Chistyon ka LARA PEER SIAAL

Chistyon ka LARA PEER SIAAL

Share

لجپال لجپال پیر سیال پیر سیال

14/07/2026

قبلہ من قبلہ پیر و مرشد سیدی و مرشدی و مولائی
پیر طریقت رہبر شریعت حضور امیر شریعت الحاج محمد حمید الدین سیالوی کے عرس پاک کے موقع پر ۔۔۔بفیضان نظر ناٸب امیر شریعت الحاج الحافظ خواجہ محمد ضیاءالحق سیالوی دامت برکاتہم عالیہ زیدہ مجدہ حفظہ اللہ سجادہ نشین آستانہ عالیہ سیال شریف

14/07/2026

شاہ حمیدالدین پر ھے فضلِ رب
مبتسم مسرور چہرہ خندہ لب
قدسیوں نے خیر مقدم ھے کیا
بابِ جنت پر خوشی سے با ادب
ٕ (میجر محمداسلم خان سیالوی)

14/07/2026

حضور پیر سیال لجپال غریب نواز سیدی و سندی مرشدی مولائی ملجائی و آقائی حضور امیر شریعت نائب شیخ الاسلام و المسلمین الحاج الحافظ
حضرت خواجہ محمد حمید الدین سیالوی سدیدی تونسوی غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے اس سال کے عرس مبارک کی پہلی محفل شریف انشاء اللہ حضور غریب نواز حضرت خواجہ محمد ضیاء الحق سیالوی تونسوی (حضورِ ضیاء چشت غریب نواز) آپ کے حکم سے 10 بجے ہوگی
سب پیر بھائیوں کو اطلاع دی جاتی ہے

09/07/2026

بہت ہی نایاب بیان ۔ حضور امیر شریعت خواجہ محمد حمید الدین سیالوی

09/07/2026

"السلام وعلیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،"

"اپنوں کی غلطیاں بھی اپنی ہوتیں ہیں ۔مل جل کر سدھار لینی چاہیں آنا اور تکبر کی دستار باندھ کر دوسروں کے جھکنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے یہی رشتوں کی بقا کا راز ہے."

"صبح بخیر"

07/07/2026

♦️ بسم اللہ الرحمن الرحیم لازمی پڑھیں ♦️

🌷❤🙏🏻⭐خصوصی پوسٹ عرس مبارک 28/29 محرم الحرام 1448 ہجری بمطابق 14/15 جولائی بروز منگل بدھ مجاھد ختم نبوت ﷺ نائب شیخ الاسلام حضور پیر سیال لجپال جناب امیر شریعت خواجہ محمد حمیدالدین قمری سدیدی سیالوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ⭐🙏🏻❤️🌷

♦️ولادت با سعادت♦️

اللہ رب العزت جس گلشن کو ہمیشہ سدا بہار رکھنا چاہتے ہیں ان کے لئے اپنی قدرت سے ایسے نگہبان اور باغبان کا انتظام فرما دیتے ہیں جن کی بالغ نظری اور فنی مہارت اس باغ کی خوشحالی اور شادابی کی ضامن ہوتی ہے آستان ذیشان سیال شریف قدرت کے نکالے ہوئے باغوں میں سے ایسا باغ ہے جسکے پھلوں اور فیض سے ایک جہاں فیضیاب ہو رھا ہے اس خانقاہ معلی کے موس اول خواجہ محمد شمس الدین سیالوی علیہ الرحمہ کو اللہ تعالی نے ان گنت انعامات اور خصوصیات سے نوازا تھا اور آپ غریب نواز کے جملہ جانشین حضرات اپنی جگہ پر باکمال صلاحیتوں کے مالک تھے لیکن ان تمام میں سے نمایاں حضور شیخ الاسلام والمسلمین خواجہ محمد قمرالدین سیالوی رحمتہ اللہ علیہ کی ذات بابرکات تھی جنکا وجود نہ صرف خطے کے لئے بلکہ عالم اسلام کے لئے باعث رحمت تھی آپ کے وصال اقدس کے بعد اپکے عقیدت مند ایک حد تک پریشانی کا شکار تھے کہ حضور شیخ الاسلام والمسلمین علیہ الرحمہ جیسی ہمہ جہت شخصیت کا جانشین کیسے ان مقرر کردہ معیار پر پورا اترے گا لیکن جب حضور امیر شریعت نائب شیخ الاسلام حضرت علامہ حافظ خواجہ محمد حمیدالدین سیالوی رحمتہ اللہ علیہ نے مسند شاہ سنبھالی تو آپ کے اقدامات سے نہ صرف عقیدت مندوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئی بلکہ ایک مرتبہ پھر اللہ کریم کے اس انعام کا اظہار ہوا جو اس نے اپنے مقرب بندے خواجہ محمد شمس الدین سیالوی علیہ الرحمہ پر کیا تھا آپکے جملہ جانشین حضرات کی طرح حضور امیر شریعت بھی ایک باکمال جانشین کی صورت میں ظاہر ہوئے۔۔۔حضور امیرشریعت خواجہ محمد حمید الدین سیالوی علیہ الرحمہ 1936ء میں سیال شریف میں پیدا ہوئے

♦️تعلیم و تربیت♦️

آپ نے ابتدائی تعلیم سیال شریف میں ہی اپنی عظیم و کریم والد گرامی حضور شیخ الاسلام والمسلمین کی نگرانی میں حاصل کی اور چار سال کی عمر میں سنت کے مطابق قرآن کریم کی بسم اللہ سے آغاز فرمایا اپنی تعلیم کا آغاز قرآن پاک کے حفظ سے کیا قرآن کریم کا حفظ حافظ فتح محمد اور حافظ محمد سعید صاحب کے پاس مکمل کیا
اس کے بعد دارالعوم ضیاء شمس الاسلام میں داخل ہوئے منطق کی کتب امام المناطقہ حضرت علامہ عطاء محمد بندیالوی کے پاس پڑھیں علم فقہ کی تعلیم مولانا حامد علی نقشبندی کے پاس مکمل فرمائی حضور شیخ الاسلام والمسلمین خواجہ محمد قمرالدین سیالوی رحمتہ اللہ علیہ اور علامہ سدیدالدین معظمی سے بھی اکتساب فیض کیا اور درس نظامی مکمل فرمایا
دوران تعلیم آپ نے عربی اور فارسی زبان میں خصوصی مہارت حاصل کی دارالعوم ضیاء شمس الاسلام سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد آپ کچھ عرصہ درس و تدریس کے فرائض بھی سر انجام دیئے اس دوران آپ حضور شیخ الاسلام والمسلمین خواجہ محمد قمرالدین سیالوی سے براہ راست فیض اور تربیت حاصل کرتے رہے آپ غریب نواز علیہ الرحمہ جوانی میں ہی ایک متحرک اور فعال شخصیت کے طور پر سامنے آئے

♦️سجادہ نشینی ♦️

دربار شریف کے جملہ امور کی نگرانی فرمائی اور اپنے والد گرامی کا ھاتھ بٹاتے 1981ء میں شیخ الاسلام والمسلمین خواجہ محمد قمرالدین سیالوی رحمتہ اللہ علیہ کے وصال اقدس کے بعد آپ دربار عالیہ کے چہارم سجادہ نشین مقرر ہوئے اور اپنے عظیم و کریم والد گرامی تتبع میں تبلیغ اسلام کا فریضہ سر انجام دینے لگے امیر شریعت حضور خواجہ محمد حمیدالدین سیالوی رحمتہ اللہ علیہ اپنی ظاہری صورت میں مردانہ وجاہت سے مالا مال شخصیت تھے اللہ تعالی نے آپکو روحانی روعب و دبدبہ بھی عطا فرمایا تھا یوں لگتا آپ جس طرف بھی قدم بڑھاتے ہر چیز مسخر کرتے چلے جاتے

♦️دعوت و تبلیغ سلسلہ چشت اہل بہشت ♦️

آپ کے عظیم والد گرامی جناب شیخ الاسلام غریب نواز نے جو دعوت و تبلیغ کا سلسلہ شروع فرمایا تھا اسے جناب امیر شریعت غریب نواز نے اسے مزید اضافے کے ساتھ آگے بڑھایا

آپ نے دارالعوم ضیاء شمس الاسلام اور لنگر شریف کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ اقوام عالم بشمول پاکستان میں موجود اپنے مریدین و متوسلین کی اخلاقی روحانی تربیت کے لئے مختلف دوروں کا اہتمام فرمایا موسمی سختیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آپ غریب نواز علیہ الرحمہ ہر اس جگہ تشریف لے گئے جہاں آستان جنت نشان سیال شریف کے عقیدت مند موجود تھے آپ نے انکی روحانی تربیت کے لئے مجالس کا اہتمام کیا حضور امیر شریعت غریب نواز نے خصوصی طور پر ملک بھر میں شیخ الاسلام کانفرنسز کا انعقاد کا آغاز فرمایا ان دوروں کی خصوصیت یہ ہوتی تھی کہ اس میں فقط دینی تبلیغ کے حوالے سے گفتگو ہوتی اور سلسلہ چشت اہل بہشت کا طرہ امتیاز عشق حقیقی کے وہ اسباق عطاء فرماتے جو غلاموں کی روحانی تربیت کا سبب بنتے الحمدللہ

♦️عقیدہ اہل سنت کا تحفظ♦️

#اعــــــــلامــــــــــیہ
بحکم غریب نواز حضور امیر شریعت نائب شیخ الاسلام خواجہ محمد رحمتہ اللہ علیہ
مقام تقریب #آســــــتانہ_مقدسہ_ســـــــیال_شریف

بوقت 12:30بجے دن بتاریخ 19 ذی القعدہ 1440ھ بمطابق 23 جولائی 2019 بروز منگل

خانقاہِ مـقدسہ کے مرکزی مـــقامات پر اعــلامیہ کی تنصیب

وارثِ نسبت پیر سیال #ضـــــیاءچشت حضرت خواجہ محمد مدظلہ العالی کے حکم سے ہوئی !

بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْم
اَلْحمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰی سَیِّد الرُّسُل وَخَاتَمِ النَّبِیِّین وَعَلٰی آلِہ وَاَصْحَابِہ وَاَوْلِیَآءِ اُمَّتِہ وَ عُلَمَآءِ
مِلَّتِہ اَجمَعِیْنَ وَعَلٰی مَن تَبِعَھُمْ بِاحْسَانٍ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ اَمَّابَعْد!

الحمدللہ ہم اہلسنت و جماعت اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک مانتے ہیں اور اس کی ذات و صفات میں کسی کو اس کا ہم سر نہیں ٹھہراتے۔ اللہ کریم کو تمام عیوب و نقائص سے منزہ ومبرا اور تمام عظمتوں کا مالک سمجھتے ہیں۔ تمام کتب سماوی پر ایمان رکھتے ہیں۔ حیات بعد ازموت، حشرونشر ،جنت و دوزخ کو حق سمجھتے ہیں، نبی کریمﷺ کو اللہ کا آخری نبی ماننے کے ساتھ ساتھ تمام سابقہ انبیاء و رسل سے افضل واعلیٰ سمجھتے ہیں اور سابقہ تمام انبیاء ورسل پر ایمان رکھتے ہوئے ان کی تعظیم و توقیر بجا لاتے ہیں۔ نبی کریمﷺ کے تمام صحابہ کرام ا ور اہلبیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بے پناہ محبت کو جزوایمان سمجھتے ہوئے انبیاءکرام کے بعد سب سے افضل سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو مانتے ہیں اور انہیں خلیفہ اول بلا فصل خلیفۃ الرسول برحق مانتے ہیں۔ پھر حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو خلیفہ ثانی برحق، حضرت سیدنا عثمان ذوالنورین کو خلیفہ ثالث برحق اور مولائے مرتضی سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کو خلیفہ رابع برحق مانتے ہیں۔ اور اسی ترتیب سے ان میں افضلیت تسلیم کرتے ہیں اور تمام صحابہ کرام میں سے کسی ایک کی عزت و عظمت کے خلاف اشارے، کنائے یا صراحت کے ساتھ طعن و تشنیع کرنے والے کو خارجِ اہلسنت سمجھتے ہیں اور اسی طرح اہلبیتِ اطہار سے بغض رکھنے والے ہر شخص کو خارجِ اہلسنت سمجھتے ہیں۔مشاجراتِ صحابہ میں کف لسان(خاموشی) اور ان کے فضائل و مناقب کے بیان کو شعارِایمان (نشانی) سمجھتے ہیں۔ یہ تمام عقائد حضرت سیدنا علی المرتضی، (۱)آئمہ اہل بیت اطہار، اجلہ تابعین(۲)، آئمہ اربعہ امام اعظم ابو حنیفہ(۳)، امام مالک(۴)، امام احمد بن حنبل(۵)، امام شافعی(۶)، سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی(۷)، حضرت داتا گنج بخش(۸)، حضرت امام غزالی(۹)، شیخ محّی الدین ابن عربی(۱۰)، امام عبدالوہاب شعرانی(۱۱)، شیخ فرید الدین عطار(۱۲)، حضرت مجدد الف ثانی(۱۳)، حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی(۱۴)،حضرت الشاہ احمد رضا محدث بریلی،(۱۵)حضرت شاہ ولی اللہ،(۱۶) حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی،(۱۷)، حضور خواجہ خواجگان بہارچشت خواجہ شاہ سلیمان تونسوی(۱۸)، قدوۃ السالکین حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی(۱۹)، اورحضرت شیخ الاسلام والمسلمین خواجہ محمد قمرالدین سیالوی (۲۰)رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین جیسے اجلہ علما و مشائخ سے ثابت ہیں ان عقائد کا مفصلاً تذکرہ اہلسنت کے عقائد کی کتب معتبرہ مثلاً فقہ اکبر، عقیدہ طحاویہ، کتاب الابانہ، شرح العقائد النسفیہ وغیرہ میں موجود ہیںاورانہیں عقائد پر ماتریدیہ اور اشاعرہ کا اتفاق ہے۔ پوری امت کی طرح یہی عقیدہ مشائخ چشت علیہم الرضوان کا بھی ہے اور اسی عقیدے کو وقت کی اہم ضرورت سمجھتے ہوئے اعلامیہ کے طور پر آستانہ مقدسہ سیال شریف کی طرف سے شائع کیا جا رہا ہے تاکہ مریدین و متوسلین اور خلفاء کے لیے سند رہے۔
(۱)تکمیل الایمان ،(۲) التعرف ،(۳) فقہ اکبر ،(۴) موطا امام محمد ،(۵) السنتہ للخلال ،(۶) مرام الکلام ،(۷) غنیتہ الطالبین ،(۸) کشف المحجوب ،(۹) احیاءالعلوم ،(۱۰) فتوحات مکیہ ، (۱۱)الیواقیت والجواھر، (۱۲)منطق الطیر ،(۱۳) مکتوبات شریف ،(۱۴) تکمیل الایمان ،(۱۵) فتاوی رضویہ جلد۹،(۱۶) فتاوی عزیزیہ،(۱۷)فتاوی عزیزیہ(۱۸) ، غذاءالمحبین،(۱۹) مراۃ العاشقین ،(۲۰) انوارقمریہ ۔
اعلامیہ پڑھنے کی سعادت:
پیر محمد معظم الحق معظمی سجادہ نشین خانقاہِ معظمیہ معظم آباد شریف سرگودھا
والے

♦️آستان ذیشان پر مصروفیات ♦️

آستان ذیشان سیال شریف پر بھی آپ غریب نواز علیہ الرحمہ کی مصروفیات دیدنی ہوتی تھیں ملک کے گوشے گوشے سے آئے ہوئے پیر بھائیوں کی داستان غم سننا انکے زخموں پہ مرحم رکھنا اور دینی و دنیاوی معاملات میں انکی راہنمائی و اعانت کرنا اپکا انداز کریمانہ تھا آپ کے پاس مختلف علاقوں سے مختلف المزاج لوگ سینکڑوں کی تعداد میں ہر روز حاضر ہوتے انکے کھانے پینے اور رہائش موسم کے مطابق بستر کی فراہمی تک کا آپ کریم ابن کریم بذات خود اہتمام کرواتے ان تمام مصروفیات کے ساتھ ساتھ روز مرہ کے اوراد و وظائف عبادات و نوافل کی پابندی آپکا روزانہ کا معمول تھا

♦️تحفظ ناموس اہل بیت و صحابہ کرام علیہم الرضوان♦️

گزشتہ چند سالوں میں جب توہین اہل بیت و صحابہ کرام کا سلسلہ شروع ہوا تو آپ نے کسی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر عقیدہ اہل سنت بیان فرمایا اسی طرح جب سیدہ طیبہ طاہرہ جناب فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کی گستاخی کا معاملہ ہوا تو آپ نے دربار شریف سے متعلقہ علماءکرام و متوسلین کو سیال شریف میں اکٹھا فرمایا اور اہل سنت کا متفقہ اعلامیہ قوم کے سامنے پیش فرمایا بدلتے ہوئے حالات میں یہ پہلا علمی موقف تھا جو دربار عالیہ سیال شریف کی جانب سے آپکی محنت و کوشش سے جاری ہوا جسکو نہ صرف ملک پاکستان بلکہ عالم اسلام میں پذیرائی ملی ہم یہاں اس بات کا اعادہ ضروری سمجھتے ہیں کہ آستانہ عالیہ سیال شریف اس خطے کی واحد درسگاہ ہے جہاں پر علماءکرام و سادات کرام و حفاظ کرام کی اکثریت مریدین میں شمار ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ جب آستانہ عالیہ سیال شریف سے متفقہ اعلامیہ جاری ہوا تو پوری قوم نے اسکو قبول کیا اور جناب امیر شریعت غریب نواز رح کی قیادت پر لبیک کہا حضور امیر شریعت غریب نواز رح دور حاضر کے ان بندگان خدا میں دے ایک تھے جو معاشرے میں پیدا ہونے والی معاشرتی برائیوں پر کڑی نگاہ رکھتے تھے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہروی پر آپ اکثر تشویش کا اظہار فرماتے اپنی زندگی کی تقریب شیخ الاسلام کانفرنس میں آپ نے اپنے مریدین کو جو نصیحت فرمائی وہ یہ تھی کہ نگاہوں کو پاک رکھیں غیر محرم عورتوں کی طرف نہ دیکھیں حضور امیر شریعت غریب نواز رح نے ایک طرف تو حضرت خواجہ شمس العارفین کی روحانیت کا پرتاو تھا تو دوسری طرف آپکی شخصیت میں خواجہ محمد قمرالدین سیالوی رحمتہ اللہ علیہ کے علم کی جھلک تھی آپ جب گفتگو فرماتے تھے علم و حکمت کے موتی جھڑتے تھے دوران گفتگو جب جب قدیم کتب کا حوالہ دیتے تو علماءکرام دنگ رہے جاتے اپنی تبلیغی مصروفیات کے ساتھ ساتھ اپنے پیرخانہ کا بے حد ادب و احترام جو کہ انکو ورثہ میں عطاء ہوا تھا کی ایسی بجا آوری فرماتے کہ جسمیں نظیر نہیں ملتی طبیعت کی نا سازی کے باوجود عمر مبارک کے آخری حصے تک تونسہ مقدسہ کی حاضری میں کبھی بھی تاخیر نہ فرماتے۔۔۔۔

♦️کلام حضور امیر شریعت غریب نواز رح ♦️

توں آقا میں بندہ تیرا ویکھ نہ اوگن میرے
میں نی لج نکار کمینہ سب لجاں گل تیرے

شمس منور دل دے وہڑے کر دے نور سویرا
صدقہ پیر پٹھان سخی دا کر دے دور اندھیرا

حضرت پیر قمر لاثانی میں باندی میں بردی
رو رو عرض کراں ہر ویلے بھالیں نظر مہر دی

گمراہواں نوں راہ ویکھاون نور تیرے دیاں کرناں
جس نوں خیرملے در تیرے اس کیویں در در پھرناں

میں عاصی میں گندہ بندہ بندہ بہت نکارہ
نظر کرم تھیں میرے ہادی کر دے پار اتارہ

میرے ہادی میرے مرشد کامل پیر سیال
گردہ جھاڑ دل شیشہ صاف کریں لجپالا

لنگر ویکھ کرم دا جاری آ ملیا دروازہ
رحمت رحیم دی ایتھے وسدی بے اندازہ

میرے جیئے کئ سگ ہزاراں درتے رہین سوالی
بے مراد مراداں پاون کوئی نہ جاوے خالی

عرض حمید فقیر گزارے درتوں دور نہ کرناں
تیرا ہو کے جینا سخیا تیرا ہو کے مرنا۔۔۔

♦️وصال پاک ♦️

حضور کریم جناب امیر شریعت خواجہ محمد حمیدالدین سیالوی رضی اللہ تعالی عنہ آپکا وصال پاک 17 ستمبر بروز جمعرات 28 محرم الحرام 1442ھ رات تقریبا 9:42 منٹ پہ ہوا آپکے لاکھوں غلاموں کی وابستگی آپ سے روحانی و دلی تھی آپکے وصال پاک کا سن کر جیسے قیامت صغری کا عالم برپا ہوگیا یقینا ہم غلام اس دن یتیم ہوگئے تھے آستان ذیشان سیال شریف کے در و دیوار سے بھی آہوں اور سسکیوں کی صدائیں آ رہی تھیں آپکے سفر آخرت کی خبر سنتے ہی لاکھوں غلامان سیال شریف جوک در جوک حاضر ہو گئے غلاموں کی آمدورفت کی وجہ سے سرگودھا جھنگ روڈ گھنٹوں گاڑیوں اور مختلف سواریوں کی وجہ سے بھر گیا تھا کہ پیدل چلنے کی جگہ بھی نہیں تھی وقت نماز جنازہ لاکھوں غلاموں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا کریم و لجپرور مرشد پاک کی نماز جنازہ اولاد قبلہ عالم حضور خواجہ محمد ھاشم مہاروی غریب نواز مدظلہ نے پڑھائی 😭

اللّٰہ کریم اپنے پیارے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل حضور امیر شریعت غریب نواز رح کے درجات بلند فرمائیں اور ضیاء چشت خواجہ محمد ضیاءالحق سیالوی غریب نواز مدظلہ العالی کا سایہ عاطفت غلاموں پہ سلامت رہے آمین بجاہ النبی الکریم الامین

04/07/2026

خواجہ قمر جو ٹُریا روندی عمر گزاراں
روندا جہان سارا جد میں پُنل پکاراں
جناب کسی کے پاس یہ کلام لکھا ہوا ہے تو پلیز سینڈ کر دیں جزاك اللهُ

03/07/2026

*آج رات بعد از نماز عشاء ماہانہ محفل ایصال ثواب یاد حضور شیخ الاسلام والمسلمین حضرت خواجہ الحاج الحافظ مجاہد ختم نبوت محمد قمر الدین سیالوی علیہ الرحمہ منعقد ہورہی ہے*

*بمقام جامع مسجد بہار مدینہ پرانی چنگی پسرور روڈ فرید ٹاؤن گوجرانوالہ*

02/07/2026

🙏🙏 حضور سیدی و سندی غوث زماں قطب زماں مجدد دوراں حضرت علامہ خواجہ محمد ضیاء الحق صاحب سیالوی حمیدی تونسوی (حضور ضیائے چشت غریب نواز) 🙏🙏🙏🙏دامت برکاتہم القدسیہ طال اللہ عمرہ سجادہ نشین استانہ عالیہ مقدسہ سیال شریف کا مزارات شریف پر حاضری اور چوکھٹ بوسی پر ملفوظ شریف 🙏🙏🙏🙏🙏

Want your school to be the top-listed School/college in Gujranwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address

Street No 4 Pasror Road Gujranwala
Gujranwala
25255