Professor Irfan Iqbal Cheema

Professor Irfan Iqbal Cheema

Share

Assistant Professor of Chemistry at Government Associate (Degree) College Rahwali Gujranwala Pakistan

Photos from Professor Irfan Iqbal Cheema's post 14/03/2026

دنیا کی سب سے پراسرار اور خطرناک دھات پلوٹونیم

تصور کیجیے کہ آپ کے ہاتھ میں ایک دھات کا چھوٹا سا ٹکڑا ہے۔ بظاہر وہ عام دھاتوں جیسا ہی لگتا ہے، جیسے Iron یا Copper کا ٹکڑا۔ لیکن چند لمحوں بعد آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ دھات آہستہ آہستہ گرم ہو رہی ہے۔ نہ اس کے نیچے آگ ہے، نہ بجلی، مگر اس کے اندر کہیں گہرائی میں توانائی کا ایک خاموش سمندر موجیں مار رہا ہے۔

یہ کوئی عام دھات نہیں۔
یہ ہے Plutonium وہ عنصر جس نے انسان کو کائنات کی سب سے خوفناک طاقتوں میں سے ایک تک رسائی دی۔

بعض سائنسدان اسے مذاق میں “Devil’s Element” یا “شیطان کی دھات” بھی کہتے ہیں، کیونکہ یہ بظاہر خاموش اور بے جان نظر آتی ہے لیکن اس کے اندر تباہ کن طاقت چھپی ہوتی ہے۔

یہ کہانی ہمیں لے جاتی ہے سنہ 1940 میں۔ دنیا اس وقت World War II کی آگ میں جل رہی تھی۔ ہر بڑی طاقت اس کوشش میں تھی کہ سائنس کو جنگی طاقت میں تبدیل کیا جائے۔

اسی دوران University of California, Berkeley کی ایک خفیہ لیبارٹری میں چند سائنسدان ایک عجیب تجربہ کر رہے تھے۔ اس ٹیم کی قیادت معروف امریکی کیمیا دان Glenn T. Seaborg کر رہے تھے۔

وہ ایک بھاری عنصر Uranium پر نیوکلیئر تجربات کر رہے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ اس کے ایٹموں کو تبدیل کر کے دیکھا جائے کہ اس کے اندر اور کیا چھپا ہے۔

تجربات کے دوران ایک ایسا عنصر سامنے آیا جو قدرت میں تقریباً موجود نہیں تھا۔ یہ بالکل نیا تھا انسان کے ہاتھوں پیدا ہونے والا۔

جب اس عنصر کا نام رکھنے کا وقت آیا تو سائنسدانوں نے نظامِ شمسی کے ایک دور دراز سیارے Pluto کے نام پر اسے Plutonium کہا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ Pluto یونانی دیومالا میں زیرِ زمین دنیا اور موت کا دیوتا سمجھا جاتا تھا۔
بعد میں تاریخ نے دکھایا کہ شاید یہ نام اتفاق نہیں بلکہ پیش گوئی تھا۔

ایٹم کا ٹوٹنا اور توانائی کا طوفان

پلوٹونیم کی اصل طاقت اس کے ایٹم کے اندر چھپی ہے۔ اس کے ایٹم خاص طور پر Plutonium‑239 انتہائی غیر مستحکم ہوتے ہیں۔

جب ایک چھوٹا سا نیوٹران اس کے ایٹم سے ٹکراتا ہے تو ایٹم دو حصوں میں ٹوٹ جاتا ہے۔ اس عمل کو Nuclear fission کہتے ہیں۔

لیکن اصل ڈرامہ یہاں شروع ہوتا ہے۔

ایک ایٹم کے ٹوٹنے سے مزید نیوٹران نکلتے ہیں، جو دوسرے ایٹموں سے ٹکراتے ہیں۔ پھر وہ بھی ٹوٹتے ہیں، اور مزید نیوٹران نکلتے ہیں۔

یوں ایک chain reaction شروع ہو جاتی ہے

27/12/2025

2011 میں ناسا اور کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (Caltech) کے سائنسدانوں نے ایک حیرت انگیز سائنسی دریافت کی جس کے مطابق کواسار APM 08279+5255 کے گرد پانی کے بخارات کا ایک انتہائی وسیع ذخیرہ موجود ہے، جو زمین کے تمام سمندروں کے پانی سے تقریباً 140 کھرب گنا زیادہ ہے۔ یہ کواسار ہم سے تقریباً 12 بلین نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے، یعنی ہم اسے کائنات کے اُس دور میں دیکھ رہے ہیں جب اس کی عمر صرف 1.6 بلین سال تھی۔ اس کواسار کے مرکز میں ایک انتہائی طاقتور سپر میسیو بلیک ہول موجود ہے جس کا ماس ہمارے سورج سے تقریباً 20 بلین گنا زیادہ ہے اور جو بے پناہ توانائی خارج کر رہا ہے، یہی توانائی اردگرد کے ماحول کو گرم رکھتی ہے جس کے باعث پانی مائع کے بجائے بخارات کی شکل میں موجود ہے۔ یہ پانی کسی سمندر یا جھیل کی صورت میں نہیں بلکہ گیس کے ایک عظیم بادل کی مانند کواسار کے گرد پھیلا ہوا ہے، اور اس کی کثافت ہماری کہکشاں کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ ہے۔ اس دریافت سے یہ اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ پانی کائنات میں نہایت عام ہے اور بگ بینگ کے نسبتاً جلد بعد بھی اس کے اجزا موجود تھے، جو کائنات کی وسعت، پیچیدگی اور اللہ تعالیٰ کی بے مثال قدرت کی ایک شاندار مثال ہے۔

Photos from Professor Irfan Iqbal Cheema's post 12/12/2025

Today we celebrated our new Nobel Prize laureates in Stockholm and Oslo.

Take a look at the highlights from the celebrations – and let us know your favourite moment.

1) 2025 Nobel Peace Prize laureate Maria Corina Machado's daughter Ana received the peace prize on behalf of her mother.
2) Literature laureate László Krasznahorkai receiving his Nobel Prize from the King of Sweden.
3) Overview of the 2025 Nobel Prize award ceremony.
4) Medicine laureate Mary Brunkow receiving his Nobel Prize from the King of Sweden.
5) Performance at the Nobel Prize banquet.
6) Overview of the 2025 Nobel Prize banquet.
7) Performance at the Nobel Prize banquet, music composed by Jacob Mühlrad.

07/12/2025

ہائزنبرگ(1901 تا 1975)۔
-
بیسویں صدی کے آغاز تک طبیعیات دانوں کو یقین تھا کہ انہوں نے کائنات کے قوانین تقریباً مکمل طور پر سمجھ لیے ہیں۔ نیوٹن کے قوانین حرکت، میکسویل کے برقناطیسی نظریے(electromagnetic theory of Maxwell)، اور تھرموڈائنامکس(thermodynamics) کی بنیادیں - سب کچھ معلوم لگتا تھا۔ لیکن چند معمے باقی تھے جن میں سے سب سے پریشان کن ایٹم کی ساخت تھی۔
۱۹۱۳ میں نیلز بوہر نے ایک ماڈل پیش کیا جس کے مطابق الیکٹران مخصوص مداروں میں گھومتے ہیں۔ یہ ماڈل ہائیڈروجن ایٹم کے لیے تو کامیاب رہا، لیکن زیادہ پیچیدہ ایٹموں یا سالمات (مالیکیولز) کے لیے ناکام ہو گیا۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ الیکٹران کی مقناطیسی لہریں (جو ایک اسراع پذیر چارج بردار ذرہ خارج کرتا ہے) کی وجہ سے الیکٹران کو توانائی کھو کر نیوکلئس سے ٹکرا جانا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا تھا۔ ایٹم مستحکم تھے۔
کلاسیکی طبیعیات میں ہر چیز مسلسل ہے۔ آپ روشنی کی شدت یا الیکٹران کی توانائی کو مسلسل تبدیل کر سکتے ہیں۔ لیکن تجربات سے پتہ چلا کہ ایٹم کے اندر سب کچھ کوانٹائزڈ (quantized) ہے، یعنی طبیعی مقداریں مسلسل تبدیل نہیں ہو سکتیں جیسا کہ تعدد یا فرئکوئنسی یا پھر انرجی۔ الیکٹران صرف مخصوص مداروں میں ہی رہ سکتے ہیں، مخصوص توانائی کے ساتھ۔ جب وہ توانائی خارج کرتے ہیں تو وہ بھی مخصوص مقداروں (فوٹون) میں ہوتی ہے۔
۱۹۲۵ میں، 24 سالہ ہائزنبرگ نے ایک انقلابی خیال پیش کیا۔ انہوں نے کہا:
"ہمیں صرف ان چیزوں کے بارے میں سوچنا چاہیے جو ہم واقعی دیکھ سکتے ہیں، نہ کہ تصوراتی ماڈلز کے بارے میں۔“
یعنی ہم الیکٹران کو ایٹم میں گھومتا ہوا براہ راست نہیں دیکھ سکتے۔ ہم صرف یہ دیکھ سکتے ہیں کہ جب ایٹم توانائی جذب یا خارج کرتا ہے تو روشنی کی لہروں کی کونسی فریکوئنسی نکلتی ہے۔ لہٰذا، ہمیں ایٹم کے "اندرونی تصوراتی ڈھانچے" (جیسے مدار) پر توجہ نہیں دینی چاہیے، بلکہ صرف قابلِ مشاہدہ مقداروں (observable quantities) پر دینی چاہیے۔
ہائزنبرگ نے کہا کہ ایٹم کی حالت کو بیان کرنے کے لیے، ہمیں تمام ممکنہ ٹرانزیشنز (الیکٹران کا ایک سے دوسرے مدار میں جانا ٹرازیشن کہلاتا ہے) کو بیان کرنا ہوگا - یعنی یہ کہ ایٹم ایک توانائی کی حالت سے دوسری حالت میں کیسے جاتا ہے۔ہمیں معلوم ہے کہ ایٹم کے اندر لاتعداد مدار ہوتے ہیں جن میں الیکٹران رہ سکتے ہیں۔ اور الیکٹران ایک

04/07/2023

At age 17, she was rejected from college.

At age 25, her mother died from disease.

At age 26, she moved to Portugal to teach English.

At age 27, she got married.

Her husband abused her. Despite this, her daughter was born.

At age 28, she got divorced and was diagnosed with severe depression.

At age 29, she was a single mother living on welfare.

At age 30, she didn't want to be on this earth.
But, she directed all her passion into doing the one thing she could do better than anyone else.
And that was writing.

At age 31, she finally published her first book.

At age 35, she had released 4 books, and was named Author of the Year.

At age 42, she sold 11 million copies of her new book, on the first day of release.

This woman is J.K. Rowling. Remember how she considered su***de at age 30?

Today, Harry Potter is a global brand worth more than $15 billion dollars.

Never give up. Believe in yourself. Be passionate. Work hard. It’s never too late.

She is J.K. Rowling

23/06/2023

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
‏ٹائٹن آبدوز کی کمپنی نے مسافروں کی ہلاکت کا اعلان کردیا ‏
شہزادہ داؤد 1975 میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے 1998 میں بکھنگم یونیورسٹی سے LLB کیا وہ اینگرو کارپوریشن کے وائس چئیرمین تھے۔ داؤد فاونڈیشن کے تحت پاکستان میں تعلیم سے محروم بچوں کی پڑھائی کا بندوبست کرتے تھے اور لاتعداد اسپتالوں میں ان کی خدمات پیش پیش تھیں۔ کراچی میں دو کمپنیاں جن میں تقریباً چھ ہزار لوگ کام کرتے ہیں۔ 860 ملین ڈالر 2020 میں صرف ایک کمپنی کی آمدن تھی۔ وہ امیر تھا وہ جیسا بھی تھا پاکستان میں روزگار کے مواقع فراہم کر رکھے تھے۔ پاکستان میں کاروبار کر رہا تھا۔ اس لیے جیسے ہم ہیں ویسا وہ بھی پاکستانی ہی تھا۔ پاسپورٹ پاکستانی ہی تھا۔ جیسے ہمارے باپ ہماری خوائشیں پوری کرتے ویسے ہی اُس نے اپنے بیٹے کی خوائش پوری کی ہو گی لیکن جو رب نے لکھا تھا وہ ہونا تھا ایک باپ کے سامنے اولاد کا مرنا اور اولاد کے سامنے باپ کا یوں مرنا تصور سے ہی روح کانپ جاتی ہے اللہ جی اگلا جہاں آسان کرے۔ آمین

20/06/2023

300 بدقسمت پاکستانی..
یونان کے ساحل پر پڑی پاکستانیوں کی یہ بے گوروکفن لاشیں. پاکستانی حکمرانوں کی لاشیں ہیں
یہ طبقاتی نظام کی لاشیں ہیں
یہ عدل و انصاف کی لاشیں ہیں
یہ وڈیرہ شاھی کی لاشیں ہیں
یہ میرٹ کی لاشیں ہیں
یہ غیر منصفانہ تقسیم کی لاشیں ہیں
یہ صلاحیئتوں کی ناقدری کی لاشیں ہیں
یہ ملک میں غیر مساویانہ رزق کی تقسیم کی لاشیں ہیں
یہ اشرافیہ کی لاشیں ہیں
یہ بوسیدہ نظام کی لاشیں ہیں

29/11/2022

میں نے زندگی میں 2 لوگوں کو ہمیشہ پریشان
دیکھا، ایک مخلص اور دوسرا وفادار باقی منافق کو ہر جگہ فٹ پایا۔۔

16/10/2022
Photos from Professor Irfan Iqbal Cheema's post 15/10/2022

A warm welcome in honour of Respected Sir Syed Shujaat Ali Shah Sahib to join as Principal of Government Degree College Rahwali, Gujranwala..

15/10/2022

A warm welcome in the honour of Respected Syed Shujaat Ali Shah, to join Government Degree College Rahwali, Gujranwala as Principal.

Want your school to be the top-listed School/college in Gujranwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Gujranwala