26/07/2026
بادلو نے گرجنا شروع کر ديا اور بارش ہونے لگے
ہم بھی نہیں چھپے بارش میں چلتے گئے کہ
اس بیابان میں کسی قبیلے والے کا گھر نظر آئے
ادھر چلیں جہاں ميری موتی (ہیرا) جیسی محبوبہ کا خیمہ ہے
میں بھی اپنے ہتھیارووں سے مسلح تھا
سفید بادل گرجے اور رقص شروع کر ديا جیسے شادی بیاہ میں ہوتا ہے
بارش کے تيز چھنٹوں نے خیمے کی طنابیں ڈھیلی کر دیں
اسی وقت طنابیں کس دی گئیں
تيز ہوائے بارش کے ساتھ مل کر اس کا دوپٹہ سر سے اتار ديا
ميرے دوربین حیرت زدہ نگاهوں نے دیکھا
ميرے جسم کے تمام اعضانے ميرے آنکھوں کی تائید کرتے ہوئے ساتھ دیا
اس کی آنکھیں لالٹین کی طرح روشن ہیں
چونک جانے والے ہرن کی مانندہ وحشی ہیں
زالفیں کھاکے کالے ناگوں کی طرح شانوں پر پڑی ہیں
مجھے دیوانگی کی لہروں نے اپنے گھیرے میں لے ليا
مجھے نشانے لگنے والے گولی نے مار ڈالا
جب وہ اپنی پرکیف آنکھیں جھمکاتی ہے
تو عاشق کی بے قراری اور بڑہ جاتی ہے
#مست