Adv Mian Abdul Rehman

Adv Mian Abdul Rehman “If you love what you are doing , you will be successful.” & i love my work !

ہم اکثر دوسروں کی زندگی دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ فلاں کتنا خوش نصیب ہے، فلاں کی زندگی کتنی آسان ہے، فلاں کے پاس سب ک...
17/08/2026

ہم اکثر دوسروں کی زندگی دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ فلاں کتنا خوش نصیب ہے، فلاں کی زندگی کتنی آسان ہے، فلاں کے پاس سب کچھ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم کسی انسان کی پوری کہانی نہیں جانتے۔

کچھ لوگ مسکراتے ہوئے اپنے اندر کے دکھ چھپا رہے ہوتے ہیں، کچھ اپنے مستقبل کی فکر میں راتیں جاگتے ہیں، کچھ مالی مشکلات سے لڑ رہے ہوتے ہیں، اور کچھ ایسے مسائل سے گزر رہے ہوتے ہیں جن کا ذکر وہ کسی سے نہیں کرتے۔

اس لیے کسی کو دیکھ کر یہ مت سمجھیں کہ اس کی زندگی آپ سے بہتر ہے۔ ہر انسان اپنی ایک الگ جنگ لڑ رہا ہے۔

کسی کو آپ کی ایک اچھی بات کی ضرورت ہو سکتی ہے، کسی کو صرف یہ احساس چاہیے کہ کوئی اسے سمجھتا ہے۔ اس لیے لوگوں پر جلدی فیصلہ کرنے کے بجائے ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں۔

اور اگر آپ خود کسی مشکل دور سے گزر رہے ہیں تو یاد رکھیں: ہر مشکل ہمیشہ نہیں رہتی۔ آج کی خاموش جدوجہد کل آپ کی طاقت بن سکتی ہے۔

اپنی جنگ لڑتے رہیں، چاہے کوئی آپ کی محنت دیکھے یا نہ دیکھے۔

کیونکہ زندگی آسان نہیں، لیکن آپ اکیلے نہیں ہیں۔ ❤️

13/08/2026

Grape 🍇 Farming

زندگی میں سب سے خطرناک وقت وہ نہیں ہوتا جب انسان ناکام ہو جائے، بلکہ وہ ہوتا ہے جب وہ بار بار ناکام ہو کر کوشش کرنا چھوڑ...
09/08/2026

زندگی میں سب سے خطرناک وقت وہ نہیں ہوتا جب انسان ناکام ہو جائے، بلکہ وہ ہوتا ہے جب وہ بار بار ناکام ہو کر کوشش کرنا چھوڑ دے۔

لوگ آپ کی آج کی حالت دیکھ کر فیصلہ کریں گے، مگر وقت آپ کے مستقل مزاج رہنے کا فیصلہ کرے گا۔
اس لیے خاموشی سے محنت کرتے رہو—ہر جواب الفاظ سے دینا ضروری نہیں، کامیابی بھی ایک جواب ہوتی ہے

Build Asia expo centre 2026 Lahore
08/08/2026

Build Asia expo centre 2026 Lahore

کس کس کو یاد ہے یہ “ڈڈو چارجر “۔آج کافی سالوں بعد نظر آیا Old Memories
08/08/2026

کس کس کو یاد ہے یہ “ڈڈو چارجر “۔
آج کافی سالوں بعد نظر آیا
Old Memories

وہ گھر جہاں ہر رات 3 بجے روشنی جلتی تھی…ایک چھوٹے سے گاؤں کے آخری سرے پر ایک پرانا گھر تھا۔ گھر کئی سال سے خالی پڑا تھا،...
08/08/2026

وہ گھر جہاں ہر رات 3 بجے روشنی جلتی تھی…

ایک چھوٹے سے گاؤں کے آخری سرے پر ایک پرانا گھر تھا۔ گھر کئی سال سے خالی پڑا تھا، مگر گاؤں والوں نے ایک عجیب بات محسوس کی تھی۔

ہر رات ٹھیک 3 بجے اس گھر کی اوپر والی کھڑکی میں روشنی جلتی تھی۔

نہ وہاں کوئی رہتا تھا، نہ بجلی کا کنکشن تھا۔

لوگوں نے کئی بار قریب جانے کی کوشش کی، لیکن ہر مرتبہ گھر کے دروازے تک پہنچتے ہی انہیں اندر سے کسی کے چلنے کی آواز سنائی دیتی۔

ایک رات ایک نوجوان نے فیصلہ کیا کہ وہ حقیقت معلوم کرکے رہے گا۔

وہ موبائل کی ٹارچ لے کر گھر میں داخل ہوا۔ اندر ہر طرف گرد، پرانے فرنیچر اور مکڑی کے جالے تھے۔ اچانک اوپر سے ٹھک… ٹھک… ٹھک کی آواز آئی۔

وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچا۔

وہاں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔

دروازہ کھولا تو سامنے ایک پرانی میز، ایک گھڑی اور دیوار پر لگی ایک تصویر تھی۔

تصویر میں اسی گھر کے سامنے کھڑا ایک خاندان نظر آ رہا تھا۔

نوجوان نے تصویر کو غور سے دیکھا تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے…

تصویر میں کھڑا لڑکا بالکل اسی جیسا دکھائی دے رہا تھا۔

اسی لمحے میز پر رکھی پرانی گھڑی نے 3 بجائے۔

اور کھڑکی کے باہر سے کسی نے آہستہ سے کہا:

“تم اتنی دیر سے کیوں آئے؟”

نوجوان نے فوراً پیچھے مڑ کر دیکھا…

کمرہ خالی تھا۔

لیکن میز پر ایک نئی تصویر پڑی تھی۔

اس تصویر میں وہ خود اسی کمرے میں کھڑا تھا۔

اور تصویر کے نیچے تاریخ لکھی تھی:

“کل کی تاریخ۔”

اس رات کے بعد وہ نوجوان کبھی گاؤں واپس نہیں آیا۔

آج بھی لوگ کہتے ہیں کہ ہر رات 3 بجے اس گھر کی کھڑکی میں روشنی جلتی ہے…

لیکن اب وہاں ایک نہیں، دو سائے نظر آتے ہیں۔

08/08/2026

Build Asia Expo 2026

05/08/2026

Randomly shoot no caption

وہ دروازہ جو 20 سال سے بند تھا گاؤں کے آخری سرے پر ایک پرانا گھر تھا۔ لوگ اسے “خاموش گھر” کہتے تھے۔کہتے تھے کہ اس گھر کا...
03/08/2026

وہ دروازہ جو 20 سال سے بند تھا

گاؤں کے آخری سرے پر ایک پرانا گھر تھا۔ لوگ اسے “خاموش گھر” کہتے تھے۔

کہتے تھے کہ اس گھر کا دروازہ پچھلے 20 سال سے بند تھا۔ نہ کوئی اندر گیا، نہ کسی نے کبھی اسے کھولنے کی کوشش کی۔

ایک رات 19 سالہ علی اپنے دوستوں کے ساتھ وہاں سے گزر رہا تھا کہ اچانک اسے اندر سے کسی چیز کے گرنے کی آواز سنائی دی۔

سب دوست رک گئے۔

“کیا تم نے بھی سنا؟” علی نے سرگوشی میں پوچھا۔

کسی نے جواب نہیں دیا۔

علی نے دروازے کے قریب جا کر کان لگایا۔

اندر مکمل خاموشی تھی۔

پھر اچانک…

ٹھک! ٹھک! ٹھک!

دروازے پر اندر کی طرف سے تین دستکیں ہوئیں۔

سب کے چہرے زرد پڑ گئے۔

علی نے ہمت کرکے زنگ لگا ہوا کنڈا کھولا۔ دروازہ زور سے چرچراتا ہوا کھلا۔

اندر ہر چیز پر دھول جمی ہوئی تھی۔ کمرے کے درمیان ایک پرانی میز تھی، اور اس پر ایک چھوٹا سا لکڑی کا ڈبہ رکھا تھا۔

علی نے ڈبہ کھولا۔

اندر ایک پرانی تصویر تھی۔

تصویر دیکھتے ہی علی کے ہاتھ کانپنے لگے۔

وہ تصویر علی کے اپنے دادا کی تھی۔

لیکن اصل حیرت تصویر کے پیچھے لکھی ہوئی ایک لائن تھی:

“اگر یہ تصویر تم تک پہنچ گئی ہے، تو سمجھو میں ابھی زندہ ہوں۔”

علی چند لمحے تصویر کو دیکھتا رہا۔

پھر گھر کے اندر سے ایک آواز آئی:

“علی…”

وہ آواز بالکل اس کے دادا جیسی تھی۔

اور اسی لمحے…

پیچھے والا دروازہ خود بخود بند ہوگیا۔

“ Never Give Up “
03/08/2026

“ Never Give Up “

Address

Gujranwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Mian Abdul Rehman posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share