محمد دین جوہر صاحب نے ہم عصر الحاد پر ایک مفید تحریر لکھی تھی جو اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہے، البتہ اس میں مغربی اور مسلم معاشروں کے تناظر کا فرق ضمناً واضح کیا گیا ہے، جبکہ اس کو شاید زیادہ واضح کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمارے خیال میں الحاد کے سوال کو تین سطحوں پر دیکھا جا سکتا ہے۔
ایک سطح فلسفیانہ الحاد کی ہے جو مغرب کی فکری روایت اور اسی طرح ہندوستان کی مذہبی روایت میں ایک پوری تاریخ رکھتا ہے۔ اس الحاد سے مسلم معاشرے مانوس نہیں ہیں اور اسی لیے اس کے مباحث کو پوری طرح سمجھنے میں بھی ابھی ہمارے اہل کلام کو کافی موانع کا سامنا ہے جو فطری ہے۔ برادر عارف عمر نے ابھی اس فکری روایت کے دو تین بڑے ناموں مثلاً اسپائی نوزا، نیٹشے اور ہائیڈیگر وغیرہ کا نام لیا۔ اس سطح کے بڑے ملحدین مغربی روایت میں ہی پیدا ہو سکتے ہیں، مسلم معاشروں میں ان کی پیدائش کی توقع غیر تاریخی ہے، کیونکہ کسی روایت کے بڑے ذہن اس روایت کے اندر ہی پیدا ہوتے ہیں، اس کے باہر نہیں ہو سکتے۔ اسی لیے ہمارے دوست عمران بھنڈر صاحب ہیگل کی منطق کے حوالے سے جن نتائج کو اپنے تئیں قاطع اور فیصلہ کن سمجھ کر پیش کرتے ہیں، وہ ہمارے تناظر میں قاطع تو کیا، قابل فہم بھی نہیں بنتے۔ ان کی معنویت یا قدر وقیمت پر گفتگو مغربی فلسفے کے تناظر میں ہی ہو سکتی ہے، انھیں مسلم فکری روایت کے تناظر میں پیش کرنا خود کلامی کے مترادف ہے، کیونکہ یہاں وہ ڈسکورس ہی موجود نہیں۔
دوسری سطح مستعار الحاد کی ہے جس کے مقدمات اور استدلالات استعماری تسلط کے زیر اثر ہمارے ہاں پیدا ہوئے ہیں۔ اس نوع کے الحاد کے متعلق ہم متعدد دفعہ یہ عرض کر چکے ہیں کہ ہمارے ہاں اس کے بھی کوئی بڑے یا قابل ترجمان ابھی تک پیدا نہیں ہو سکے اور بظاہر مستقبل میں بھی دکھائی نہیں دیتے۔ اس کے متاثرین میں سے جن کے ہاں طبیعت کی کچھ تیزی ہے، وہ ضرور اس کو ایک جارحانہ الحاد کی شکل دینے کی خواہش رکھتے ہیں اور کچھ سعی وجہد بھی کر رہے ہیں، لیکن اس کے موثر ہونے کے زیادہ امکانات بظاہر نہیں ہیں۔ اس سطح کے الحاد سے نبٹنے کے لیے درس نظامی کی اچھی ٹریننگ اور روایتی علم کلام کے مباحث سے مناسب آشنائی کافی ہے، بلکہ بہت سے حضرات اس پس منظر کے بغیر بھی اس سطح کے الحاد کو کافی حد تک کامیابی سے موضوع بنا رہے ہیں۔
مسلم معاشروں کے تناظر میں الحاد کی تیسری اور سب سے زیادہ قابل توجہ سطح تشکیکی الحاد کی ہے۔ اس کے بنیادی اسباب میں سائنسی مادیت کے نفسی اثرات، مسلم تہذیب کی دگرگوں تاریخی صورت حال اور تعبیر وعمل، دونوں سطحوں پر مذہب کی موجودہ شکل وغیرہ شامل ہیں۔ سب سے اہم چیلنج یہی ہے اور اس کے ساتھ معاملہ کرنے کے لیے ضروری فکری وعملی اسباب پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
Ibn Khaldun Institute
ابن خلدون انسٹی ٹیوٹ غیر رسمی تعلیم وتدریس کا ادارہ ہے ?
Want your school to be the top-listed School/college in Gujranwala?
Click here to claim your Sponsored Listing.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Hashmi Colony, Kangniwala
Gujranwala
Gujranwala
07/03/2022