12/12/2025
بہشت چھین کے ہم سے ہمیں سکھایا گیا
منع کیے گئے پیڑوں کے پھل نہیں کھاتے
تمہارے ساتھ تعلق تو چیز ہی کیا ہے
!بچھڑ کے یوسف و یعقوب مر نہیں جاتے
A place to see my students
12/12/2025
بہشت چھین کے ہم سے ہمیں سکھایا گیا
منع کیے گئے پیڑوں کے پھل نہیں کھاتے
تمہارے ساتھ تعلق تو چیز ہی کیا ہے
!بچھڑ کے یوسف و یعقوب مر نہیں جاتے
12/12/2025
جو ہاتھ بھی تھاما ہے سدا ساتھ رہا ہے
احباب شناسی ہمیں ورثے میں ملی ہے
11/12/2025
ساتھ دینے کا سادہ سا اصول یہ ہے کہ اگر آپ کسی کے لئے بارش روک نہیں سکتے تو اسکے ساتھ بارش میں کھڑے ہو جائیں
مشکل وقتوں کی خوبصورتی یہ ہے ،کہ جھوٹی روحیں تمہارے قریب نہیں ٹھہرتیں۔
سانوُں جنتّوں کڈھیا لالچاں
سانوُں کہندے آدم زاد
اسیں قاتل سٙکّے خون دے
ساڈّی پہلی کھیڈ فساد
سانوُں شیشہ مہنے ماردا
ساڈّے مُکھ تے اینا کوجھ
اسیں حِرصی حبسی لالچّی
سانوُں دھرتی کہندی بوجّھ
28/09/2025
More is lost with indecision than wrong decision.
دیتا نہیں تھا سایہ مگر رکھ لیا گیا
ایندھن بنے گا بوڑھا شجر رکھ لیا گیا
آنکھوں میں عمر بھر کی مسافت سمیٹ کر
گھر جا رہا ہوں مجھ کو اگر رکھ لیا گیا
شوکت فہمی
گل تعویز تے آگئی اے
غیبی چیز تے آگئی اے
راجکماری کاہ نئی پایا
اکھ کنیز تے آگئی اے
اودے باجوں اینا رویاں
سِل قمیض تے آگئی اے
رات ہنیری دور سی جیہڑی
اج دہلیز تے آگئی اے
اودے نال ہن نئی نبنی
ادب تمیز تے آگئی اے
کیہڑی چیز تے اکھ سی میری
کیہڑی چیز تے آگئی اے
۰
۰
۰حارث ہاشمی
آنکھوں کی دسترس میں کبھی آ ! دکھائی دے
دنیا ہو مسترد ! ترا چہرہ دکھائی دے
میں نے کوئی چراغ بھی روشن نہیں کیا !
میں چاہتا نہیں کوئی تم سا دکھائی دے
اس حال میں بھی اب اسے جی بھر کے دیکھ لوں
جانے وہ شخص بعد میں کیسا دکھائی دے !
گوشہ نشین شخص تری ہر جھلک کی خیر
عالم ترس رہے ہیں انہیں جا ! دکھائی دے !
وہ شخص ہم کلام ہوا تب پتا چلا !
اتنا اداس ہے نہیں ! جتنا دکھائی دے !
زین شکیل
کتنے ہی دوست دشمنوں کی صَف میں آ گئے
تیرے دیے بٹن جو میرے کَف میں آ گئے
تو وہ اہم سوال تھا جو حاشیے میں تھا
ہم وہ فضول کام تھے جو رَف میں آ گئے
پھر اس کے بعد رقص ہوا رقص دیر تک
جب دکھ نکل کے لہجے سے اُس دَف میں آ گئے
ہم ایسے تازہ پھول تھے جو کم سنی میں ہی
بوسیدہ کاغذوں کی کسی لَف میں آ گئے
پہلے تو انتظار ہی اترا تھا بالوں میں
پھر رنگ وحشتوں کے میرے پَف میں آ گئے
خوشحال و اشک بار کی جب ٹولیاں بنیں
سارے ہی سوگوار مری صف میں آ گئے
دو چار میرے دوست سدا دل میں جو رہے
اک روز میں نے دیکھا میرے کف میں آ گئے
جناب فیضان احمد فیضی
02/04/2025
:حیرت ہے سرِ دار جو مصلوب رہا ہے
اس شخص کا ہر داؤ بہت خوب رہا ہے
آج اس کی خموشی پہ نہ تم انگلی اٹھاؤ
سنتے ہیں کہ وہ صاحبِ اسلوب رہا ہے
اب وقت نے سب نقش بگاڑے ہیں وگرنہ
یہ شہر مرے حُسن سے مرعوب رہا ہے
اے چھوڑے ہوئے شخص مجھے دکھ ہے کہ تجھ سا
کم ظرف مرے نام سے منسوب رہا ہے
ہے اور کوئی کارِ اذیت تو بتاؤ
کیا ہے کہ مرا عشق سے جی اوب رہا ہے
کومل جوئیہ
ہماﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﮐﭽﮫ ﺟﮭﯿﻠﺘﺎ وہ
ﺑﭽﮭﮍ ﮐﺮ ﮐﺘﻨﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ہے ۔
ﭘﺮﻭﯾﻦ ﺷﺎﮐﺮ