24/12/2025
تحصیل گوجرہ میں زراعت کے شعبے سے وابستہ ایک خوشگوار ملاقات
میرے والدِ محترم دلدار حسین کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت تحصیل گوجرہ جناب گلزار شاہد سے ملاقات ہوئی۔
اس موقع پر جناب گلزار شاہد نے خصوصی طور پر یادگاری تصویر بھی بنوائی جو میرے لیے باعثِ فخر ہے۔
زرعی ترقی اور کسان دوست اقدامات پر گفتگو ہوئی۔
اللہ تعالیٰ ایسے مخلص اور محنتی افسران کو ہمیشہ کامیاب رکھے۔
"محمد لقمان مانی پوریا"
07/11/2025
ٹوبہ ٹیک سنگھ پاسپورٹ آفس میں غریب شہری کے ساتھ ظلم! انچارج شیخ ادریس کی غنڈہ گردی عروج پر!
ٹوبہ ٹیک سنگھ
پاسپورٹ ری نیو کروانے کے لیے جانے والے عام شہری کے ساتھ پاسپورٹ آفس میں پیش آیا انسانیت سوز واقعہ!
ہوا یوں کہ شہری پاسپورٹ ری نیو کروانے کے لیے ٹوبہ ٹیک سنگھ پاسپورٹ آفس پہنچے۔ بدقسمتی سے وہ کسی ایجنٹ کے ذریعے نہیں بلکہ ڈائریکٹ اندر چلے گئے — اور یہی ان کی “غلطی” بن گئی
اندر موجود عملے نے اعتراض لگا دیا کہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر تاریخِ پیدائش مختلف ہے، لہٰذا آپ کو “فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ” اور “بیانِ حلفی” ساتھ جمع کروانا ہوگا۔
شہری نے معاملہ آفس انچارج شیخ ادریس کے سامنے رکھا تو انہوں نے بھی وہی بات دہرائی۔
مجبوراً باہر نکلے تو ایک ایجنٹ نے آ کر کہا:
“آپ مجھے 2500 روپے دیں، کوئی فکر نہیں، آپ کا پاسپورٹ بن جائے گا۔
2000 اندر دینے ہیں انچارج کو، اور 500 ہماری فیس ہے!”
پیسے دے کر فائل جمع کروائی، مگر جب شہری نے دوبارہ جا کر شیخ ادریس کو بتایا کہ “پاسپورٹ جمع ہو گیا ہے اور اب ہم ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے پاس درخواست دینے جائے گے تو انچارج غصے سے آگ بگولا ہوگئے اور کہنے لگے
“مجھے کسی ڈی سی کی پروا نہیں، جہاں مرضی چلے جاؤ!”
اتنا ہی نہیں — شیخ ادریس نے اپنے گارڈز کو حکم دیا:
“یہ شخص آفس سے باہر نہ جانے پائے، اس سے سلپ وغیرہ چھین لو!”
گارڈز نے شہری کے پر حملہ کر دیا، کپڑے پھاڑ دیے، اور مار پیٹ کی — مگر وہ اپنی جان بچا کر آفس سے باہر نکل آئے۔
اب متاثرہ خاندان کی اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ:
“ہمارا فوری انصاف کیا جائے
پاسپورٹ آفس میں بیٹھے غریب عوام پر ظلم کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔”
کیا عوام کے سرکاری دفاتر میں عزت بھی صرف پیسے والے کے لیے رہ گئی ہے؟
کیا انصاف صرف ایجنٹوں کے ذریعے ہی ملے گا؟
تحریر گزار : "محمد لقمان مانی پوریا"
23/07/2025
پیارے بھائی مہربانی فرما کر پوسٹ کو شئیر ضرور کریں تاکہ اس پوسٹ سے کسی کا بھلا ہوجائے وہ اس کے شکار سے بچ جائیں
🔴 عوامی آگاہی برائے جعلی حکیموں سے ہوشیار رہیں 🔴
گوجرہ کے نواحی گاؤں میں موجود شف والی سرکار کی کاپی
کام ملتا جلتا وہ بھی علاج کرتا ہے یہ بھی علاج کرتا ہے
عتیق نامی فراڈیا جو علاج کرنے کے نام پر لاکھوں روپے اکھٹے کر چکا ہے جناب کا طریقہ واردات صرف اور صرف سوشل میڈیا ہے اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ سوشل میڈیا کا اصل استعمال یہی کررہا ہے
سوشل میڈیا پر پیسے دے کر پروموشن کرتا ہے اور دکھ کے مارے ہوئے بیمار افراد کو ٹارگٹ کرتا ہے
نہ کوئی ڈگری نہ کوئی تجربہ بس نیم حکیم خطرہ جان
اہلِ علاقہ خصوصاً گوجرہ اور گردونواح کے مکینوں کو باخبر کرنا نہایت ضروری ہے کہ ایک شخص عتیق نامی جعلی حکیم "علاج" کے نام پر معصوم اور دکھ زدہ لوگوں کو لوٹ رہا ہے۔ یہ شخص "شف والی سرکار" جیسا نام اور ماحول بنا کر، لوگوں کو یہ تاثر دیتا ہے کہ اس کے پاس ہر مرض کا روحانی و جسمانی علاج موجود ہے۔
اس فراڈیا کا اصل ہتھیار سوشل میڈیا ہے۔ وہ لاکھوں روپے لگا کر اپنی جعلی شہرت کی پروموشن کرتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مجبور اور بیمار افراد اس کے جال میں پھنسیں۔ جعلی دعوے، جھوٹے مریضوں کے ویڈیوز، اور فیس بک/یوٹیوب اشتہارات کے ذریعے یہ شخص سادہ لوح افراد کو قائل کرتا ہے کہ وہ اُن کی آخری امید ہے۔
لیکن سچ یہ ہے:
یہ شخص کسی بھی مستند ادارے یا کونسل سے منظور شدہ حکیم یا ڈاکٹر نہیں ہے۔
لوگوں سے "علاج" کی مد میں لاکھوں روپے بٹور چکا ہے۔
اس کا کوئی علاج سائنسی یا طبی بنیادوں پر قائم نہیں بلکہ صرف جھوٹ، فریب اور اداکاری پر مبنی ہے۔
اس کے طریقہ واردات کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے، مریض کا علاج نہیں۔
📢 آپ سب سے اپیل ہے کہ:
1. سوشل میڈیا پر نظر آنے والے ہر "روحانی" یا "حکیمی" اشتہار پر یقین نہ کریں۔
2. کسی بھی شخص کو پیسے دینے سے پہلے اس کی مکمل تحقیق کریں۔
3. علاج کے لیے صرف مستند ڈاکٹروں، اسپتالوں یا طبی اداروں سے رجوع کریں۔
4. اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا اس فراڈ کا شکار ہو چکا ہے تو مقامی اتھارٹی یا پولیس کو اطلاع دیں۔
آگاہی پھیلائیں – جانیں بچائیں۔ یہ تحریر اپنے دوستوں، رشتہ داروں، اور سوشل میڈیا گروپس میں ضرور شیئر کریں تاکہ کوئی اور شخص اس دھوکے کا شکار نہ ہو۔
15/05/2025
گوجرہ / مونگی بنگلہ –
گٹر ملا پانی، بیماریوں کا طوفان!
چک نمبر 156 گ ب پدری کی 30 سال پرانی واٹر سپلائی لائن مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق پینے کا پانی گندے نالے سے گزرتا ہے جس کی وجہ سے گاؤں میں ہیپاٹائٹس سی سمیت کئی بیماریوں نے پنجے گاڑ لیے ہیں!
اہلِ علاقہ سراپا احتجاج:
"ہم گٹر کا پانی پینے پر مجبور ہیں، بچوں کی صحت خراب ہو چکی ہے۔ کئی بار شکایت کی، لیکن کوئی نہیں سنتا۔"
واٹر سپلائی کی 8 کلومیٹر لمبی مین لائن جگہ جگہ سے لیک ہو رہی ہے، اور لائن کے اوپر سے گندے پانی کا نالا گزار دیا گیا ہے – جس سے سپلائی ہونے والا پانی مکمل طور پر آلودہ ہو چکا ہے۔
اہم انکشاف – پبلک ہیلتھ رپورٹ کے مطابق:
پانی کی موجودہ لائن 30 سال پرانی ہے اور اپنی عمر پوری کر چکی ہے۔
نظام جگہ جگہ سے تباہ ہو چکا ہے، جس سے گندا پانی سپلائی ہو رہا ہے۔
نیا سسٹم بچھانے کے لیے فنڈز درکار ہیں۔
عوام کا مطالبہ:
"ہمیں صاف پانی چاہیے! حکومت فوری طور پر نئی PVC واٹر سپلائی لائن بچھائے تاکہ ہماری زندگیاں بچ سکیں!"
کیا حکام جاگیں گے؟ یا علاقہ مکین اسی طرح گندہ پانی پینے پر مجبور رہیں گے؟
آپ اس آواز کو شیئر کریں – شاید کوئی ہماری فریاد سن لے!
#گوجرہ ؟
20/01/2025
باب بند ہوگیا رب کا بلاوا آگیا
انا للہ وانا الیہ راجعون
ہمارے محلے کی رونق جن کے ساتھ ہمارا بچپن گزرا چاچا صادق (مرحوم) اس دنیا کو الوداع کہہ کر اپنے رب سے جا ملیں بیشک وہی اصل جگہ ہے جہاں پر تاحیات رہنا یہ زندگی تو عارضی ہے
اللہ پاک چاچا جی کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین
"محمد لقمان مانی پوریا"