میرے مالک! تُو نے اگر میرے ذمے یہ قرض لگایا ہے تو یہ میں نے ادا کر دیا ہے ۔ تاریخ میں وہ بندہ موجود ہے ، یزید ، اس کے بارے میں جو بھی کہو ٹھیک ہے بلکہ وہ اتنا نامناسب نام ہے کہ اس کا نام ہی نہ لو ۔ لیکن یہ جو امام پاک ؑ کے ساتھ تسلیم و رضا کا واقعہ ہو رہا ہے ، یہ واقعہ اللہ کے اپنے حکم کے مطابق تسلیم و رضا والوں کو کسی ایسے مقام سے گزارنا ہے جو دیکھنے والوں کے لئے ایک اعلیٰ مقام ہو ۔
اگر آپ ظُلم کی بات کہتے ہو تو مَیں آپ سے یہ دعا کراتا ہوں کہ خدا کرے کہ ایسا ظلم کسی پر نہ ہو ۔ اگر آپ آمین کہتے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کرے ایسا مقام کسی کو نہ ملے ۔ اگر آپ یہ دُعا کرا رہے تھے کہ خدا کرے کہ یہ مقام عام ہو اور اگر مقام عام ہونا چاہیے تو پھر شہادت کے لئے چھری کے نیچے سے گزرنا پڑے گا ۔ اگر شہادت مقام ہے تو پھر چھری والے کے لئے تو لعنت کا الگ شعبہ ہے لیکن تم عروج والے انسان کو اس سارے واقعہ کے تناظر میں پہچانو کہ چھری نے کیا کام کیا؟ چھری نے یہ کام کیا کہ بندے کو حق سے ملا دیا ۔ چھری والے کے لئے تو الگ بات ہے کہ اس کو سزا ملے گی ۔ بات یہ ہے کہ اسلام میں واحد مقام تھا شہادتِ عظمٰی کا ، ایک مقام ، اس کی ایک اپنی Term ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مقام اس لئے رکھا ہوا تھا کہ دنیا کو پتہ چلے کہ اسلام کے اندر کتنے ایثار ہو سکتے ہیں ، یعنی جوانوں سے لے کر شیر خوار بچوں تک کی قربانی دی گئی ۔
آپ لوگوں کو سبق یہ ملتا ہے کہ امام کے کلمہء حق کہنے میں کوئی بھائی رکاوٹ نہیں بنا ، بھانجا بھتیجا رکاوٹ نہیں بنا اپنی اولاد رکاوٹ نہیں بنی ، نہ اصغر ؑ نہ اکبر ؑ ، اپنی جان رکاوٹ نہیں بنی ۔ اسے کہتے ہیں کلمہء حق کہنا ۔ اگر تم کلمہء حق نہیں کہنا چاہتے اور صرف یادیں منانے والے ہو تو تم امام ؑ کے دشمن ہو ۔ وہ لوگ امام ؑ کو نہیں مانتے جو سچ نہیں کہتے ۔ وہ لوگ امام ؑ کو نہیں مانتے جو کلمہء حق کہنے والے نہیں ہیں ۔

جن لوگوں کو کلمہء حق کہنے میں اولاد رکاوٹ بن رہی ہے وہ امام ؑ کے قائل نہیں ہیں ۔ تو امام ؑ کی یاد منانے والا وہ ہے جس کے دل میں کربلا ہو ۔ اور جن کی پیشانی میں سجدہ ہو اور جن کو تسلیم و رضا کا سبق ملا ہوا ہو وہ امام ؑ کی یاد منا سکتے ہیں ۔ جن لوگوں کو تسلیم و رضا کا سبق نہیں ملا ان کو امام ؑ کی یاد سے کیا واسطہ ۔ امام ؑ کی یاد کوئی Narrative نہیں ہے ، واقعہ نہیں ہے ، داستان نہیں ہے ، بیانیہ نہیں ہے ، رونے کا نام نہیں ہے بلکہ اس خیال میں ڈھل جانے کا نام ہے ۔ اگر آپ اس خیال میں ڈھل جاوء تو پھر آپ کو بات سمجھ آ سکتی ہے ۔
لوگ کہتے رہتے ہیں کہ یہ دَور یزید کا دَور ہے تو یزید کا ذکر یا کسی کو یزید کہنا یا کسی ملکی حکومت میں کسی یزید کو دریافت کرنا ، یہ اس شخص کا کام ہے جو امام بن کے آیا ہو اور جو جان پیش کر سکے ۔ ایسا شخص کہہ سکتا ہے کہ فلاں شخص جھوٹا ہے اور وہ جابر سلطان کے سامنے کلمہء حق کہہ سکتا ہے ، صرف وہ یہ شہادت دے سکتا ہے اور شہادت کا معنی ہے گواہی دینا ۔ اور امام عالی مقام ؑ نے وہ گواہی پیش کی ہے جو کائنات میں آج تک سند ہے ۔ ان کی شہادت ایک معتبر شہادت ہے اور وہ جاننے والے ہیں اور پہچاننے والے ہیں ۔ وہ خاندان ہی ایسا ہے کہ جس نے نبوت پر اور رسالت پر جاں نثاری کے فرائض سر انجام دیئے ہیں ۔ یہ علی ؑ کے کنبے کی بات ہو رہی ہے ۔ امام علی ؑ نے خود شہادت پائی ۔ کیا ان کے پاس طاقت تھی؟ آپ خود جانتے ہو کہ ذوالفقار ان کے پاس تھی ۔ جو لوگ جاننے والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ سارا عرفان حضرت علی ؑ بانٹتے ہیں اور دُور کی بات جاننے والے ہیں چاہے وہ تاریخی ہو یا جغرافیائی ۔ مثلاً چودہ سو سال کے بعد کے واقعات بھی وہ آپ سے Deal کر سکتے ہیں یعنی کہ حضرت علی ؑ اپنے یاد کرنے والے کی پکار کو آج بھی سنتے ہیں ۔ وہ اتنی طاقت والے ہیں کہ اقبال ؒ نے کہا تھا

جنہیں نانِ جویں بخشی ہے تُو نے
انہیں بازوئے حیدر بھی عطا کر

اور یہ بھی کہا کہ

اسلام کے دامن میں بس دو ہی تو چیزیں ہیں
اک سجدہء شبیریؑ اک ضربِ یدّاللہی

اب آپ دیکھو کہ حضرت علی ؑ کی شہادت ہو گئی ۔ خنجر کے لگنے میں اور جان کے نکلنے میں آپ کے پاس دو لفظ کہنے کا اختیار تھا ۔ آپ اس دوران اللہ سے کوئی بات کر سکتے تھے یا اسلام کے لئے دعا کر سکتے تھے یا بچوں کو کوئی وصیت کر سکتے تھے ۔ لیکن آپ نے دو لفظ یہ کہے کہ میں نے اپنے قاتل کو معاف کیا ۔ جتنی طاقت والی وہ ذات تھی اس سے زیادہ طاقت ور یہ بات انہوں نے کہہ دی ۔ اس کو کہتے ہیں شہادت اور اسے کہتے ہیں امامت ۔ اگر تم اپنے دشمن یا اپنے قاتل کو معاف نہیں کر سکتے تو تمہیں امام ؑ کا نام لینے کا کوئی حق نہیں ۔ علی ؑ ان لوگوں کے امام ہیں جنہوں نے اپنے قاتلوں کو معاف کر دیا اور ان لوگوں کے امام ہیں جنہوں نے اپنی قوت کے باوجود اللہ کے فیصلے کو تسلیم کرنے میں خاموشی اختیار کی ۔
تو جس طرح نبی ﷺ خاتم ، نبوت کے ہیں تو علی ؑ خاتم خلافت کے ہیں ۔ خلافت آپ ؑ پر ختم ہو گئ ہے ۔ اگر نبئ کریم ﷺ سب سے بعد آنے کے باوجود سب سے بڑے ہیں تو وہ خلافت میں سب سے بعد آنے کے باوجود سب سے بڑے ہو سکتے ہیں ۔ اس میں تفہیم اور تحقیق کی بات ہی کوئی نہیں ہے ۔ آپ روز ہی مشاعرے کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ بڑا شاعر آخر میں آتا ہے ۔ وہ لوگ جو یہ کہتے رہتے ہیں کہ ان کو پہلے آنا چاہیے تھا یا وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ان کو بعد میں آنا چاہیے وہ ماننے والے نہیں ہیں ۔ جو امامؑ کی بات کو نہ مانے اور ان کے فیصلے کو نہ مانے وہ امامؑ کے ماننے والے نہیں ہیں ۔ امامؑ نے جو فیصلے کر دیئے ہیں تم ان فیصلوں کو کیسے جھٹلاتے ہو ۔ قوت والا جو بات مان گیا وہ تمہیں بھی ماننی چاہیے ۔ روحانی لوگوں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے بعد کا مقام کیوں قبول فرمایا ، آپ ؑ کو تو پہلے آنا چاہیے تھا ۔ تو آپ ؑ نے فرمایا سب سے بڑے نبی ﷺ بعد میں آئے ہیں میں پہلے کیسے آ جاتا لیکن مجھ سے پہلے مقام بھی اپنا ہی مقام ہے ۔
اسلام تو ایک ہے اور تم نے اسلام میں Bifurcation کر دی ۔ تفریق کر دی ۔ تمہارا امام ؑ کی یاد منانے سے کوئی تعلق نہیں ۔ غلام یزید کہنے والے دوزخ میں جائیں گے ۔ جن لوگوں نے یہ نام رکھا یا کوئی کہتا ہے کہ مَیں اپنے بیٹے کا ولیمہ محرم میں کروں گا ، وہ سیدھا سادا لعنتی ہے ۔ مسلمانوں کے جو تاریخی جذبات ہیں چاہے وہ حقیقی نہ بھی ہوں ، ان جذبات کو مجروح کرنے والا عرفان نہیں پا سکتا ۔ اس شخص کو علم تو مل سکتا ہے لیکن عرفان نہیں مل سکتا ۔
تو تمام طاقتوں کے باوجود حضرت علی ؑ کی اپنی شہادت ، امام حسن ؑ کی شہادت اور پھر امام حسینؑ کی شہادت ہوئی ۔ اسلام پر جانثاری کے یہ عظیم واقعات ہی دراصل اسلام کی اصل قوت ہیں ۔ تو آپ اسلام کی اصل قوت کو نہیں پہچانتے اور امامؑ کی یاد کو تقریب کے طور پر مناتے ہو ، اور Ritual کے طور پر مناتے ہو یعنی محرم آ گیا ، لباس کالا کر لیا ، واقعات خراب کر لیے ، خیال کہیں اور نظر کہیں ، دل افسردہ اور نظریں اِدھر اُدھر ۔ ان تمام واقعات میں بڑی احتیاط چاہیے ۔
غم کو غصہ نہ بناٶ ۔ جو شخص غم کو غصہ نہ بنائے وہ امامؑ کا ساتھی ہے ۔ غم کو غصہ بنانے والے نہ امامؑ کے ساتھی ہیں اور نہ اسلام کے ساتھی ہیں ۔ غم کو غصہ وہ بناتا ہے جو کسی تقدیر کو نہیں مانتا اور جو کسی خدا کو نہیں مانتا ۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا بیٹا یا بھائی اللہ نے فوت کیا ہے تو اب وہ جھگڑا کس سے کرے گا ۔ امام ؑ کی عظمت شہادت کے مقام تک پہنچنے کی وجہ سے ہے اور تم انہیں اس مقام سے بچانا چاہتے ہو ۔
سال کے بعد امام ؑ کا غم مناتے ہو ۔ اگر امام ؑ کا غم ہے تو ہمہ حال منایا کرو ۔ کربلا آپ کے دل میں ہونی چاہیے ۔ کربلا یزید کے خلاف جہاد کے عزم میں ہونی چاہیے ۔ کربلا صداقت میں ہونی چاہیے ، ایثار میں ہونی چاہیے اور تسلیم و رضا میں ہونی چاہیے ، اور حضور پاک ﷺ کے نام پر نثار ہونی چاہیے ۔ اگر آپ کے اندر یہ واقعات نہیں ہیں تو پتہ نہیں پھر آپ کیا مانتے رہتے ہو ۔ آپ اس طرف رجوع کرو ۔ رجوع کرنے والوں نے کربلا سنی نہیں بلکہ کربلا دیکھی ہے ۔ اگر آپ کو یہ بات سمجھ آ جائے تو کربلا دیکھنے کی دعا کیا کرو ۔ اور دعا کیا کرو کہ یااللہ ہمیں کربلا دکھا اور کربلا کا فیض دکھا اور کربلا والوں سے ہمیں نسبت عطا فرما ۔ باقی جو واقعہ ہے وہ تو کتابوں میں موجود ہے اور یوں کہانی چلتی جا رہی ہے ۔
بیان کرنے والا غم کو سامعین پر Thrust کرتا جاءے گا ، غم کو Thrust نہیں کرنا چاہیے ۔ جس طرح امام عالی مقام ؑ اللہ کی رضا کے وارث ہیں ، اسی طرح امامؑ کے غم کے بھی وارث پیدا ہوتے ہیں جو کہ پڑھنے سے نہیں بنتے ۔ وہ ان کی طرف سے خود بخود توجہ ہوتی ہے اور عنایت ہوتی ہے اور رہنمائی ہوتی ہے اور آپ ؑ کے ماننے والے ہوتے ہیں ، جو چاہنے والا اور ماننے والا نہیں ہے وہ یاد کیا منائے گا ۔ اس لئے آپ امامؑ کے Function کو ، عمل کو مانو اور پہچانو ۔ اس طرح پھر آپ کو بات سمجھ آءے گی ۔ دعا کرو کہ آپ کو کچھ عرفان مل جائے ۔ عرفان مل گیا تو پھر آپ کو یاد آئے گی ۔ سنی ہوئی بات آپ کہاں تک یاد رکھو گے ۔ آپ اتنی یاد رکھو کہ

داغِ سجود تیری جبیں پر ہوا تو کیا
وہ سجدہ کر کے روئے زمیں پہ نشاں رہے

تو امام حسینؑ عالی مقام کا سجدہ کائنات میں ایک ایسا سجدہ ہے کہ جو نہ آج تک کسی نے کیا اور نہ ایسا سجدہ ہو سکتا ہے ۔
یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ جو کسی اور کے ساتھ ہو ہی نہیں سکتا ۔ یہ ایسا واقعہ ہے کہ کلمہء حق کہنے میں کوئی بھی رکاوٹ آگے نہیں آئی ۔ یہ ایک ایسا Norm اور ایسا Standard ہے کہ عرفان کے قافلے یہاں سے چلتے ہیں ۔ یہ عشاق کی کہانی ہے ۔ سامع شاہد نہیں ہو سکتا بلکہ دیکھنے والا شاہد ہوتا ہے ، اگر شاہد نہ تو غم میں شریک نہیں ہو سکتا ۔ بس یہ بات یاد رکھنا کہ سامع شریک نہیں ہے ۔ بغیر مشاہدے کے ذاکر شریک نہیں ہے ۔ یہ صرف مشاہدے کی کہانی ہے ۔

(گفتگو والیم 14 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 71 ، 72 ، 73 ، 74 ، 75 ، 76 ، 77 ، 78 ، 79)

قلندرِ وقت حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

20/06/2026

سوال:-

اس سال کا محرم آیا ہے تو شہادتِ امام حسین ؑ کے بارے میں کچھ فرمائیں۔

جواب:-

*پہلی بات تو یہ ہے کہ
* اس سال کا جو محرم ہے ، شہادت اس میں نہیں ہوئی بلکہ شہادت کا واقعہ پہلے کا ہے ۔
*
جن لوگوں کو امام عالی مقام ؑ کے غم سے تعارف ہے ان کو تو ہمیشہ کے لئے غم ہے ، وہ تو ہمیشہ کے لئے محرم میں داخل ہو گئے ۔ غم والے انسان کے لئے" ہر موسم" ہی غم کا موسم ہے ۔ """
: اگر کسی پر کوئی غم گزرے ، کوئی عزیز رشتہ دار فوت ہو جائے اور اگر اسے کہو کہ یہ جو غم آج گزرا ہے ، تم اگلے سال اس کی یاد منا لینا تو کیا وہ مانے گا ۔ "" Suffering والے کے لئے Every season is a of suffering غم والوں کے لئے ہر دن ہی غم کا ہے ۔

: امام ؑ والوں کے لئے ہر ہفتہ ہی امام ؑ کا ہے ۔

: وہ جو "موسمی بخار " ہوتا ہے ، اس سے میرا تعلق کوئی نہیں ہے ۔ ""

کسی کی یاد میں دن منانا صرف "جمیعتِ اسلام" کے لئے ہے تا کہ "مسلمانوں کو اپنی تاریخ یاد " رہے ، اس کا "غم سے کوئی تعلق نہیں" ہے ۔ """

: غم والوں کے لئے غم ابدی ہے ، غم لازوال ہے ، غم ان کے لئے عرفان کا باعث ہے ، غم ہی ان کا راستہ ہے ۔ "

اے دل بگیر دامنِ سلطانِ اولیاء
یعنی حسینؑ ابنِ علیؑ جانِ اولیاء

جن کے لئے یہ واقعہ عرفان کا راستہ ہے ، یہ راستہ اگلے سال کیسے کُھلے گا ۔ "
: اگر آپ صاحبِ عرفان ہیں تو یہ راستہ آج سے ہی کُھلے گا ۔ عرس پر اپنے مرشد کا نام صرف متولی یا مجاور مناتے ہیں
اور
: جو محبوب ہوتے ہیں ان کا مرشد کے ساتھ روز ہی یومِ وصال ہوتا ہے ۔ ""
اس لئے اگر امام پاک ؑ آپ کو محبوب نہ ہوں تو ان کی یاد نہ منایا کرو ۔ اگر کوئی محبوب ہو تو یاد کا تعلق دل کے ساتھ ہے ۔
اگر دل میں غم آ گیا ہے تو غم کو Season کے حساب سے مت منایا کرو ۔
اب آپ دیکھو کہ
: مسلمان پانچ وقت نماز پڑھتا ہے لیکن "مومن نماز پڑھتا ہے ہمہ وقت ۔ "
: مومن مسجد سے باہر ہو تو مسجد میں" آنے کی تمنا" رکھتا ہے اور کچھ مسلمان ایسے ہوتے ہیں کہ اگر مسجد میں ہوں تو "مسجد سے باہر جانے کی تمنا " رکھتے ہیں ۔
: تمنا سے ہی پتہ چلتا ہے کہ
:::: کوئی مسلمان ہے یا مومن ہے ۔ """"

: مومن کا دل کرتا ہے کہ ہر وقت مسجد میں بیٹھا رہے لیکن
اللہ کا" حکم" سمجھ کے بچوں کے لئے رزق کمانے باہر جاتا ہے ۔
: عام بندے" کے لئے حکم ہے کہ مسجد جا کے نماز پڑھو اور دوسرے کے لئے حکم ہے کہ
مسجد سے جاؤ اور رزق کماؤ ۔
: اگر تمہیں یہ فرق سمجھ آ گیا تو امام عالی مقام ؑ کی بات سمجھ آ جائے گی۔ """"_________

:: دوسری بات یہ ہے کہ
امام عالی مقام ؑ کی یاد کو اس انداز سے منانا کہ
ان کے ساتھ" ظلم "ہوا ہے تو پھر ایک "ظالم کو بھی ماننا" پڑتا ہے ۔ """"
لیکن
جو فقراء ہیں وہ کسی کو ظالم نہیں مانتے ، وہ سبب کے قائل ہی نہیں ہیں ، وہ "مسبب کے قائل " ہیں ۔

: اگر کسی کو پتھر لگے تو وہ کہتے ہیں کہ پتھر کو چھوڑو ، بھیجنے والے کا نام بتاؤ، وہ "دراصل تقدیر " ہے ۔ تو یہاں وہ رک جاتے ہیں ، نہ پتھر سے جھگڑا اور نہ پتھر مارنے والے کے نام سے جھگڑا ۔
وہ کہتا ہے کہ یہ" مالک کی طرف" سے ہوا ہے ، اگر وہ خود ہے تو بسم اللہ ۔ _________
::: تیسری بات یہ ہے کہ
: امام عالی مقام ؑ کا درجہ آپ لوگوں کے" شعور میں نہیں ہے ۔ آپ کہتے ہیں کہ ان کا درجہ "صبر کی وجہ سے ہے اور آپ" بے صبرے " ہوئے جا رہے ہو ۔ خود "بے صبر "ہو اور جس کی "یاد منا رہے ہو ان کا مقام "صبر کی وجہ سے ہے ۔ "

تم کہتے ہو کہ
امام عالی مقام ؑ ایک عظیم ہستی تھے ۔ He was a great man اور
: اگر مقامِ صبر کو مقامِ وحشت بنا لو تو تم پر امام ؑ کی یاد منانا فرض نہیں ہے ۔ جو لوگ "تسلیم و رضا کے قائل نہیں" ہیں وہ لوگ کسی امام ؑ کی یاد نہیں منا سکتے ۔ ""

: اور جو لوگ تسلیم و رضا کے قائل ہیں وہ امام ؑ کی عظمت کے قائل ہیں ۔ """""_______

:::: امام ؑ کی عظمت یہ ہے کہ "بندے اور خدا کا کھیل" ہے ،
اس میں درمیان میں کوئی اور چیز نہیں ہے ۔ """""""""

یہ صرف بندے اور مالک کے درمیان بات ہو رہی ہے کہ
اے میرے مالک! تُو نے اگر میرے ذمے یہ قرض لگایا ہے تو یہ میں نے ادا کر دیا ہے ۔ """""

: تاریخ میں وہ بندہ موجود ہے ، یزید ، اس کے بارے میں جو بھی کہو ٹھیک ہے بلکہ وہ اتنا نامناسب نام ہے کہ اس کا نام ہی نہ لو ۔ """

لیکن یہ جو امام پاک ؑ کے ساتھ تسلیم و رضا کا واقعہ ہو رہا ہے ، یہ واقعہ اللہ کے اپنے حکم کے مطابق تسلیم و رضا والوں کو کسی ایسے مقام سے گزارنا ہے جو دیکھنے والوں کے لئے ایک اعلیٰ مقام ہو ۔ """
: اگر آپ ظُلم کی بات کہتے ہو تو مَیں آپ سے یہ دعا کراتا ہوں کہ
خدا کرے کہ ایسا ظلم کسی پر نہ ہو ۔ """
اگر آپ آمین کہتے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ
خدا کرے ایسا مقام کسی کو نہ ملے ۔ ""

اگر آپ یہ دُعا کرا رہے تھے کہ خدا کرے کہ یہ مقام عام ہو اور اگر مقام عام ہونا چاہیے تو پھر شہادت کے لئے چھری کے نیچے سے گزرنا پڑے گا ۔ ""

اگر شہادت مقام ہے تو پھر چھری والے کے لئے تو لعنت کا الگ شعبہ ہے لیکن تم عروج والے انسان کو اس سارے واقعہ کے تناظر میں پہچانو کہ چھری نے کیا کام کیا؟
: چھری نے یہ کام کیا کہ
بندے کو حق سے ملا دیا ۔
: چھری والے کے لئے تو الگ بات ہے کہ
اس کو سزا ملے گی ۔

: بات یہ ہے کہ
اسلام میں واحد مقام تھا شہادتِ عظمٰی کا ، ایک مقام ، اس کی ایک اپنی Term ہے ۔

::::: اللہ تعالیٰ نے یہ" مقام اس لئے رکھا " ہوا تھا کہ
: دنیا کو پتہ چلے کہ "اسلام کے اندر کتنے ایثار" ہو سکتے ہیں ، یعنی "جوانوں سے لے کر شیر خوار بچوں تک" کی قربانی دی گئی ۔ """____________"""""_______""""

آپ لوگوں کو سبق یہ ملتا ہے کہ
امام کے کلمہء حق کہنے میں کوئی بھائی رکاوٹ نہیں بنا ، بھانجا بھتیجا رکاوٹ نہیں بنا اپنی اولاد رکاوٹ نہیں بنی ، نہ اصغر ؑ نہ اکبر ؑ ، اپنی جان رکاوٹ نہیں بنی ۔ اسے کہتے ہیں کلمہء حق کہنا ۔ اگر تم کلمہء حق نہیں کہنا چاہتے اور صرف یادیں منانے والے ہو تو تم " امام ؑ کے دشمن ہو ۔ "
: وہ لوگ امام ؑ کو نہیں مانتے جو سچ نہیں کہتے ۔ وہ لوگ امام ؑ کو نہیں مانتے جو کلمہء حق کہنے والے نہیں ہیں ۔ "

جن لوگوں کو کلمہء حق کہنے میں اولاد رکاوٹ بن رہی ہے وہ امام ؑ کے قائل نہیں ہیں ۔ تو امام ؑ کی یاد منانے والا وہ ہے جس کے دل میں کربلا ہو ۔
اور جن کی پیشانی میں سجدہ ہو
اور جن کو تسلیم و رضا کا سبق ملا ہوا ہو
وہ امام ؑ کی یاد منا سکتے ہیں ۔
: جن لوگوں کو تسلیم و رضا کا سبق نہیں ملا ان کو امام ؑ کی یاد سے کیا واسطہ ۔ ""
امام ؑ کی یاد کوئی Narrative نہیں ہے ، واقعہ نہیں ہے ، داستان نہیں ہے ، بیانیہ نہیں ہے ، رونے کا نام نہیں ہے بلکہ
" اس خیال میں ڈھل جانے کا نام " ہے ۔
اگر آپ اس خیال میں ڈھل جاؤ تو پھر آپ کو بات سمجھ آ سکتی ہے ۔ :""

: لوگ کہتے رہتے ہیں کہ
یہ دَور یزید کا دَور ہے تو یزید کا ذکر یا کسی کو یزید کہنا یا کسی ملکی حکومت میں کسی یزید کو دریافت کرنا ،
: یہ اس" شخص کا کام ہے جو "امام بن "کے آیا ہو اور جو جان پیش کر سکے ۔
: ایسا شخص کہہ سکتا ہے کہ فلاں شخص جھوٹا ہے اور وہ جابر سلطان کے سامنے کلمہء حق کہہ سکتا ہے ،
صرف وہ یہ شہادت دے سکتا ہے اور شہادت کا معنی ہے گواہی دینا ۔
اور
امام عالی مقام ؑ نے وہ گواہی پیش کی ہے جو کائنات میں آج تک سند ہے ۔ ان کی شہادت ایک معتبر شہادت ہے اور وہ جاننے والے ہیں اور پہچاننے والے ہیں ۔
: وہ خاندان ہی ایسا ہے کہ جس نے نبوت پر اور رسالت پر جاں نثاری کے فرائض سر انجام دیئے ہیں ۔
یہ علی ؑ کے کنبے کی بات ہو رہی ہے ۔ امام علی ؑ نے خود شہادت پائی ۔

: کیا ان کے پاس طاقت تھی؟ آپ خود جانتے ہو کہ ذوالفقار ان کے پاس تھی ۔ جو لوگ جاننے والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ سارا عرفان حضرت علی ؑ بانٹتے ہیں اور دُور کی بات جاننے والے ہیں چاہے وہ تاریخی ہو یا جغرافیائی ۔ مثلاً "چودہ سو سال کے بعد کے واقعات بھی وہ آپ سے Deal "" کر سکتے ہیں یعنی کہ

::حضرت علی ؑ اپنے یاد کرنے والے کی پکار کو آج بھی سنتے ہیں ۔ """"""""
وہ اتنی طاقت والے ہیں کہ اقبال ؒ نے کہا تھا

جنہیں نانِ جویں بخشی ہے تُو نے
انہیں بازوئے حیدر بھی عطا کر

اور یہ بھی کہا کہ

اسلام کے دامن میں بس دو ہی تو چیزیں ہیں
اک سجدہء شبیریؑ اک ضربِ یدّاللہی

: اب آپ دیکھو کہ
حضرت علی ؑ کی شہادت ہو گئی ۔ خنجر کے لگنے میں اور جان کے نکلنے میں آپ کے پاس دو لفظ کہنے کا اختیار تھا ۔ آپ اس دوران اللہ سے کوئی بات کر سکتے تھے یا اسلام کے لئے دعا کر سکتے تھے یا بچوں کو کوئی وصیت کر سکتے تھے ۔
لیکن آپ نے "دو لفظ" یہ کہے کہ میں نے اپنے قاتل کو معاف کیا ۔ "
جتنی طاقت والی وہ ذات تھی اس سے زیادہ طاقت ور یہ بات انہوں نے کہہ دی ۔

اس کو کہتے ہیں شہادت اور اسے کہتے ہیں امامت ۔

اگر تم اپنے دشمن یا اپنے قاتل کو معاف نہیں کر سکتے تو تمہیں امام ؑ کا نام لینے کا کوئی حق نہیں ۔
: علی ؑ ان لوگوں کے امام ہیں جنہوں نے اپنے قاتلوں کو معاف کر دیا اور ان لوگوں کے امام ہیں جنہوں نے اپنی قوت کے باوجود" اللہ کے فیصلے کو تسلیم" کرنے میں خاموشی اختیار کی ۔

تو جس طرح نبی ﷺ خاتم ، نبوت کے ہیں تو علی ؑ خاتم خلافت کے ہیں ۔ خلافت آپ ؑ پر ختم ہو گئ ہے ۔
اگر نبئ کریم ﷺ سب سے بعد آنے کے باوجود سب سے بڑے ہیں تو وہ خلافت میں سب سے بعد آنے کے باوجود سب سے بڑے ہو سکتے ہیں ۔
اس میں" تفہیم اور تحقیق "کی بات ہی کوئی نہیں ہے ۔ آپ روز ہی مشاعرے کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ
بڑا شاعر آخر میں آتا ہے ۔
:وہ لوگ جو یہ کہتے رہتے ہیں کہ
ان کو پہلے آنا چاہیے تھا یا وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ان کو بعد میں آنا چاہیے وہ ماننے والے نہیں ہیں ۔ """""
جو امامؑ کی بات کو نہ مانے اور ان کے فیصلے کو نہ مانے وہ امامؑ کے ماننے والے نہیں ہیں ۔ """"

امامؑ نے جو فیصلے کر دیئے ہیں تم ان فیصلوں کو کیسے جھٹلاتے ہو ۔ قوت والا جو بات مان گیا وہ تمہیں بھی ماننی چاہیے ۔ روحانی لوگوں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے بعد کا مقام کیوں قبول فرمایا ، آپ ؑ کو تو پہلے آنا چاہیے تھا ۔
: : : تو آپ ؑ نے فرمایا سب سے بڑے نبی ﷺ بعد میں آئے ہیں میں پہلے کیسے آ جاتا لیکن مجھ سے پہلے مقام بھی اپنا ہی مقام ہے ۔ """"""""""""
اسلام تو ایک ہے اور تم نے اسلام میں Bifurcation کر دی ۔ تفریق کر دی ۔ تمہارا امام ؑ کی یاد منانے سے کوئی تعلق نہیں ۔
: غلام یزید کہنے والے دوزخ میں جائیں گے ۔ جن لوگوں نے یہ نام رکھا یا کوئی کہتا ہے کہ مَیں اپنے بیٹے کا ولیمہ محرم میں کروں گا ، وہ سیدھا سادا لعنتی ہے ۔ مسلمانوں کے جو تاریخی جذبات ہیں چاہے وہ حقیقی نہ بھی ہوں ، ان جذبات کو مجروح کرنے والا عرفان نہیں پا سکتا ۔ اس شخص کو علم تو مل سکتا ہے لیکن عرفان نہیں مل سکتا ۔
تو تمام طاقتوں کے باوجود حضرت علی ؑ کی اپنی شہادت ، امام حسن ؑ کی شہادت اور پھر امام حسینؑ کی شہادت ہوئی ۔
: اسلام پر جانثاری کے یہ عظیم واقعات ہی دراصل اسلام کی "اصل قوت" ہیں ۔
تو آپ اسلام کی اصل قوت کو نہیں پہچانتے اور امامؑ کی یاد کو تقریب کے طور پر مناتے ہو ، اور Ritual کے طور پر مناتے ہو یعنی محرم آ گیا ، لباس کالا کر لیا ، واقعات خراب کر لیے ، خیال کہیں اور نظر کہیں ، دل افسردہ اور نظریں اِدھر اُدھر ۔ ان تمام واقعات میں بڑی احتیاط چاہیے ۔ """"
غم کو غصہ نہ بناٶ ۔ جو شخص غم کو غصہ نہ بنائے وہ امامؑ کا ساتھی ہے ۔ """"
غم کو غصہ بنانے والے نہ امامؑ کے ساتھی ہیں اور نہ اسلام کے ساتھی ہیں ۔ غم کو غصہ وہ بناتا ہے جو کسی تقدیر کو نہیں مانتا اور جو کسی خدا کو نہیں مانتا ۔ """

اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا بیٹا یا بھائی اللہ نے فوت کیا ہے تو اب وہ جھگڑا کس سے کرے گا ۔" امام ؑ کی عظمت "شہادت کے مقام تک پہنچنے کی وجہ سے ہے
اور تم انہیں اس مقام سے "بچانا" چاہتے ہو ۔"
سال کے بعد امام ؑ کا غم مناتے ہو ۔ اگر امام ؑ کا غم ہے تو ہمہ حال منایا کرو ۔ """
: کربلا آپ کے دل میں ہونی چاہیے ۔
: کربلا یزید کے خلاف جہاد کے عزم میں ہونی چاہیے ۔
: کربلا صداقت میں ہونی چاہیے ،
: ایثار میں ہونی چاہیے اور
تسلیم و رضا میں ہونی چاہیے ،
اور
::حضور پاک ﷺ کے نام پر نثار ہونی چاہیے ۔ ""

اگر آپ کے اندر یہ واقعات نہیں ہیں تو پتہ نہیں پھر آپ کیا مانتے رہتے ہو ۔ آپ اس طرف رجوع کرو ۔ ""

: رجوع کرنے والوں نے کربلا سنی نہیں بلکہ کربلا دیکھی ہے ۔ ""

اگر آپ کو یہ بات سمجھ آ جائے تو کربلا دیکھنے کی دعا کیا کرو ۔ اور دعا کیا کرو کہ
: یااللہ ہمیں کربلا دکھا اور کربلا کا فیض دکھا اور کربلا والوں سے ہمیں نسبت عطا فرما ۔
: باقی جو واقعہ ہے وہ تو کتابوں میں موجود ہے اور یوں کہانی چلتی جا رہی ہے ۔ ""

بیان کرنے والا غم کو سامعین پر Thrust کرتا جاۓ گا ، غم کو Thrust نہیں کرنا چاہیے ۔""

: جس طرح امام عالی مقام ؑ اللہ کی "رضا " کے وارث ہیں ، اسی طرح امامؑ کے غم کے بھی وارث پیدا ہوتے ہیں
جو کہ پڑھنے سے نہیں بنتے ۔
: وہ ان کی طرف سے خود بخود توجہ ہوتی ہے اور عنایت ہوتی ہے اور رہنمائی ہوتی ہے
اور آپ ؑ کے ماننے والے ہوتے ہیں ،
:
:: جو" چاہنے والا اور ماننے والا نہیں" ہے وہ یاد کیا منائے گا """""

: اس لئے آپ امامؑ کے Function کو ، عمل کو مانو اور پہچانو ۔ اس طرح پھر آپ کو بات سمجھ آۓگی ۔
: دعا کرو کہ
آپ کو کچھ عرفان مل جائے ۔ عرفان مل گیا تو پھر آپ کو یاد آئے گی ۔ سنی ہوئی بات آپ کہاں تک یاد رکھو گے ۔
:آپ اتنی یاد رکھو کہ

داغِ سجود تیری جبیں پر ہوا تو کیا
وہ سجدہ کر کے روئے زمیں پہ نشاں رہے

تو امام حسینؑ عالی مقام کا سجدہ کائنات میں ایک ایسا سجدہ ہے کہ جو نہ آج تک کسی نے کیا اور نہ ایسا سجدہ ہو سکتا ہے ۔ ""
: یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ جو کسی اور کے ساتھ ہو ہی نہیں سکتا ۔ یہ ایسا واقعہ ہے کہ کلمہء حق کہنے میں کوئی بھی رکاوٹ آگے نہیں آئی ۔ ""
یہ ایک ایسا Norm اور ایسا Standard ہے کہ عرفان کے قافلے یہاں سے چلتے ہیں ۔ یہ عشاق کی کہانی ہے ۔
سامع شاہد نہیں ہو سکتا بلکہ دیکھنے والا شاہد ہوتا ہے ، اگر شاہد نہ تو غم میں شریک نہیں ہو سکتا ۔
بس یہ بات یاد رکھنا کہ سامع شریک نہیں ہے ۔

: بغیر مشاہدے کے ذاکر شریک نہیں ہے ۔
_____ یہ صرف مشاہدے کی کہانی ہے ۔ ______

(کتاب گفتگو والیم 14 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 71 ، 72 ، 73 ، 74 ، 75 ، 76 ، 77 ، 78 ، 79)
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علی

Photos from Wasif Jahan e Fikar's post 18/06/2026

محمد ظفر صاحب

السلام علیکم

*آپ کے خط سے آپ کے زندہ ہونے کا ثبوت ملتا ہے ۔ یہی زندگی ہے ، یہی صداقت ہے اور یہی احساس ہے ۔ باقی ایک بات جو قابلِ غور ہے ، اگر آپ کو احساسِ تنہائی تکلیف دے رہا ہے تو اس تکلیف سے آشنا ہونے والے انسان کے فرض کو ادا کریں یعنی کسی اور انسان کی تنہائی کو دُور کر دیں ۔ چلو یہی ایک عمل کر سکیں تو معاشرہ پر احسان ہو گا ۔ اس زوال پذیر معاشرے کو بیمار سمجھیں ، اس سے نفرت نہ کریں ، اس سے ہمدردی کریں ۔ بیماروں سے غصہ نہیں کیا کرتے ۔ اللہ نے آپ کو شعور دیا ہے اور جن لوگوں کے پاس شعور نہیں ہے ان سے آپ شعور کی توقع کرتے ہیں آپ کیا کرتے ہیں؟
گانے والا سننے والے کو سنائے ، آپ چاہتے ہیں وہ لوگ بھی گائیں ، ایسا نہیں ہو سکتا ۔ آپ کو اگر علم ملا ہے تو عالموں کی تلاش نہ کرو ، جاہلوں کے پاس جاؤ ۔ نفرت کے ساتھ نہیں محبت کے ساتھ ۔ ان کو اپنے علم کی روشنی عطا کرو ۔ اگر آپ کو شب بیداری ملی ہے تو خواب غفلت والوں کے لئے بددعا نہیں کرنا بلکہ ان لوگوں کے لیے سلامتی کی دعا کرو ۔ ان کے پاس نہ وہ دل ہے نہ وہ دماغ ۔ آپ محروم سے نفرت کرتے ہو؟ آپ کے پاس بگڑے ہوئے لوگوں کے لئے شفقت کے دو لفظ نہیں ہیں؟ آپ تو تنہا ہیں ہی سہی باقیوں کو تنہا نہ چھوڑو ۔ جو فرائض آپ نے آپ کے خیال میں کسی کمزور لمحے میں اپنے لئے اختیار کر لئے ہیں ان سے فرار کی کوشش نہ کریں ، انہیں نبھائیں ۔ آپ کی خود گریزی میں ان بے چاروں کا کیا قصور؟ انہیں معاف کر دیں اور وہ تمام لوگ جن سے آپ خفا خفا ہیں آپ کی توجہ کے محتاج ہیں ۔ پیغمبروں نے گناہگاروں کی بخشش ہی کے لئے کوششیں کی ہیں ۔ خود آشنا ہونا یا خالی خدا آشنا ہونا بھی اہم ہے ، اپنی جگہ پر ، لیکن خدا کے پیدا کئے ہوئے انسانوں سے آشنا ہونا بھی اپنے انسان ہونے کا حق ادا کرنے کے برابر ہے ۔
آپ فرائض سے فرار اختیار کرنے والا نہ بنیں ، ہرگز نہیں ۔ تنہائی کا بوجھ برداشت کرتے ہو اور ناپسندیدہ انسانوں کا قرب برداشت نہیں کر سکتے ، کیوں؟ سب بچوں سے لے کر بزرگوں تک ، سب کے لئے یکساں احترام ، یکساں محبت بن جاؤ ۔ آپ مر جاؤ اور دوسروں کو زندگی دے جاؤ ۔ یہی آپ کے لئے نسخہ کیمیا ہے ۔ مَیں آپ کے لئے دعا کروں گا ۔ آپ میری باقی کتابیں یعنی "کرن کرن سورج" "دل دریا سمندر" اور "قطرہ قطرہ قلزم" بھی حاصل کریں ۔ اللہ آپ کی تنہائی سلامت رکھے اور آپ کو فرائض ادا کرنے کی توفیق بھی دے ۔ آپ مظلوم ہونے کے خیال میں گم ہو کر کہیں ظالم نہ ہو جائیں ۔

والسلام
واصف علی واصف

(گمنام ادیب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 173)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

Want your school to be the top-listed School/college in Gujranwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Gujrawala
Gujranwala
52250