14/03/2026
دنیا کی سب سے پراسرار اور خطرناک دھات پلوٹونیم
تصور کیجیے کہ آپ کے ہاتھ میں ایک دھات کا چھوٹا سا ٹکڑا ہے۔ بظاہر وہ عام دھاتوں جیسا ہی لگتا ہے، جیسے Iron یا Copper کا ٹکڑا۔ لیکن چند لمحوں بعد آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ دھات آہستہ آہستہ گرم ہو رہی ہے۔ نہ اس کے نیچے آگ ہے، نہ بجلی، مگر اس کے اندر کہیں گہرائی میں توانائی کا ایک خاموش سمندر موجیں مار رہا ہے۔
یہ کوئی عام دھات نہیں۔
یہ ہے Plutonium وہ عنصر جس نے انسان کو کائنات کی سب سے خوفناک طاقتوں میں سے ایک تک رسائی دی۔
بعض سائنسدان اسے مذاق میں “Devil’s Element” یا “شیطان کی دھات” بھی کہتے ہیں، کیونکہ یہ بظاہر خاموش اور بے جان نظر آتی ہے لیکن اس کے اندر تباہ کن طاقت چھپی ہوتی ہے۔
یہ کہانی ہمیں لے جاتی ہے سنہ 1940 میں۔ دنیا اس وقت World War II کی آگ میں جل رہی تھی۔ ہر بڑی طاقت اس کوشش میں تھی کہ سائنس کو جنگی طاقت میں تبدیل کیا جائے۔
اسی دوران University of California, Berkeley کی ایک خفیہ لیبارٹری میں چند سائنسدان ایک عجیب تجربہ کر رہے تھے۔ اس ٹیم کی قیادت معروف امریکی کیمیا دان Glenn T. Seaborg کر رہے تھے۔
وہ ایک بھاری عنصر Uranium پر نیوکلیئر تجربات کر رہے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ اس کے ایٹموں کو تبدیل کر کے دیکھا جائے کہ اس کے اندر اور کیا چھپا ہے۔
تجربات کے دوران ایک ایسا عنصر سامنے آیا جو قدرت میں تقریباً موجود نہیں تھا۔ یہ بالکل نیا تھا انسان کے ہاتھوں پیدا ہونے والا۔
جب اس عنصر کا نام رکھنے کا وقت آیا تو سائنسدانوں نے نظامِ شمسی کے ایک دور دراز سیارے Pluto کے نام پر اسے Plutonium کہا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ Pluto یونانی دیومالا میں زیرِ زمین دنیا اور موت کا دیوتا سمجھا جاتا تھا۔
بعد میں تاریخ نے دکھایا کہ شاید یہ نام اتفاق نہیں بلکہ پیش گوئی تھا۔
ایٹم کا ٹوٹنا اور توانائی کا طوفان
پلوٹونیم کی اصل طاقت اس کے ایٹم کے اندر چھپی ہے۔ اس کے ایٹم خاص طور پر Plutonium‑239 انتہائی غیر مستحکم ہوتے ہیں۔
جب ایک چھوٹا سا نیوٹران اس کے ایٹم سے ٹکراتا ہے تو ایٹم دو حصوں میں ٹوٹ جاتا ہے۔ اس عمل کو Nuclear fission کہتے ہیں۔
لیکن اصل ڈرامہ یہاں شروع ہوتا ہے۔
ایک ایٹم کے ٹوٹنے سے مزید نیوٹران نکلتے ہیں، جو دوسرے ایٹموں سے ٹکراتے ہیں۔ پھر وہ بھی ٹوٹتے ہیں، اور مزید نیوٹران نکلتے ہیں۔
یوں ایک chain reaction شروع ہو جاتی ہے