18/08/2026
Govt. Graduate College for women Gojra
high level education by highly qualified and hardworking teachers
18/08/2026
*CTI Induction 2026 is Here!*
Big news for all CTI candidates! Your journey towards the CTI Induction 2026 starts with one important step — completing your profile on the CTI Portal.
✅ It's necessary to complete your profile before the next step is offered
✅ This is your chance to get ahead — don't miss out!
✅ Create or update your profile now and stay ready for what's next
🔗 Log in today: cti-hep.punjab.gov.pk
Don't wait until the last moment — complete your profile now and be first in line for the next phase of processing! 🚀
*DPI Colleges Punjab Lahore*
ویڈیو مکمل دیکھیں۔ انٹر کلاس کے طلبہ و طالبات کے لیے بہت مفید ایپ۔
14/08/2026
وہ رات جب فرانس میں چند نوجوانوں کو اچانک احساس ہوا کہ ہمارا ملک تو بننے والا ہے، مگر ہمارے پاس اس کا پرچم ہی نہیں!
اگست 1947ء کی ایک رات تھی۔ جگہ لاہور، کراچی یا دہلی نہیں بلکہ ہزاروں میل دور فرانس کا ایک چھوٹا سا علاقہ Moisson تھا، جہاں دنیا بھر سے بیس ہزار سے زیادہ نوجوان چھٹی World Scout Jamboree میں جمع تھے۔ دوسری عالمی جنگ ختم ہوئے صرف دو برس ہوئے تھے، اسی لیے اس اجتماع کو امن اور بھائی چارے کی علامت سمجھا جا رہا تھا۔ مختلف ملکوں کے اسکاؤٹس اپنے اپنے قومی پرچموں کے نیچے موجود تھے، مگر برصغیر سے آنے والے نوجوانوں کے لیے تاریخ نے عین انہی دنوں ایک عجیب صورت اختیار کرلی تھی۔ وہ ہندوستان سے ایک ہی وفد کی صورت میں روانہ ہوئے تھے، لیکن اب خبر آچکی تھی کہ چند دنوں کے اندر وہ سب ایک ہی ملک کے شہری نہیں رہیں گے۔ برصغیر تقسیم ہو رہا تھا اور دنیا کے نقشے پر ایک بالکل نیا ملک ابھرنے والا تھا جس کا نام پاکستان تھا۔
فرانس میں موجود ان مسلمان اسکاؤٹس کے لیے یہ خبر ناقابلِ بیان خوشی لے کر آئی، مگر اسی خوشی کے درمیان اچانک ایک ایسا سوال سامنے آگیا جس کا جواب ان کے پاس نہیں تھا۔ جب آزادی کا دن آئے گا اور دنیا کے دوسرے ممالک کے پرچموں کے درمیان نئے پاکستان کی نمائندگی کا وقت ہوگا تو پاکستان کا پرچم کہاں سے آئے گا؟ وہ ہندوستان سے روانہ ہوئے تھے تو پاکستان ابھی بنا ہی نہیں تھا، جبکہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے قومی پرچم کو باقاعدہ طور پر 11 اگست 1947ء کو منظور کیا تھا۔ فرانس میں بیٹھے ان نوجوانوں کے پاس نہ تیار پاکستانی پرچم تھا اور نہ ہی ایسا کوئی آسان ذریعہ کہ ایک ایسے ملک کا پرچم فوراً حاصل کر سکیں جو ابھی دنیا کے نقشے پر نمودار ہونے والا تھا۔
مگر ان نوجوانوں نے طے کرلیا کہ جب پاکستان وجود میں آئے گا تو فرانس کی سرزمین پر بھی اس کا پرچم ضرور لہرانا چاہیے۔ اب مسئلہ صرف یہ تھا کہ اسے بنایا کیسے جائے۔ دستیاب تاریخی ریکارڈ کے مطابق نئے پرچم کا نقشہ ان کے سامنے تھا اور انہوں نے اپنے اردگرد موجود چیزوں ہی میں اس کے رنگ تلاش کرنا شروع کردیے۔ سبز کپڑے کے لیے ایک سبز پگڑی کام آئی جبکہ سفید حصے کے لیے ایک اسکاؤٹ نے اپنی سفید قمیص کا کپڑا دے دیا۔ وہاں موجود دو فرانسیسی Girl Guides نے سلائی میں ان کی مدد کی اور یوں جس نئے ملک کے پاس فرانس میں اپنا تیار قومی پرچم تک موجود نہیں تھا، اس کے نوجوان اپنے ہی کپڑوں سے اس کا پرچم تیار کرنے بیٹھ گئے۔
اس منظر کو آج سے تقریباً آٹھ دہائیاں پیچھے جاکر محسوس کیجیے۔ پاکستان میں ابھی نئے ملک کی پہلی صبح طلوع ہونا باقی تھی، اس کے ادارے ابھی بننے تھے، لاکھوں لوگوں کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ آنے والے دن ان کی زندگیاں کس طرح بدل دیں گے، مگر ہزاروں میل دور فرانس میں چند نوجوان ایک سبز پگڑی اور سفید قمیص کے کپڑے کو جوڑ کر اس وطن کا نشان تیار کر رہے تھے جسے انہوں نے ابھی ایک آزاد ملک کی حیثیت سے اپنی آنکھوں سے دیکھا تک نہیں تھا۔ رات گزرتی رہی، کپڑا کٹتا اور سلتا رہا اور بالآخر وہ پرچم تیار ہوگیا جسے اگلی صبح دنیا بھر سے آئے ہوئے نوجوانوں کے سامنے بلند ہونا تھا۔
اگلی صبح Moisson کے وسیع Jamboree میدان میں دنیا کے مختلف ممالک کے پرچموں کے درمیان ایک ایسا پرچم بھی بلند ہوا جو کسی سرکاری صندوق سے نکال کر نہیں لایا گیا تھا، نہ کسی سفارت خانے نے فراہم کیا تھا اور نہ کسی فیکٹری میں تیار ہوا تھا۔ وہ چند نوجوانوں کے اپنے کپڑوں سے بنایا گیا تھا۔ World Organization of the Scout Movement کے محفوظ تاریخی ریکارڈ کے مطابق Khurshid Abbas Gardezi اور ان کے ساتھی Iqbal Qureshi نے رات بھر میں پاکستان کا پرچم تیار کیا اور 14 اگست 1947ء کی صبح اسے چھٹی World Scout Jamboree کے میدان میں بلند کیا۔ اس تقریب کو اس وقت کے Commonwealth Chief Scout، Lord Rowallan نے بھی دیکھا اور اس غیر معمولی واقعے کا ذکر Jamboree Gazette میں بھی ہوا۔
لیکن شاید اس کہانی کا سب سے خوبصورت پہلو صرف ایک پرچم کا بن جانا نہیں بلکہ ان نوجوانوں کی اپنی کہانی ہے۔ وہ اپنے گھروں سے نکلے تھے تو ایک ملک کے شہری تھے، ہزاروں میل کا سفر کرکے فرانس پہنچے اور وہیں کھڑے کھڑے تاریخ نے ان کی شناخت بدل دی۔ ایک نئی سرحد وجود میں آگئی، ایک نیا وطن پیدا ہوگیا اور اب انہی نوجوانوں کو دنیا کے سامنے پہلی مرتبہ اس وطن کے نام سے کھڑا ہونا تھا۔ ان کے سامنے پاکستان کا کوئی طویل ماضی نہیں تھا، کیونکہ ان کا ملک اسی لمحے تاریخ میں اپنا پہلا قدم رکھ رہا تھا، مگر ان کے پاس اس نئے وطن سے وابستہ ہونے کا احساس اتنا مضبوط تھا کہ پرچم دستیاب نہ ہونے پر انہوں نے اپنے ہی کپڑے کاٹ کر اسے تیار کرلیا۔
پاکستان Pakistan Boy Scouts Association کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق قائداعظم محمد علی جناح بھی فرانس میں چھٹی World Scout Jamboree کے دوران پاکستانی نوجوانوں کے قومی پرچم بلند کرنے کے جذبے سے متاثر ہوئے۔ بعد میں پاکستان واپس آنے پر ان اسکاؤٹس کو قائداعظم سے ملاقات کا موقع بھی ملا اور چند ماہ بعد دسمبر 1947ء میں قائداعظم پاکستان کے پہلے Chief Scout بنے۔ یوں فرانس کے ایک میدان میں شروع ہونے والی یہ چھوٹی سی داستان نئے پاکستان کی ابتدائی تاریخ کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جڑ گئی۔
آج 14 اگست کو پاکستان میں لاکھوں جھنڈے تیار مل جاتے ہیں۔ بازاروں، گھروں، گاڑیوں اور عمارتوں پر ہر طرف سبز ہلالی پرچم دکھائی دیتا ہے، مگر شاید اسی لیے فرانس کی وہ رات اور بھی خوبصورت محسوس ہوتی ہے جب چند نوجوانوں کے پاس اپنا قومی پرچم خریدنے کے لیے کوئی دکان اور اسے منگوانے کے لیے کوئی آسان ذریعہ موجود نہیں تھا۔ ان کے پاس صرف ایک سبز پگڑی، ایک سفید قمیص، چند مددگار ہاتھ اور ایک ایسے وطن سے وابستگی تھی جو ابھی اپنی پہلی صبح دیکھنے والا تھا۔ انہوں نے انہی چیزوں کو اکٹھا کیا، کپڑے کو کاٹا، سلوایا اور اگلی صبح اسے آسمان کی طرف بلند کردیا۔
نیچے کھڑے ان نوجوانوں کو شاید اس وقت اندازہ بھی نہیں ہوگا کہ کئی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی فرانس کی اس رات اور اس پرچم کا ذکر کیا جائے گا، مگر تاریخ نے اس لمحے کو محفوظ کرلیا۔ شاید اس لیے کہ قوموں کی زندگی میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جب ان کے پاس وسائل، عمارتیں، ادارے اور دنیا بھر میں سفارت خانے نہیں ہوتے؛ ان کے پاس صرف ایک خواب، اس خواب پر یقین کرنے والے چند لوگ اور اپنی شناخت کو بلند کرنے کا عزم ہوتا ہے۔ فرانس کی اس رات پاکستان کے ان نوجوانوں کے پاس بھی شاید یہی سب کچھ تھا، اور اپنے نئے وطن کا پرچم بنانے کے لیے انہیں اپنی قمیص اور پگڑی کا کپڑا تک استعمال کرنا پڑا۔
14 اگست 1947ء کی اس صبح فرانس کے آسمان تلے جب وہ سبز و سفید پرچم ہوا میں بلند ہوا تو وہ محض سلے ہوئے کپڑے کے چند ٹکڑے نہیں تھے؛ وہ ایک ایسی قوم کی پہلی شناختوں میں سے ایک تھی جو اسی وقت دنیا کے نقشے پر اپنا نام لکھ رہی تھی، پاکستان۔ 🇵🇰
حوالہ جات:
• World Organization of the Scout Movement (WOSM) — Veteran Pakistani Scouter Gardezi honoured with Lifetime Achievement Award
• Pakistan Boy Scouts Association — تاریخی ریکارڈ / History of Scouting in Pakistan
• National Assembly of Pakistan — First Constituent Assembly؛ قومی پرچم کی منظوری، 11 اگست 1947ء
• Constituent Assembly of Pakistan Debates — 11 August 1947؛ قومی پرچم سے متعلق قرارداد اور تفصیلات
14/08/2026
آج یوم آزادی کے سلسلہ میں گورنمنٹ گریجوایٹ کالج وومن گوجرہ نے کیک بنانے کا موقعہ اپنی بی ایس انگلش کی طالبہ کو دیا۔ اس بچی نے اپنے گھر میں بیکنگ کا کام شروع کیا ہے۔ اس کی حوصلہ افزائی کے لیے کالج کی طرف سے بھی کیک کا آرڈر ان کو دیا گیا تاکہ ان کا ہنر پبلک فورم پر اجاگر کیا جا سکے۔ بہت خوبصورت اور محفوظ پیکنگ میں بہت اچھے نرم اور ذائقہ دار کیک جو سب معزز اساتذہ کرام کو بہت پسند آئے ۔ آپ بھی اپنے گھر بیٹھے آرڈر کر سکتے ہیں۔
الحمدللہ ہم آزاد ہیں
،اللہ پاک فلسطین اور کشمیر کے مسلماموں کو بھی ازادی نصیب کرے۔
تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں، ہم تربیت پر یقین رکھتے ہیں۔
اللہ پاک ہمارے وطن کی حفاظت کرے، ہمیں اس کی ترقی اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق دے۔
14/08/2026
شاد باد منزل مراد
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
56000
Opening Hours
| Monday | 08:30 - 13:45 |
| Tuesday | 08:30 - 13:45 |
| Wednesday | 08:30 - 13:45 |
| Thursday | 08:30 - 13:45 |
| Friday | 08:30 - 11:45 |
| Saturday | 08:30 - 13:45 |