Wasif Jahan e Fikar

Wasif Jahan e Fikar

Share

Works at Fikr e Wasif Ali Wasif r.a

Photos from Wasif Jahan e Fikar's post 27/04/2026

فرمودات : حضرت واصف علی واصف رح

Photos from Wasif Jahan e Fikar's post 17/04/2026

نینی صاحبہ!

السلام علیکم

*خدا آپ کو عطا کرے وہ مال ، جس کی آپ مستحق بھی ہیں اور متمنی بھی ۔ مَیں آپ کو خط اس لئے نہیں لکھ سکا کہ میں چاہتا تھا کہ آپ سے ملاقات ہو اور ملاقات اس لئے نہیں کر سکا کہ بس موقع نہیں بنا ۔ اللہ کیسے کیسے راستوں سے گزارتا ہے ۔ وہ مالک ہے اور سچ پوچھو تو مکمل مالک ہے ۔ انسان اسی کے سہارے چل رہا ہے ۔ آپ کے لئے دعا کرنا تو میرے لئے ایک ضروری سی ذمہ داری ہے ۔ میرے ایک شاگرد کی بہن ہونے کے ناطے سے اور اپنے ذاتی حوالے اور ناطے سے ۔ کہتے ہیں تکلیف میں انسان بہت قریب ہو جاتا ہے ، اپنے مالک کے ۔ جو آنسو کے قریب ہے ، وہ خدا کے قریب ہے ۔ اللہ سے دعا ہے کہ آپ کو دولت سکون عطا فرمائے اور آپ کے فرائض آسانی سے ادا ہوتے رہیں ۔ آپ کی اولاد آپ کے لئے باعث مسرت بنے ۔
میں آپ کے لئے دعا کرتا رہوں گا ۔

والسلام
واصف علی واصف

(گمنام ادیب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 268)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

Photos from Wasif Jahan e Fikar's post 29/03/2026

فرمودات : حضرت واصف علی واصف راح

29/03/2026

سوال:-
میں سارا دن قرآن پڑھتا ہوں اور درود شریف پڑھتے پڑھتے سوتا ہوں تو پھر کیوں میرے رستے مسدود ہو جاتے ہیں؟
جواب:-
*بات یہ کہ جب آپ کو بھوک لگتی ہے تو آپ درود شریف نہیں پڑھتے ۔ کیا ایسا ہوتا ہے کہ بھوک لگی ہو تو درود شریف پڑھو اور بھوک دُور ہو جائے گی ۔ کہتا ہے کہ بھوک کا تعلق کھانے کے ساتھ ہے ۔ تو سب کو پتہ ہے کہ اس کا کھانے کے ساتھ تعلق ہے ۔ جب آپ کو نیند آتی ہے تو پلنگ کا استعمال کرتے ہیں ۔ جب بارش ہوتی ہے تو آپ چھت کے اندر آ جاتے ہیں ۔ مکان کہیں سے خستہ حال ہو جائے تو اس کو پلستر کرانے کا خیال آتا ہے ۔ یہ تمام کام آپ درود شریف سے تو نہیں کرتے ۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ چھت کا تعلق سیمنٹ کے ساتھ ہے ۔ اس سے کہا گیا کہ سیمنٹ کیسے لگاوء گے ، ٹیکس بھی تو دینا ہے ۔ کہتا ہے ٹیکس کا تو دیکھیں گے ، ابھی تو چھت لِیک کر رہی ہے ۔ یہ بڑی تیز بات ہو گئ آپ کے ساتھ کہ آپ کا راستہ بند ہو گیا ہے ، تو اب پہلے اسے ٹھیک کرنا ہے ۔ اور اس کا انتظام آپ نے اپنے وسائل میں کرنا ہے ۔ سوچنا اور غور کرنا ۔ تنہائی میں غور کرنا ۔ اس میں ساری خیال کی بات ہے ۔ جو ”دانا“ آدمی ہوتا ہے اس کو رکاوٹ ا جاتی ہے ۔ خیال کے سفر میں ”نادان“ ہو کے گزرنا پڑتا ہے ۔ باطن کے اس سفر میں جہاں ”دانائی“ آتی ہے وہاں رکاوٹ آ جاتی ہے ۔ آپ ”نادان“ ہو جائیں تو راستہ کھل جائے گا ۔ اگر آپ کوئی چیز حاصل کرتے رہے ہیں اور اب نتیجہ اداسی ہے تو پھر وہ چیز دینا شروع کر دو ۔ پھر اُداسی ختم ہونے لگے گی ۔ اللہ کی راہ میں دینا اور دنیا میں چھوڑ جانا ، ان میں بڑا فرق ہے
اس سے پہلے کہ تم چھوڑ جاوء اس کو اللہ کے نام لگا جاوء ، ورنہ چھوڑ تو جاوء گے ہی ۔ چھوڑ جانے سے بہتر ہے کہ اُس مال کو آگے ”ٹور“ جاوء ۔ اس طرح مسئلہ حل ہو جائے گا ۔ یہ بہت سارے لوگوں کا مسئلہ ہے ۔ جب اپنی باری آتی ہے تو بڑی دانائی کی باتیں کرتے ہو اور جب اللہ کی باری آتی ہے تو کہتے ہو کہ یا اللہ تو عبادت پہ راضی ہو جا ۔ اُسے صرف عبادت پر راضی کرتے ہو اور آپ گِنتی کو درست رکھتے ہو ۔ اللہ کا نام بھی گِنتی کے ساتھ درست ہوتا ہے ، اور واقعات اور حالات کے ساتھ درست ہوتا ہے
جب آپ حج کرنے جاوء گے تو ٹکٹ ضرور خرید و گے کیونکہ آپ حج کرنے جا رہے ہیں اور حج کے یہ واقعات ہیں ۔ ایک آدمی اگر فاقہ کش ہے ، فاقے ہی کرتا جا رہا ہے ، اس کو جب خیال کی دقت ہو گی تو فاقہ اور کر لے گا اور پھر اس کا خیال ٹھیک ہو جائے گا اور دنیادار اگر اپنے دینی خیال میں کہیں دِقت محسوس کرے تو دنیا اس کے اوپر نثار کرتا جائے ۔ پھر اس کا دینی خیال آسان ہو جائے گا ۔ بلکہ یہ بہت ہی آسان بات ہے کہ دنیا کو دین بنا لو ۔ تو دنیادار آدمی کو ،امیر آدمی کو یا آسودہ آدمی کو یہ آسان نسخہ بتایا جاتا ہے کہ وہ پیسوں کے ذریعے اپنا باطن درست کر لے ۔ غریب آدمی جو ہے وہ بھی سخی ہو سکتا ہے اگر دوسروں کے مال کی تمنا چھوڑ دے اور اپنا سفر کرتا جائے ۔ ورنہ تو اللہ نُور ہے آسمانوں کا مالک ہے ، اس کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں تھی ، وہ رزق کا ذکر کیوں کرتا ۔ وہ یہ نہ کہتا کہ میں تمہیں رزق دیتا ہوں ، مال دیتا ہوں ، اس میں سے زکٰوة دیا کرو ،خیرات کیا کرو ۔ گویا کہ آپ کی گنتی کے ساتھ آپ کو راستہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کو یہ دیا کرو ۔ پھر اللہ کے قریب آنے والے پوچھتے ہیں کہ ہم آپ کے اور قریب آنا چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اپنی ضرورت کا رکھ لو اور باقی سارے دے دو ۔آپ بات سمجھ رہے ہیں ناں کہ ایسے شخص کے لئے کیا حکم ہے؟ کہ ضرورت کا رکھ لو اور باقی سارے دے دو ۔ تو وہ لوگ اللہ کے بہت قریب ہو جاتے ہیں ۔ اس لیے یہ دیکھنا ہے کہ آپ اپنا درجہ کہاں رکھتے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ آسانی پیدا کر دیتا ہے ۔ اور اللہ سے آپ آسانیاں مانگا کرو ۔ اپنی دنیا کو دین بناتے جاوء ۔ اور اس کا بڑا ہی آسان نسخہ ہے
ایک ہوتا ہے عبادت کرنا ، یعنی عبادت کا عمل ، نماز ، روزہ اور حج وغیرہ اور ایک عمل سخاوت ہے ۔ سخاوت والا بھی حبیب اللہ ہے ۔ ایک اور عمل ہے ”الکاسب حبیب اللہ“ کسب کرنے والا اللہ کا حبیب ہوتا ہے ۔ تو جوتا بنانے والا ذرا پیار سے بنائے ، کہ اللہ نے اُسے اس کام پہ لگایا ۔ تو اپنے کام کو Sincerely کرو ۔ پھر آپ کے اپنے کام میں بڑی رونق آ جائے گی ۔ یعنی جو بھی آپ کام کرتے ہیں ، وہ Sincerely کریں اور اللہ کا خیال رہے کہ وہ دیکھنے والا ہے ، اللہ دیکھ رہا ہے ۔ تو کام میں ملاوٹ نہ ہو ، کام میں کجی نہ ہو ، کام میں ملاوٹ نہ ہو اور کام میں بیزاری نہ ہو ۔ اکثر لوگ کام تو کرتے ہیں لیکن پریشان ہوتے ہیں ، بیزار ہو کر کرتے ہیں ۔ وہ کوئی کام کرتے ہیں تو اس سے پریشانی ہوتی ہے ، بیزاری ہوتی ہے ،تو کام کو Pleasure بناٶ
پرانے زمانے میں ہندو ایسے لوگ تھے کہ جب دوکان میں گاہک آتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ بھگوان آ گیا ، بھگوان کا روپ آ گیا ، کیونکہ وہ رزق دینے والا آیا تھا اور اس سے نفع ہوتا ہے ۔ تو اس کے لیے وہ بھگوان آ گیا ۔ اور مسلمان یہ کرتا ہے تو اس کی انکم کا ذریعہ ہے ، جو دوکان ہے ، اس کو بھی پاکیزہ نہیں رکھتا ۔ یعنی جہاں سے اس نے اللہ کا رحم لینا ہے ، اللہ کی طرف سے رزق لینا ہے ، یعنی دوکان سے لینا ہے اور یہ دوکان ذریعہ رزق ہے ، ذریعہ حصولِ رزق ہے ، تو یہ جگہ پاکیزہ بناٶ کیونکہ اللہ اس جگہ سے رزق دیتا ہے ۔ تو ذریعہ آمدن کو بہت پاکیزہ بنانے والا جو ہے وہ اللہ کے قریب ہو جاتا ہے ۔ تو جو بھی آپ کا ذریعہ ہے اس کو پاکیزہ بناٶ ۔ جس جگہ پر آپ کی نشست ہو یا بیٹھک ہو یا گھر ہو تو اسے اور پاکیزہ بناٶ ۔ پاکیزگی ، خیرات اور وابستگی ، یہ سارے اللہ کے راستے ہیں ۔ مثلاً خیال کی وابستگی ہے ۔
اب اگر آپ ایک وظیفہ کر رہے ہوں ، اللہ اللہ کر رہے ہوں اور یہ کہیں کہ میں کر تو رہا ہوں مگر سمجھ نہیں آتی ، بنتا کچھ نہیں ہے ۔ تو آپ کرتے جائیں ، کرتے جائیں ۔ اور پھر جب شوق میں آپ ایک مقام پر پہنچ جائیں گے تو وہیں پہ بات بن جائے گی ۔ تو آپ چلتے جائیں اور شوق سے چلتے جائیں ۔ جو شخص اللہ کی طرف جا رہا ہو اور اسے دنیا کا خوف ہو تو وہ جھوٹا ہے ۔ بات سمجھ آئی؟ سفر کس کا؟ اللہ کا ۔ خوف کس کا؟ دنیا کا ۔تو وہ آدمی کون ہے؟ جھوٹا ۔ عام آدمی کو یہ خوف ہوتا ہے ۔ ایسے آدمی ہوتے ہیں کہ جو اللہ کی طرف جاتے ہیں مگر دنیا کا خوف رکھتے ہیں ۔ جس کا مدعا اللہ ہو جائے اس کو خوف سے نجات ضروری ہے ۔ جس کا مدعا اللہ ہو جائے اسی کے لئے ہے ”لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون“ تو اس کے لیے کوئی خوف نہیں ہے اور کوئی ملال نہیں ہے ۔ کس کے لیے؟ جس کا مدعا اللہ ہو ۔ جب اللہ ہی مدعا ہو جائے تو نہ غریبی ، غریبی ہے اور امیری ، امیری ہے ، پھر کسی کی پرواہ نہیں ہے ۔ تو دیکھنا یہ ہے کہ مقصد کیا ہے اور مدعا کیا ہے ۔ تو آپ اپنے سفر کا عنوان رکھیں ۔ پھر سارا واقعہ ٹھیک ہو جائے گا

(گفتگو والیم 21 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 209 ، 210 ، 211 ، 212 ، 213)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

26/03/2026

"سُن رہا ہوں مَیں دُور کی آواز"

اِک نیا معرکہ بپا ہو گا!
کیا بتاؤں مَیں اور کیا ہو گا!

اب جنوں ناظمِ چمن ہو گا!
چاک دامانِ مکر و فن ہو گا!

راہبر ایک دیدہ ور ہو گا
رازِ پنہاں سے باخبر ہو گا!

بن کے اَبرِ بہار آئے گا
دافعِ انتظار آئے گا!

رنگ آ کر فضا میں بھر دے گا
جنتے مشکل ہیں کام کر دے گا

پھر نہ ہو گی یہ روز کی تقسیم
ہو سکے گی نہ دین میں ترمیم

آنے والے کمال کے دن ہیں
عظمتِ ذوالجلال کے دن ہیں

(شب چراغ)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

حضرت واصف علی واصف ؒ

06/03/2026

سوال:-
بڑا عجیب سا خیال ذہن میں آیا ہے ، غلطی اور گناہ میں کیا فرق ہے؟
جواب:-
*غلطی ، گناہ بھی ہو سکتی ہے اور غلطی گناہ نہیں بھی ہو سکتی ۔ غلطی میں صحیح اور غلط کا تصور ہوتا ہے ۔ اچھے اور بُرے کا تصور ہوتا ہے ۔ گناہ ، اللہ کے حکم کے خلاف عمل کا نام ہے ۔ اخلاقیات کی حد جہاں ختم ہوتی ہے وہاں سے گناہ اور ثواب کا سفر شروع ہوتا ہے ۔ دنیا کے اندر تمام جو عقیدے ہیں ، تمام جو کردار کی خوبیاں ہیں ، جنہیں اخلاقیات کہتے ہیں ، اُن میں کہیں یہ نہیں ہے کہ چوری کرنا جائز ہے ۔ دنیا کے کسی اخلاق میں قتل کرنا اچھا نہیں سمجھا گیا ۔ بُرائی جیسی بھی ہو ، وہ بُری ہے ۔ بُرائی نہ کرو تو اچھا ہے

اخلاقیات کے اندر ، الٰہیات شامل کر دو تو پھر گناہ ثواب کا تصور شروع ہو جاتا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک انسان صاف ہو ، نہایا دھویا اور صاف ۔اور اُس کا وجود ناپاک ہو ۔ صاف ہے لیکن ناپاک ہے ۔ کیونکہ اس نے اللہ کے حکم کے مطابق پاکیزگی اختیار نہیں کی

غلطی کا صرف سماج میں مقام ہوتا ہے ، بُرا یا بھلا ۔ اِس کی آخرت نہیں ہوتی ۔ آخرت کے حوالے سے گناہ اور ثواب ہوتا ہے ۔ مثلاً نماز پڑھنے سے کیا حاصل ہے؟ سماجی طور پر کچھ بھی حاصل نہیں ہے لیکن اس سے ثواب حاصل ہے ۔ رضائے الٰہی حاصل ہے ، آخرت کے ساتھ اس کا تعلق ہے ۔ نماز نہ پڑھنے سے گناہ ہے ۔ گناہ کیا ہوتا ہے؟ اس کا آخرت سے تعلق ہے

قانون کے خلاف کام کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غلطی ہے
قانونِ الٰہی کے خلاف کام کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گناہ!

قانونِ معاشرہ کے خلاف کام کرنا غلطی ہو سکتا ہے ، لیکن قانونِ معاشرت الٰہیہ کے خلاف کام کرنا گناہ ہو سکتا ہے ۔ انسان کے بنائے ہوئے قانون کے خلاف کام کرنا غلطی ہے ۔ اللہ کے بنائے ہوئے قانون کے خلاف کام کرنا گناہ ہے

دو قوانین چل رہے ہیں ، ایک انسان کا بنایا ہوا اور دوسرا اللہ کا بنایا ہوا ۔ ایک ہے ، چوری نہ کرو ، راستے میں پڑی ہوئی چیز نہ اُٹھاوء ، دیانت دار بنو ۔ یہ انسان کی بنائی بات ہے ۔ دوسرا اللہ کی طرف سے ہوتا ہے ۔ اللہ نے کہا ، روزہ رکھو!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روزہ رکھنے سے ہوتا کیا ہے؟ کہتا ہے کہ کچھ ہو یا نہ ہو ، روزہ اللہ کا حکم ہے

ایک آدمی کہتا ہے کہ اس کا نفس ٹھیک ہو جائے گا ۔ دوسرا کہتا ہے کہ ہم پہلے ہی بھوک سے مرے ہوئے ہیں ، ہمارا نفس ٹھیک ہے

اب یہ جو فاقہ ہے ، یہ روزہ نہیں ہو گا ۔ روزہ ایک ضابطہ ہے اور اُس ضابطے کے مطابق اُس وقت جاگنا اور اُس وقت کھانا اور اُس وقت روزہ افطار کرنا جو وقت اس کا مقرر ہے ۔ یہ روزہ ہوگا ۔ جو کہتا ہے ، ہم بیس بیس گھنٹے نہیں کھاتے ، وہ پھر فاقہ کرتا ہے ۔ ایسے فاقے کو روزہ نہیں کہتے

ثواب کیا ہے؟ ثواب وہ ہے جو منشائے الٰہی کے مطابق کام کیا جائے ۔ اور گناہ کیا ہے ؟ اللہ کے منع کرنے کے باوجود وہ کام کیا جاۓ ۔ اب یہ سمجھنے کے لیے ہے کہ دنیا کے اندر سب سے بڑا عمل شادی ہے ۔ اگر نکاح نہ ہو تب بھی شادی ہے ، نکاح ہو ، تب بھی شادی ہے ۔ کیا فرق پڑتا ہے ۔ کہتا ہے یہی کام جو شادی والا ہے یہی گناہ ہو جاتا ہے ۔ مولوی کی موجودگی میں قبول و ایجاب کے بعد وہ واقعہ ہو جائے تو پھر ثواب ہو جاتا ہے حالانکہ سائنس کے لحاظ سے دونوں ایک ہی واقعہ ہیں

ثواب گناہ کیا ہے ؟ اللہ کے حکم کے مطابق کام کرنا یا اس کے حکم کے علاوه کام کرنا ۔ سماج کے قانون کے مطابق اخلاقی معیار کے خلاف کام کرنا غلطی ہو گی

بعض اوقات ایک عمل غلطی بھی ہو سکتا ہے ، گناہ نہیں اور بعض اوقات کوئی عمل غلطی نہ کہلائے مگر گناہ ہو ۔ بے شمار ایسے واقعات ہیں

بے شمار سماجی قوانین ہیں جو اللہ کے ہاں کوئی اہمیت نہیں رکھتے ۔ کسی سماج میں اس بات کی اجازت ہے کہ تمہاری صحت اچھی رہتی ہے تو تم شراب پی سکتے ہو ۔ جب تک تم معاشرے کے لیے خطرناک نہیں ہوتے ، شراب پی سکتے ہو ۔ مگر فرمانِ الٰہی ہے کہ اس کے قریب مت جاوء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وجہ کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کوئی وجہ نہیں بتائی ۔ وہ باتیں جو بغیر وجہ کے ہیں وہ گناہ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(گفتگو 31......... صفحہ نمبر 89 ، 90 ، 91)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

Photos from Wasif Jahan e Fikar's post 28/02/2026

سوال:-
حالات کی گرفت بڑی سخت ہے ۔ ہم اس گرفت میں ہیں جو شاہین ہے اور ہم چڑیا ۔ تو چڑیا اس سے کیسے بچے؟
جواب:-
*چڑیا کے لیے بچنا شرط نہیں ہے بلکہ چڑیا کے لیے عاقبت بچانا شرط ہے ۔ تو یہ پہلی بات ہے ۔ اس میں کوئی کنفیوژن پیدا نہیں ہونی چاہیے کہ بچانا عاقبت کو ہے ۔ اگر At this cost of life عاقبت محفوظ ہوتی ہے تو کر ڈالو ۔ عاقبت کی اور بات ہے ۔ اور اگر یہاں کی زندگی بچ سکتی ہے تو وہ بھی بچا لو ۔ لیکن اگر یہ زندگی دے کر آخرت بچ جاتی ہے تو بچا لو
باقی رہ گیا سماج اور اس کا شاہین جیسا ہونا ، تو میں نے اس طرح بات نہیں کی ۔ میں نے یہ کہا تھا کہ چڑیا پر یہ فرض عائد نہیں کیا گیا کہ وہ باز کو شکار کرے ۔ چڑیا ، چڑیوں میں رہے اور باز بازوں میں رہے ۔ کچھ چڑیاں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے شاہین کی خوراک بنا کے رکھا ہوا ہے ۔ شاہین کی فطرت ہے خوراک کھانا اور چڑیا اس کی فطرت ہے ۔ چڑیا کو بچانا آپ کا مقصود نہیں ہے ۔ شاہین کو مارنا بھی آپ کا مقصود نہیں ۔ آپ کا مقصود یہ ہے کہ آپ اپنے Premises میں Sincere ہو کر اللہ تعالیٰ کی بات مانیں ۔ آگے سے عجلت نہ کرنا ۔ اگر اللہ تعالیٰ نے کہا کہ گناہ سے بچو تو آپ بچ سکتے ہو ۔ تبھی تو کہا ہے ۔ اللہ نے اگر کہا ہے کہ دوزخ کی آگ سے بچو تو آپ بچ سکتے ہو ، تب ہی اس نے کہا ہے ۔ اللہ نے کہا ہے کہ ماں باپ کی عزت کرو تو آپ عزت کر سکتے ہو، اس لیے ضرور کرو ۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم ایسا نہیں جو Operate نہ ہو سکے ۔ ایسا کوئی حکم اللہ نے نہیں کیا ہو گا جو آپ نہیں کر سکتے
اللہ نے کہیں نہیں کہا کہ غریب مل کے امیر کو مار دیں ۔ کبھی ایسی بات نہیں کی ۔ میں نے کہا تھا کہ امیر ، اچھے بھی ہوں گے ، بُرے بھی ہوں گے اور غریب اچھے بھی ہوں گے اور بُرے بھی ہوں گے ۔ آپ اپنے Premesis میں اچھے انسان بن جاوء ۔ غریب ہو تو بہت اچھے غریب بننے کی کوشش کرو ، امیر ہو تو اچھے امیر بننے کی کوشش کرو
یہ فرمان ہے کہ سخی اللہ کا دوست ہوتا ہے ، حبیب اللہ ہے ۔ تو لوگوں نے پوچھا کہ غریب کیسے سخی ہو گا؟ امیر تو سخی ہو سکتا ہے کیونکہ وہ پیسے رکھتا ہے ۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہ بڑی آسان سی بات ہے کہ غریب اس طرح سخی ہو سکتا ہے کہ وہ کسی کے پیسے کی طرف رجوع نہ کرے ۔ امیر کے پاس اگر وہ پیسہ دیکھے تو اس میں سے کچھ پیسے لینے کی تمنا نہ کرے ۔ یہ غریب کی سخاوت ہے ۔ تو ہر آدمی سخی ہو سکتا ہے ۔ اس لیے اگر گناہ آپ کو دبوچ رہا ہے ، راستے میں اتفاق سے گناہ کی دیوار اگر آپ کے سر کے اوپر گر گئ ہے تو اس کا ابلاغ کرنے کی کیا ضرورت ہے ، خاموشی سے چلتے جاوء ۔ اگر گناہ میں آپ Enjoy کر رہے ہیں تو آپ کی گرفت ہو گی اور اگر طوعاََ اور کرھاََ کر رہے ہو تو یہ آپ کی مجبوری ہے ۔ آپ میری بات سمجھ رہے ہیں؟ جہاں آپ نے Enjoy کرنا شروع کر دیا وہاں آپ کی گرفتاری شروع ہو گئ ۔ جہاں آپ کی خواہش شامل ہو گئ وہاں آپ کی گرفت آ گئ ۔ اگر مجبوری تھی تو پھر کہنے کی کیا ضرورت ہے ۔ تو گناہ کیا ہے ؟ اللہ کے حکم خلاف ۔ اللہ تعالیٰ نے کبھی آپ کی استعداد سے زیادہ حکم نہیں فرمایا ۔ یہ نہ کہنا کہ سماج ہی ایسا تھا، ہر طرف عیاشی تھی، ہم کیسے گناہ نہ کرتے؟ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی ۔ آج کل کتنے ہی لوگ ہیں جو گناہ نہیں کرتے ۔ اس دَور کے اندر بھی رشوت نہ لینے والے موجود ہیں ، اس دَور کے اندر رشوت نہ دینے والے بھی موجود ہیں ۔ آپ ان ”بے وقوف“ لوگوں کی طرح زندگی بسر کر لو تو بڑے آسان ہو جاوء گے ۔ آپ ”دانائیاں“ کرتے ہو ، رشوت لیتے رہتے ہو ۔ کوئی ضرورت نہیں ہے
اب آپ کی بات کا فیصلہ ہو گیا کہ کیا گناہ سے بچا جا سکتا ہے ۔ تو میں جواب دے رہا ہوں کہ گناہ سے بچا جا سکتا ہے ۔ گناہ کسے کہتے ہیں؟ اللہ کی خلاف ورزی کو گناہ کہتے ہیں ۔ کیا گناہ معاف ہوتا ہے؟ ہاں، معاف ہوتا ہے ۔ اگر گناہ کرنے والا، جس نے گناہ کیا ہے، اگر توبہ کر لے اور آئندہ ایسا گناہ نہ کرنے کا فیصلہ کر لے تو توبہ شروع ہو گئ
اللہ تعالیٰ آپ کو توبہ کی توفیق دے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پکی توبہ ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ سب محفوظ رہیں اور خوش رہیں

(گفتگو 24 ............ صفحہ نمبر 196 ، 197 ، 198)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

Photos from Wasif Jahan e Fikar's post 22/02/2026

*فقیر کے سفر اور دنیادار کے سفر میں فرق کیا ہے؟
فقیر جب اللہ کے قرب میں جاتا ہے ، اس کے قریب جاتا ہے تو اس کا سفر ختم ہو جاتا ہے ، زندگی ختم ہو جاتی ہے ۔ اور دنیادار جب اللہ کے قریب ہونا شروع کرتا ہے تو پھر اس کے سفر کا آغاز ہوتا ہے ، وہ کہتا ہے کہ اللہ تُو اب ہمارے قریب آیا ، تُو ہمارے کام پورے کر ۔ کام جو ہے وہ اللہ کے قرب کے علاوه ہے اور تقرب والے کا کام تقرب کے اندر ختم ہو جاتا ہے ۔ اس لیے آپ اللہ تعالیٰ سے اس کی رحمت کے علاوه اور کوئی شے ہی نہ مانگو ۔ بس یہ بہتر ہے ۔ یارب العالمین اپنا فضل فرمائے رکھ ۔ چھوٹے موٹے کام تو ہر ایک کے ہوتے ہیں ، وہ کافروں کو تو بغیر مانگے دیتا ہے ، تو ہمیں بھی دیتا ہی چلا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(گفتگو 19....... صفحہ نمبر 61)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

Want your school to be the top-listed School/college in Gujranwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Gujrawala
Gujranwala
52250